ہندوستانی فوجی کیمپ پر دہشت گردانہ حملہ کے بعد ۰۰۰؟

(Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid, India)
جموں وکشمیر کے اڑی ہندوستانی فوجی کیمپ پر چار دہشت گردوں نے اتوار کی صبح حملہ کرکے ہندوستانی فوج اور حکومت کو للکارکر رکھدیا اوراس فوجی کیمپ کی سیکیوریٹی پر سوالیہ نشان لگادیا۔عالمی سطح پر اس دہشت گردانہ حملہ کی سخت الفاظ میں مذمت کی گئی ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے اعلیٰ سطحی اجلاس کی طلبی عمل میں آئی جس میں وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ، وزیر دفاع منوہر پاریکر، وزیر فینانس ارون جیٹلی ، مشیرقومی سلامتی امور اجیت ڈوول، فوجی سربراہ دلبیرسنگھ سوہاگ و دیگر اعلیٰ افسران موجود تھے۔ اس اجلاس کے بعدوزیر اعظم نے صدر جمہوریہ ہندمسٹر پرنب مکرجی سے ملاقات کرکے صورتحال پر گفتگو کی۔اڑی فوجی کیمپ پر دہشت گردانہ حملہ جس میں 18ہندوستانی فوجی جوانوں کی ہلاکت اور لگ بھگ 30جوانوں کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہے جبکہ چاروں دہشت گردوں کو ہلاک کردیا گیا ، ان دہشت گردوں کے تعلق سے بتایا جارہا ہے کہ وہ پاکستانی تنظیم جیش محمد سے تعلق رکھتے تھے، ڈائرکٹر جنرل ملٹری آپریشنز لفٹیننٹ جنرل رنبیر سنگھ نے ایک نیوز کانفرنس میں کہا کہ ان حملہ آوروں کے پاس سے جو اشیاء و ہتھیاربرآمد ہوئیں ان پر پاکستان کی مارکنگ ہے۔ کشمیر اڑی میں ہونے والے اب تک کہ سب سے بڑے حملہ کے بعد ہند وپاک کے درمیان حالات انتہائی کشیدہ نوعیت کے ہوگئے ہیں، ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے اس حملہ کے فوری بعد اپنے اپنے بیانات میں اس حملہ کے ذمہ داروں کو سخت سے سخت سزا دینے کی بات کہی ہے ۔وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے پاکستان کو دہشت گرد مملکت قرار دیا جبکہ وزیر اعظم نے بین الاقوامی فورمس میں پاکستان کو بے نقاب کرنے کا عہد کیا ہے۔وزیر اعظم نے پاکستان میں نومبر میں منعقد ہونے والی سارک کانفرنس میں عدم شرکت کا فیصلہ کیا ہے۔ ادھرگذشتہ ڈھائی ماہ سے وادی کشمیر کی زندگی درہم برہم ہے اب جبکہ 18؍ ستمبر کو اڑی میں ہونے والے دہشت گرانہ حملہ کے بعد مزید حالات بگڑنے کے خدشات پیدا ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ہندوستانی فوج نے پاکستان کو پسند کے مقام اور وقت پر جواب دینے کا عندیہ دیا ہے۔ اس کے جواب میں پاکستانی فوجی سربراہ جنرل راحیل شریف نے پاکستانی فوجی کور کمانڈوز کا اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد کیا جس میں ہندوستان کی امکانی کارروائی پر نظر رکھتے ہوئے پاکستان میں فوج کی تیاریوں کا جائزہ لیا۔
اڑی فوجی کیمپ پر حملہ کے بعد نریندر مودی اور انکی حکومت پر کئی سوال اٹھنے لگے ہیں کانگریس نے اس حملہ کو ہندوستان پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہاکہ حکومت نے اس فوجی کیمپ پر حملہ کو جمہوریہ ہند پر حملہ قرارنہیں دیا، کانگریس نے نریندر مودی کو ایک کمزور وزیراعظم قرار دیتے ہوئے ان سے سوال کیاکہ کیا وہ ملک کو یہ یقین دلاسکتے ہیں کہ مستقبل میں ایسے دہشت گردانہ حملے نہیں ہونگے۔