کشمیر کا مقدمہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں!

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)
عید کے موقع پر اس خبر پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار سامنے آیا کہ عیدا لاضحی کے موقع پرپاکستان اور بھارت کی سرحدوں پر مٹھائی دی اور لی گئی ہے۔بھارتی میڈیا میں''عید پر ہند۔پاک سرحد پر مٹھائیوں کا ہوا لین دین'' کے عنوان سے شائع اس خبر کے مطابق''عیدالاضحی کے موقع پر ہند۔ پاک ٍ سرحدوں پر مٹھائیوں کا لین دین ہوا۔اس موقع پرپونچھ راولاکوٹ کراسنگ پوائنٹ و کرشناگھاٹی سیکٹر میں تتہ پانی،منڈھر کراسنگ پوئنٹ پر بھارتیہ فوج کے جوانوں نے پاکستانی رینجرز کو مٹھائیاں بھینٹ کر عید کی مبارکباد دی''۔اس وقت جبکہ بھارت افغانستان کے راستے بھی پاکستان میں دہشت گردی کرواتے ہوئے دھڑلے سے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی ہر طرح سے کھلے عام مددو حمایت کر رہا ہے،مقبوضہ کشمیر میں70دنوں سے مسلسل بھارتی فورسز کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہوئے کشمیریوں کو وحشیانہ طور پر سزایاب کر رہا ہے،اس صورتحال میں کشمیر کی سیز فائر لائین (لائین آف کنٹرول) پر مٹھائی کے اس تبادلے کا کیا مقصد ؟ ایک طرف پاکستان دنیا بھر میں بھارت کے خلاف اپنے ملک میں دہشت گردی کروانے اور مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کو ظالمانہ طور پر ہلاک کر رہا ہے،اور دوسری طرف مٹھائیوں کا یہ تبادلہ! اس عمل سے دنیا کویہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف کسی بھی سخت ردعمل کو ہر گز تیار نہیں ہے،صرف جنگ ہی نہیں،پاکستان کی طرف سے بھارت کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار بھی خارج از امکان بنایا جا چکا ہے۔
وزیر اعظم نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں خطاب کے لئے روانگی سے پہلے جمعہ کو مظفر آباد کا دورہ کیا اور وہاں وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر خان،صدر مسعود خان اور حریت رہنمائوں سے ملاقات کی۔اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاکستان کبھی کشمیریوں کے حق خودارادیت کی حمایت سے پیچھے نہیں ہٹے گا،اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے فورم پہ کشمیریوں پر بھارتی مظالم کا معاملہ اٹھائوں گا، عالمی برادری کو اپنی خاموشی توڑنی پڑے گی، بھارت کا جبر اور بربریت کسی صورت قابل قبول نہیں، وقت آگیا کہ کشمیریوں کی خواہش کے مطابق مسئلہ کشمیر حل کیا جائے ۔انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ جانے سے پہلے کشمیری قیادت اورحریت رہنمائوں کو اعتماد میں لینا چاہتا تھا۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ وہ پہلے وزیراعظم ہیں جو دورہ امریکہ سے پہلے کشمیر آ کر مشاورت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں ظلم اور بربریت کی انتہاہو چکی ہے، کشمیری انصاف اور حق خودارادیت کا مطالبہ کرتے ہیں، کشمیری عوام کے حق خود ارادیت کو عالمی برادری تسلیم کر چکی ہے،عالمی برادری کو اپنی خاموشی توڑنا ہو گی جبکہ اقوام متحدہ اپنی قراردادوں ے مطابق حق خود ارادیت کا وعدہ پورا کرے۔ آج کشمیری اور ہم جذباتی اور غصے میں ہیں تو یہ بجا طور پر درست ہے۔

