لعنت اور ذلت کے تبرّے!

(Sami Ullah Malik, )
ہم سب کو اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس اضافے کیلئے ہمیں کچھ کرتے بھی رہنا چاہئے۔اگر ایک شخص جس کے ہاتھ پیر سلامت ہوں،وہ جوان ہواوراس کی ہڈیاں مضبوط ہوں،اس پر اللہ کا شکر ادا کرنا تو واجب ہے لیکن اگر کوئی اجنبی بندوق کی نوک پر اس کے سارے خاندان سے ناک کی لکیریں نکلوا رہا ہو اور وہ شخص کہے کہ اللہ کا شکر ہے ،عزت کی زندگی بسر ہو رہی ہے تواس کی صحت،اس کی جوانی،اس کی عزت کی زندگی کے آگے بہت بڑاسوالیہ نشان نظر آنے لگتاہے۔ہم پاکستانی گزشتہ برسہا برس سے کچھ اسی قسم کی عزت کی زندگی بسرکررہے ہیں ۔ہماری دونوں آنکھیں سلامت ہیں مگرہربارکوئی کاندھا ہماراآگے کرتا ہے اورحکم ملتاہے کہ اس پرہاتھ رکھ کرسڑک پارکرو،ہماری دونوں ٹانگوں میں دم ہے لیکن ہمارے ہاتھ میں بیساکھی پکڑادی جاتی ہے،ہم عاقل وبالغ ہیں لیکن ہماراحقِ رائے دہی کوئی اوراستعمال کرجاتا ہے ۔

ہم خودکوانسان کہلاتے ہیں لیکن ہمارے ساتھ ڈھورڈنگروں والاسلوک ہوتا ہے۔ پاکستان کے کئی شہروں میں یہ منظر آپ نے دیکھا ہوگا کہ اکثر چالیس پچاس بھینسیں جن کاجثہ اورسینگ دیکھ کرڈرلگتاہے،خراماں خراماں چلی جارہی ہوتی ہیں ۔انہیں ایک بڑی بڑی مونچھوں والاگجّرصرف درخت کی ایک شاخ سے جدھرچاہتاہے،ادھرہانک کرلیجاتاہے۔یہی حال ہمارابھی ہے۔ہمیں اپنے جثوں اور سینگوں کے نوکدارہونے کاادراک ہی نہیں ہے چنانچہ جو گجرہم سے جیسا سلوک کرناچاہتا ہے،ویساکرتاہے۔وہ ہمیں جن راستوں پرچلنے کیلئے کہتاہے ہم گروہ در گروہ ان راستوں پرچلنا شروع کر دیتے ہیں، بھینس کے تھنوں کے پاس کٹاچھوڑا جاتاہے اورجب وہ اپنے بچے کیلئے دودھ اتارتی ہے توگجر اس کٹے کوپرے کرکے اپنابرتن دودھ سے بھرلیتاہے اور بازارمیں بیچ دیتا ہے۔

ہمارے بچوں کے حصے کادودھ بھی ہمارے بچوں تک نہیں پہنچتا۔بھینس توپھر بھی کبھی کبھار کسی کوسینگ مارلیتی ہے،ہم اشرف المخلوقات ہیں،ہم ایسا نہیں کرتے۔ ہمیں توسیدھاراستہ دکھانے کیلئے درخت کی ایک شاخ ہی کافی ہے۔ جانوروں کے ریوڑمیں جب کسی جانورکاسودہ ہوجاتاہے تواسے ریوڑسے الگ کردیاجاتاہے۔ہمارے درمیان بھی کچھ جانورایسے ہیں جن کاسودہ ہوچکاہے۔ان کے پیٹ بھرے ہوئے ہیں اوران کے جسموں پرقیمتی پوشاکیں ہیں کہ اب یہ آوارہ نہیں،ان کی حیثیت بڑے بڑے ایوانوں میں پالتوکی ہے۔ یہ کان پرقلم دھرے گلی گلی آوازلگاتے ہیں،قصیدہ لکھوالو،ہجولکھوالو۔ ان انسان نماجانوروں کے غول کے غول اپنے جسموں پراپنی قیمتوں کے ٹیگ لگائے نیلام گھر کے سامنے کھڑے ہوتے ہیں۔ ان سے پارٹی بنوالو،پارٹی بدلوالو،بندے چکوالو، بندے مروالو، ہرکام کی قیمت مقرر ہے۔

ان میں سے کچھ نے مونچھیں رکھی ہوئی ہیں،کاندھے پر''پرنا''ڈال رکھا ہے۔یہ مٹھی میں سگر یٹ دبائے دفتروں، تھانوں،عدالتوں،اخباروں،اسمبلیوں اوربڑے بڑے ایوان میں نظر آتے ہیں،قوم کی موت ان کی حیات ہے ۔انہیں یہ بھی احساس نہیں کہ اگران کی آئندہ نسل میں خدانخواستہ کوئی بے غیرت پیدانہ ہواتووہ بیچارہ بھوکوں مرجائے گا۔بے غیرتی کارزق نہ ملنے کی وجہ سے اس کی جوحالت ہوگی انہیں اس کی بھی فکر نہیں۔انہیں صرف آج کی فکر ہے اورصرف اپنی فکر ہے ۔