اڑی حملہ سے ایک روز قبل ’’آج تک‘‘ ٹی وی چینل پر بیرسٹر اسد الدین اویسی رکن پارلیمنٹ و صدر کل ہند مجلس اتحاد المسلمین اور سبرامنیم سوامی کے درمیان ہونے والے مباحثہ میں سبرامنیم سوامی نے کہا کہ پاکستان کو چار حصوں میں تقسیم کردینا چاہیے ، ایک تو مشرقی پاکستان کی تقسیم یعنی بنگلہ دیش بن چکا ہے جبکہ بلوچستان ، سندھ کی تقسیم بھی عمل میں لائی جانی چائیے ان کے جواب میں بیرسٹر اسد الدین اویسی نے کہاکہ بلوچستان کے مسئلہ پر آواز اٹھانے یا پاکستان کے چار تکڑے کرنے سے ہمیں کیا فائدہ ہوگا جبکہ ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی یوم جمہوریہ ہند کے موقع پر بلوچستان کے مسئلہ پر آواز اٹھائے ہیں لیکن وہ جب دل چاہا پاکستان کا رخ کرتے ہیں وہ کبھی پاکستانی وزیر اعظم کی کسی تقریب میں پہنچ جاتے ہیں تو کبھی کسی اور وجہ سے پاکستان پہنچ جاتے ہیں۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہیکہ بلوچ قائد براہمداغ بگٹی بلوچ ری پبلکن پارٹی (بی آر پی) کے سربراہ جو سوئزر لینڈ میں گذشتہ دس سال سے جلاوطنی کی زندگی گزاررہے ہیں ، ہندوستان میں پناہ لینے کی کوشش کررہے ہیں وہ بلوچستان کے قومی لیڈر نواب اکبر بگٹی کے پوتے ہیں۔ انہوں نے جنیوا میں صحافیوں کو بتایا کہ ’’ ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ باقاعدہ پناہ کے لئے حکومت ہند کو درخواست دیں گے، ہم اس سمت میں ابھی سے کام شروع کرنے جارہے ہیں۔ ہمیں حکومت ہند سے ہر طرح کا تعاون ملنے کی امید ہے‘‘۔ بلوچ قائد نے یہ فیصلہ ایک ایسے وقت کیا ہے جبکہ ہندوستانی وزیر اعظم بلوچستان کے مسئلہ کو اہمیت دیتے ہوئے اسے بین الاقوامی سطح پر لاکھڑا کیا ہے۔ اب دیکھنا ہیکہ ہندوستانی حکومت اس بلوچ قائد کو ہندوستان میں پناہ دیتی ہے یا نہیں۔

ہندوستان کے سابق فوجی سربراہ و موجودہ وزیر مملکت برائے خارجہ امور وی کے سنگھ نے موجودہ صورتحال میں کوئی جذباتی فیصلہ کرنے سے گریز کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے ٹھنڈے دماغ اور مناسب حکمت عملی سے کام لینے پر زور دیا۔ ہندوستانی فوج نے اس حملے کے لئے جیش محمد اور پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا ہے جبکہ پاکستانی حکومت نے ہندوستان کے ان دعووں کو مسترد کردیا لیکن پاکستان نے ہندوستان کے سخت رویہ پر اپنی فوجی صلاحیت کا جائزہ لیا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق اگر ہندوستان، پاکستان پر کسی قسم کی فوجی کارروائی کرتا ہے تو اس کے خطرناک نتائج و عواقب نکلیں گے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر اڑی فوجی کیمپ پر کئے گئے حملہ کی ذمہ دار جیش محمد ہے تو اس کے خلاف سخت کارروائی کرنے کے لئے پاکستان پر دباؤ ڈالا جائے ۔ جیش محمد کا سربراہ مسعود اظہر جسے 24؍ ڈسمبر 1999ء میں ایک مسافر بردار جہاز کے اغواء کے بعد رہا کیا گیا تھا اس سلسلہ میں کانگریسی قائد ڈگ وجئے سنگھ نے سابق این ڈی اے حکومت کو موردِ الزام ٹھہرایا انہو ں نے کہا کہ این ڈی اے حکومت نے 1999ء میں ہندوستانی ایئر لائنس کے اغوا کے بعد مسعود اظہر کو چھوڑ کر سیکیورٹی سے سمجھوتہ کیا تھا جو ہمارے لئے ایک سبق ہے۔ جبکہ ان کی حکومت نے کبھی قومی سلامتی کے معاملہ میں کسی سے سمجھوتہ نہیں کیا۔