جنرل راحیل شریف ایم کیو ایم کو ختم کر دیں !

(Dr Tasawar Hussain Mirza, Lahore)
مردہ باد ، مردہ باد ہر طرف دھوم مچی ہے الطاف حسین مردہ باد الطاف حسین اور ایم کیو ایم مردہ باد ، مردہ باد ۔۔ ایسا کیوں ہوا؟ کہتے ہیں حادثات یک دم نہیں ہوتے بلکہ وقت برسوں پرورش کرتا ہے بلکل ! جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ نے گزشتہ کئی سالوں سے MQM اور الطاف حسین نے وطن عزیز کے باسیوں کے ناک میں دم کر رکھا ہے، کوئی فرد کوئی ادارہ الطاف کی دہشت گردی سے محفوظ نہیں ، یہ انسانیت کے لبادے میں درندگیکی وہ مثال ہے جس کا عام انسان تصور بھی نہیں کر سکتا۔الطاف حسین اور ایم کیوایم کی بربریت کی اصلیت سب کے سامنے ہیں کہ ایم کیو ایم دراصل انڈیا اور اسرائیل سمیت دشمنان پاکستان کا آکہ کار ہے ، اسلام میں اپنے وطن کی محبت ، وطن کے لوگوں کے ساتھ پیار کی کیا تلقین ہے اس کے لئے تاریخ کی کتب کی ورق گردانی کرنے سے پتا چلتا ہے کہ تاریخ کی کتابوں میں حضور اکرم ﷺ کے حب الوطنی سے سرشار کلمات سنہری حروف میں ثبت ہیں۔ جس وقت آپ ﷺ اپنے وطن مالوف مکہ مکرمہ سے کفار کی ظلم و زیادتی کی بناء پر ہجرت فرمارہے تھے، آپ ﷺ نے فرمایا:’’اے مکہ! تو کتنا پیارا شہر ہے، تو مجھے کس قدر محبوب ہے، اگر میری قوم مجھے تجھ سے نہ نکالتی تو میں تیرے سوا کسی دوسرے مقام پر سکونت اختیار نہ کرتا۔‘‘۔(ترمذی)

مکہ مکرمہ کفار کے زیر تسلط تھا، کفار و مشرکین کا غلبہ تھا، بت پرستی کا رواج عام تھا، اس کے باوصف مکہ مکرہ سے آپ ﷺ کا تعلق بہت گہرا تھا۔ مکہ مکرمہ میں ظلم و ستم کے پہاڑ ڈھائے گئے، لیکن آپ ﷺ نے وطن ترک کرنا نہیں چاہا۔ جب ظلم و ستم انتہا کو پہنچا تو صحابہ کرام کو حبشہ کی طرف ہجرت کا حکم فرمایا اور آپ ﷺ بذات خود قیام پذیر رہے اور اپنی قوم سے نرمی کی توقعات وابستہ رکھیں، لیکن جب پانی سر سے اونچا ہوگیا اور نرمی کی کوئی توقع باقی نہ رہی تو آپ ﷺ نے بادل نخواستہ ہجرت فرمائی۔

امام ذہبی علیہ الرحمہ حضور نبی کریم ﷺ کی محبوب و پسندیدہ شخصیات و مقامات کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:’’آپ ﷺ کو حضرت عائشہ، ان کے والد حضرت ابوبکر، حضرت اسامہ، حضرات حسنین کریمین، میٹھا شہد، جبل احد اور اپنا وطن محبوب تھا۔‘‘

جب آپ ﷺ نے مدینہ کو اپنا وطن و مسکن بنالیا تو چوں کہ آپ ﷺ مکہ مکرمہ سے فطری و جبلی محبت تھی، بارگاہ الہی میں دست بہ دعا ہوئے:’’اے پروردگار! مدینہ کو ہمارے نزدیک محبوب بناد ے۔ جس طرح ہم مکہ سے محبت کرتے ہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ محبت پیدا فرما۔‘‘(بخاری و مسلم)

وطن کو ترک کرنا نفس پر نہایت گراں ہوتا ہے اور سخت تکلیف کا باعث ہوتا ہے۔ چنانچہ اﷲ تعالیٰ نے قرآن مجید میں اپنی جان کی محبت کے ساتھ اپنے وطن سے محبت و تعلق کو ظاہر کرتے ہوئے فرمایا:’’اور اگر ہم ان پر لکھ دیتے کہ تم اپنے آپ کو قتل کرلو اور اپنے گھروں سے نکل جاؤ، تو وہ ہرگز نہ کرتے سوائے معدودچند افراد کے‘‘۔(سورہ النساء،۶۶) اور ایک مقام پرو طن کی محبت کو دین ومذہب سے جوڑ کرفرمایا:’’اﷲ تعالیٰ نے تم کو ان لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف سے منع نہیں کیا، جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ نہ کی اور تم کو تمہارے گھروں سے نہ نکالا ہو۔‘‘(سورۃ الممتحنہ۔۸)

حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ میں اپنی اہلیہ حضرت ہاجرہ اور فرزند حضرت اسماعیل علیہما السلام کو مستقل سکونت کے لئے چھوڑ دیا اور بارگاہ ایزدی میں عرض پرداز ہوئے، جس کو قرآن پاک میں اس طرح بیان کیا گیا ہے:’’اور جب حضرت ابراہیم نے کہا: اے میرے رب! اس کو امن والا شہر بنادے اور اس کے باشندگان کو پھلوں سے سرفراز فرما جو لوگ ان میں سے اﷲ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے‘‘۔(سورۃ البقرہ۔۶۲۱)

وطن سے محبت ہو اور اہل وطن سے محبت نہ ہو، یہ ممکن نہیں۔ بلکہ وطن کی ایک ایک شے سے محبت ہوتی ہے۔ مسلم شریف میں حضور نبی کریم ﷺ کی دعاء منقول ہے کہ’’اے پروردگار! ابراہیم علیہ السلام تیرے بندے، خلیل اور نبی ہیں اور میں بھی تیرا بندہ اور نبی ہوں۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے مکہ مکرمہ کے لئے دعا کی تھی اور میں مدینہ منورہ کے لئے وہی بکہ اس کے دو چند کی دعا کرتا ہوں۔‘‘(مسلم شریف)
جو لوگ mqm کو دہشت گرد دہشت گرد کہہ رہے ہیں، MQM کو گالیاں دے رہے ہیں، ایم کیو ایم کے خلاف بہودہ زبان استعمال کر رہے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہیے وہ وقت آنے والہ ہے۔ ہم ان کو بتانا چاہتے ہیں ہم کو بے ہودہ زبان تو آتی نہیں مگر ڈنڈا ،کھونڈا چلانا تو آتا ہے۔ ۔یہ لوگ ( پاکستانی فورسسز)تو سر کے اوپر گولی مارنا جانتے ہیں آپ تو گولی مارنا نہیں آتی ۔۔۔کیونکہ گولی مانے میں درد نہیں ، آپ لوگوں کے ہاتھ میں تھوڑا اور اس جیسا اوزار دیا جائے گا جس سے ان کے سر کے دو ٹکرے کر کے دماغ گرا دیا جائے گا اور وہ دماغ آپ کے کسی کام کا نہیں تو اس کو کتوں کو کھلا دیا جائے گا، اور ہاں کیل میخیں ان کے جسم میں ٹھونکے جائیں گئے، اور ڈرل مشین سے ان کے جسموں میں سوراخ کئے جائیں یہ سبق تھا الطاف حسین کا اپنے کارکنوں کو ویڈیو پیغام کے زرئیے اسلامی جموریہ پاکستان کی حفاظت کرنے والوں کے خلاف ۔۔۔کیا اس کو لیڈر کہتے ہیں .. نہیں نہیں جناب ایسے لیڈر نہیں بلکہ گیدڑ ہوتے ہیں !

یہ وہ ہی الطاف حسین ہیں جس نے سب پہلے کراچی قائد اعظم کے مزار کے سامنے پاکستان کا جھنڈا جلایا تھا۔اردو بولنے والے جن کے ہاتھ میں ہمیشہ قلم اور دلیل ہوتی تھی جو پاکستان کے محب وطن شہری تھے اور اب ہیں، اُن کو اُکسایا اورحقوق یا موت کا نعرہ دیا۔ ٹی وی اوروی سی آر فروخت کرو اور اسلحہ خریدو کا کہا تھا۔ را سے کئی دفعہ مدد کی اپیل کی۔ کارکنوں سے کہا کہ شام کو کلفٹن کے میدان میں جا کر اسلحہ چلانے کی کی ٹرنینگ کرو۔دباؤ اور خوف کی کیفیت میں کارکن جی بھئی ہاں بھئی کہتے رہتے ہیں۔پاکستان کے دشمن (مرحوم) جی ایم سید(غلام مصطفٰے سید) جو جئے سندھ نعرے کا بانی تھا، جس نے بھارت جا کر اندرہ گاندھی کو پاکستان پر حملے کی دعوت دی تھی،سے دوستی کی اور کہا سندھی مہاجر بھائی بھائی نسوار اور دھوتی کہا ں سے آئی۔ یعنی سندھ میں رہنے والے مہاجر اور سندھی تو بھائی بھائی ہیں یہ پٹھان اور پنجابی سندھ میں کہاں سے آ گئے۔

