بہار میں سیلا ب ، ایک طرفہ تماشہ ہے !

(Salman Abdul Samad, India)
ملک کی مختلف ریاستوں سمیت نہ صرف شمالی بہار بلکہ یہاں کے متعدد اضلا ع سیلاب سے متاثر ہیں۔ کوسی ، کملا ، بلان، سون اور دیگر ندیوں کے ساتھ ساتھ گنگا کی طغیانی بڑھتی جارہی ہے ، جس سے دارالحکومت پٹنہ پر بھی سیلابی قہر کا خطرہ منڈلا رہا ہے ۔ 1975کے بعد پہلی بار پٹنہ اس قدرتی آفت کی زد میں ہے۔ جہاں تک شمالی بہار کا تعلق ہے تو یہاں ہر سال سیلاب سے تباہی کا امکان رہتاہے۔اس خطہ سے سیلاب کا ناطہ انتہائی پرانا ہے۔ یہاں کی جغرافیائی حدود کچھ اس طرح ہیں کہ مسلسل سرگرم انتظامات اور قابل ذکر اقدامات کے بعد ہی ان علاقوں کو سیلاب سے بچایا جاسکتا ہے۔ ہمالیہ سے نکلنے والی کئی ندیاں نیپال سے ہوتے ہوئے بہار کے ان خطوں میں اترتی ہیں۔ماہرین کا یہ بھی ماننا ہے کہ شمالی بہار کی سیلابی صورتحال سیاستدانوں کے لیے سیاست چمکانے اور چند صنعت کاروں کے لیے ایک صنعت کی درجہ اختیار کرگئی ہے ، یہی وجہ ہے کہ وقت رہتے ہوئے اس کے روک تھا م یا پھر عوام کو سہولت پہنچانے کے لیے کوئی قابل ذکر کام نہیں کیا جاتاہے ۔ لہذا سیلاب کی ہنگامی صورتحال میں’ سیاستداں‘ ابھرتے ہیں اور ان کے ذریعہ وہ سب کچھ ہوتا ہے ، جس کا تصور بھی عام انسان کو دہلا دے۔

حالیہ سیلابی قہر سے شمالی بہار کے 13(اور گنگا پار کے چند)اضلاع کے 31لاکھ افراد متاثر ہیں اور تقریبا110(انڈین ایکسپریس،23اگست)افراد کی موت ہوچکی ہے۔ ڈیزاسٹر مینجمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے مطابق، ریاست کے پورنیہ، کشن گنج، ارریہ، دربھنگہ، مدھے پورا، بھاگلپور، کٹیہار، سپول، سہرسہ، مغربی چمپارن، گوپال گنج سمیت مشرقی چمپارن اور مظفر پور اضلاع کے تقریباً 69 ڈویژن سیلاب کی زد میں ہیں اور سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 1․83 ملین ہیکٹر میں لگی فصل برباد ہو گئی اور سڑکیں خراب ہو گئی ہیں، جس سے ٹریفک نظام متاثر ہوا ہے۔ 6 لاکھ لوگ نقل مکانی کی زندگی جی رہے ہیں جبکہ 3․78 ملین افراد حکومت کی طرف سے قائم 460 ریلیف کیمپوں میں پناہ گزیں ہیں۔ سیلاب سے 13 ہزار سے زیادہ گھر تباہ ہوئے ہیں۔متاثرہ علاقوں سے لوگوں کو نکالنے کے لیے8850کشتیاں لگائی گئی ہیں۔ متاثرین کو حکومت کی جانب سے غذافراہم کی جارہی ہے۔ اب تک 10462کوئنٹل چوڑا، 1980 کوئنٹل گڑ، 9․91 لاکھ لیٹر کیروسین،68584پالی تھن شیٹ، 2․45لاکھ خوردنی اشیاء کی پیکٹس اور دیگر اشیاء متاثرین میں تقسیم کی گئی ہیں۔ خبروں کے مطابق دفاعی اوررفاہی کاموں کے لئے ریاست میں 13 این ڈی آر ایف اور 12 ایس ڈی آرایف کا دستہ مقرر کر دیا گیا ہے۔ وزیر اعلی نتیش کمار دو مرتبہ ہوائی دورہ کرچکے ہیں اور مختلف اوقات میں مختلف محکمات سے بات چیت بھی کی ہے ۔ یہاں تک کہ ان کا کہنا ہے کہ فرککا ڈیم جو مغربی بنگال میں ہے ، سے بھی سیلاب کا قہر برپاہوتاہے ، اس لیے انھوں نے اسے توڑنے یا پھر کوئی حکمت عملی اپنانے کا مطالبہ کیا ہے، یہ ڈیم 1975میں ہگلی میں پانی کے مدنظر بنایا گیا تھا۔ وزیر اعلی بہار نے 23اگست کو د ہلی میں وزیر اعظم سے ملاقات کرکے فرککا ڈیم سمیت سیلاب سے متعلق مختلف موضاعات پر گفتگوکی اور ماہرین کی ایک ٹیم بھیج کر جائزہ لینے کا مطالبہ بھی کیا ہے ۔اسی طرح حکومت بہار میں خاصا عمل دخل رکھنے والے آرجے ڈی سپریمو لالویادو نے سیلاب متاثرہ علاقوں کا دور ہ کرتے ہوئے کہا کہ مہلو کین کے ورثا کو 4لاکھ کا معاوضہ دیا جائے گا ۔

