بچے اغواء: سیاسی رہنماؤں کا کرداراور ہماری ذمہ داری

(Ghulam Murtaza Bajwa, Sialkot)
 وطن عزیز میں آئے دن کوئی نہ کوئی ایسے واقعہ رونما ہوتاہے ۔جس کے زخم ابھی کم نہیں ہوتے دوسراواقعہ رونما ہو جاتاہے۔ آج کل بچوں کے اغواء کی خبریں عروج پر ہیں۔بچوں کے اغواء کے حوالے سے ہر روز ایک نئی کہانی منظر عام پر آرہی ہے ۔جیساکہ بہت سے بچے والدین اور گھریلوماحول سے تنگ آکر بھاگ جاتے ہیں ۔توکہی مخالفین سے بدلہ لینے کیلئے اپنے ہی ہاتھوں والدین بچے قتل کررہے ہیں۔ ایسی صورتحال پیدا ہوچکی ہے ۔ کہ پولیس سمیت دیگر اداروں کے سربراہان قوم کو اعتماد میں لینے کیلئے کوشاں ہیں۔

سوال یہ پیداہوتاہے کہ ان واقعات میں کتنی حقیقت ہے اور ان واقعات کی روک تھام میں کن لوگوں کو اپنے کرداراداکرسکتے ہیں۔

عدلیہ کے ازخودنوٹس لینے کے بعد پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے لاپتہ اور گمشدہ بچوں کی تفصیلات پر مبنی مرکزی ویب سائٹ لانچ کی ہے جس میں ویب سائٹ میں ایدھی ہوم ، یتیم خانوں ، ایس او ایس ویلج اور چائلڈ پروٹیکشن بیورو میں موجود لاپتہ بچوں کی تفصیلات درج کی گئی ہیں۔گمشدہ بچوں کے تمام کوائف بھی موجود ہیں ، اس وقت چالیس بچیوں ، ایک سو چھبیس لاپتہ اور بازیاب ہونے والے بچوں کاریکارڈ موجود ہے۔

ماہرین کی رائے ہے کہ اگر حکومت وقت ایسے واقعات سے نمٹنے کیلئے دیہاتوں اور شہروں میں ’’کونسلر، نمبردار،ناظمین، امام مسجد،تاجروں رہنماؤں، سیکرٹری یونین کونسل سمیت دیگرکمیٹیوں کے سربراہان ‘‘ کی خدمات حاصل کریں تو بہت جلدبچوں کے اغواء کا مسئلہ حل ہو سکتاہے۔

کیونکہ کونسلر اپنے گاؤں اپنے حلقے کے ووٹوں سے کامیابی حاصل کرتاہے اور تمام لوگوں کا شناخت کرسکتا ہے۔وہ اپنے حلف نامہ میں یہ بھی وعدہ کرتاہے کہ وہ اپنی ووٹروں کی حفاظت کیلئے دن رات کام کرئیگا،وطن عزیزکے آئین اور قانون کی پاسداری کرئیگا۔نمبرداراپنے حلقہ کے شہریوں کی شاخت اور جائیداروں کا محافظ ہو تاہے۔ناظمین اپنے حلقہ کے لوگوں سردارہوتے ہیں۔امام مسجدکا کردارعلاقہ میں ایماندار شخصیت میں ایک ہے۔جس کے کردار پر شک نہیں کیا جاسکتا۔تاجرحضرات کا ملکی معیشت میں اہم کردارہے۔ یونین کونسل سیکرٹریوں کے پا س علاقے اچھااور برا لوگوں کا ریکارڈ موجود ہوتاہے۔اور ہر علاقے میں زاکوٰۃ کمیٹی،امن کمیٹی سمیت دیگر کمیٹیاں ہیں۔جن چیئرمین ،صدور،جنرل سیکرٹریوں سمیت دیگر لوگ شامل ہیں۔توان تمام کمیٹیوں کا ایک ہی مقصد ہے کہ وطن عزیزکو امن کا گہوارہ بنایا جائے۔
تودوسری جانب پاکستان مسلم لیگ نون، پاکستان مسلم لیگ ، آل پاکستان مسلم لیگ،پاکستان پیپلزپارٹی ، پاکستان جماعت اسلامی ، پاکستان تحریک انصاف ، عوامی تحریک سمیت درجنوں جماعتوں کے سربراہان اس بات کے دعوے دار ہیں کہ ہم وطن عزیز کے محافظ ہیں۔

اور سانحات ،حادثات سمیت دیگر واقعات میں بیان بازی کی تمام حدیں عبور کرنے میں ایک دوسرے کا مقابلہ کرتے نظر آتے ہیں۔

توپھر ان کے بیانات کی وجہ سے کئی سوال جنم لیتے ہیں۔پہلا یہ کہ جن علاقوں سے بچے اغواہورہے ہیں وہاں کے کونسلر، نمبردار،ناظمین، امام مسجد،تاجروں رہنماؤں، سیکرٹری یونین کونسل ودیگر لوگ کیا کررہے ہیں۔اور جہاں والدین مخالفین سے بدلہ لینے کیلئے اپنے ہی ہاتھوں والدین بچے قتل کررہے ہیں۔ ان لوگوں کا تعلق کس جماعت سے ہے اور کن کولوگ ان کو حمایت حاصل ہے؟ اس مطلب یہ ہوا کہ کہی نہ کہی معززین علاقہ کی غفلت شامل ہے۔

اس صورتحال میں کچھ لوگ اپنی غفلت کو چھپنے کیلئے الزام ترشی اور بیان بازی شروع کردیتے ہیں۔جس سے قانون نافذ کرنیوالے اداروں کی کارکردگی پر کئی سوالوں پیداہوتے ہیں۔جس میں پولیس سرفہرست ہے۔ ایسے واقعات کے بعد سیاسی ، مذہبی ،دیگررہنماء پولیس پر الزام ترشی کر نا اپنا حق سمجھتے ہیں۔لیکن حقیقت میں ہر پولیس اہلکا ر کرپٹ نہیں ۔ جن لوگ کی بدولت وطن عزیزامن قائم ہے۔محکمہ پولیس کے کئی سالوں سے تعینات متعدد ملازمین وافسروں کا یہ عالم یہ وہ اپنے سرکاری رہائش گاہ کاقبضہ نہیں لے سکے۔جن میں سابق ملازمین وافسران رہائش پذیر ہیں۔ایسے لوگوں پر الزام ترشی کرکے وقت برابرکرنے کے علاوہ اورکیا فائد ہو سکتاہے۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ بچے کے اغواء کے خوف کو ختم کرنے کیلئے کونسلر، نمبردار،ناظمین، امام مسجد،تاجروں رہنماؤں، سیکرٹری یونین کونسل ،سیاسی ،مذہبی ،جماعتوں کے کارکنان،طلباء وطالبات میدان میں آئیں۔کیوں بچے قوم کا سرمایہ ہیں۔بچے کے اغواء کے شبہ میں مخالفین یا شہریوں کو تشدد اور قانون کو ہاتھ میں لینے والے عناصر کو بے نقاب کریں۔ جس سے کرپٹ اور ملک دشمن عناصر کے ناپاک عزائم خاک مل جائیں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Murtaza Bajwa

Read More Articles by Ghulam Murtaza Bajwa: 254 Articles with 99998 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Sep, 2016 Views: 357

Comments

آپ کی رائے