مولانا محمد یونس اثریؒ۔ ۔ ۔ ۔ بھٹو مرحوم اور عذاداروں کی مہمان نوازی

(Danial Shahab, )
یہ 20ستمبر 2004ء کا دن تھا۔ دادا ابو (مولانا محمد یونس اثریؒ) سی ایم ایچ مظفرآباد میں گزشتہ 3ماہ سے مسلسل زیر علاج تھے۔ دن بھر ان کے پاس ہسپتال میں رہنے کے بعد رات 10بجے واپس اپنے گھر پہنچا۔ امی ابو کو بتلایا کہ دادا ابو کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ۔ابو(پروفیسر شہاب الدین مدنیؒ) نماز عشاء کے قریب سی ایم ایچ سے واپس گھر پہنچے تھے۔دن بھر داد ا ابو کے پاس ہمارے گھرانے کے تمام افراد جن میں ابو ،تا یا ابو سمیت تمام چچا اور ہم سارے پوتے اور نواسے موجود رہتے تھے۔ اس دوران کوئی دادا ابو کے پاس ہوتا تھا اور کوئی ان کی عیادت کے لیے آنے والے معززین سے ہم کلام اور ڈاکٹرز کی گفتگو اور ان کی صحت کے حوالے سے بتلا رہا ہوتا تھا۔ رات کا کھانا کھا کہ نماز عشاء ادا کی اور تقریبا ساڑھے گیارے بجے دادا ابو کی صحت یابی کی دعا کرتے ہوئے کہیں آنکھ لگ گئی اور یہ آنکھ اس وقت کھلی جب امی سامنے موجود تھیں اوراس وقت 21ستمبر 2004ء کا آغاز ہو چکا تھا اور رات کے ساڑھے 12بج رہے تھے، امی کا کہنا تھا کہ بیٹا اب صبر اور حوصلہ سے کام لینا۔ دادا ابو فوت ہو چکے ہیں۔ انا ﷲ و انا الیہ راجعون۔

یہ 21ستمبر 2004ء کا دن تھا ۔ راتوں رات ہی دادا ابو کی وفات کی خبر اندرون و بیرون ملک ہر سمت جنگل میں آگ کی طرح پھیل چکی تھی۔ ہر کوئی بذریعہ ٹیلی فون اس خبر کی تصدیق کرنا چاہتا تھا۔ اس دن کے واقعات کی اک علیحدہ تفصیل ہے ،جو کہ یہاں تحریر نہیں کی جا رہی ۔ مولانا محمد یونس اثریؒ کا جنازہ 21ستمبر 2004ء کو بعد از نماز ظہر اڑھائی بجے دن یونیورسٹی کالج گراؤنڈ میں ادا کیا تھا۔ نماز جنازہ مکتب الدعوۃ السعودیہ کے ڈائریکٹر ڈاکٹر عبدالحمید الازہرؒ نے پڑھائی تھی۔آزاد کشمیرو پاکستان کی بڑی سیاسی و مذہبی جماعتوں کے قائدین وسینئر رہنماؤں ،آزاد حکومت کے صدر،وزراء سمیت مرکزی جمعیت اہل حدیث کے کارکنان و عوام مظفرآبا د کی بڑی تعداد نے نماز ہ جنازہ میں شرکت کی اور مولانا محمد یونس اثری ؒ کی خدمات پر انہیں بھرپور الفاظ میں خراج عقیدت پیش کیا گیا۔