سیلاب سے ہونے والی تباہی کا صحیح انداز ہ لگانے کے لیے برسوں ریسر چ کی ضرورت ہے، تب کہیں جا کر ہلاکت کا صحیح نقشہ سامنے آسکے گا۔ دیگر سیلابی قہر سے قطع نظر اگر ہم فقط 2008میں ہونے والی تباہی کا ہی جائزہ لیں تو بڑی خونچکاں داستان سامنے آئے گی۔فی الحال موجودہ سیلاب سے ہونے والی تباہی کا صحیح اندازہ نہیں لگایا جاسکتا ہے۔ سرکاری اعدادوشمارکے مطابق 2008میں تقریباً8اضلاع میں (سہر سہ ، سپول ، مدھے پورا ، پورنیہ، ارریہ ، کٹیہار ، کھگڑیااور نوگھچیا-بھاگلپور)میں527 جانیں تلف ہوئیں اور 35 لاکھ سے زیادہ لوگ اس تباہی کا شکار ہوئے تھے۔ تاہم کو سی علاقوں میں کام کرنے والی متعدد تنظیمیں مہلوکین کی تعداد ساڑھے تین ہزار سے 20 ہزار تک مانتی ہیں۔ بہار حکومت نے سیلاب کے وقت 9000 کروڑ روپے کے نقصان کا اندازہ لگایا تھا۔ مرکزی حکومت کی جانب سے بھیجے گئے ٹاسک فورس نے 16 ستمبر 2008 کو 25000 کروڑ روپے کے نقصان کی بات کہی تھی۔ بہار حکومت نے تعمیر نو کے لئے 14500 کروڑ روپے کا مطالبہ کیا تھا۔ کئی تنظیموں کا کہنا ہے کہ نقصان ایک لاکھ کروڑ روپے سے زیادہ کا ہوا ہے جبکہ مرکزی حکومت نے محض 1 ہزار کروڑ روپے ہی دئے ۔