ایک طبقہ ہم''انسانوں''کے درمیان اوربھی ہے اس نے چپ کاروزہ رکھاہواہے،اس کے افرادصرف اپنی پیدائش کے وقت روکراحتجاج کرتےہیں۔یہ ان کی ''سحری''ہے''افطاری''کی نوبت ان کے آخری سانس تک نہیں آتی۔یہ نہ کسی سے اختلاف کرتے ہیں نہ اتفاق کرتے ہیں،ان کےسامنے ملک وقوم پرآسمان ٹوٹ پڑے،لوگوں کی دلدوزچیخوں سے کلیجے شق ہوجائیں،ان کے کانوں پرجوں تک نہیں رینگتی۔ان کاایک مخصوص جملہ ہے''بس جی دعاکریں جوہورہاہے ملک و قوم کے حق میں بہترہو''۔ان بے حس چہروں پرغیرجانبداری کاایک ملکوتی سا اطمینان ہمہ وقت طاری رہتاہے ۔یہ کچھ بھی دیکھیں،کچھ بھی سنیں،ان کے ذہنوں میں کوئی سوال نہیں اٹھتا،خصوصاًشعروادب سے وابستہ کچھ لوگوں میں تو جانبداری گناہِ کبیرہ میں شمار ہوتی ہے۔

حبیب جالب کوشاعراس لئے نہیں ماناگیا کہ وہ اس گناہِ کبیرہ کاباربارمرتکب ہوتا تھا،چنانچہ خودادیب اسے سنگسارکرتے رہے ۔ادیب کاکام صرف داخلی گتھیاں سلجھاناہے،خارج سے اسے کوئی تعلق نہیں ہوناچاہئے۔سوداکے بالیں پہ شور قیامت ہواتو خدام ادب بولے''یہ شورروکو،صاحب کی ابھی آنکھ لگی ہے۔ہمارا منشور
جی چاہتا ہے پھر وہی فرصت کے رات دن
بیٹھے رہیں تصور ِ جاناں کئے ہوئے
والے شعر میں پوری طرح آگیا ہے چاہے''مراقبے''کی اس کیفیت میں''جاناں''اپنے آشنا کے ساتھ فرارہوجائے یاکوئی غنڈہ اسے ٹیکسی میں ڈال کرلے جائے۔ کچھ ایسا ہی حال مجھے اپنے موجودہ حکمرانوں کے مزاج میں بھی نظر آرہا ہے۔

ابھی اطلاع ملی ہے کہ بھارتی وزیرداخلہ کی موجودگی میں وادی ایک بارانسانی لہوسے اس وقت سرخ ہوئی جب پلوامہ کے پرچھوعلاقے میں فورسزاور پولیس نے احتجاجی نوجوانوں کوقابوکرنے کیلئے ان پرجوابی پتھراؤکے ساتھ ساتھ لاٹھی چارج ،آنسوگیس اورپیلٹ بندوقوں کی شیلنگ کادہانہ کھول دیااور اسی پر اکتفانہیں کیابلکہ پولیس نے مشتعل ہجوم کومنتشر کرنے کے لئے ٹائر گیس شلنگ ،ربرگولیوں،پلیٹ گن اورمرچ گیس کے گولے داغے جس کے بعد طرفین کے مابین شدیدجھڑپیں ہوئیں جس کے باعث پوراعلاقہ اشک آورگولوں سے لرزاٹھا اورہرطرف دھواں ہی دھواں پھیل گیاجس کے ساتھ ہی۴۷دنوں میں فورسزکی کاروائی میں جاں بحق ہونے والوں کی مصدقہ تعداد۶۸اورزخمیوں کی تعداد۱۵۰ تک پہنچ گئی جن میں سے نصف درجن مظاہرین کی حالات نازک بتائی جاتی ہے ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ زخمیوں کو اسپتال بھی پہنچانے کی اجازت نہیں دی گئی اورپلوامہ اسپتال تک پہنچانے کے تمام راستوں کو بندکردیاگیاہے۔