مولانا محمد یونس اثری ؒ ،مولانا محمد احمد مرحوم کے گھر گھیناں کے مقام پر 1927میں پیدا ہوئے آپ کی والدہ اور والد دونوں ہی اسلامی علوم پر دسترس رکھتے تھے،آپ نے ابتدائی تعلیم گھر پر ہی حاصل کی،تعلیم کے حصول کے لیے اپنا پہلا سفرمولانا نے 1942میں داتا اور حفیظ بانڈی کی جانب کیا۔ علم کے سفر کو جاری رکھتے ہوئے مولانا ثناء اﷲ امرتسریؒ ،مولانا داؤد غزنویؒ ،مولانا عبداﷲ ہزارویؒ اور مولانا نیک محمد ؒ سے تعلیم حاصل کی۔1945میں مدرسہ غزنویا امرتسر میں داخل ہو کرتعلیم کے تسلسل کو جاری رکھا۔ مولانا محمد یونس اثریؒ کے دیگر اساتذہ کرام میں مولانا عطاء اﷲ بھوجیانی مدرسہ غزنویہ امرتسر ،مولانا عبدالجبار کھنڈیلوی ،مولانا عطاء اﷲ حنیف،مولانا عبدالرحمن ،مولانا محمد یوسف حفیظ بانڈی ،مولانا عبدالشکور لداخی ،مولانا شریف اﷲ خان ،مولانا محمد موسیٰ خان ؒ شامل تھے۔14اگست 1947کو قیام پاکستان کے روز ہی بذریعہ ٹرین امرتسر سے لاہور آ گئے( آپ نے قیام پاکستان کے وقت جو کچھ دیکھا اور جو کچھ آپ نے اپنی بساط کے مطابق کیا،اس کی داستان سناتے ہوئے،آپ کی آنکھیں آبدیدہ ہو جاتیں تھیں اور 14 اگست یوم آزادی پاکستان کے دن ہمیں خصوصی باتیں بتایا کرتے تھے)۔لاہور میں آپ نے مدرسہ غزنویہ کی لاہور شاخ سے رجوع کیا اور اپنی تعلیمی زندگی کا تسلسل بحال رکھا اور یہاں آپ نے شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ؒ سے تعلیم حاصل کرنا شروع کی،مولانا محمد اسماعیل سلفی ؒآپ کی ذہانت کی وجہ سے بہت شفقت فرماتے تھے اور مولانا اثری ؒکا شمار ان کے انتہائی ذہین شاگردوں میں ہونے لگا آپ مسلکاً اہلحدیث تھے لیکن تعصب نام کی کسی چیز کو قریب سے بھٹکنے نہیں دیا آپ نے معروف عالم دین مولانا غلام اﷲ خان سے 1948میں تعلیم القرآن راجہ بازار راولپنڈی میں دورہ تفسیر مکمل کیا 1948میں مولانا کے والد مولانا محمداحمد نے انہیں معروف مجاہد رہنما اور اہل حدیث عالم دین مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی رحمۃ اﷲ علیہ( جن کے ہاتھ پر مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خانؒ نے بیعت جہادکی ہے) کی خدمت میں علم اور جہاد کیلئے بھیجا لیکن مولانا فضل الٰہی وزیر آبادی ؒنے ان کا علمی ذوق دیکھتے ہوئے انہیں شیخ الحدیث مولانا محمد اسماعیل سلفی ؒکے پاس واپس بھیجا تاکہ آپ کی علمی استعداد میں مزید اضافہ ہو اور آپ دین حنیف کی اشاعت وترویج کیلئے آنے والے وقت میں اپنی خدمات سرانجام دے سکیں ،شیخ الحدیث محمد اسماعیل سلفی ؒسے مولانا یونس اثری ؒنے تفسیر قرآن اور علم حدیث کی کتب پڑیں، 1950میں مدرسہ تقویۃ السلام لاہور میں داخل ہو کر بالآخر انہوں نے تعلیم مکمل کر لی۔

1954ء میں اپنے آبائی شہر مظفرآباد تشریف لائے اس وقت مظفرآباد کے حالات ان کے لئے ساز گار نہیں تھے پاک وہند کے جید علماء نے آپ کو اپنے اداروں میں درس وتدریس کیلئے درخواست کی لیکن آپ نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ مجھ پر پہلا حق میرے علاقے کی عوام کا ہے میں ان کو جہالت اور شرک و بدعت کے اندھیروں میں چھوڑ کر خود دور دراز مقامات پر دوسروں تک روشنی پہنچاتا رہوں یہ چراغ تلے اندھیرے والی بات ہو گی، آزادکشمیر میں مولانا اسماعیل سلفی ؒکے حکم پر 1961میں اہلحدیث مکتبہ فکر کو منظم کرنے کی ذمہ داری مولانا یونس اثری ؒ پر ڈالی گئی ،تو مولانا یونس اثریؒ تنہا اہلحدیث مکتبہ فکر کی ترویج کیلئے میدان عمل میں نکل پڑے بڑے پیمانے پر رکنیت سازی کی مہم کاآغاز ہوا، 1971میں مولانا یونس اثری ؒ کی انہی خدمات کے اعتراف میں انہیں مرکزی جمعیت اہلحدیث کا کنونیئر مقرر کیا گیا بعدازاں آپ 1975میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ نامزدہوئے اور پھر تاحیات اس منصب پر فائز رہے اس وقت آزادکشمیر میں عوام میں دینی رغبت کافی زیادہ تھی چنانچہ جمعیت اہلحدیث میں جوق در جوق لوگوں نے شمولیت اختیار کرنا شروع کر دی ۔

