جنگ بندی لائن توڑنے کا وقت آ گیا؟

(Ghulam Ullah Kiyani, )
یہ ذہنی تناؤ اور یہ کیفیت نریندر مودی کی پیدا کردہ ہے۔ جو بوقت ضرورت استعمال کی جاتی ہے۔ کبھی دباؤ ڈالنے کے لئے اور کبھی حقائق سے توجہ ہٹانے کے لئے۔ الطاف حسین کیمعافی تلافی، رابطہ کمیٹی کے اعلانات سب ڈرامے کا حصہ ہیں۔ کیوں کہ اس کا ہدایت کار مودی ہے۔ اس افراتفری کے لئے وقت کا انتخاب بھی دلچسپ ہے۔ ذہنی تناؤ، پریشانی، پاگل پن کی کیفیت کا یہی وقت منتخب کیا جانا تھا۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ سب منصوبہ بندی سے کیا جا رہا ہے۔

مہاجرین محب وطن ہیں۔ ان کی حب الوطنی کو چند افراد کے گروہ نے اپنے مفاد کے لئے داؤ پر لگا رکھا ہے۔ یہ افراد لاشوں کی سیاست کر رہے ہیں۔ یہ تناؤ اور کیفیت اس لئے پیدا کی گئی تا کہ حکومت مہاجرین کے خلاف آپریشن شروع کر دے۔ پکر دھکڑ ہو۔ تشدد کیا جائے۔ ہلاکتیں ہوں۔ جس کا فائدہ یہ گروہ اور ان کا سرپرست بھارت اوردیگر پاکستان دشمن اٹھائیں۔ تا ہم حکومت نے حکمت سے کام لے کر اس منصوبہ بندی کو ناکام بنا دیاہے۔ رابطہ کمیٹی فیصلے کا منڈیٹ اپنے ہاتھ میں نہیں لے سکتی۔ اس کی اتنی سکت نہیں۔ یہ اختیار الطاف حسین نے خود وقتی طور پر اسے دیا ہے۔ میڈیا ہاؤسز پر حملے بھی مہاجرین کو ملک میں نشان نفرت بنانا تھا۔ مگر اب وقت شاید ان کے اپنے نشان عبرت بننے کا آ گیا ہے۔ حکومت پاکستان کو برطانیہ سے بھر پور احتجاج کرنے کا موقع ہاتھ آیا ہے۔ ان کا شہری کیسے ایک آزاد و خود مختار ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت کر تے ہوئے عوام کو تشدد اور مار دھاڑ پر اکسا سکتا ہے۔ بڑا مقصد پاکستان کی کشمیر پر سفارتی مہم کو روکنا اور توجہ ہٹانا ہے۔

آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار عتیق احمد خان نے جنگ بندی لائن کی طرف مارچ کرنے اور دوسرے مرحلے میں اسے توڑنے کا اعلان کر کے عوام کے جذبات کی ترجمانی کی ہے۔ سردار صاحب نے اس اعلان پر فوری عمل کیا تو مسلم کانفرنس کی اہمیت کا ایک بار پھر اندازہ لگانا ممکن ہو گا۔ اس کی مقبولیت کا گراف بھی اس سے بلند ہو گا۔ اس وقت مقبوضہ کشمیر میں قتل عام جاری ہے۔ بھارتی ریاستی دہشت گردی بڑھ رہی ہے۔ ہر روز کم عمر کشمیری شہید اور معذور کئے جا رہے ہیں۔ وادی میں بھارت کے خلاف نفرت اور غم و غصہ ہے۔ جس میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پیر پنچال اور چناب خطہ بھی سراپا احتجاج ہے۔ آزاد کشمیر کے عوام کو منظم احتجاج کے لئے تیار نہیں کیا جا سکا ہے۔ اس لئے سردار عتیق کے اعلانات نے اس جانب توجہ دلائی ہے۔ جنگ بندی لائن توڑنے کے لئے مسلم کانفرنس کے بینر تلے سیز فائر لائن کی طرف عوام کا مارچ یا جنگ بندی لائن پر دھرنا عالمی میڈیا کی شہ سرخی ہی نہیں بنے گی بلکہ اقوام متحدہ بھی نیند سے بیدار ہو گا۔ کیوں کہ جنگ بندی لائن کے آر پار سلامتی کونسل کے منڈیٹ کے تحت اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین بھی موجود ہیں۔ جو اس فرضی اور عارضی لائن کی 67سال سے نگرانی کر رہے ہیں۔ اس لائن کے آر پر پاکستان اور بھارت کی فوج مورچہ بند ہے۔ بھارتی فوج نے جنگ بندی لائن کی خلاف ورزی کرتے ہوئے پیش قدمی کی ہے۔ جب کہ اس پر دیوار بندی بھی کی جا رہی ہے۔ بھارتی فوج جہاں پہلے مورچہ بند تھی۔ اس نے ان مورچوں سے نکل کر کئی سیکٹروں میں کئی کلو میٹر آگے زیرو لائن پر بنکرز تعمیر کر لئے ہیں۔ اس لئے اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین نے یو این سیکریٹری جنرل کو اس صورتحال سے آگاہ کیا ہو گا۔ اقوام متحدہ نے اس سلسلے میں کوئی ایکشن نہیں لیا ہے۔ جب کہ پاکستان جنگ بندی لائن کی خلاف ورزی پر سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس طلب کرنے کے لئے اپنی اتحادیوں سے رجوع اور سفارتی مہم چلا سکتا ہے۔

کشمیر کی جنگ بندی لائن پر آزاد کشمیر کے عوام کا مارچ اور اسے توڑنے کی کوئی کوشش ہوئی تو دنیا کو بھارتی جارحیت کا اندازہ ہو گا۔ وادی کے عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں۔ اب دیکھنا ہے کہ دوسری طرف سے کیا پیش رفت ہو گی۔ تا ہم توقع ہے کہ اگر مسلم کانفرنس نے منظم طور پر آزاد خطے کے عوام کو جنگ بندی لائن پر لانے میں کامیابی حاصل کی تو اس کے مثبت نتائج نکلیں گے۔ اس سے مسلہ بھی مزید انٹرنیشنلائز ہو گا۔ بھارت اور اس کے خیر خواہ نہیں چاہتے کہ مسلہ دنیا کے سامنے آئے۔ یا اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کی رپورٹیں دنیا کو بے چین کر دیں۔ اگر الطاف حسین نے بھارت کے اشارے پر یا اس کے ریسکیو کے لئے پاکستان کے خلاف نعرے لگائے یا پاکستان کو بدنام کرنے کی کوشش کی ہے تو جنگ بندی لائن کو توڑنے کی کوشش سب کے لئے اپ سیٹ ثابت ہو سکتی ہے۔ اس سے قبل جماعت اسلامی نے بھی جنگ بندی لائن ک طرف مارچ کیا ہے۔ جماعت اسلامی اور دیگر سرگرم آزادی پسندوں نے اگر جنگ بندی لائن توڑنے کے لئے مشترکہ کوشش کی تو یہ ثمر آور ثابت ہوں گی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 587 Articles with 229981 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
26 Aug, 2016 Views: 340

Comments

آپ کی رائے