پاکستان کے لئے روس سے تعلقات کی اہمیت

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)
امریکہ اور بھارت میں دفاع سمیت حساس شعبوں میں بھی نہایت قریبی اشتراک ہو گیا ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کے فوجی اڈے استعمال کرنے کے اقدام سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے کہ اب امریکہ چین کے خلاف بھارت کے ساتھ ہر طرح کا اتحاد قائم کر چکا ہے۔پاکستان نے روس سے جنگی طیارے خریدنے کی بات کی تو امریکہ نے پاکستان کو روسی جنگی طیارے حاصل کرنے سے روکنے کے لئے ایف16طیارے دینے کا جھانسہ دیا اور عین وقت پر اس سے انکار کر دیا۔تقریبا گزشتہ ایک دہائی سے امریکہ پاکستان کو دیئے جانے والے ہر اسلحے سے متعلق یہی بیان دیتا آیا ہے کہ یہ اسلحہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے ہے،یہ اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال نہ ہو گا۔لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کا ازلی اور فوری دشمن بھارت ہی ہے اور اس دشمن کو نظر انداز کرنے سے خطرات کم نہیں ہوتے بلکہ ان کی سنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اب بھارت پاکستان کے خلاف ایک بات پھر سرحد پہ فوجی اجتماع کرتے ہوئے ،پاکستان پر اسی طرح دبائو ڈال کر اپنی مرضی کی شرائط منوانا چاہتا ہے،جس طرح بھارت نے مشرف دور میں سرحد پہ فوجی اجتماع کرتے ہوئے کشمیری حریت پسندوں کے کیمپ بند کرنے سمیت اپنی پانچ شرائط تسلیم کرائی تھیں۔افغانستان ہی نہیں شام کے واقعات بھی ثابت کرتے ہیں کہ روس اپنے دوست ملک کو تنہا نہیں چھوڑتا ۔یوں پاکستان کو درپیش سنگین صورتحال کے پیش نظر یہ بات ضروری معلوم ہوتی کہ پاکستان روس کے ساتھ دوستی اور باہمی مفاد پر مبنی ہر شعبے میں قریبی تعلقات استوار کرے اور ان تعلقات کے قیام میں تیزی لانے کے لئے چین کی مدد ومعاونت حاصل کی جائے۔
انڈیا کے دیرینہ اتحادی روس کی افواج کا دستہ پہلی مرتبہ پاکستان کی افواج کے ساتھ مشترکہ جنگی مشقوں کے لیے پاکستان پہنچا ہے۔بھارت کے ساتھ جنگ کے امکانات کی کشیدگی کی صورتحال میں روس اور پاکستان کی مشترکہ جنگی مشقیں خاصی اہمیت کی حامل ہیں۔بھارتی میڈیا نے انہی دنوں روس اور پاکستان کی فوجی مشقوں کی منسوخی کا دعوی کیا تھا لیکن کئی دوسری انڈین خبروں کی طرح یہ خبر بھی جھوٹی نکلی۔پاکستان شروع سے امریکی بلاک میں رہا اور دنیا میں امریکہ اور روس کی طویل سرد جنگ کے دور میں امریکہ کا اتحادی بنا رہا۔افغانستان میں روس کے خلاف جنگ میں امریکہ کی آشیر باد سے پاکستان افغان مجاہدین کے ذریعے روس کے خلاف امریکہ اور مغرب کی جنگ لڑتا رہا۔یوں روس کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ سے ہی مخالفانہ رہے ہیں اور ایک مرتبہ روس نے کشمیر کے مسئلے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کے حق میں ویٹو کا حق بھی استعمال کیا تھا۔تاہم گزشتہ چند سال سے روس کا روائیتی دوست بھارت امریکہ کے انتہائی قریب ہو گیا ہے اور دوسری طرف پاکستان اور روس کے درمیان قربت پیدا ہو رہی ہے۔سابق وزیر اعظم ذولفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں پاکستان نے روس کے ساتھ اچھے تعلقات قائم کئے اور اسی دور میں روس نے پاکستان کو کراچی میں سٹیل مل کا اہم کارخانہ قائم کر کے دیا۔

