بھارت کا جنگی جنون عروج پر……پاکستان میں اﷲ اکبر کی صدائیں گونج اٹھیں!

(عابد محمود عزام, Lahore)
کہاوت مشہور ہے کہ گیدڑ کی جب موت آتی ہے تو وہ آبادی کا رخ کرتا ہے۔ میڈیکل سائنس کہتی ہے کہ گیدڑ نارمل حالت میں ایسی غلطی نہیں کرتا، بلکہ وہ ایسا قدم جنون اور پاگل پن کی کیفیت میں اٹھاتا ہے۔ ہمارے ہمسائے بھارت کی بھی وقتاً فوقتاً گیدڑ کی سی ہی حالت ہوجاتی ہے اور وہ پاگل پن میں مبتلا ہوکر پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کی دھمکیاں دینا شروع کردیتا ہے۔ ان دنوں بھی انتہا پسند بھارت اور متعصب مسلمان دشمن بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی پر جنگ کا دورہ پڑا ہوا ہے اور وہ جنگ جنگ کی رٹ لگائے ہوئے ہیں۔ پاگل پن میں مبتلا ہوکر بھارت نے تیاریاں تیز کردی ہیں۔ ذرایع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج نے کئی جگہوں پر بھاری اور درمیانے درجے کے ہتھیار اگلے مورچوں پر پہنچانا شروع کر دیے ہیں۔ جمعرات کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے زیادہ وقت ملٹری آپریشن روم میں گزارا، جہاں وہ لائن آف کنٹرول پر فوج کی نقل و حرکت کی تازہ ترین صورت حال کا جائزہ لیتے رہے۔ بوفرز توپوں اور 105 درمیانی رینج کی دوسری توپوں کو اوڑی کے چڑی میدان، موہرا اور بونیار میں نصب کیا جا رہا ہے۔ سونہ مرگ میں بھی بڑے ہتھیاروں کی تنصیب ہو رہی ہے۔ ان مقامات سے پاکستانی زیر انتظام کشمیر مِیں پاکستان کی دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنایا جاسکتا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فوج کی طرف سے بھاری اور درمیانے توپے خانے کی نقل و حرکت کی بھارت کے اعلیٰ دفاعی اہلکاروں نے تصدیق کی۔ اہم نیول بیس پر حملے کا ہائی الرٹ جاری کرتے ہوئے ممبئی میں خوف کی فضا قائم کر دی۔ واضح رہے کہ گزشتہ دنوں کشمیر کے اوڑی سیکٹر میں بھارت نے حملے کا ایک ڈرامہ رچایا تھا، جس میں بھارت کے متعدد فوجی مارے گئے تھے۔ ہر بار کی طرح اس دفعہ بھی حملے کے دوران ہی بھارتی سرکار نے اس کا الزام پاکستان کے سر تھوپ دیا۔ حالانکہ بھارت میں اوڑی سیکٹر پر ہونے والے حملے کے بعد پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال میں آگ میں تیل کا کردار ادا کرنے والے بھارتی میڈیا نے خود ہی اپنی غلطیوں کا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیا۔ بھارتی فوج کے ریٹائرڈ اعلیٰ افسران نے بھی اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے سوالات اٹھا دیے۔ رپورٹ میں سوال اٹھایا گیا کہ کیا بھارت نے اس معاملے میں جلدی نہیں کی؟اور کیا وجہ ہے کہ اس معاملے پر لاشوں کو بغیر کسی قسم کے معائنے اور تحقیقات کا موقع ہی نہیں دیا گیا اور فوری طور پر اڑی فوجی کیمپ کے قریب ہی ایک قبرستان میں دفن کر دیا گیا۔ بھارتی ائیر فورس کے ریٹائرڈ ائیر وائس مارشل کپل کاک نے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ بھارتی فوج کی جانب سے اس معاملے میں جلدی کی گئی ہے جو سنجیدہ نوعیت کے سوالات اٹھا رہی ہے اور سوال اٹھایا ہے کہ اگر یہ دہشت گرد پاکستان سے تھے تو ان کو دفنانے میں اتنی جلدی کیوں کی گئی؟۔ ثبوت کے لیے لاشیں رکھنا ضروری اور کوڈ آف کنڈکٹ کے مطابق ضروری ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹ کے مطابق ماضی میں ہونے والے ممبئی حملوں کے ملزمان کو ایک سال تک سرد خانے میں جبکہ پٹھان کوٹ کے ملزمان کی لاشوں کو ایک ہفتے تک سردخانے میں رکھا گیا تھا، جبکہ بھارتی وزیر دفاع نے بھی کہا ہے کہ ہو سکتا ہے اس معاملے پر غلطی ہوئی ہو مگر اس بات کو یقینی بنایا جائے گاکہ آئندہ ایسی کوئی غلطی نہ ہو، اس کے ساتھ ہی بھارتی عہدیدار نے پاکستان سے تعاون کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اڑی حملے کی تحقیقات میں بھارت کی مدد کرے، لیکن حیرت کی بات ہے کہ خود بھارتی میڈیا اور عہدیدار نے اعتراف کے باوجود جنگی جنون کو تسکین دینے والا بھارت خطے کے امن کو پاش پاش کرنے پر تل گیا۔ پاگل پن کی انتہاؤں کو چھوتے بھارت نے پاکستان میں مخصوص اہداف پر حملوں کی تیاری کا پہلا مرحلہ مکمل کرلیا۔ ’’کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن‘‘ کے تحت بھارتی فضائی فوج بھی ایڈوانس اڈوں پر پہنچ گئی ہے۔ جنگ اور سرجیکل حملوں میں استعمال کیے جانے والے طیارے بھی اڈوں پر پہنچا دیے گئے ہیں۔ جنگی جنون میں مبتلا بھارت نے مسلسل دوسرے روز بھی زمین سے فضا میں طویل فاصلے تک مار کرنے وال بیلسٹک میزائل باراک ایٹ کا تجربہ کر ڈالا۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بلیسٹک میزائل باراک ایٹ کا کامیاب تجربہ اڑیسہ کے ساحلی علاقے چیزی پور میں انٹیگریٹڈ ٹیسٹ رینج لاؤنچ پیڈ سے کیا گیا۔بھارت پر اس قدر جنگی جنون طاری ہے کہ اپنے ملک میں آئے مہمانوں کو بھی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی بربریت کے خلاف پاکستان نے آوازکیا بلند کی ، مودی سرکار آپے سے باہر ہوگئی۔اوڑی واقعے کے بعد جہاں ایک طرف بھارت ہاتھ دھوکر پاکستان کے پیچھے پڑگیا ہے تو وہیں دوسری جانب مہاراشٹرا کی ہندو انتہاپسند جماعت نرونیمن نے پاکستانی فنکاروں کو 48 گھنٹے میں ملک چھوڑنے کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگرانہوں نے بھارت نہ چھوڑا تو سنگین نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہوجائیں۔

بھارت کی جانب سے’’کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن‘‘ کی حکمت عملی کے بعد پاکستان نے بھی اپنے دفاع کے لیے مربوط حکمت عملی کو جامع شکل دے دی ہے اور صورتحال کے پیش نظر پاکستان نے بھی منہ توڑ جواب دینے کی حکمت عملی کو حتمی شکل دے دی۔ بھارت کے جنگی جنون اور اشتعال انگیزیوں کے بعد پاک فوج نے بھی دفاعی تیاری پکڑلی ہے اور موٹروے پر جنگی طیاروں کی لینڈ نگ کے لیے انتظامات مکمل کرلیے گئے ہیں۔ لاہور کے نواحی علاقے کالاشاہ کاکو سے شیخوپورہ تک موٹروے کی دولائنوں کے درمیان موجود دیواریں ہٹالی گئی ہیں اور روایتی ٹریفک کے لیے لگائی گئی سفید اور پیلی لائنیں ختم کرکے رن وے کا نشان بناد یا گیا ہے۔ تقریباً 15 کلومیٹر طویل موٹروے پر ہرطرح کے جہاز ٹیک آف اور لینڈکرسکتے ہیں۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ اس علاقے میں پاک فوج کے اہلکاروں کی نقل وحرکت بھی بڑھادی گئی ہے اور امید ظاہر کی جارہی ہے کہ یہاں فوجی مشقیں شروع کی جاسکتی ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان تناؤ خطرناک سطح کو چھو رہا ہے اور کولڈ اسٹارٹ ڈاکٹرائن کے تین درجوں میں سے پہلا مرحلہ بھارت نے مکمل کرلیا ہے۔ذرائع کے مطابق بھارتی فضائی فوج ایڈوانس اڈوں پر پہنچ گئے ہیں، اس کے علاوہ جنگ اور سرجیکل حملوں میں استعمال کیے جانے والے طیارے بھی اڈوں پر پہنچ چکے ہیں۔