یہاں ہم یہ بھی بتادیں کہ ہندوستان دنیا میں سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ممالک میں ایک ہے۔سیلاب سے دنیا بھر کی شرح اموات میں بہارکا حصہ پانچواں ہے ۔ تقریباً 4 کروڑ ہیکٹر علاقہ یعنی ہندوستان کی کل زمین کا آٹھواں حصہ ایسا ہے، جہاں سیلاب آنے کا اندیشہ رہتا ہے۔دنیا میں جو علاقے سیلاب سے بری طرح متاثر ہوتے ہیں، ان میں گنگا کے میدانی علاقے بھی ہیں۔ سیلاب ان علاقوں کے باشندوں کے لئے تقریباً ہر سال دکھ اور تباہی کی تاریخ لکھ جاتا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ پانچ دہائیوں میں ہندوستان میں سیلاب کنٹرول پر 27 ٹریلین روپے خرچ کیے گئے۔

ان تمام اعداد وشمار اور حکومتی اقدامات سے دو سوالات پیدا ہوتے ہیں کہ شمالی بہار میں یقینی طور پر سیلاب آتا ہے تو سیلابی موسم سے قبل حکام وافسران کیوں نہیں حکمت علمی بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ ہے کہ راحت رسانی کے کام میں شفافیت کیوں نہیں برتی جاتی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ سیلابی قہر سے ایک طرف ریاست کے لاکھوں عوام دکھ درد میں مبتلا ہو جاتے ہیں، وہیں دوسری طرف ’سیلاب مافیا‘ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا نے میں مصروف رہتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حکام وافسران بھی انھیں تقویت پہنچانے میں سرگرم عمل ہیں ۔اس مثال سے بھی حکومتِ بہاروانتظامیہ کا چہرہ عیاں ہوگا کہ 2008میں کسہا باندھ ٹوٹنے سے قبل بھی باندھ ٹوٹنے کی وجہ سے سات مرتبہ بہار میں واہی تباہی مچی تھی۔گویا باندھ ٹوٹنے کی وجہ سے ہمیشہ پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔ اس صورتحال میں حکومت ایسے اقدامات کرے کہ باربار ایک جیسی تساہلی سے عوام کوجانی مالی نقصان نہ اٹھانانہ پڑے۔ تاہم بہار کے حکام وانتظامیہ باندھ کے معاملہ سے اس قدر تجاہل عارفانہ برتتے ہیں کہ چند سال کے وقفہ سے ہی یہاں کے عوام کو زبردست قیمت چکانا پڑتی ہے ۔ اس لیے سیلابی قہر پر قابوپانے کے لیے سب سے پہلے باندھ کے معاملات پر غوروفکر کی ضرورت ہے ۔ ورنہ تو یہ معاملہ صنعت کاروں اور ایک بڑے سیاسی گروپ کے لیے سیاست کا اہم موضوع بنا رہے گا۔ حالیہ سیلاب زدہ علاقوں میں کام کرنے والے افراد واداروں سے بات کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک طرف حکومت راحت رسانی کے زبردست ڈھنڈو رے پیٹ رہی ہے ، دوسری طرف متاثرین کی مدد کرتے ہوئے افسران خوف کھاتے ہیں۔جس سے صاف انداز ہ ہوتا ہے کہ سیلاب پر بھی مافیا گیری اچھی طرح چل رہی ہے۔ وہاں کام کرنے والوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہاں کی صحیح صورتحال میڈیا میں نہیں آپارہی ہے ، اس لیے قومی اور بین الاقوامی اداروں کا تعاون موجودہ سیلاب متاثرین کو نہیں مل پارہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ سیلاب سے بہار کو نجات نہیں ملتی ہے اور نہ ہی میڈیا کے احباب وافراد اس کو شد ومد کے ساتھ اٹھاتے ہیں۔ حالات شاہد ہیں کہ 2008میں سیلاب سے جو تباہی ہوئی تھی، وہ میڈیا میں آئی تھی، تاہم 2016میں سیلاب کا جو قہر برپا ہے، اس پر میڈیا نے توجہ نہیں دی ہے۔ 2008میں توجہ دینے کی سب سے بڑی وجہ یہ سمجھ میں آتی ہے کہ 2009کے عام انتخابات قریب تھے ، اس لیے سیاسی لیڈران نے اس پر توجہ کی تھی، مگر فی الحال ایسا کوئی معاملہ نہیں ہے ، اس لیے ریکارڈ توڑ سیلاب کے باوجود بھی شمالی بہار کے سیلاب متاترین علاقہ پر کوئی توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔

جب یہ بات عیاں ہے کہ بہار کے چند اضلاع ہرسال سیلاب کی زد میں آئیں گے ہی تو حکومت کو پہلے سے ہی ایسے اقدامات کرنے چاہئے، تاکہ بروقت لوگوں کی مدد کی جاسکے۔ موجودہ سیلابی منظرنامہ کے تناظر میں ریاستی اور مرکزی حکومت کو نیپالی حکومت کے ساتھ مل کر کوئی نہ کوئی حکمت عملی بنانی چاہئے۔ ورنہ شمالی بہار کے اضلاع دن بدن اقتصادیات کے لحاظ سے تنزلی کے شکار ہوں گے۔ جانی مالی ناقابل تلافی نقصانات ہوں گے۔ اگر ان دنوں مشترکہ طور پر کوئی حل نہ نکل سکے تو ریاستی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ و ہ سیلاب سے متاثر ہونے والے تمام عوام کو منظم طریقے سے نقل مکانی کروائے۔ساتھ ہی ساتھ سیلاب کو صنعت کاری کے نقطہ ٔ نظر سے دیکھنے والوں پر بھی سخت نگاہ رکھی جائے۔ مگر افسوس اس بات کی بھی ہے کہ وزیر اعلی نے وزیر اعظم سے ملاقات کرکے جن ایشوز کو اٹھایا ہے ، ا ن پر تووہ ہمیشہ بات کرتے رہیں ۔ ان کے اس ڈھلمل رویہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ و ہ بھی سیلاب کے معاملہ پر سنجیدہ نہیں ہیں ۔ وزیر اعظم سے سیلاب کے ایشو تبادلہ خیال کرنا ان کامقصد نہیں تھا ۔فقط ایک کتاب کے اجرا ء کے لیے انھیں دہلی آنا تھا اور انھوں نے آتے جاتے وزیر اعظم سے اس معاملہ پر بھی بس رسمی چند منٹ کی ملاقات کرلی ۔ اگر وہ اس معاملہ پر سنجیدہ ہوتے تو متعدد سنجید ہ سوالوں کو اٹھاتے ہوئے انھیں حل کرنے کا مطالبہ کرتے ۔

بہار کی سیلابی صورتحال میں ہونے والی سیاست کے مدنظر یہ کہنے میں کوئی جھجھک نہیں کہ لوگوں کو بچانے اور راحت پہنچانے کے لیے حکومت غیر سرکاری تنظیموں کا بھی سہارا لے ، تاکہ صنعت کاری کی نگاہ رکھنے والوں کی حوصلہ شکنی ہو اور راحت رسانی کا کام بحسن وخوبی انجام پائے۔ اسی ضمن یہ بھی عرض کردینا ضروری ہے کہ قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں کی جائزہ ٹیموں میں غیر سرکار ی افراد کی بھی شمولیت ہونی چاہئے ، تب کہیں اعداد وشمار میں شفافیت آئے۔ورنہ ویسا ہی تضا د سامنے آتا رہے گا ، جیسا کہ 2008 کے سیلاب میں نظر آتا ہے کہ سرکاری اعداد وشمار کے مطابق فقط 527جانیں تلف ہوئیں اور غیر سرکاری اداروں کے مطابق تقریباً 20ہزار ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salman Abdus Samad

Read More Articles by Salman Abdus Samad: 90 Articles with 64134 views »
I am Salman Abdus samad .I completed the course of “Alimiyat” from Islamic University Darul Uloon Nadwatul Ulama Lucknow. Right now doing the course o.. View More
30 Aug, 2016 Views: 304

Comments

آپ کی رائے