ابتدائی تعارف کے بعد مولانا محمد یونس اثریؒ کی زندگی کے کچھ واقعات آپ کی نظر کروں گا۔ 1954 ء میں جب مظفرآباد سے دین اسلام کی ترویج کا آغاز کیا ،تو اس وقت کے معاشرے میں یہ کوئی معمولی بات نہ تھی۔ موجودہ دارلحکومت مظفرآباد کے مشہور تجارتی مرکز مدینہ مارکیٹ جو اس وقت صرف ایک رہائشی محلہ ہوا کرتا تھا،وہاں پرشیخ عبدالغنی مرحوم (سیشن جج)نے مولانا محمد یونس اثریؒ کو اپنا گھر وقف کر کے دیا ۔ مولانا محمد یونس اثریؒ نے اس گھر کو مسجد میں تبدیل کر کے آزاد کشمیر میں مسلک اہل حدیث کی بنیاد رکھی۔ اس دوران انہیں کس طرح کی تکالیف برداشت کرنا پڑیں وہ بہت طویل داستان ہیں۔ 1954ء کے آخیر تک مرکزی جامع مسجد اہل حدیث محمدی کے نام سے مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور مسجد کے مغربی حصے کی جانب دکانیں تعمیر کیں۔اس وقت کافی لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ دکانیں تعمیر نہ کی جائیں،لیکن مولانا محمد یونس اثری ؒ نے جواب میں صرف اتنا ہی کہا کہ میں یہاں اکیلا ہوں ،اتنے وسائل نہیں کہ اپنا اور مسجد کا انتظام چلا پاؤں گا ،اس لیے دکانیں قائم ہوں گی ۔ دکانیں قائم ہوئیں اور کرایہ پر لگ گئیں۔ ان 5 دکانوں کے لیے مولانا محمد یونس اثریؒ نے مرکزی جامع مسجد اہل حدیث محمدی کے نام کی مناسبت سے مدینہ مارکیٹ نام رکھا ،اور آج موجودہ مدینہ مارکیٹ 5دکانوں سے بڑھ کے ریاست کے سب سے بڑے تجارتی مرکز میں تبدیل ہو چکی ہے اور یہ نام مولانا محمد یونس اثری ؒ کا رکھا ہوا ہے۔ مولانا محمد یونس اثریؒ فرماتے تھے کہ جس جگہ آبادی نہ ہو اور اس جگہ کو آباد کرنا چاہتے ہو ،تو اس جگہ پر سب سے پہلے مسجد کو تعمیر کرو ،اﷲ اپنیگھر کو آباد کرنے کی غرض سے آبادی خود بخود وہاں پہنچا دے گا۔مرکزی جامع مسجد اہل حدیث محمدی مدینہ مارکیٹ میں بچوں کو درس و تدیس کا کام شروع کیا اور دارلعلوم محمدیہ کے نام سے مدرسہ قائم کیا اوربعد میں پھر جامعہ محمدیہ اپر چھتر میں قائم ہوا ۔مولانا محمد یونس اثری ؒ کے شاگردوں کی تعداد ہزاروں میں ہے ۔ یہ شاگرد ممبران اسمبلی بھی رہے اور ہیں ،پاکستان کے ایوان با لا کے رکن بھی ،وزراء بھی رہے اور اعلی سرکاری عہدوں پر فائز بھی ہیں ،ڈاکٹر ز،انجینئرز،پائلٹ،آرمی آفیسرز،قانون دان،بیوررکریٹ، غرض یہ کہ ہر شعبہ میں ان کے شاگرد آج بھی موجود ہیں،اس کے علاوہ ہزاروں شاگرد جو مولانا محمد یونس اثری ؒ کے مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے اور ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آزاد کشمیر،پاکستان،متحدہ عرب امارات،برطانیہ و امریکا میں دعوت و تبلیغ اسلام کا کام نہایت احسن انداز سے سرانجام دے رہے ہیں اور ان کے لیے صدقہ جاریہ بن رہے ہیں۔ اب تک مرکزی جامع مسجد اہل حدیث محمدی مدینہ مارکیٹ کی آزاد کشمیر بھر میں 395سے زائد شاخیں (مساجد اہل حدیث و مدارس ) قائم ہو چکی ہیں،اور یہ سلسلہ نہایت تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ الحمدﷲ ۔مولانا محمد یونس اثری ؒ کی وفات 2004ء تک آزاد کشمیر بھر میں کل مرکز ی جمعیت اہل حدیث کی 248 مساجد تعمیر ہو چکی تھیں اورپھر والد محترم مرکزی جمعیت اہل حدیث کے سربراہ پروفیسر شہاب الدین مدنیؒ کی قیادت میں مزید ان مساجد و مدارس کی تعداد میں اضافہ ہوا جو کہ ان کی وفات تک 395 ہو چکیتھی،یوں مولانا محمد یونس اثریؒ کا لگایا ہوا پود ا پھل پھول رہا ہے اور اب مولانا محمد یونس اثری ؒ کے دیگر بیٹے و پوتے اس مشن کو آگے بڑھا رہے ہیں۔ الحمدﷲ

مولانا محمد یونس اثری ؒ پر اﷲ کی خاص مہربانی یہ تھی کہ اﷲ ان کی دعائیں سنتا تھا،رمضان المبارک کی 27ویں شب کوختم قرآن کے موقع پر خصوصی دعا جو مرکزی جامع مسجد اہل حدیث محمدی مدینہ مارکیٹ میں کرواتے تھے ،اس دعا میں شرکت کرنے کے لیے عوام دور دور سے تشریف لاتے تھے اور گڑ گڑا کے اﷲ کے حضور دعا کرواتے تھے ،خاص طور پر جب بھی مظفرآباد میں خشک سالی ہوتی تھی توجس دن نمازی دعا کے لیے درخواست کرتے تھے ،آپ اپنے ہاتھ اٹھا کر دعا شروع کرتے تھے تو کچھ ہی دیر کے بعد باران رحمت کا نزول شروع ہو جاتاتھا ۔ مولانا محمد یونس اثری ؒ کو اپنے ساتھیوں ونمازیوں سے خاص انس تھا۔ جب بھی اﷲ کی جانب سے انہیں عمرہ و حج کی ادائیگی کا موقع ملتا تھا تو ایسے میں حرم میں وہ دعا اپنے نمازیوں کا نام لے کر کیا کرتے تھے،اس کے لیے وہ کاغذ پر طویل ناموں کی فہرست بنا کر ساتھ لے کر جاتے تھے اور بیت اﷲ کے سامنے بیٹھ کر ان ناموں کو پکار کر ان کے لیے دعا خیر کیا کرتے تھے،جبکہ ان کے دوست احباب و نمازیوں کو اس بات کا علم تک نہ ہوتا تھا۔ مولانا محمد یونس اثری ؒ کی دعا میں اک خاص تاثیر تھی اور جس نے بھی ان سے دعا لی ،وہ رنگے گیا ہے۔