ذرائع کے مطابق اب صرف دو مرحلے باقی رہ گئے ہیں، تاہم پاکستان نے اپنے دفاعی اور جوابی تدابیر کے لیے اقدامات شروع کردیے ہیں۔ذرائع کا کہنا تھا کہ پاکستان پہل نہیں کرے گا تاہم ریڈ لائن کراس نہیں کرنے دی جائے گی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر بھارت حملہ کرتا ہے تو فوری طور پر بھرپور جواب دیا جائے گا۔ اس موقع پر شمالی علاقہ جات کی پروازوں اور راستے سیل کرنے کی وجہ یہی کشیدگی بتائی جاتی ہے۔پاکستان کی جانب سے یہ واضح کردیا گیا ہے کہ پاکستان کسی بھی حملے کا خاطر خواہ جواب دے گا اور اس کی صلاحیت رکھتا ہے۔ وفاقی وزیر دفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ ہماری فضاؤں کے محافظ الحمداﷲ ہر وقت تیاری کی حالت میں ہیں اور ہمارے موٹروے ہمارے رن وے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ بھارت ہمیں اینٹ کا جواب پتھر سے دینے پر مجبور نہ کرے۔ حکومت بھارت کے جنگی جنون، مداخلت اور دہشت گردی کے سدباب کے لیے پارلیمنٹ کو اعتماد میں لے کر فوری لائحہ عمل طے کرے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف سید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ بھارت کسی بڑے ایجنڈے پرکام کرنا چاہتا ہے، عالمی قوتیں بھارت کو جارحانہ اقدامات سے روکیں، کیونکہ اگر جنگ ہوئی تو خطے اور دنیا کو خطرہ لاحق ہوگا ۔لہٰذا پاکستان دنیا کو محسوس کرائے کہ اگر جنگ ہوئی تو تیسری عالمی جنگ ہوگی۔ ان کا کہنا تھا کہ مودی سرکار کیا ایسی 10 سرکاریں بھی پاکستان کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں، لیکن اگر بھارت ایک بار پھر پاکستان کو آزمانا چاہتا ہے تو ہم تیار ہیں، تاہم اسے یاد رکھنا چاہیے کہ جنگ کی صورت میں بھارت کو زیادہ نقصان اٹھانا پڑے گا۔ واضح رہے کہ ملک کے مختلف حصوں میں بھارت کے جنگی جنون کے خلاف ریلیاں نکالی گئی ہیں، جن میں بلند آواز سے اﷲ اکبر کے نعرے لگائے اور کہا گیا کہ جنگ مسلط کرنے کی صورت میں بھارت کو بھیانک نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ پوری پاکستانی قوم سیسیہ پلائی دیوار کی طرح پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔پاکستانی قوم جنگ سے ڈرنی والی نہیں ہے، بلکہ ایمان کی قوت کے ساتھ بھارت کو ناکوں چنے چبوانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

واضح رہے گزشتہ دنوں وزیر اعظم پاکستان میاں نوازشریف نے اقوام متحدہ میں کھل کر کشمیر کے معاملے پر اپنا موقف پیش کیا ہے اور بھارتی فوج کے ہاتھوں شہید ہونے والے مظفر وانی کو شہید قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے وزیر اعظم نواز شریف کے خطاب پر بھارت میں سخت ردعمل سامنے آیا ہے اور وزیراعظم نواز شریف کے جنرل اسمبلی سے خطاب نے پورے بھارت کو ذہنی ہیجان میں مبتلا کردیا۔ وزیراعظم کے خطاب کے بعد بھارتی میڈیا آگ اگلنے لگا، وزیراعظم پاکستان پر دہشت گردی کی سرپرستی کا الزام بھی لگا ڈالا۔ وزیر اعظم کا کشمیریوں اور برہانی وانی شہید کو شاندار خراج عقیدت بھارتی میڈیا کو ایک آنکھ نہ بھایا، فوراً ہرزہ سرائی شروع کردی۔ بھارت اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں کشمیر کے مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کے برہان وانی کو ’نوجوان رہنما‘ کہنے پر بھڑک اٹھا۔ بھارت کے خارجہ امور وزیر مملکت ایم جے اکبر نے نواز شریف کے بیان پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ حیرانی کی بات ہے کہ پاکستان ایک دہشت گرد کو ہیرو قرار دے رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں خونی کھیل کھیلنے والے دہشت گرد برہان وانی کی تعریف کرکے پاکستان یہ تسلیم کر رہا ہے کہ وہ دہشت گردی کا حامی ہے۔واضح رہے کہ بھارت کے جنگی پاگل پن کے پیچھے ایک لمبی کہانی ہے۔ 1947 میں برطانیہ جب برصغیر کو چھوڑ کرگیا توبھارت نے کچھ علاقوں پر ناجائز قبضہ جمایا، ان میں مقبوضہ کشمیر سرفہرست ہے۔ بھارت نے اقوام متحدہ میں جنرل اسمبلی کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری کے ذریعے یہاں کے باسیوں کو آزادی دینے کی حامی تو بھری، لیکن آج تک ان کو آزادی نہیں دی اور نہ ہی یہاں رائے شماری کرائی ہے، بلکہ کشمیریوں کی نسل کشی کی جارہی ہے۔ یہاں آزادی کی تحریک زور و شور سے جاری ہے۔8 جولائی کو برہان مظفر وانی کی شہادت کے بعد مقبوضہ کشمیر میں تحریک آزادی کو ایک نئی مہمیز ملی۔ بھارتی فورسز اپنا اسلحہ اور کشمیری حریت پسند جگر آزما رہے ہیں۔ اڑھائی ماہ میں 100 کے قریب شہادتیں اور پیلٹ گنوں اور مہلک اسلحہ سے آٹھ ہزار کشمیری مفلوج اور معذور ہو چکے ہیں۔ 12,000 سے زیادہ لوگ زخمی ہوچکے ہیں؛ یعنی ہر روز 150 سے زیادہ افراد زخمی ہورہے ہیں، لیکن کشمیری اپنی آزادی سے کم پر تیار نہیں۔ پاکستان کی طرف سے کشمیریوں کی بھرپور اخلاقی اور سفارتی حمایت کی جارہی ہے۔ وزیراعظم نوازشریف نے جب اقوام متحدہ میں مسئلہ کشمیر پوری قوت سے اٹھایا تو بھارت نے پاکستان کو دہشت گردوں کا پشت پناہ قرار دینے کا پراپیگنڈا تیز کر دیا اور اس اقوام متحدہ میں میاں نواز شریف کے خطاب سے پہلے ہی اوڑی چھاؤنی میں 18 فوجیوں کی ہلاکت کا ڈرامہ رچانا اسی سلسلہ کی کڑی ہے۔ اوڑی حملہ کے حوالے سے بھارت پاکستان پر الزام لگا کر سنگین نتائج کی دھمکیاں دے رہا ہے۔او آئی سی اجلاس کے دوران سیکرٹری جنرل ایازامین نے بھارتی مظالم فوری طور پر بند کرانے کا مطالبہ کیا، لیکن بھارت مظالم کا سلسلہ روکنے کے لیے تیار نہیں ہے۔پاکستان ہمیشہ خطے میں امن کے قیام کے لیے کوشاں رہا ہے، جبکہ بھارت نے ہمیشہ آگ بڑھکانے کی کوشش کی ہے۔ حالانکہ بھارت کا یہی جارحانہ رویہ پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے جو پوری دنیا کے لیے نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے پاکستان اوربھارت کے درمیان ثالثی کے لیے اپنا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی پر تشدد کارروائیاں خطے میں امن کے لیے خطرناک ہیں۔ بھارت کی پاکستان کو عالمی برادری میں تنہا کرنے کی کوششیں بری طرح ناکام ہو گئی ہیں۔ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق کی موجودہ صورتحال پر سفارتی دباؤ کے ردعمل میں جنگ کا ڈھنڈورا پیٹ رہا ہے ۔ ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ وزیراعظم کی تقریر کے بعد بھارت کی انتہاپسند مودی سرکار دنیا بھر میں بری طرح بے نقاب ہو گئی۔ انہوں نے کہا کہ اسلامی کانفرنس تنظیم نے بھی مقبوضہ کشمیر میں فیکٹ فائنڈنگ کمیشن بھیجنے کا اعلان کر دیا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 419801 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Sep, 2016 Views: 987

Comments

آپ کی رائے