MQM کی بنیاد ہی لسانی تعصب، بوری بند لاش، بھتہ خوری، قتل و غارت ، اغواء برائے تاوان، ٹارگٹ کلنک وغیرہ پہچان اور منشور ہے۔

اگر ماضی میں جھانکوں تو پھر پورا انسائیکلوپیڈیا بن جائے گا۔ اس لئے میں صرف الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی چھپی وہ اصلیت دکھانا چاہتا ہوں ۔میڈیا ہاؤس پر حملہ صحافت پر حملہ ہے جس کی جتنی بھی مزمت کی جائے کم ہے پاکستان کے غیور عوام اپنے اپنے مورچوں میں رہتے ہوئے اس ناپاک جسارت کی پر زور مذمت کرتے ہیں اور کر رہے ہیں، ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن !!! لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے ۔mqm الطاف حسین نے اپنے ویڈیو میسج میں بھی کہا ہے کہ جو لوگ گندی اور بے ہودہ زبان ایم کیو ایم کے خلاف استعمال کرتے ہیں ان کو یاد رکھنا چاہے کہ ہم کو گندی زبان استعمال کرنا نہیں آتی مگر ڈنڈا کھونڈا استعمال کرنا ضرور آتا ہے سیاسی یا ذاتی اختلافات یا تعلاقات سے ہٹ کر حق اور سچ کی بات تو یہ ہے اگر کوئی MQM کو محب وطن سمجھتا بھی تھا تو اب اسے اپنی غلطی کا ازالہ کرنا ہوگا۔

ایم کیو ایم کا پہلے دن سے ایک ہی وطیرہ رہا ہے۔۔ گالی اور گولی ۔۔۔۔ معافی متحدہ قومی موومنٹ (ماضی: مہاجر قومی موومنٹ) کی بنیاد کراچی میں سنہ 1978ء میں ایک طالبعلم رہنما الطاف حسین نے رکھی۔ ایم کیو ایم کے قیام سے قبل الطاف حسین کی قیادت میں جامعہ کراچی میں آل پاکستان مہاجر اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن کی بنیاد رکھی جس نے آگے چل کر انہیں ایم کیو ایم کے قیام کی تحریک دی۔ اس کے قیام کا ایک اہم مقصد جامعہ کراچی میں زیر تعلیم اردو بولنے والے طالب علموں کے مفادات کا تحفظ تھا۔ بعد ازاں اس تنظیم نے اپنے دائرے کو وسعت دے کر اسے صوبہ سندھ کی سیاسی جماعت کا درجہ دے دیا۔

MQM ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس کو اگر مگر جیسا ویسا جو بھی ہو بس ایک کام ہے وہ ہے اسلامی جموریہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا کبھی مہاجر قومی موومنٹ، کبھی متحدہ قومی موومنٹ کا نام ، کبھی اسکی کوکھ سے پاک سر زمین پارٹی تخلیق کی جاتی ہے، اور اب فاروق ستار کہتے ہیں کہ انہوں نے لندن سے ناطہ توڑ لیا، بھلے ٹھیک کہا مگر یہ جو کراچی میں تیس برس سے خون بہہ رہا ہے، بھتہ خوری ہو رہی ہے، را کی دلالی ہو رہی ہے، کیا یہ سب معاف ہو گیا، قرضے تو معاف ہوتے دیکھے، اب سنگین جرائم بھی معاف، یہ کس کو اختیار حاصل ہے کہ کبھی وہ کسی کو غدار، قاتل، بھتہ خور ۔۔ سب کچھ ہونے کے باوجود جب الطاف حسین اپنے آقاؤں بھارت اور اسرائیل کو خوش کر کے پاکستان کے وقار کا جنازہ نکال چکے اور محب وطن ، کے غم و غصہ کو ٹھنڈا کرنے کے لئے معافی مانگ لی۔۔۔ االیکشن کمیشن کو بھی اب ایم کیو ایم کو دہشت گرد تنظیم سمجھ کر سیاست کی چھتری سے MQM کو باہر کرنا ہوگا۔ہمارے سیاست دانوں کو بھی سمجھنا ہوگا کہ MQM سیاست کر رہی ہے ملک کو کھوکھلا کرنے اور دہشت گردی پھیلانے کے لئے۔اس لئے ایم کیو ایم کے کسی بہکاوے میں نہ آیا جائے ۔اسلامی جموریہ پاکستان ایک ایسی ریاست کا نام ہے جس کی بنیادی ’’دو قومی نظریہ‘‘ پر رکھی گئی ہے ۔سادہ ترین الفاظ میں ’’ دنیا میں دو قومیں ہیں ‘‘ ایک مسلمان اور دوسری غیر مسلمان ‘‘ جو مسلمان ہیں ان کے لئے حرف آخر ’’ اﷲ پاک اور اﷲ پاک کے پیارے نبی ﷺ ‘‘ ہیں ، جبکہ غیر مسلمانوں میں، یہودو نصریٰ، ہندوؤں،اور تمام اقسام کے منافق لوگ شامل ہیں، جیسا کہ میں نے محبوب ِ خدا ﷺ کا ارشاد مبارک اوپر لکھ چکا ہوں جس سے وطن اور وطن کے باسیوں کی محبت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔

کیا کوئی آدمی تصور کر سکتا ہے کہ رسولِ پاک ﷺ کو ماننے والہ MQM یا الطاف حسین جیسا کام کر سکتا ہے؟ ہر گز ہر گز نہیں ! بحثیت قوم ! یہ ہماری کیسی بے بسی ہے؟ پاکستان زندہ آباد کا نعرہ لگانے والوں کو بنگلا دیش میں پھانسی اور پاکستان میں ’’ پاکستان مردہ باد ‘‘ کا نعرہ لگانے والوں سے مزاکرات !

اسلامی جموریہ پاکستان کی آزدی کی خاطر ’’ لاکھوں ماؤں بہنوں ، بھائیوں اور بزرگوں ‘‘کی قربانیوں کے ساتھ مزاق نہیں؟ کیا لاکھوں شہیدوں اور غازیوں کی ارواح ہمیں معاف کریں گئی؟

پاک افواج اورسپاسلار جنرل راحیل شریف اﷲ پاک نے آپ کو موقع دیا ہے کہ اسلامی جموریہ پاکستان سے ’’ الطاف حسین اور MQM کا سارا گند صاف کر کے وطن عزعز سے دہشت گردی ، بھتہ خوری، بوری بند لاش ، توڑ پھوڑ، جلاؤ گھراؤ، اغوا برائے تعوان، جیسے کینسر کو ہمیشہ کے لئے ختم کر دیں!اگر ایسا نہ ہوا تو اﷲ پاک اپنے پیارے نبی ﷺ کے وسیلے سے کسی اور طریقہ سے دشمن پاکستان کو نست و نمود کر دے گا ۔ لیکن ۔۔۔۔۔۔۔۔
اگر قیامت کے روز اﷲ پاک نے اس کے متعلق پوچھ لیا تو؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟؟
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Tasawar Hussain Mirza

Read More Articles by Dr Tasawar Hussain Mirza: 263 Articles with 157251 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
29 Aug, 2016 Views: 502

Comments

آپ کی رائے
جناب ڈاکٹرتصور مجھے نہیں معلوم کہ آپ کون سے والے ڈاکٹر ہیں لیکن جونسے والے بھی ہیں میرے لیے قابل احترام ۔ آپ نے اپنے اظہارخیال میں تمام ہی باتیں اچھی سے بڑھ کر کہی ہیں جو مبنی پرحق ہیں لیکن ایک جگہ آپ نے پاک سرزمین پارٹی کی ایم کیو ایم کی کوکھ سے تخلیق کیئے جانے کی پات کی ہے
ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ یہ باور کرارہے ہیں کہ پاک سرزمین پارٹی ایم کیو ایم کا حصہ ہے اس ،وقع پر آپ اس حقیقت کو فراموش کر کئے یا یہ حقیقت آپ کے تصور میں نہ تھی کہ اچھوں کے یہاں بد اور بدوں کے ہیا ں نیک بھی پیدا ہوجایا کرتے ہیں۔ جیسے امیر معاویہ کے یہاں یزید اور اسی نسل میں سے عمر بن عبدالعزیز ۔ رہا مصطفیٰ کمال اور انیس قائم خانی کی طرف سے پاک سر زمین پارٹی کا قیام تو مجھے تو یہ امام حسین کی سنت کا اتباع نظر آتا ہے۔ (خلیل احمد)
By: Khalil Ahmed , Karachi Gulistan e johar on Aug, 30 2016
Reply Reply
0 Like