مولانا محمد یونس اثری ؒ اپنے علم ،عمل اور تقوی کی بنیاد پر سیاسی و مذہبی حیثیت سے اپنا لوہا منوا چکے تھے۔ ان کے آزاد کشمیر و پاکستان کے تمام مکاتب فکر کے علماء کے علاوہ سیاسی رہنماؤں سے بھی گہر ا رابطہ تھا۔ آپ کی ذات میں بناوٹ،دکھاوا،جھوٹ، نمود نمائش، بغض،کینہ،لالچ ہر گز نہ تھی،جب بھی کسی کے ساتھ تعلق رکھا ،یا کسی کا کوئی کام کروایا تو فی سبیل اﷲ کیا۔ حکمرانوں کے ساتھ تعلقات ہوتے ہوئے بھی کبھی ذاتی فائدہ حاصل نہ کیا۔ آزاد کشمیر کے بانی صدر غازی ملت سردار محمد ابراہیم خانؒ کے ساتھ مولانا محمد یونس اثری ؒ کا گہرا و دیرینہ ساتھ رہا۔ مولانا محمد یونس اثری ؒ غازی ملت سردار محمد ابراہیم خانؒ جو کہ اس وقت صدر ریاست کے عہدے پر فائز تھے کہ بچوں کو قرآن پڑھایا کرتے تھے۔ایک دن غازی ملت کی اہلیہ نے مولانا محمد یونس اثریؒ کو بچوں کوقرآن پڑھانے کے سبب کچھ ہدیہ دینا چاہا تو مولانا محمد یونس اثریؒ نے لینے سے انکار کردیا ۔ غازی ملت کی اہلیہ سمجھیں کہ شاید یہ کچھ کم ہیں ،اس لیے مولانا انکار کر رہے ہیں۔ جبکہ وہ کم نہیں تھے بلکہ اس وقت کے حساب سے بہت زیادہ تھے۔ جب غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان اپنے دورے سے واپس پہنچے تو ان کی اہلیہ نے مولاناکے ساتھ پیش آنے والے واقع کا ذکر کیا۔ غازی ملت اگلے روز مولانا محمد یونس اثریؒ کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے کہ مولانا شاید آپ کو ہدیہ پسند نہیں آیا،میں آپ کو اس سے زیادہ دیے رہا ہوں،آپ قبول فرمائیے۔ ،مولانا محمد یونس اثریؒ فرمانے لگے کہ سردار صاحب قرآن اﷲ کا کلام ہے اور میں قرآن کو معاوضے کے عوض نہیں بیچتا اور یہ میری ذمہ داری ہے کہ اﷲ کے کلام و محمد ﷺ کے فرمان کوپھیلاؤں ۔ یہ بات غازی ملت کو بہت پسند آئی اور وہ کہنے لگے کہ مولانا آپ نے مجھے لاجواب کردیا ہے ،میرے لائق کوئی خدمت ہو تو ضرور بتلائیے گا،کچھ عرصہ کے بعد ایک روز مولانا محمد یونس اثریؒ ،غازی ملت سردار محمد ابراہیم خان کے بچوں کو حسب معمول قرآن کی تعلیم دے رہے تھے کہ صدر ریاست غازی ملت تشریف لے آئے ۔ باتیں شروع ہوئیں تو بات مولانا محمد یونس اثریؒ کے آبائی علاقے گھیناں کی ہوئی۔ مولانا نے غازی ملت کو بتلایا کہ میرے علاقے میں سکول نہیں ہے اور بچوں کا مستقبل تباہ ہو رہا ہے اور وہ جہالت کی جانب بڑھ رہے ہیں ،اتنا سننا تھا کہ غازی ملت نے اسی وقت اپنے علاقے کے ایک سکول کو جو وہ دے چکے تھے کو مولانا محمد یونس اثریؒ کے آبائی گاؤں گھیناں میں منتقل کر دیا اور آج بھی گھیناں میں وہی گورنمنٹ مڈل سکول موجود ہے ،جہاں سے بچے تعلیم حاصل کر رہے ہیں اور اپنا مستقبل روشن کر رہے ہیں۔
سابق صدر ریاست میر واعظ مولانا محمد یوسف مرحوم کو مولانا محمد یونس اثریؒ کے ساتھ بہت عقیدت تھی ۔میر واعظ مولانا محمد یوسفؒ مرحوم عالم دین تھے اور دیوبند مکتب فکر سے تعلق رکھتے تھے ،صدر ریاست کے منصب پر فائز ہوتے ہوئے وہ جمعہ کی نماز مرکزی جامع مسجد اہل حدیث محمدی مدینہ مارکیٹ میں ادا کیا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ جب میر واعظ مولانا محمد یوسف مرحوم جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے مسجد میں تشریف لائے ،تو نماز کے وقت مولانا محمد یونس اثریؒ نے میرواعظ کو دعوت دی کی کہ وہ نماز جمعہ کی امامت کروائیں،یہ سن کر میر واعظ مولانا محمد یوسف فرمانے لگے کہ مولانا امامت آپ ہی کروائیں گے اور میں مقتدی کی حیثیت سے نماز آپ کی اقتداء میں ادا کروں گا،تا کہ مجھے آپ کی اقتداء میں نماز ادا کرتا دیکھ کر زیادہ سے زیادہ لوگ نماز ادا کر یں۔

مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خانؒ کے ساتھ مولانا محمد یونس اثریؒ کا برادرانہ و گہرا تعلق تھا،(اور آج بھی دونوں خاندانوں کے مابین یہ رشتہ و تعلق اسی محبت سے قائم و دائم ہے)۔ آزاد کشمیر میں اسلامائزیشن کا جتنا کام سردار محمد عبدالقیوم خان نے کیا ہے ،مجاہد اول کے ساتھ ہر معاملے میں معاونت و رہنمائی مولانا محمد یونس اثری ؒ کی ہی ہوتی تھی اور مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خان ؒمولانا محمد یونس اثریؒ کی خدمات کا اعتراف اپنی کتاب کشمیر بنے گا پاکستان میں کر چکے ہیں ۔ ایک مرتبہ پاکستان کے سول مارشل لا ء ایڈمنسٹریڑ ذوالفقار علی بھٹو نے مولانا محمد یونس اثری ؒ سے ملاقات میں کہا کہ مولانا یہ کیا آپ اور سردار عبدالقیوم اسلام ،اسلام کے نفاذ کی بات ہر وقت کرتے رہتے ہیں،ہم پاکستان میں اسلام نافذ کرتو رہے ہیں جب پاکستان میں اسلام نافذ ہو گاتو آزاد کشمیر میں بھی اسلام کا نفاذ ہو جائے گا ۔ مولانا محمد یونس اثریؒ نے ذوالفقار علی بھٹو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ بھٹو صاحب کسی بھی فصل کو وسیع پیمانے پر لگانے سے قبل نرسری میں اس کا بیج لگایا جاتا ہے ۔ اگر نرسری میں اچھا نتیجہ مل جائے توپھر اس فصل کو وسیع زمین پر کاشت کیا جاتا ہے۔ اسی طرح آزاد کشمیر ایک چھوٹا سا خطہ ہے ۔ ہم یہاں اسلامی اصلاحات کرتے ہیں تو اس کا بہتر نتیجہ کل آپ کو دکھائی دے گا اورپاکستان کے عوام خود اس کے نفاذ کا مطالبہ کریں گے اور آپ کے لیے زیاد ہ آسانی ہو گئی اور آپ جلد پورے ملک میں اسلامی قوانین کا نفاذ کر پائیں گے او ر ویسے بھی سور ج مشرق سے طلوع ہوتا ہے اور آزاد کشمیر کا خطہ مشرق میں واقع ہے،یہاں سے جب اسلام کا لگایا ہواسورج طلوع ہو گا تو یقینا پاکستان کوبھی اپنی شعاؤں سے منور کرے گا ۔ یہ سن کر ذوالفقار علی بھٹو لا جواب ہو گئے اور پھر آزاد کشمیر میں اسلامی نظریاتی کونسل ،مرکزی زکوۃ کونسل ،قادیانیوں کو غیر مسلم، اردو کو سرکاری زبان،سرکاری خط و کتابت اردو میں،جمعہ کی چھٹی ،شلوار قمیض کو قومی لباس،مکتب سکولوں میں قراء کا تعین،سکولوں میں قاری مدرسین کا تعین،عدالتوں میں قاضیوں کا تقرر،سکو ل و کالجز میں عربی کو شامل نصاب و اساتذہ کا تقرر،محکمہ قضاء و افتاء کا قیام،90ء کی دہائی میں مرکزی علماؤ مشائخ کونسل سمیت دیگر بے شماراداروں کا قیام اور بہت سے عوامی فلاح و بہبود کے کام مولانا محمد یونس اثری ؒ نے مجاہد اول سردار محمد عبدالقیوم خانؒ سے ان کی حکومت میں کروائے ہیں۔

