پروفیسر مشتاق احمد! (اپنی تحریروں کے آئینے میں)

(Nazre Alam, )
شخصیت الفاظ کی جب سے ہوئی ہے بے نقاب
کچھ کمی آئی ہے مجھ میں جرأت اظہار کی
(لطف الرحمن)
مذکورہ شعر کی روشنی میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ انسان اور فن جتنی بلندیوں کا سفر طے کرتا ہے اس کے اندر اتنی نرمی گھر کرتی چلی جاتی ہے۔ اسے احساس ہوتا کہ اس کے پاس الفاظ کی شکل میں بیش بہا خزانے موجود ہیں، ان کا استعمال وہ بہت سوچ سمجھ کر کیا کرتا ہے۔ ہاں جب بات الفاظ کی ہوئی ہے تو یہ بھی سمجھ لینا چاہئے کہ انہیں الفاظ کے ذریعہ کسی کو شرف قبولیت بخش دیا جاتا ہے، تو کوئی پوری انسانیت کی نظروں سے گرا دیا جاتا ہے۔ ان الفاظ کو بے دریغ خرچ کرنا دانشمندی نہیں بلکہ کوری حماقت ہے۔ جس سے ایک ادنیٰ پڑھا لکھا انسان بھی واقفیت رکھتا ہے۔
مولانا محمد ولی رحمانی صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں:۔
’’آج کی تہذیب نے انسانوں کو جو تحفے دئے ہیں ان میں عجلت کا تحفہ عام ہے، زندگی جو سلیقہ سے گزارنے اور ڈھنگ سے برتنے کی چیز ہے روا روی کی نذر ہورہی ہے۔‘‘
مولانا ولی رحمانی کی باتوں میں عالمی صداقت پوشیدہ ہے۔ اس کی روشنی میں جب ہم دیکھتے ہیں تو اس مرض کے نمایاں شکار ہماری نظر میں اُردو کے معروف و مشہور ادیب و فنکار پروفیسر مشتاق صاحب ہیں۔معروف اس لئے کہ وہ خود اپنے آپ کو بہت بڑا تسلیم کرتے ہیں اور مشہور اس لئے کہ ان کی باتیں سطحی ہوتی ہیں۔
میرا ان سے کوئی ذاتی دوستی و دشمنی نہیں ہے اور نہ ہی ہوسکتی ہے، کیوں کہ موصوف اس قابل ہی نہیں ہیں۔ایسا لگتا ہے کہ ان کے تمام تر علمی افکار مانگے ہوئے ہیں، ہاں کہہ سکتے ہیں ان کے پاس مانگے کا اُجالا ہے۔ موصوف سستی شہرت کے خواہاں، الزام تراشی میں ماہر اور اپنے آپ کو ملت کا سچا ہمدرد و غم خوار سمجھنے کا گمان رکھتے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ موصوف ہمدرد و غم خوار ہیں مگر ملت کے نہیں حکومت وقت کے۔ یہ ابن الوقت ہیں اور انہیں عوام کو دھوکا دینے کا فن خوب آتا ہے۔ یاد آتے ہیں مجھے سرسید اور ان کا ایک مضمون ’’ریا‘‘ جس میں سرسید نے انسانوں کی ایک تیسری قسم بھی بتائی ہے اور یہ کہا ہے کہ یہ تیسری قسم کے انسان کسی کام کے نہیں ہوتے۔ ہاں تو مشتاق صاحب ایسے ہی تیسری قسم کے انسان ہیں۔
آپ اب تک یہ کہہ رہے ہوں گے کہ Article لکھنے والا بہت ہی متشدد و خود سر ہے، پر، کاش! کہ ایسا ہوتا۔ جب اسی Article کے ذریعہ مشتاق کے چہرہ سے نقاب اٹھے گا تو شاید آپ بھی ہمارے ہم نوا ہوجائیں گے۔ آئیے اب ہم ان کی تحریروں کے حوالے سے کچھ باتیں کرتے ہیں۔
مشتاق صاحب ایک جگہ لکھتے ہیں:۔