پاکستان میں بھارت کی خفیہ مداخلت اب کھل کرسامنے آگئی ہے۔بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی طرف سے بلوچستان،آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں رابطے بڑہانے کے بعد بھارتی خفیہ ایجنسیوں نے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کے لئے ریڈیو سٹیشن قائم کیا ہے اور سوئیزر لینڈ میں مقیم براہمداخ بگٹی کو دنیا بھر میں آسانی سے سفر کی سہولت دینے کے لئے بھارتی پاسپورٹ دینے کا اقدام کیا ہے۔ بھارتی جاسوس کی گرفتاری سے بلوچستان میں بھارتی مداخلت کا ثبوت سامنے آنے پر پاکستان کی طرف سے اہم ملکوں کو اس صورتحال سے آگاہ کیا گیا۔دوسری طرف بھارت مقبوضہ کشمیر کی آزادی پسند عوام کی بے مثال جدوجہد اور سخت ترمزاحمت میں ہزیمت خیز صورتحال سے دوچار ہے۔بھارت یہ تو کہتا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان مداخلت کرتا ہے ،کشمیریوں کو بھارت کے خلاف اکساتا ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر نظر رکھنے والی عالمی برادری میں بھارت کے اس دعوے کو پزیرائی حاصل نہیں ہے۔بہر حال دنیا کے اہم ملکوں بالخصوص امریکہ کی حمایت سے بھارت کی حوصلہ افزائی ہو رہی ہے کہ وہ عالمی سطح پر تسلیم شدہ مسئلہ کشمیر کے حل سے انکار کرتے ہوئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کی عوامی جدوجہد اور سخت مزاحمت کو کچل دے اور کشمیری عوام کوفورسز کے ظالمانہ استعمال سے دبانے کی کاروائی مسلسل طور پرجاری رکھے۔

خود بھارت میں بھی کشمیریوں پر وحشیانہ مظالم کے خلاف آواز اٹھ رہی ہے لیکن مقبوضہ کشمیر کے حالات بتاتے ہیں کہ بھارت کشمیریوں کوطاقت سے دبانے کی پالیسی ،حکمت عملی میں تبدیلی لانے کی سوچ نہیں رکھتا۔کشمیری مظاہرین کے خلاف چھروں والی بندوق استعمال نہ کرنے کی بات تو کی جاتی ہے لیکن یہ نہیں کہا جاتا کہ کشمیری عوام کے خلاف ریاستی طاقت کا ظالمانہ استعمال کیوں جائز قرار دیا جا رہا ہے؟ کشمیری عوام تو اپنے سیاسی مستقبل کے تعین کے لئے حق خود ارادیت کا مطالبہ کر رہے ہیں،جس کا وعدہ خود بھارت اور عالمی برادری نے بھی کر رکھا ہے۔ بھارت سے مقبوضہ کشمیر میں مزید فوجی دستے بھیجے جا رہے ہیں۔انہی دنوں جنوبی کشمیر میں بی ایس ایف(باڈر سیکورٹی فورس)کے چار ہزار اہلکار متعین کئے گئے ہیں۔وادی کشمیر کے ہر علاقے میں فوجی دستے متعین کئے گئے ہیں۔بھارتی فوجیوں سے لدے طیارے سرینگر ایئر پورٹ پہنچ رہے ہیںجبکہ مقبوضہ وادی کشمیر میں پہلے سے ہی غیر معمولی بڑی تعداد میں بھارتی فوجی مستقل بنیادوں پر تعینات ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں 70روز سے جاری بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں جاری عوامی جدوجہد اور سخت مزاحمت میں ایک نئی خبر یہ ہے کہ جموں کے مسلم اکثریتی اضلاع میں بھی عوامی مزاحمت کی بیداری ہو رہی ہے۔

عید کے موقع پر اس خبر پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار سامنے آیا کہ عیدا لاضحی کے موقع پرپاکستان اور بھارت کی سرحدوں پر مٹھائی دی اور لی گئی ہے۔بھارتی میڈیا میں''عید پر ہند۔پاک سرحد پر مٹھائیوں کا ہوا لین دین'' کے عنوان سے شائع اس خبر کے مطابق''عیدالاضحی کے موقع پر ہند۔ پاک ٍ سرحدوں پر مٹھائیوں کا لین دین ہوا۔اس موقع پرپونچھ راولاکوٹ کراسنگ پوائنٹ و کرشناگھاٹی سیکٹر میں تتہ پانی،منڈھر کراسنگ پوئنٹ پر بھارتیہ فوج کے جوانوں نے پاکستانی رینجرز کو مٹھائیاں بھینٹ کر عید کی مبارکباد دی''۔اس وقت جبکہ بھارت افغانستان کے راستے بھی پاکستان میں دہشت گردی کرواتے ہوئے دھڑلے سے بلوچستان کے علیحدگی پسندوں کی ہر طرح سے کھلے عام مددو حمایت کر رہا ہے،مقبوضہ کشمیر میں70دنوں سے مسلسل بھارتی فورسز کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلتے ہوئے کشمیریوں کو وحشیانہ طور پر سزایاب کر رہا ہے،اس صورتحال میں کشمیر کی سیز فائر لائین (لائین آف کنٹرول) پر مٹھائی کے اس تبادلے کا کیا مقصد ؟ ایک طرف پاکستان دنیا بھر میں بھارت کے خلاف اپنے ملک میں دہشت گردی کروانے اور مقبوضہ کشمیر میں حق خود ارادیت کا مطالبہ کرنے والے کشمیریوں کو ظالمانہ طور پر ہلاک کر رہا ہے،اور دوسری طرف مٹھائیوں کا یہ تبادلہ! اس عمل سے دنیا کویہ پیغام ملتا ہے کہ پاکستان بھارت کے خلاف کسی بھی سخت ردعمل کو ہر گز تیار نہیں ہے،صرف جنگ ہی نہیں،پاکستان کی طرف سے بھارت کے خلاف سخت ردعمل کا اظہار بھی خارج از امکان بنایا جا چکا ہے۔

