عظمت حرمین واتحاد امت کانفرنس

(Muhammad Attique, )
اسلام دین امن ہے جس کے ماننے والے دنیا کے کسی بھی کونے میں ہوں امن عالم کے لئے کوشاں رہتے ہیں ۔پچھلے ایک لمبے عرصے سے عالم اسلام کو ایک طے شدہ منصوبے کے تحت خاک و خون میں ڈبویاجارہاہے ۔عالم اسلام کے اکثر ممالک میں بدامنی پھیلائی جارہی ہے ۔عالم اسلام کے شہروں ،ملکوں اورعلاقوں پر دہشت گرد عناصر مختلف روپ دھار کر حملہ آور ہیں ۔اسلام کے مقدس ترین شہروں مکۃ المکرمہ اور مدینہ منورہ تک ان دہشت گردوں کے شر سے محفوظ نہیں رہے ۔29رمضان المبارک کو مدینہ منورہ میں ہونے والے دھماکوں نے عالم اسلام کو ہلاکررکھ دیاتھا ۔ اسی سلسلے میں اتوار 21اگست کو پاکستان میں ’’عظمت حرمین واتحاد امت کانفرنس‘‘منعقد کی گئی جس میں متعدد حکومتی شخصیات سمیت ملک کی سرکردہ دینی وسیاسی جماعتوں کے نمائندوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔مرکزی جمعیت اہلحدیث کے زیر اہتمام ہونے والی اس کانفرنس میں عرب اور یورپی ملکوں سے آئے ہوئے وفود نے بھی شرکت کی۔ ان میں سعودی عرب کے سیکرٹری امور اسلامیہ الشیخ عبدالرحمان الغنام، مسجد اقصی کے خطیب اور القدس کے سابق مفتی علامہ عکرمہ صبری، مفتی استنبول الشیخ رحمی یاران، بحرینی مجلس شوری کے رکن عادل المعاودہ اور اسلام آباد میں متعین عرب اور اسلامی ممالک کے سفراء کی ایک بڑی تعداد بھی کانفرنس میں موجود تھی ۔کانفرنس میں وفاقی وزیراطلاعات ونشریات پرویز رشید، مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ اورسینیٹرعلامہ پروفیسر ساجد میر، رکن اسمبلی اور ایوان زیریں کی دینی کمیٹی کے رکن حافظ عبدالکریم، جمیعت علمائے اسلام’ ف‘ کے رہنما اور ڈپٹی چیئرمین سینٹ مولانا عبدالغفور حیدری، سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان لیاقت بلوچ، جمعیت علمائے اسلام’س‘ کے سربراہ مولانا سمیع الحق، جمیعت علمائے پاکستان کے سربراہ اویس احمد نورانی، تحریک دفاع الحرمین الشریفین کے رہنما فضل الرحمان خلیل اور دیگر نے شرکت کی۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے رکن مولانا علی محمد ابو تراب نے اعلامیہ پڑھ کر سنایا ہے۔ جس میں کہا گیا ہے کہ ''الحرمین الشریفین سمیت مقدسات اسلامیہ کی حفاظت ہر مسلمان کا دینی فریضہ ہے۔حج کے بہترین انتظامات پر سعودی عرب کی حکومت کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں''۔مفتیِ اعظم ترکی شیخ رحیمی یاران نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امت مسلمہ کے مسائل کا حل اتفاق و اتحاد میں مضمر ہے مگر آج مسلمان باہم دست و گریباں ہوکر دین اسلام کو نقصان پہنچارہے ہیں۔انھوں نے بین الاقوامی اتحاد امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت پر میزبانوں کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ پاکستانی بھائیوں کی محبت کو دیکھ کر ایسے لگا ہے کہ میں اپنے ہی دوسرے گھر میں آیا ہوں اس پر میں ان کا بے حد ممنون ہوں۔کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سینیٹر پروفیسر ساجد میر کا کہنا تھا کہ پاکستان نے کشمیر کے معاملے پر عالمی سطح پر درست طریقے سے آواز بلند نہیں کی ۔ہم حکومت سے مطالبہ کرتے ہیں مسئلہ کشمیر کو ہر بین الاقوامی فورم پر بھرپور طریقے سے اٹھایا جائے اور بین الاقوامی برادری کو مجبور کیا جائے کہ وہ مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرائے۔مسلمان ممالک ایک دوسرے کے معاملات میں دخل اندازی کرنا بند کریں ، سب مسلمان حکمرانوں کو کفر کی قوتوں کے خلاف ایک ہونا ہو گا، اپنے اتحاد سے ہم حرمین کی حفاطت ،کشمیر اور فلسطین کو آزادی دلائیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب میں دھماکوں کے بعد پارلیمنٹ کی طرف سے منظور کردہ قرارداد عوام کے جذبات کی ترجمانی نہیں کرتی، حکمران ڈرتے ہیں کہ اگر کھل کر سعودی عرب کا ساتھ دیا تو اسلام دشمن قوتیں برا نہ مان جائیں ۔ڈپٹی چیئرمین سینیٹ مولانا عبدالغفور حیدری کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کو اسلام سے جوڑنا بدنیتی اور ظلم ہے ، ہم حرمین شریفین کے تحفظ کے لئے ہر وقت تیار ہیں کسی بھی مشکل حالات میں سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہوں گے۔جے یوآئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق نے کہا کہ عالم کفر اسلام کے خلاف ایک ہیں ،ہمیں بھی ایک ہونا ہوگا ۔ اقوام متحدہ اور عالمی برادری کو آزادی کی جدوجہد ،جہاد اور دہشت گردی کی حدود کا تعین کرنا ہوگا ۔ اتوار کو کنونشن سینٹر میں ہونے والی تحفظ حرمین شریفین اور وحدت امت بین الاقوامی کانفرنس سے سعودی عرب کے نائب وزیر برائے مذہبی امور ،ترکی ، بحرین کے سفراء ،جماعت اسلامی کے رہنما لیاقت بلوچ، اہل سنت والجماعت کے رہنما احمد لدھیانوی ، جمعیت علمائے پاکستان(نورانی) کے سربراہ اویس احمد نورانی سمیت دیگر نے بھی خطاب کیا۔کانفرنس کے شرکاء نے مقبوضہ کشمیر میں غیر انسانی وریاستی جبر تشدد کے خلاف اور فلسطین کے معاملے پر عالمی برادری سے کردار ادا کرنے کامطالبہ کیا۔کانفرنس میں ترکی بغاوت ناکام بنانے پر ترک حکومت اور عوام کو مبارکباد پیش کی گئی۔کانفرنس کے اعلامیے میں کہا گیا کہ تحفظ حرمین شریفین اور وحدت امت کانفرنس اس عزم کا اظہار کرتی ہے کہ مسلم دنیا اپنے وقار اور عظمت کی بحالی اور مشترکہ پالیسیوں کیلئے متحدہ مسلم فورم تشکیل دے،امریکہ سمیت کسی بھی ملک کو یہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ مسلم ممالک کی نئی سرحد بندی کرنے کی جسارت کرے۔حرمین شریفین کا امن پوری دنیا کے امن کی نشانی ہے،29رمضان کو مسجد نبوی میں دہشتگردی اور بم دھماکہ امت مسلمہ کے خلاف سازش ہے،ہم اس کی بھرپور مذمت کرتے ہیں۔ کانفرنس کوئٹہ کے بم دھماکے کے شہداء کی بلندی درجات کیلئے دعاگو ہے اور ورثاء کے ساتھ گہری ہمدردی کا اظہار کرتی ہے۔ وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات پرویز رشید نے کہا کہ دنیا بھر کی انسانیت کو بچانے کے لیے مسلمانوں کے سر پر تاریخ نے جو ذمہ داری ڈالی ہے، ہم اس فریضے کو ضرور پورا کریں گے۔انھوں نے عصر حاضر کے چیلنجز سے کامیابی سے نمٹنے کے لیے امت مسلمہ کے درمیان اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔

سعودی عرب کی طرف سے 34ممالک کے عسکری اتحاد کی بھرپورتائید و حمایت کی گئی اورکانفرنس میں کہا گیا کہ امت مسلمہ کا عسکری اتحاد وقت کی ضرورت ہے۔کشمیرمیں جاری بھارتی دہشت گردی اور حالیہ مظالم پر کانفرنس میں کہا گیا کہ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے،ہم اس مطالبے سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے،بھارت مقبوضہ کشمیر میں بلاجواز دہشتگردی اور انسانی جانوں کے ساتھ کھلواڑ بند کرے،کشمیر کا مسئلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کیا جائے۔دینی درس گاہوں کے حوالے سے کہا گیا کہ مدارس اسلام کے قلعے ہیں اور ان کے خلاف کوئی بھی سازش برداشت نہیں کی جائے گی۔وفاقی وزیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ’’ مسلمانوں کے مقدس مقامات کی طرف کوئی میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکتا ، ہم حرمین شریفین کے دفاع کے لئے ہر وقت تیار ہیں۔ مسلمان دہشت گرد نہیں بلکہ چند لوگ اسلام کا نام لیکر دہشت گردی کرتے ہیں ، اسلام میں ایک شخص کا قتل پوری انسانیت کا قتل ہے‘‘۔اس طرح کی کانفرنسز وقت کی اہم ضرورت ہیں جن میں جہاں دینی طبقہ کے ماہرین اکٹھے ہوکر عالم اسلام کے مسائل کو زیربحث لاتے ہیں وہیں عالم اسلام کے سیاسی رہنماؤں کو عالم اسلام کو متحد کرنے میں اپنی مددوحمایت کا یقین دلانے کے ساتھ ساتھ اسلام دشمن قوتوں کو یہ سبق بھی پہنچاتے ہیں کہ ہم ایک پلیٹ فارم پر ہیں ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Atiq Ur Rhman

Read More Articles by Muhammad Atiq Ur Rhman: 72 Articles with 36102 views »
Master in Islamic Studies... View More
02 Sep, 2016 Views: 326

Comments

آپ کی رائے