مشترکہ جنگی مشقیں اور دفاعی سازوسامان کی خریداری سے اس بات کے اشارے ملتے ہیں کہ پاکستان اور روس کے درمیان دوستی کے ایک نئے سفر کا آغاز ہو رہا ہے۔اقتصادی راہداری منصوبے کی بدولت پاکستان کے دفاع کے حوالے سے بھی چین کا کردار واضح ہوتا ہے۔چین ہی پاکستان کا ایسا سب سے اہم دوست قرار پاتا ہے جو اقتصادی اوردفاعی امور کے علاوہ اب پاکستان کا ساتھ اہم ترین شراکت داربن چکا ہے۔چین اور روس روائیتی طور پر اتحادی ہیں ۔اگر پاکستان چین کی طرح روس کے ساتھ بھی قریبی دوستانہ تعلقات پر توجہ دے تو پاکستان کو امریکہ سے پہنچنے والے زخموں کا مداوا ممکن ہو سکتا ہے۔پاکستان نے اپنے باقی اکثر اہم معاملات کی طرح مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھی امریکہ پر تکیہ کرنے کی پالیسی رکھی اور اب بھی پاکستان کا امریکہ سے یہی مطالبہ اور توقع ہے کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان کشمیر کا مسئلہ حل کرائے۔لیکن امریکہ ہر بار بھارت کی حمایت میں ا پنی اس پالیسی کا اعادہ کرتا ہے کہ پاکستان اور بھارت آپس میں مزاکرات سے کشمیر کا مسئلہ حل کریں۔اس حوالے سے امریکہ اس حقیقت کو نظر انداز کر دیتا ہے کہ پاکستان اور بھارت کی طرف سے کشمیر کا مسئلہ باہمی طور پر حل کرنے کے عہد کو 35سال گزر جانے کے باوجود کشمیر کا سنگین مسئلہ بدستور حل طلب ہے اور اس حوالے سے بھارت اپنی طاقت کے زعم میں ہٹ دھرمی کی راہ اختیار کیئے ہوئے ہے۔

امریکہ اور بھارت میں دفاع سمیت حساس شعبوں میں بھی نہایت قریبی اشتراک ہو گیا ہے ۔دونوں ملکوں کے درمیان ایک دوسرے کے فوجی اڈے استعمال کرنے کے اقدام سے ہی ظاہر ہو جاتا ہے کہ اب امریکہ چین کے خلاف بھارت کے ساتھ ہر طرح کا اتحاد قائم کر چکا ہے۔پاکستان نے روس سے جنگی طیارے خریدنے کی بات کی تو امریکہ نے پاکستان کو روسی جنگی طیارے حاصل کرنے سے روکنے کے لئے ایف16طیارے دینے کا جھانسہ دیا اور عین وقت پر اس سے انکار کر دیا۔تقریبا گزشتہ ایک دہائی سے امریکہ پاکستان کو دیئے جانے والے ہر اسلحے سے متعلق یہی بیان دیتا آیا ہے کہ یہ اسلحہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لئے ہے،یہ اسلحہ بھارت کے خلاف استعمال نہ ہو گا۔لیکن وقت نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کا ازلی اور فوری دشمن بھارت ہی ہے اور اس دشمن کو نظر انداز کرنے سے خطرات کم نہیں ہوتے بلکہ ان کی سنگینی میں اضافہ ہو جاتا ہے۔اب بھارت پاکستان کے خلاف ایک بات پھر سرحد پہ فوجی اجتماع کرتے ہوئے ،پاکستان پر اسی طرح دبائو ڈال کر اپنی مرضی کی شرائط منوانا چاہتا ہے،جس طرح بھارت نے مشرف دور میں سرحد پہ فوجی اجتماع کرتے ہوئے کشمیری حریت پسندوں کے کیمپ بند کرنے سمیت اپنی پانچ شرائط تسلیم کرائی تھیں۔افغانستان ہی نہیں شام کے واقعات بھی ثابت کرتے ہیں کہ روس اپنے دوست ملک کو تنہا نہیں چھوڑتا ۔یوں پاکستان کو درپیش سنگین صورتحال کے پیش نظر یہ بات ضروری معلوم ہوتی کہ پاکستان روس کے ساتھ دوستی اور باہمی مفاد پر مبنی ہر شعبے میں قریبی تعلقات استوار کرے اور ان تعلقات کے قیام میں تیزی لانے کے لئے چین کی مدد ومعاونت حاصل کی جائے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 620 Articles with 318427 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
25 Sep, 2016 Views: 575

Comments

آپ کی رائے