یہاں یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ طیارہ آئی سی 814 جونیپال سے دہلی کے لئے 24؍ ڈسمبر 1999ء روانہ ہوا تھا جسے 176 مسافروں کے ساتھ اغوا کرلیا گیاتھا این ڈی اے حکومت نے ان مسافروں کی جان بچانے کے لئے مسعود اظہر کو رہا کرنے پر سمجھوتہ کیا تھا جبکہ کانگریسی قائد ڈگ وجئے سنگھ ان 176افراد کی جانوں پر کسی قسم کا تبصرہ نہیں کیا اگر اس وقت کانگریس کی حکومت بھی ہوتی تو شائد اسی قسم کا فیصلہ کرنے پر مجبور ہوتی۔ ڈگ وجئے سنگھ نے اڑی حملہ پر سیکیوریٹی خامیوں کا جائزہ لینے پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ خیموں کی حفاظت میں تعینات فوجیوں کی ناکامی پر غور کرنا چاہئے۔
تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ ہندوستان کی جانب سے اڑی فوجی کیمپ پر حملہ کے بعد جو سخت رویہ پاکستان کے تئیں روا رکھا جارہا ہے اور جس قسم کی فوجی کارروائی کرنے کے بیانات آرہے ہیں کیا واقعی ہندوستان ، پاکستان کے خلاف فوجی کارروائی کرے گا؟ سابق میجر جنرل شوہرو تھپیال کا کہنا ہیکہ گذشتہ کئی دہائیوں اور کارگل جنگ کے دوران بھی ہندوستان نے پاکستان کو قابو میں رکھنے کے لئے ہمیشہ امریکہ اور مغربی ممالک پر انحصار کیا ہے۔ اڑی میں حملہ ایک ایسے وقت کیا گیا ہے جبکہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کا اجلاس ہونے والا ہے اورپاکستان، ہندوستان کے زیر انتظام کشمیر میں ہندوستانی سیکیوریٹی فورسز کی طرف سے جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو اٹھانے کا ارادہ رکھتا ہے۔ذرائع ابلاغ کے مطابق حال ہی میں پاکستان نے اپنے 22اعلیٰ افسروں اور منتخب نمائندوں کو دنیا کے مختلف ممالک روانہ کیا ہے تاکہ وہ کشمیر کی صورتحال کو اجاگر کرسکیں۔ دوسری جانب ہندوستان نے پاکستان کے صوبے بلوچستان میں انسانی حقوق کی مبینہ خلاف ورزیوں کے خلاف آواز اٹھارہا ہے جس سے دونوں ملکوں میں ایک مرتبہ پھر سفارتی تعطل پیدا ہوگیا اور اب دیکھنا ہیکہ ہندوستان کیا واقعی پاکستان کے خلاف کسی قسم کی فوجی کارروائی کرتا ہے یا صرف جیش محمد کے خلاف ثبوت اکھٹا کرکے پاکستان سے خاطیوں کو سزا دینے پر زور دیتا ہے۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق وزیر داخلہ کی جانب سے منعقد کی گئی میٹنگ کے دوران اس بات کا سنجیدہ نوٹس لیا گیا کہ اگر چہ خفیہ اداروں نے ایک ہفتہ قبل ہی اطلاع دی تھی کہ دہشت گردوں کی جانب سے پولیس و فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں انجام دینے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے اور 200کے قریب عسکریت پسند ریاست کے حدود میں داخل ہونے کی بھر پور کوشش کریں گے تاہم فورسز کی جانب سے اطلاع ملنے کے باوجود حفاظت کے مناسب اقدامات کیوں نہیں اٹھا ئے گئے جس کی بناء پر عسکریت پسند دراندازی کر کے اڑی بریگیڈ بیس پر حملہ کرنے میں کامیاب ہوئے ۔ذرائع ابلاغ کے مطابق اڑی کے مقامی باشندے خوفزدہ نظر آرہے ہیں فوج کے جوان مقامی لوگوں کو غدار کے طور پر دیکھ رہے ہیں جبکہ مقامی لوگوں کو جوابی پرتشدد کارروائیوں کا ڈر ستارہا ہے کیونکہ ان کشمیری مسلمانوں پر کنٹرول آف لائن کے پار سے آنے والے شدت پسندوں کو پناہ دینے کا شبہ کیا جارہا ہے۔ حکومت اور فوج اڑی کے مقامی عوام پر غیض و غضب نکالنے کے بجائے انکو اطمینان دلائے کہ وہ انکے دشمنوں کو کیفرکردار تک پہنچانے کے لئے تعاون کریں تاکہ اس سے اصل خاطیوں تک پہنچا جاسکتا ہے۔