بھارت کا یہ کہنا کہ اگر پاکستان نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کا مسئلہ اٹھایا تو بھارت بلوچستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اٹھائے گا،سے واضح ہوتا ہے کہ بھارت اقوام متحدہ ،عالمی اداروں میں مسئلہ کشمیر اٹھانے سے خوفزدہ ہے۔جینوا میں13ستمبر سے شروع ہونے والے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے سربراہ ڈاکٹر سید نذیر گیلانی کا کہنا ہے کہ پاکستان نے اس بات کی فکر نہیں کی کہ کشمیر کی سنگین صورتحال کے بارے میںجینوا قرار داد60/251 کے رول10کے تحت اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کا خصوصی اجلاس بلانے کی کوشش کی جائے۔ ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کہا کہ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں دو ماہ سے زائد وقت سے جاری مسلسل ہڑتال ،کرفیو،بھارت مخالف مظاہروں اور بھارتی فورسز کی فائرنگ سے سویلین ہلاکتوں کی صورتحال بد سے بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ اس کے برعکس آزاد کشمیر،گلگت بلتستان اور پاکستان میں حالات معمول کے مطابق ہیں۔یوں پاکستان کی خلاف بھارتی الزامات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔سید علی شاہ گیلانی نے کشمیریوں کو بچانے کی '' ایس او ایس'' کال دیتے ہوئے بتایا ہے کہ کشمیریوں کو بھارت کی طرف سے قتل و غارت گری کی مہم کے حوالے سے کشمیریوں کو بچانے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت نے کشمیری حریت پسندعوام کے اہم افراد کو ہلاک کرنے کے لئے ایک لسٹ تیار کی ہے ،اس لسٹ میںآزادی پسند رہنما،کارکن،سول سوسائٹی کے ممبرز،تاجر نمائندے ،سرکاری ملازمین اور صحافیوں کے نام شامل ہیں۔ڈاکٹر سید نذیر گیلانی کا کہنا ہے کہ بھارتی اسٹیبلشمنٹ ،خفیہ ایجنسیوںنے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کی حکمت عملی تیار کی ہے لیکن اس تمام صورتحال کے تناظر میں آزاد کشمیر اور حکومت پاکستان کی طرف سے کچھ بھی نہیں کیا گیا ہے جبکہ اس حوالے سے کئی اقدامات اٹھانے ضروری ہیںلیکن کشمیر کاز کے لئے اقدامات اٹھانے کے حوالے سے اٹھائے جانے والے اقدامات پر بحث کے لئے کوئی فورم مہیا نہیں ہے۔ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے کہا کہ 20ستمبر سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا 71واںاجلاس شروع ہو رہا ہے،جس میں وزیر اعظم نواز شریف مسئلہ کشمیر اٹھائیں گے،وزیر اعظم نواز شریف کی طرف سے جنرل اسمبلی اجلاس میں مسئلہ کشمیر پر بات کرنے سے کیا ہوگا کیونکہ ان کی طرف سے جنرل اسمبلی کے69ویں اور70ویںاجلاس میں کشمیر پر بات کرنے کے بعد کیا ہوا؟اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر 'او آئی سی' کے کشمیر رابطہ گروپ کا اجلاس بھی ہو گا۔ڈاکٹر سید نذیر گیلانی نے درست نشاندہی کی ہے کہ پاکستان کی طرف سے عالمی سطح پر مسئلہ کشمیر اٹھایا تو جا رہا ہے لیکن ایسے اقدامات نہیں کئے جا رہے جس سے عالمی برادری،عالمی ادارے یہ سمجھ سکیں کہ پاکستان حقیقی طور پر مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت کے جارحانہ روئیے پر خاموش تماشائی نہیں بن سکتا،اسی وقت توقع کی جاسکتی ہے کہ اقوام عالم مسئلہ کشمیر کے حل اور پاکستان اور بھارت کے درمیان دیرینہ تنازعات کے منصفانہ اور پرامن حل کے لئے اپنا موثر کردار ادا کرے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 621 Articles with 319730 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
17 Sep, 2016 Views: 460

Comments

آپ کی رائے