پچھلے سات ہفتوں سے میراکشمیرلہولہوہے۔بھارتی درندے جس بہیمانہ اندازمیں معصوم اوربے گناہ کشمیریوں پرظلم وستم کررہاہے،عالمی ضمیرکی طرف سے ابھی وہ ردّ ِعمل دیکھنے میں نہیں آرہاجس کی توقع ہے۔ امریکااورمغربی ملکوں کی جمہوریت ،قانون پسندی،بنیادی حقوق کااحترام،عدل وانصاف اور انسان دوستی صرف اپنے ملک کے شہریوں کیلئے وقف ہے۔مسلمانوں کیلئے اس کے پیمانے مختلف ہیں اورمحمد عربیۖ کاکلمہ پڑھنے والوں کیلئے اس کاقانون بالکل جداہے اورپاکستانیوں اوربالخصوص کشمیریوں کیلئے توان کے ضابطہ ہائے انصاف تو بالکل مختلف ہیں۔امریکیوں اورمغربی ممالک کے پالتوکتوں اوربلیوں کوکانٹا بھی چبھ جائے توان کی انصاف کی دیوی کی آنکھوں میں خون اترآتاہے اوروہ کوبراسانپ کی طرح پھن پھیلا ئے ڈنک مارے سے گریز نہیں کرتے۔

عراق میں پندرہ لاکھ مسلمانوں کا خون پی گئے،افغانستان میں تو کوئی گنتی ہے نہ شمار۔اقوام متحدہ میں امریکا سمیت تمام مغربی ممالک نے کشمیر یوں کوجس حق خوداردایت کی ضمانت دی تھی،اس کے حصول کیلئے کشمیری اب تک ایک لاکھ سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکے ہیں اور مسلسل اپنے اس حق کیلئے اب میدانِ عمل میں موجود ہیں۔کیا آج تک کسی امریکی یاکسی مغربی حکومتی اہلکار نے ان بھیانک جرائم کی طرف توجہ دی؟کیاامریکا کے ہاتھوں مارے جانے والے مشرق کے افتادگان خاک کو وہ حشرات الارض سے بھی حقیرجانتے ہیں؟کیا امریکااورمغربی ممالک کی انصاف کی منڈی میں ان کی بھی کوئی قیمت یابولی لگائی گئی ہے؟دراصل افغانستان میں ممکنہ شکست فاش اوررسوائی کابدلہ لینے اورخطے میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرورسوخ کوروکنے کیلئے بھارتی درندوں کی انسانیت سوزظلم وستم کے سامنے انہوں نے اپنی قومی غیرت اورحمیت کوگہری نیندسلادیاہے لیکن اب تونوشتۂ دیوارسامنے دیوارپرلکھاہے کہ اس ظلم کے بعداب کشمیرسے بھارت کواوراس خطے سے امریکااوراس کے تمام اتحادیوں کوعزت سے واپسی کاراستہ نہیں مل سکے گا۔

جب بھی کشمیرمیں بھارت کشمیریوں کی جدوجہدآزادی کے سامنے بے بس اور مجبورہوتاہے توفوری طورپرکشمیرکے حالات سے توجہ ہٹانے کیلئے اپنے پالتو ایجنٹوں کوپاکستان میں اپنی کاروائیوں میں تیزی لانے کااشارہ کردیتاہے جس کے جواب میں لسانی جماعت کابھتہ خور،کراچی میں ہزاروں افرادکاقاتل اور''را'' کا مستندایجنٹ الطاف حسین بے لگام ہوکرانتہائی بے شرمی کے ساتھ پاکستان کے خلاف کھل کرہرزہ سرائی کررہاہے اوراب بھارتی ہندودرندوں، اسرائیل،امریکا اورافغانستان کومددکیلئے پکاررہاہے جبکہ الطاف کے ٹارگٹ کلنگ گروہوں کے اس اذیت کے گھنے جنگلوں میں شکارہونے والوں کی ایک طویل فہرست ہے جس کی بناءپرتاریخ بھی اس خونخوار،بدکردار،بے غیرت الطاف پرہمیشہ لعنت اورذلت کے تبرے بھیجتی رہے گی لیکن پاکستانی قوم موجودہ حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ اب تک اس جماعت کے افرادجواب ایک نئے ڈرامے کے ساتھ پاکستان میں صفائیاں پیش کررہی ہے،اس کے خلاف کوئی کاروائی کیوں نہیں کی گئی؟ ایم کیوایم پرمکمل پابندی اوراس کی جماعت کے تمام رہنماؤں کو غداری کے جرم میں کیوں گرفتارنہیں کیاگیا؟ یادرکھیں کہ موجودہ حکومت کی اس معاملے پراب تک کی مجرمانہ خاموشی شکوک وشبہات کوتقویت پہنچارہی ہے اوریہی خاموشی ان کوبھی مجرموں کے کٹہرے میں ضرورلاکھڑاکرے گی اوران کابھی انجام بدوہی ہوگاجس کی مستحق ایم کیوایم ہے!
رہے نام میرے رب کا جو جبار بھی ہے اور قہار بھی!
حیرت نہ کر بدن کو مرے چور دیکھ کر
ان رفعتوں کو دیکھ جہاں سے گرا تھا میں
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 226443 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Aug, 2016 Views: 286

Comments

آپ کی رائے