بھارتی مداخلت کا اعلان اور صدر آزاد کشمیر کا انتخاب !

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)
آزاد کشمیر سے متعلق بھارت کی اس جارحانہ پالیسی کے خطرات کے پیش نظر آزاد کشمیر ہی نہیں تمام کشمیر میں بہتر اور قابل اعتماد سیاسی بنیادیں قائم کرنے کی ضرورت ہے۔سیاسی نمائندگی کے نام پر ایسے مفاد پرست افراد کا مجمع لگانا عقلمندی نہیں ہے جن کی ہر کارگزاری نمائشی انداز لئے مادی مفادات میںمحدود نظر آ رہی ہے۔یوں کشمیر کے دونوں حصوں میں مفاد پرست عناصر کو سیاست میں اہمیت دینے کی قابل اعتراض پالیسی کی تبدیلی ناگزیر ہو چلی ہے،اگر بھارت کے کشمیر کے دونوں حصوں کے بارے میں خطرناک عزائم کو ناکام بنانے کا کوئی احساس موجود ہے تو۔
ان دنوں آزاد کشمیر سے متعلق دو اہم باتیں ہوئی ہیں،ایک بھارتی وزیر اعظم کی طرف سے آزاد کشمیر میں مداخلت کا اعلان اور دوسرا آزاد کشمیر کے نئے صدر کے انتخاب کا معاملہ۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی مقبوضہ کشمیر میں عام شہریوں کے خلاف جاری فورسز کی تشدد کاروائیوں پر معذرت یا پشیمانی کے بجائے جارحانہ روئیہ اپنائے نظر آ رہے ہیں۔مودی نے سیاسی جماعتوں کے اجلاس میں کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے خلاف جارحانہ طرز عمل اپناتے ہوئے صوبہ بلوچستان کے علاوہ آزاد کشمیر میں بھی بھارتی مداخلت کا اعلان کیا ہے۔ بھارتی وزیر اعظم نے اجلاس میں کہا کہ کشمیر کے لوگ کئی بار بھارتی جمہوری نظام پر اعتماد کا اظہار کر چکے ہیں۔مودی نے کہا کہ کشمیر کا مسئلہ آئین کے بنیادی اصولوں کے مطابق کیا جائے گا۔مودی نے کہا کہ کشمیر میں گڑ بڑ کی وجہ سرحد پار دہشت گردی ہے اور اس وجہ سے کشمیر میں عام زندگی متاثر ہے۔بھارتی وزیر اعظم نے وزارت خارجہ(جس کا مطلب واضح طور پر خفیہ ایجنسی''را'' ہے)کو ہدایت کی کہ دنیا کے مختلف حصوں میں رہنے والے آزاد کشمیر کے باشندوں سے رابطے قائم کئے جائیں اور آزاد کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا دنیا میں پروپیگنڈہ کیا جائے۔مودی نے کہا کہ کشمیر میں ''اینٹی انڈین'' سرگرمیوں کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