قادیانیوں کو آزاد کشمیر میں غیر مسلم قرار دلوانے کے حوالے سے مولانا محمد یونس اثریؒ اوراس وقت کے سپیکر اسمبلی میجر (ر) محمد ایوب خان ؒکا اہم کردار ہے۔ مولانا محمد یونس اثریؒ میجر (ر) محمد ایوب خان کو عقیدہ ختم نبوت کے حوالے سے بتلاتے رہتے تھے اوراس سلسلے میں نہایت رازداری و خاموشی سے اس اہم کام کے لیے دونوں شخصیات دن رات کام کرتیں رہیں اور ان کی اہم نشستیں دارلعلوم محمدیہ مدینہ مارکیٹ و گیلانی ہوٹل واقع بنک روڈ میں منعقد ہوا کرتیں تھیں ،اس دوران کسی کو کانوں کان خبر تک نہ ہوتی تھی ۔ بالاخر دونوں شمع رسالت ﷺ کے پروانوں کی محنت رنگ لے آئی اور وہ دن آن پہنچا جس دن آزاد کشمیر کی قانون ساز اسمبلی میں قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کی قرارداد پیش کی گئی اور قادیانی غیر مسلم قرار دے دئیے گئے ۔ یاد رہے پاکستان کی قومی اسمبلی نے آزاد کشمیر کی اسمبلی کے بعد قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دیا تھا۔

مولانا محمد یونس اثری ؒ نے مذہب و سیاست کے ساتھ فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کے حصہ لیا ۔ مولانا محمد یونس اثری ؒ کے آبائی گاؤں گھیناں تک سڑک موجود نہ تھی اورکہوڑی سے گھیناں تک اور اس دوران راستے مین جتنے گاؤں و علاقے آتے ہیں ،سب علاقوں کی عوام کو پیدل سفر کرنا پڑتا تھا،مولانا محمد یونس اثریؒ نے بہت محنت کر کے کہوڑی سے اپنے آبائی گاؤں گھیناں تک سڑک نکلوائی ۔ اپنی ذاتی کوششوں اور پھر راستے میں آنے والے علاقے کے لوگوں کے تعاون سے آخری گاؤں گھنیاں تک سڑک لے کر گئے اور پھر اس سڑک پر ایک ایسا دن بھی آیا جب آزاد کشمیر کی تاریخ میں پہلی مرتبہ اس وقت کے وزیر اعظم نے اس علاقے کا رخ کیا۔ مولانا محمد یونس اثریؒ کی دعوت پر سالار جمہوریت سردار سکندر حیات خان مولانا کے گاؤں گھیناں(وادی کوٹلہ حلقہ 1مظفرآباد) تشریف لائے ۔ بہت بڑا جلسہ گھیناں میں منعقد ہوا۔اس جلسہ میں شرکت سے روکنے کے لیے سالار جمہوریت سردار سکندر حیات خان کو بہت زیادہ روکنے کی بہت سے لوگوں نے کوشش کی ،مگراس وقت کے وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان اورمولانا محمد یونس اثریؒ کے آپس میں ذاتی تعلقات اور دوستی کی وجہ سے مخالفین کو منہ کی کھانا پڑی تھی،اور سردار سکندر حیات نے اپنا پڑاؤ گھیناں میں مولانا محمد یونس اثریؒ کے گھر آ کر ڈالا۔ گھیناں کے مقام پر جب جلسہ منعقد ہوا تو مولانا محمد یونس اثریؒ نے سپاس نامہ میں وزیر اعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ اس علاقہ کو بجلی دینے کا اعلان کریں،جب کہ اس وقت قصبہ کہوڑی سے اوپر کسی علاقے میں بجلی کا نام و نشان تک نہ تھا۔مولانا محمد یونس اثریؒ نے سالار جمہوریت سردار سکندر حیات خان کو بہت مجبور کیا کہ وہ یہاں پرہر صورت بجلی دینے کا اعلان کریں۔سردار سکندر حیات فرمانے لگے کہ مولانا اتنے دور دراز علاقے میں بجلی کیسے پہنچے گی،مولانا محمد یونس اثری ؒ نے جواب دیا کہ سردار صاحب آپ بجلی کی فراہمی کا اعلان کریں ،بجلی کیسے پہنچے گی،یہ آپ کو ہم بتائیں گے۔ وزیر اعظم سردار سکندر حیات خان نے مولانا محمد یونس اثری ؒ کے مطالبہ پر بجلی کی فراہمی کا اعلان کیا ،بعد ازاں مولانا محمد یونس اثریؒ نے سالار جمہوریت کو یہ طریقہ بتایا کہ آپ پالیسی بنائیں کہ جس جگہ بھی سڑک پہنچ چکی ہے، اس سڑک کے آخری حصے سے آگے 3کلومیٹر تک بجلی کے پول لگائے جائیں۔ اس طر ح جہاں جہاں سڑک جاتی جائے گی ،وہاں بجلی پہنچتی جائے گی ،یہ بات مولانا محمد یونس اثریؒ کی سردار سکندر حیات خان کو بہت پسند آئی اورپھر نا صرف مولانا محمد یونس اثری ؒ کے آبائی گاؤں گھیناں تک کہوڑی سے آگے بجلی پہنچی بلکہ اس کے بعد اس طرح کی پالیسی بنی کی آج آزاد کشمیر میں آسمان سے باتیں کرنے والی چوٹیوں پر بھی بجلی کے قمقمے جلتے دکھائی دیتے ہیں۔