’’مسلم آبادیوں کے درمیان ایسے غیر معروف چہرے کو اُبھارنے کا نشانہ بنایا گیا جو شہرت پسند ہواور جو حمیت قوم سے ناواقف ہو۔ چونکہ آر ایس ایس کا تانا بانا پورے ملک میں پھیلا ہوا ہے، اس لئے اس فارمولے کو عملی صورت دینے میں اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئی اور بڑی آسانی سے گاؤں سے لیکر شہر تک مسلم معاشرے کے درمیان ایسے لوگوں کو کھڑا کیا گیا جو نام و نمود کے بھوکے تھے…………‘‘
موصوف بس اتنا ہی کہہ کر نہیں رُک جاتے بلکہ آگے اس طرح رقمطراز ہیں:۔
’’اس کے لئے مٹھی بھر بیکار نوجوانوں کو مختلف نام نہاد تنظیمیں بنانے کی طرف راغب کیا گیا اور ایک شطرنجی چال کے تحت انہیں یہ بتایا گیا کہ وہ مسلمانوں کے مسائل کے لئے اُٹھ کھڑے ہوں۔ بالخصوص مسلمانوں کے مذہبی معاملے میں انہیں فعال رہنے کی تلقین کی گئی۔ نتیجہ یہ ہوا کہ دیکھتے دیکھتے مسلم معاشرے میں نام نہاد سماجی کارکنوں کا سیلاب اُمڈ آیا۔ یہاں مسلم دانشور بھی آر ایس ایس کی چال کونہیں سمجھ سکے اور انہیں یہ لگاکہ مسلم نوجوان اپنے مسائل کے تئیں بیدار ہورہے ہیں…………‘‘
جب مسلم دانشوروں کو آئینہ دکھاکر مشتاق صاحب اپنی قابلیت کا ثبوت دے چکے تو پھر آگے بڑھتے ہیں اور پھر زہرافشانی ہوتی ہے، کہتے ہیں:۔
’’مگر حقیقت تو کچھ اور ہی تھی کہ شہرت پسند اور بیکار مسلم نوجوان آر ایس ایس کے جال میں پھنس چکے تھے۔ واضح ہوکہ سنگھ پریوار نے اس کے لئے اچھا خاصا فنڈ بھی مختص کررکھا ہے…………‘‘
جب موصوف کا پیٹ اتنا کہہ کر بھی نہیں بھرا تو انسانیت کے مقام سے بھی گرکر کچھ یوں کہہ رہے ہیں:۔
’’چوں کہ اس طرح کے موسمی تنظیموں میں بیکار قسم کے نوجوان شامل تھے اس لئے اس فنڈ کو اپنے لئے مالِ غنیمت سمجھا اور اب ان کے درمیان شہرت کی بھوک اتنی جگا دی گئی تھی کہ وہ ہر دوچار دنوں پر بے مقصد چوک چوراہوں پر مظاہرہ کرنے لگے……‘‘
مذکورہ باتوں کی روشنی میں ایک بات تو صاف ہے کہ موصوف صرف عجلت کے ہی شکار نہیں بلکہ بغیر دلیل و حوالے کے بات کرنی بھی جانتے ہیں۔ کیا موصوف ایک بھی مثال پیش کرسکتے ہیں کہ کوئی مسلم تنظیم آر ایس ایس سے فنڈنگ کرواتی ہو۔ ہو ہی نہیں سکتا۔ اس طرح کے لوگ صرف مسلم تنظیموں کو ہی نہیں بلکہ ’’اویسی‘‘ کو بھی آر ایس ایس کا ایجنٹ کہنے سے گریز نہیں کرتے۔ یہاں یہ بتاتا چلوں کہ موصوف شاید یہ بھول چکے ہیں کہ کرسی حاصل کرنا اور کرسی کا، مل جانا دونوں میں نمایاں فرق ہے۔ خود ان کی تقرری کس طرح سے ہوئی، یہ کس دروازہ سے داخل ہوئے یہ اُردو کا بچہ بچہ جانتا اور سمجھتا ہے۔ مجھے کچھ اس پر روشنی ڈالنے کی مطلق ضرورت نہیں۔
’’ہاں،جب ایسا ہے تو انہیں کیا معلوم کرسی کی اہمیت اور عہدہ کی عزت کیا ہوا کرتی ہے۔ میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ یہ ’’غنیم‘‘ اور ’’غنیمت‘‘ میں فرق نہیں کرسکتے۔ہمارا سماج بھی اس جرم میں حصہ دار ہے جو ایسے لوگوں کو ایسے مقام تک پہنچا دیتے ہیں جس کے وہ اہل نہیں ہوا کرتے……خیر……!!!