اڑی حملہ سے قبل خفیہ اداروں کی جانب سے دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیئے جانے کے امکانات کی رپورٹس ملنے کے باوجود سیکوریٹی لاپرواہی ہندوستانی عوام کو یہ سوچنے پر مجبور پرکرتی ہے کہ ہماری حکومت اور سیکوریٹی فورسز اپنی ذمہ داری کو نبھانے میں کوتاہی و لاپرواہی کرتی ہے۔وزیر داخلہ کی میٹنگ کے دوران وزیر دفاع منوہر پاریکر نے ریاست جموں و کشمیر میں عسکریت پسندوں سے نمٹنے اور اڑی دہشت گردانہ حملے کے بارے میں جانکاری فراہم کی اور وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ہمراہ وزیر اعظم کو ایک تفصیلی رپورٹ پیش کی ۔ ادھروزارت داخلہ کے سیکریٹری نے اپنے دورہ ِ کشمیر کے دوران ریاست کے گورنر این این وہرا ،وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے ساتھ الگ الگ ملاقات کی اور ریاست کی تازہ ترین صورتحال کے بارے میں جانکاری حاصل کی ۔ داخلہ سیکریٹری نے فوج ،نیم فوجی دستوں ،خفیہ اداروں کے اعلیٰ حکام کے ساتھ بھی ملاقات کی او ر ریاست کی حفاظتی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جبکہ خصوصی تحقیقاتی ادارے نیشنل انوسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) کی ٹیم نے اڑی کا دور ہ کیا ۔ اڑی فدائین حملے کے بعد پوری وادی میں مزید عسکریت پسندوں کے حملوں کو ٹالنے کیلئے حفاظت کے اقدامات سخت کر دئیے گئے ہیں۔ذرائع ابلاغ کے مطابق فورسز کیمپوں ، پولیس اسٹیشنوں ، اہم سرکاری عمارتوں کے ارد گرد حفاظت کے غیر معمولی اقدامات اٹھا ئے گئے ہیں ، سی سی ٹی وی کیمروں کے ذریعے لوگوں کی نقل و حرکت پر کڑی نظر رکھی جا رہی ہیں جبکہ فوج اور نیم فوجی دستوں کو پوری طرح سے متحرک کر دیا گیا ہے ۔ ادھر خفیہ اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ مزید عسکریت پسندوں کے دو گروپ واد ی میں داخل ہو گئے ہیں جو پولیس و فورسز کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں اور وادی میں امن کو مزید درہم برہم کرنے ، عدم استحکام پھیلانے ، خون خرابہ کرنے کی منصوبہ بندی کر کے آئے ہیں ۔ خفیہ اداروں کے مطابق عسکریت پسندوں کی جانب سے دراندازی کے بعد وہ تین گروپوں میں تبدیل ہو گئے تھے اور ایک گروپ نے اڑی میں فدائین حملہ کیا ہے جبکہ مزید دو گروپ اس طرح کی کارروائیاں انجام دے سکتے ہیں ۔ حکومت اور سیکوریٹی فورسز کو ملنے والی ان اطلاعات کے بعد بڑے پیمانے پر ملک بھر خصوصاً وادی کشمیر میں آئندہ چند دن سخت ترین آزمائشی رہیں گے۔ سوال پیدا ہوتا ہیکہ ہندوستان اور پاکستان کے حکمراں اور فوجی قیادت دہشت گردوں سے نمٹنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے یا پھر مستقبل میں بھی اسی قسم کے دہشت گردانہ کارروائیوں کی انجام دہی کے بعدایک دوسرے کے خلاف صرف بیان بازی کا سلسلہ جاری رہے گا۰۰۰
***
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid

Read More Articles by Dr Muhammad Abdul Rasheed Junaid: 256 Articles with 96573 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Sep, 2016 Views: 457

Comments

آپ کی رائے