مولانا محمدیونس اثری ؒ ایک مذہبی جماعت مرکزی جمعیت اہل حدیث کے امیرتھے تو ساتھ میں اپنا سیاسی سفر مسلم کانفرنس کے ساتھ بھی جاری رکھاتھا،لیکن اس کے باوجودان کی مخالف جماعتوں کے قائدین بھی ان کے گن گاتے تھے اور مولانا کا نہایت احترام کرتے تھے۔ ایک مرتبہ مولانا محمد یونس اثری ؒ کسی کام سے وزیر اعظم ہاؤس تشریف لے گئے۔ اس وقت آزاد کشمیر کے وزیر اعظم ممتاز حسین راٹھور تھے۔ ممتاز حسین راٹھور اس وقت اپنے کسی کام میں مصروف تھے اور جب انہیں مولانامحمد یونس اثریؒ کی اچانک آمد کی اطلاع ملی تو وہ پاؤں میں چپل پہنے بناء باہر تشریف لے آئے اورکہنے لگے کہ مولانا آپ نے یہاں آنے کی کیوں زحمت کی ،مجھے فون پر بلا لیا ہوتا۔ اسی طرح ایک اور واقع ادب واحترام کا یوں ہے کہ 1996ء کے انتخابات کے بعد آزاد کشمیر میں پیپلز پارٹی کی حکومت قائم تھی ۔ مولانا محمد یونس اثری ؒ سی ایم ایچ مظفرآباد کے سامنے ایک پھل فروش کی دکان سے پھل خرید رہے تھے کہ اچانک اس وقت کے سینئر وزیر صاحبزادہ اسحاق ظفر ؒمرحوم کا وہاں سے گزر ہوا،انہوں نے مولانا محمد یونس اثری ؒکو جو نہی دیکھا تو اپنی گاڑی روک لی اور گاڑی سے نیچے اتر آئے ۔ مولانا محمد یونس اثریؒ کو صاحبزادہ اسحاق ظفر مرحوم کی آمد کا علم نا ہو سکا۔ جونہی مولانا پھل اٹھانے کے لیے آگے ہوئے تو یک دم ہی صاحبزادہ اسحاق ظفر آگے بڑھے اور پھل فروٹ کے بیگ اٹھا کرمولانا کی گاڑی میں خود رکھ دئیے اور کہنے لگے کہ مولانا میں یہ جانتا ہوں کہ اﷲ نے آپ کو سب کچھ عطا کیا ہے اور آپ کے مذہبی و سیاسی تعلق سے بھی باخوب واقف ہوں،لیکن اس سب کے باوجود میری خواہش ہے کہ جب تک پیپلز پارٹی کی حکومت آزاد کشمیر میں موجود ہے ،میری سرکاری گاڑی آپ بمع ڈرائیور کے استعمال کریں ،جس پر مولانا نے ان کا شکریہ ادا کیا اور ان کے لیے دعا کی۔

آزاد کشمیر میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے میں بھی مولانا محمد یونس اثریؒ کا اہم کردار رہا ہے۔ مولانا محمد یونس اثریؒ جتنا زیاد ہ مسلک اہل حدیث میں مقبول تھے اور مرکزی جمعیت اہل حدیث کے بانی و قائد تھے اتنے ہی ان کے گن دوسرے مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام و افراد گنگناتے تھے۔ تمام مسالک کے علماء کرام مولانا محمد یونس اثریؒ کا دل سے احترام کرتے تھے۔ آزاد کشمیر میں مذہبی ہم آہنگی کی مثال اور کیا ملے گی کہ جب تک ہمارا گھر زلزلہ سے قبل تک مدینہ مارکیٹ میں رہا،تب تک ہر برس دس محرم الحرام کے دن جب اہل تشیع کا جلوس مین بازار سے گزر رہا ہوتا تھا،تو اس وقت محترم سید کفایت حسین نقوی صاحب ہمرا ہ شیخ اختر صاحب مولانا محمد یونس اثری ؒ کی بیٹھک میں ان کے پاس بیٹھے ہوتے تھے اور عموما دوپہر کا کھانا وہیں کھاتے تھے اور مولانا محمد یونس اثری ؒ کی وفات کے بعد یہ سلسلہ جاری رہا۔ آج بھی سید کفایت حسین نقوی صاحب اور ہمارے خاندانی تعلقات اسی طرح برادرانہ واحترام کے رشتہ سے قائم ہیں۔ 90ء کی دہائی کا ایک واقع ہے ۔ ایک مرتبہ چند شرپسند لوگ مولانا محمد یونس اثری ؒ کے پاس مدینہ مارکیٹ میں ان کی رہائش گا ہ میں آئے اور کہنے لگے کہ مولانا آپ کی مسجد کے دونوں اطراف سے اہل تشیع کا جلوس 10 محرم کو گزرتا ہے،آپ ہمارا ساتھ دیں،تو ہم اس جلوس کو یہاں روکتے ہیں۔ یہ سننا تھا کہ مولانا محمد یونس اثریؒ طیش میں آ گئے اور فرمانے لگے کہ دن بھر بازار سے خواتین نیم برہنہ حالت میں گزرتی ہیں،انہیں روکنے کی تمہیں ہمت نہیں ہے اور یہ جو لوگ پر امن طور پر گزرتے ہیں،تم ان کو روکنا چاہتے ہو،خبردار اگر تم نے ایسی کچھ حرکت کی تو سب سے پہلے میں تمہارے سامنے آؤں گا اورتم سے لڑوں گا، پھر ان لوگوں کو وہاں سے بھگا دیا اور شرپسند عناصر کو منہ کی کھانا پڑی۔