موصوف اپنا ذاتی تجربہ بتاکر اپنی باتوں کو مستحکم کرنا چاہتے ہیں اورآگے لکھتے ہیں:۔
’’کچھ دنوں قبل ایک قومی ہندی اخبار کے مقامی بیوروچیف سے گفتگو ہورہی تھی، انہوں نے اس بات کا انکشاف کیا کہ یہاں کی فلاں تنظیم کی خبروں کو نمایاں طور پر شائع کرنے کی ہیڈکوارٹر سے ہدایت ہے۔ جس تنظیم کا انہوں نے ذکر کیا اس میں ایسے لوگ شامل ہیں جنہیں عوام الناس لاخیروں کی جماعت کہتے ہیں……‘‘
موصوف کی دروغ گوئی تو صاف ہے ، اگر مان لیا جائے کہ ایسی ہی بات ہوئی، تو تحقیق کرنا تھا اس کے بعد بات کہنی تھی۔ اب تنظیم کوئی بھی ہو اس کے حرکات وسکنات (Activities) کی خبریں تو شائع ہوں گی ہی۔ انہوں نے تو اپنے جھوٹ کو چھپانے کے لئے اس تنظیم کا نام بھی لینا مناسب نہیں سمجھا۔ شاید انہیں خوف ستارہا ہو کہ اگر بہتان نام کے ساتھ لگاؤں تو اس تنظیم کے لوگ جنہیں یہ خود لاخیروں کی جماعت کہہ کر عوام الناس کے سرمڈ رہے ہیں، انہیں نہیں چھوڑیں گے۔ آخر کیا وجہ تھی کہ اپنی بات رکھنے کا انہوں نے ایک منفرد طریقہ ایجاد کیا۔ ہم یہ بتادینا چاہتے ہیں کہ آپ ایک پروفیسر ہیں اور پروفیسروں کو ایسی باتیں کرنی کسی بھی طرح زیب نہیں دیتا۔ ان پر تو آج کل غبن کے چارجز بھی لگے ہوئے ہیں، جن کی وجہ کر یہ اپنے عہدہ سے ہٹائے بھی جاچکے ہیں، شرم نہیں آتی……!!! اپنی باتوں کو بغیر دلیل کے ساتھ کہتے ہوئے۔ آپ کسی کو بھی آر ایس ایس کا ایجنٹ کہہ دیں گے، اس کے لئے فنڈنگ بھی کروا دیں گے اور اس فنڈنگ کو مالِ غنیمت کا نام دے دیں گے۔ افسوس صد افسوس……!!!
موصوف اپنے ایک مضمون ’’بہار میں اُردو کی ترقی کے روشن امکانات!‘‘ میں حکومت کی قصیدہ خوانی سے بھی چوکتے ہوئے نظرنہیں آتے۔ ایسا لگتا ہے وہ نتیش کمار کو وزیراعلیٰ نہیں بلکہ اُردو کے تمام تر مسائل کا حل کرنے والا بناکر پیش کرنا چاہتے ہیں جس سے ان کی جانب داری بھی واضح ہوجاتی ہے۔ میں نے شروع میں ہی کہا تھا کہ موصوف حکومت کے ہی خیرخواہ ہوسکتے ہیں قوم و ملت کے نہیں۔ یاد رہے کہ وزیراعلیٰ کی اُردو دشمنی پورے ملک میں مشہور ہے۔ جس کی سیدھی مثال اُردو ٹی ۔ای ۔ٹی۔ کو دیا جاسکتا ہے۔ جس طرح سے حکومت نے اُردو ٹی۔ ای۔ ٹی۔ کاہنگامہ کر اِس میں کامیاب ہونے والے امیدواروں کونوکری کا بھروسا دیا، کیا حکومت نے ایسا کیا……؟ آج ہزاروں کی تعدادمیں اُردو ٹی۔ ای۔ ٹی۔ کامیاب امیدوار نوکری پانے کے لئے در در کی ٹھوکریں کھارہے ہیں۔ یہ موصوف کو نظر نہیں آتا۔
کبھی کبھی موصوف فکر آمیز باتیں بھی کرتے ہیں، جلدی میں بنا تحقیق کے پڑھنے والا ان کا مرید بھی ہوجایا کرتا ہے، پر وہ دیرپا نہیں رہتا۔ لکھتے ہیں:۔