اس بات میں شک نہیں کہ بھارت کی طرف سے پہلے سے ہی آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں '' رابطے'' قائم کئے گئے ہیں تاہم اب بھارتی وزیر اعظم مودی کی طرف سے وزارت خارجہ کو دنیا کے مختلف علاقوں میں مقیم آزاد کشمیر کے باشندوں سے رابطے قائم کرنے سے بھارت کے مذموم عزائم بے نقاب ہو رہے ہیں۔آزاد کشمیر میں مداخلت سے متعلق بھارتی عزائم کو ناکام بنانے کے لئے سیاسی سطح کے فیصلے اور اقدامات ناگزیر ہیں،محض سیکورٹی سطح کے فیصلوں اور اقدامات سے درپیش خطرات پر قابو نہیں پایا جا سکتا۔اس حوالے سے یورپ اور امریکہ وغیرہ میں مقیم کشمیری حلقوں کے متحرک ہونے کی بھی ضرورت ہے اور اس حوالے سے ہمیں اپنی پالیسی کو ذاتی صوابدید اور ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔بھارتی پالیسی سے متعلق مودی کی تقریر سے اس اہم ضرورت کی بھی نشاندہی ہوتی ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارت سے آزادی کی مزاحمت ،تحریک کو موثر اور فیصلہ کن بنانے کے لئے مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے نام نہاد الیکشن کو بھی مسترد کرنا ضروری ہے۔آزاد کشمیر سے متعلق بھارت کی اس جارحانہ پالیسی کے خطرات کے پیش نظر آزاد کشمیر ہی نہیں تمام کشمیر میں بہتر اور قابل اعتماد سیاسی بنیادیں قائم کرنے کی ضرورت ہے۔سیاسی نمائندگی کے نام پر ایسے مفاد پرست افراد کا مجمع لگانا عقلمندی نہیں ہے جن کی ہر کارگزاری نمائشی انداز لئے مادی مفادات میںمحدود نظر آ رہی ہے۔یوں کشمیر کے دونوں حصوں میں مفاد پرست عناصر کو سیاست میں اہمیت دینے کی قابل اعتراض پالیسی کی تبدیلی ناگزیر ہو چلی ہے،اگر بھارت کے کشمیر کے دونوں حصوں کے بارے میں خطرناک عزائم کو ناکام بنانے کا کوئی احساس موجود ہے تو۔

ان دنوں آزاد کشمیر کے صدر کے عہدے پر انتخاب کا معاملہ زیر بحث ہے۔صدر کے عہدے کے لئے الیکشن میں غالب ترین اکثریت حاصل کرنے مسلم لیگ(ن) کی طرف سے پاکستانی سفارت کار مسعود خان کا نام سامنے آیا ہے جو راولا کوٹ سے تعلق رکھتے ہیں۔یہ امکان بھی ظاہر ہو رہا تھا کہ مسلم لیگ(ن) کے اتحادی خالد ابراہیم کو آزاد کشمیر کا صدر بنایا جا سکتا ہے لیکن ایسا نہ ہو سکا اور سردار خالد ابراہیم نے بھی ''قدر نہ کئے جانے'' اوربری طرح نظر انداز کرنے کی وجہ سے مسلم لیگ(ن) سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔اطلاعات کے مطابق مسعود خان کو آزاد کشمیر کا صدر بنانے کے لئے ان کا نام خصوصی طور پر آزاد کشمیر کی ووٹر لسٹ میں درج کرایا گیا اور اگست میں ہی ان کا سرٹیفیکیٹ باشندہ ریاست جموں و کشمیر اور آزاد کشمیر کے ایڈریس والا شناختی کارڈ بھی بنایا گیا۔ان ہنگامی انتظامات پر مختلف حلقوں کی طرف سے تنقید بھی سامنے آئی۔وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان نے وزیر اعظم پاکستان میاں نواز شریف سے ملاقات کے بعد کہا کہ انہوں نے ہی مسعود خان کا نام نئے صدر کے لئے پیش کیا ہے۔ہمارے خیال میں ان کا نام اسی طرح صدر کے لئے پیش کیا گیا ہے جس طرح ایک بار سردار محمد عبدالقیوم خان نے سردار محمد انور خان کا نام عہدہ صدارت کے لئے پیش کیا تھا۔سنیئر سفارت کار مسعود خان کے متعلق یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ ان کے صدر بننے سے مسئلہ کشمیر کو اچھے انداز میں عالمی سطح پر اجاگر کیا جا سکے گا جبکہ اس حوالے سے یہ حقیقت نظر انداز کی جا رہی ہے کہ آزاد کشمیر کے لئے بنا کر دیئے گئے عبوری آئین میں آزاد کشمیر حکومت اور آزاد کشمیر کے صدر کا تحریک آزادی کشمیر سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کا عمل دخل آزاد کشمیر کی علاقائی حدود تک ہی محدود رکھا گیا ہے۔تاہم اب اگر وفاقی حکومت کی یہ سوچ ہے کہ آزاد کشمیر حکومت کو تحریک آزادی کشمیر کے حوالے سے کوئی کردار دیا جائے تو اس کے لئے آزاد کشمیر حکومت کو انتظامی اور مالیاتی امور کے حوالے سے بھی بااختیار اور باوقار بناتے ہوئے آزاد کشمیر کے آئین میں بھی ایسی ترامیم کرنا ہوں گی جس سے کشمیر کاز آزاد حکومت کی بنیادی ذمہ داری بن سکے۔تاہم ابھی تک ایسے کوئی اشارہ نہیں ہے کہ وفاقی حکومت آزاد کشمیر کے کشمیر کاز کے حوالے سے کوئی سیاسی کردار دے سکتی ہے۔