آزاد کشمیر میں مذہبی ہم آہنگی کو فروغ دینے کے لیے تمام مکاتب فکر کے علماء کا ایک بڑا کنونشن 90ء کی دھائی میں مرکز اہل حدیث جامعہ محمدیہ اپر چھترمظفرآباد میں منعقد ہواتھا،جس میں تمام مکاتب فکر کے جیدعلماء کرام نے سینکڑوں کی تعداد میں شرکت کی تھی اور اس وقت اتحاد مدارس دینیہ کے نام سے ایک پلیٹ فارم قائم کیا تھا(ٖپاکستان میں یہ اتحاد امریکا کی جانب سے افغانستان میں حملہ کے بعد قائم ہوا) یہ اتحاد آزاد کشمیر میں تمام مکاتب فکر کے مابین اتحاد کے فروغ اور مدارس دینیہ کی فلاح و بہبود کے لیے قائم ہوا اور کنونشن میں تمام مکاتب فکر کے علماء کرام نے متفقہ طور پر مولانا محمد یونس اثریؒ کو اپنا سربراہ منتخب کیا تھااور آج انہی اہل علم و دانش کی تعلیم کا ہی نتیجہ ہے کہ آزاد کشمیر کا خطہ فرقہ واریت سے پاک ہے۔ الحمدﷲ۔

مولانا محمد یونس اثریؒ کا شخصیت کی ایک پہلو یہ بھی ہے کہ مولانا حق بات کہنے والے اور اس پر ڈٹ جانے والے تھے۔ اپنا مسلک اہل حدیث ،سچ، حق اودلیل کے ساتھ ڈٹ کے بیان کرتے تھے لیکن کبھی کسی دوسرے مسلک پر کیچڑ نہ اچھالتے تھے، یہی وجہ تھی کہ عوام میں ان کو مقبولیت عام تھی۔

مولانا محمد یونس اثریؒ کی زندگی کے اتنے پہلو اور اتنے واقعات ہیں کہ ان کو ایک ساتھ تحریر کرنا انتہائی مشکل کام ہے ۔ میرے لیے جہاں خوشی اور عزت کی بات ہے کہ اﷲ نے مجھے مولانا محمد یونس اثری ؒ کے پوتے کی حیثیت سے پیدا کیا،تو ساتھ میں میر ے دل میں اک دکھ ہمیشہ کے لیے موجود ہے کہ میں نے بچپن کے دن تو دادا ابو کی گود میں گزارے اس وقت مجھے خود کا علم نہیں تھا پر اس سب کے باوجود ان کی رہنمائی و شفقت حاصل رہی اور وہ بہت کچھ بتاتے تھے،لیکن آج جب ہم کچھ کرنے کے قابل ہوئے ہیں تو دادا ابو کی غیر موجودگی ایک گہرادکھ دیتی ہے۔اکثر سوچتا ہوں کہ اگر آج دادا ابو زندہ ہوتے تو وہ ہماری کس طرح رہنمائی کرتے اور کیا کچھ ہمیں مزید سکھاتے ۔ بچپن میں دادا ابو ،دادا ابو کہتے تھے اس وقت ان کی موجودگی میں اس لفظ کی مٹھاس کا شاید اتنا علم نہیں تھا لیکن آج جب دادا ابو کہنے کا دل کرتا ہے تو دل بھی روتا ہے اور آنکھیں بھی اپنے اشک چھپانے کی قدرت کھو دیتی ہیں ۔ آخر میں اپنے دادا ابو مولانا محمد یونس اثری ؒ اور ان کے ساتھ ہر مشکل میں کھڑے ہونے والے تمام ساتٖھیوں کے لیے اﷲ سے دعا گو ہوں کہ اﷲ ان کے درجات بلند کرے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلی مقام عطاء کرے ۔آمین ۔
چراغ زندگی ہو گا،فیروزاں ہم نہیں ہوں گے
چمن میں آئے گی فصل ، بہاراں ہم نہیں ہوں گے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Danial Shahab

Read More Articles by Danial Shahab: 18 Articles with 8415 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
23 Sep, 2016 Views: 558

Comments

آپ کی رائے