’’میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ فوقانیہ یا مولوی کا امتحان پاس کرکے بہت سے طلباء کالجوں میں داخلہ لینے آتے ہیں۔ میرے کالج میں بھی بڑی تعداد میں مدارس کے فارغین داخلہ لینے پہنچتے ہیں، چوں کہ میں خود اُردو کاایک طالب علم ہوں اس لئے نئی نسل سے بھی کچھ سیکھنے کی جستجو رکھتا ہوں۔ اس لئے ان سے بھی سوالات کرتا ہوں۔ مجھے اس وقت بڑی مایوسی ہوتی ہے کہ ننانوے فیصد بچے اُردو میں کتنے حروف تہجی ہیں اس سے ناواقف ہوتے ہیں……‘‘
میں نے جب پروفیسر مشتاق کہ ان باتوں کو جانچنے و پرکھنے کی کوشش کی تو مجھے معلوم ہوا کہ یہ بچوں سے سیکھنے کی جستجو نہیں رکھتے، بلکہ عجیب عجیب سوالات پوچھ کر بچوں کے حوصلے پست کردیتے ہیں۔ اسی میں دیکھیں بچہ اُردو جانتا ہے بھی یانہیں یہ جاننے کا معیار موصوف کا یہ سوال تو نہیں ہوسکتا نہ……؟ نہیں اور کبھی نہیں……!!! ہم نے جب بچوں سے ملنے کی کوشش کی تو عجیب انکشافات ہوئے۔ بچوں نے بتایا کہ جب وہ موصوف سے ملتے ہیں تو بیشتر بچے کم از کم دس(۱۰) دنوں تک احساس کمتری کے شکار ہوجایا کرتے ہیں، ان کا عزم متزلزل ہو جاتا ہے۔ دوسرے استاد انہیں حوصلہ دیتے ہیں۔ ہاں ۔ یہ بچوں کی آواز ہے، ضرورت پڑی تو دلائل پیش کئے جاسکتے ہیں۔ تو میں یہ کہہ رہا تھا کہ موصوف ایک اچھے استاد بھی نہیں بن سکے۔ شاید یہ کہنا جلدبازی ہوگی کہ موصوف اس کام کے لئے بنے ہی نہیں تھے۔ وہ کچھ لوگوں کی غلطی کی وجہ کر اس کرسی تک پہنچا دئے گئے۔ خدا بچوں کے مستقبل کی حفاظت کرے……
وندے ماترم کے تعلق سے ممبر آف پارلیمنٹ حیدرآباد کے اسدالدین اویسی صاحب نے ایک بیان دیا تھا۔ جس کی وجہ کر سیاسی افراتفری مچ گئی۔ موصوف کی اس پر بھی پینی نظر ہے۔ وہ اپنے مقام و حیثیت کو بھول کر اُویسی کو بھی نصیحت دے ڈالتے ہیں:۔
’’اسدالدین اُویسی کا حالیہ بیان بھی غیرمعقولیت پر مبنی ہے۔ اس طرح کا غیردانشمندانہ بیان سیاسی اعتبار سے وقتی بھونچال تو پیدا کردیتا ہے اور اس طرح کے لوگ اخباروں کی سرخیاں تو بن جاتے ہیں لیکن اس کے مضر اثرات دیرپا ثابت ہوتے رہے ہیں……‘‘
موصوف کو یہ بھی نہیں پتا کہ وہ (اُویسی) کس حیثیت کے مالک ہیں۔ ان کے لئے موصوف کیا کہہ گئے ایک بار پھردیکھئے:۔
’’اس طرح کے لوگ اخباروں کی سرخیاں تو بن جاتے ہیں‘‘