مسلم لیگ(ن) کوآزاد کشمیر کے الیکشن میں بے مثال کامیابی حاصل ہونے کی بنیادی وجہ اس کی اخلاقی برتری رہی جو اسے آزاد کشمیر میں بہتری اور اصلاح کے حوالے سے عوامی توقعات کی صورت حاصل ہوئی۔بات ایک سنیئر سفارت کار مسعود خان کی شخصیت کی نہیں بلکہ اس طریقہ کار کی ہے جو صدر کے انتخاب کے لئے اپنانا رواج بنتا جا رہا ہے۔آزاد کشمیر میںجمہوری حکومت کے لئے ضروری ہے کہ اس کا صدر بھی سیاسی بنیادوں پر متعین ہو لیکن اس کے بجائے کسی ریٹائرڈاعلی فوجی افسر یا سفارت کار کی نامزدگی سے آزاد کشمیر میں قائم تمام جمہوری نظام میں جمہور کی حیثیت و وقار پر سوالیہ نشان لگ جاتے ہیں۔مسلم لیگ(ن) نے مسعود خان کو آزاد کشمیر کے صدر کے لئے اپنا امیدوار قرار دیا ہے ۔سنیئر سفارت کار مسعود خان کے صدر بننے سے یہ صورتحال دلچسپ ہو گی کہ سفارتی زبان میں بات کرنے والے سینئر سفارت کار صدرآزاد کشمیر کی حیثیت سے سیاسی بنانات دیتے کیسے لگیں گے اور کیا سینئر سفارت کار مسعود خان صدر آزاد کشمیر کے ''کھانے ،سونے اور سلامی'' دینے کی محدود ذمہ داریوں میں مطمئن رہیں گے؟معلوم نہیں کہ سنیئر سفارت کار مسعود خان کو کس نے آزاد کشمیر کا صدر بننے کے لئے راضی کیا؟ کیا مسعود خان خارجہ امور میں قومی خدمات کے بعد اب اپنے مقامی علاقے کی خدمات کے جذبے سے آزاد کشمیر کے صدر کا عہدہ قبول کر رہے ہیں؟یا کہیں ایسا تو نہیں کہ وزیر اعظم آزاد کشمیر راجہ فاروق حیدر خان کو بوقت ضرورت سرکاری سطح پر دبائو میں رکھنے کے لئے آزاد کشمیر سے ہی تعلق رکھنے والے ایک سنیئر سفارت کو آزاد کشمیر کا صدر نامزد کیا گیا ہے؟یقین نہیں آتا کہ '' کسی بڑے ہدف'' کے بغیر مسعود خان عالمی سطح کی سرگرمیاں چھوڑ کر آزاد کشمیر کے خطے میں محدود ہونے پر راضی ہو سکتے ہیں؟کہیں ایسا تو نہیں کہ مسعود خان صدارتی اختیارات میں اضافے کے لئے آئینی ترامیم کی یقین دہانی /منصوبہ بندی پر صدر آزاد کشمیرکا '' بار گراں'' اٹھانے پر رضامند ہوئے ہوں؟جو سینئر سفارت کار ریٹائرمنٹ کے بعد بھی شاندار مستقبل رکھتا ہو، ؟وہ کس طرح آزاد خطے میں محدود ہو سکتا ہے؟ بہر حال اس میں کئی جواب طلب باتیں ہیں ۔آزاد کشمیر کے صدر کے انتخاب کے معاملے کی صورتحال کے حوالے سے یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آزاد کشمیر کے معاملے میں بھی پاکستان کی سول حکومت اور فوج ایک ''پیج'' پہ ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 621 Articles with 320558 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
15 Aug, 2016 Views: 380

Comments

آپ کی رائے