کیا اس طرح کی باتیں کہنا چھوٹی منھ بڑی بات کے مترادف نہیں ہے……؟ ہر ذی ہوش اس بات کو سمجھ سکتا ہے کہ موصوف نے اس طرح کی بات کیوں کی ہے؟ اور اخباروں کی سرخیاں بننا کون چاہتا ہے۔ اُویسی کا قد ایک مانا ہوا قد ہے، اُویسی کی آواز میں ایک سچائی ہے، ایک کرب ہے جو ملت کے درد کو بیان کرتا ہے۔ اُویسی نے قوم و ملت کے لئے جو خدمات انجام دئے ہیں اور دے رہے ہیں وہ کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ پر موصوف ملزم کے علاوہ اور کیا ہیں……؟ میں موصوف کو یہ بتادینا چاہتا ہوں کہ سورج کی روشنی سے شکایت کرنے سے قبل اس کا بدل پیدا کریں ورنہ انہیں کوئی حق نہیں پہنچتا اس طرح کی باتیں کرنے کا۔
غالباً امام غزالیؒ کا قول ہے کہ اگر تمہارے پاس کوئی شخص اپنی دونوں آنکھیں پھوٹی ہوئی لیکر آئے اور یہ کہے کہ فلاں شخص نے اس کی یہ آنکھیں پھوڑ دی ہیں تب بھی تم فیصلہ سنانے میں عجلت سے کام مت لینا۔ ہوسکتا ہے یہ شخص اس کے پورے خاندان کی آنکھیں پھوڑ چکا ہو۔
پر موصوف کوان باتوں سے دور دور تک کا بھی واسطہ نہیں ہے، وہ اپنی بات کہتے ہیں یا فرضی داستانیں گھرتے ہیں یہ تو آنے والا وقت ہی بتائے گا۔ مناسب معلوم پڑتا ہے موصوف کے ایک اور تجربہ سے آشنا ہونے کا۔ کہتے ہیں:۔
’’حال ہی میں ہمارے کالج کے ایک ٹیچر نے مجھ سے کہا کہ سر آپ کے مذہب میں بھی تو پاؤں چھوکر پرنام کرنے کی اجازت ہے۔ میں نے جواباً انہیں سمجھایا کہ نہیں ہمارے مذہب میں پاؤں چھوکر پرنام کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ پھر انہوں نے تفصیل بیان کی اور کہا کہ فلاں مسلم شخص ہمارے ساتھ تھے اور انہوں نے فلاں غیرمسلم کاپاؤں چھوکر پرنام کیا۔ انہوں نے ایک دلچسپ بات یہ بھی بتائی کہ پاؤں چھوکر تو مجھے پرنام کرنا چاہئے تھا لیکن میں نے نہیں کیا۔ بلکہ ہاتھ جوڑ کر پرنام کیا۔ اتنا ہی نہیں جب بعد میں اس مسلم شخص کو اس غیرمسلم ٹیچر نے کہا کہ آپ کے مذہب میں پرنام کرنے کی اجازت نہیں ہے تو انہوں نے دلیل دی کہ بڑوں کو کیا جاسکتا ہے……‘‘
اب شریعت نے اجازت دے رکھی ہے یا نہیں یہ تو ایک الگ مسئلہ ہے پر موصوف شاید یہ بھول گئے کہ یک طرفہ باتیں سن کر کسی نتیجے پر نہیں پہنچا جاسکتا ہے۔ وہ خود بیان کرتے ہیں کہ غیرمسلم ٹیچر نے جب اس مسلم ٹیچر کو کہا تو اس نے اپنی صفائی میں ایک بات کہی۔ یعنی موصوف دوبارہ پھر اس غیرمسلم ٹیچر سے ملے، مگر انہیں وہ شخص یاد نہیں آیا جن پر تہمتیں لگائی جارہی تھیں۔ یہ محض ایک افسانہ ہے جو موصوف کو خوب گڑھنے آتا ہے۔
مشتاق صاحب کو یہ بات ہمیشہ یاد رکھنی ہوگی کہ جب زمانہ کچھ دیتا ہے تو اُسے لینا بھی آتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Nazre Alam

Read More Articles by Nazre Alam: 5 Articles with 1866 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Sep, 2016 Views: 328

Comments

آپ کی رائے