حج کے بعد زندگی کیسے گزاریں؟

(Mufti Muhammad Waqas Rafi, )
اسلام کے اندر تمام عبادتیں نماز ، روزہ ، حج اور زکوٰۃوغیرہ عظیم الشان اور ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر ہیں ۔اور جس طرح دیگرعبادات کے انوار و برکات ایک دوسرے سے مختلف ہیں اور ایک عبادت سے دوسری عبادت کی کمی پوری نہیں ہوسکتی، ا سی طرح حج کے بھی انوار و برکات دوسری تمام عبادات سے یکسر مختلف ہیں اور اس کی بھی ضرورت اور کمی دوسری کسی عبادت سے پوری نہیں ہوسکتی ۔بلکہ اس کے انوار و برکات کو حاصل کرنے کے لئے تو بیت اﷲ شریف جاکر حاضری دینا اس کی اولیں شرط ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ جب تک انسان خود حج کرنے نہ جائے ٗ محض حج کے فوائد و ثمرات سننے سے وہ اس کے فوائد و برکات کو کما حقہ سمجھ ہی نہیں سکتا ۔ انسان جب خود حج کرنے جاتا ہے ٗ تب اسے اس کے حقیقی منافع ا و ر اس کی برکات سمجھ میں آنے لگتی ہیں اور پھر اس کا دل گواہی دیتا ہے کہ اس کے اندر انقلاب آرہا ہے ، اس کے کردار میں تبدیلی آرہی ہے ، اس کی سوچ تبدیل ہورہی ہے ، اس کے جذبات بدل رہے ہیں۔ چنانچہ بیت اﷲ شریف جاکر انسان خود محسوس کرنے لگتا ہے کہ میں وہ نہیں ہوں جو اپنے وطن میں تھا بلکہ یہاں آکر میں کچھ اور ہوگیا ہوں ، یہ سب حج بیت اﷲ کے حیرت انگیز اثرات کا نتیجہ ہیں۔

دنیا میں اس وقت بھی سات بڑے عجائبات مشہور ہیں ، لیکن ان سب کا حال یہ ہے کہ انسان اگر ان کو پانچ ،دس مرتبہ بھی دیکھ لے تو ان سے اس کا جی بھر جاتا ہے اور مزید انہیں دیکھنے کا دل نہیں کرتا ۔ لیکن ایک بیت اﷲ شریف دنیا میں ایسی مقناطیسی عمارت ہے کہ جس کو دیکھتے ہی انسان کا دل اس کی طرف کھنچا چلاتا ہے اور وہ انسان کے دل کو موہ لیتا ہے اور اس کو دیکھتے دیکھتے انسان کی آنکھیں سیر ہی نہیں ہوتیں۔

بہر حال ایک ہے حج کا قبول ہونا اور ایک ہے حج کا ادا ہونا ۔ یہ دونوں الگ الگ باتیں ہیں۔ حج ادا تو اسی وقت ہوجاتا ہے جب آدمی اس کے تمام اعمال قاعدے کے مطابق ادا کرلے ۔ حج کے دو ہی رکن ہیں : ایک وقوف عرفہ، خواہ ایک منٹ کے لئے ہی ہو ۔ اور دوسرے طواف زیارت ۔ باقی کچھ واجبات ہیں ، کچھ شرائط ہیں اور کچھ سنن و مستحبات ہیں ۔ لہٰذا اگر حج شرعی طریقہ کار کے مطابق ادا کیا جائے تووہ ادا تو ہوجاتا، لیکن کیا مقبول بھی ہوتا ہے یا نہیں؟ اس بات کو معلوم کرنے کے لئے علمائے کرام نے چند علامتیں لکھی ہیں:
۱ -پہلی علامت جو حدیث شریف میں آئی ہے وہ یہ ہے کہ جن لوگوں کا حج قبول ہوجاتا ہے ان کی کنکریاں اٹھالی جاتی ہیں اور جو کنکریاں پڑی رہ جاتی ہیں یہ ان لوگوں کی ہوتی ہیں جن کا حج مقبول نہیں ہوتا ۔ اسی وجہ سے علماء نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ وہاں کی کنکریاں اٹھا کر رمی نہ کی جائے کیوں کہ یہ ان لوگوں کی کنکریاں ہوتی ہیں جن کا حج مقبول نہیں ہوتا ۔
۲-دوسری علامت یہ ہے کہ حج سے واپس آنے کے بعد آدمی کے اعمال میں بہتری پیدا ہوجائے ۔ اس لئے کہ ایک حدیث شریف کا مفہوم ہے کہ نیکی کے فوراً قبول ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے بعد آدمی کو دوسری نیکی کی توفیق مل جاتی ہے ۔ اس لئے ہر آدمی اس بات کا محاسبہ کرنا چاہیے کہ فرائض و واجبات کی ادائیگی میں پہلے وہ جتنا اہتمام کرتا تھا اب اس سے زیادہ کرنے لگا ہے یا نہیں ؟ گناہوں سے بچنے کی پہلی جتنی کوشش کرتا تھا، اب اس سے زیادہ کرنے لگا ہے یا نہیں؟ اگر اس کا جواب اثبات میں ہے تو پھر سمجھ لینا چاہیے کہ اس کا حج اﷲ تعالیٰ کے یہاں مقبول ہوگیا ہے ۔
۳- تیسری علامت یہ ہے کہ وہاں کی محبت اور عقیدت اس قدر دل میں رچ بس جائے کہ گویا آدمی اپنا دل ہی وہاں چھوڑ کر آجائے اور بار بار وہاں جانے کا شوق اس کے دل کے آنگن میں انگڑائیاں لینا شروع کردے ۔

اس میں شک نہیں کہ آدمی جب حج پر جاتا ہے تو اس کے ماحول کے نورانی اثرات و برکات اس پر لازمی پڑتے ہیں۔ اس لئے آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنے اندر دیکھے کہ وہاں کے ماحول کے نورانی اثرات ابھی تک اس پر موجود ہیں یا نہیں؟ اگر موجود ہیں تو ان کے ماند پڑجانے سے پہلے ان کی حفاظت کرے ۔ اس لئے کہ ہمارا معاشرہ اور ماحول ہر قسم کے گناہوں سے بھرا ہوا ہے ، اِدھر جاؤ گناہ کی دعوت، اُدھر جاؤ گناہ کی دعوت ، نگاہوں کو گناہوں سے بچانا آسان نہیں ، کانوں کو گناہوں سے بچانا آسان نہیں ، کہیں گانوں اور باجوں کی آوازیں کانوں میں پڑتی ہیں تو کہیں غیبت ، جھوٹ اور گالیاں زبان سے نکل جاتی ہیں ،اسی طرح پیٹ کو حرام مال سے بچانا آسان نہیں ، کہیں رشوت ہے تو کہیں تو سود ، کہیں ناجائز ملازمتیں ہیں تو کہیں ناجائز ذرائع آمدن ۔

حج کو بچانے کا ایک یہ بھی طریقہ علماء نے لکھا ہے کہ آدمی کو چاہیے کہ وہ اپنا روحانی تعلق کسی اﷲ والے کے ساتھ قائم کرلے۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ حج سے آدمی جو نیک جذبات و خواہشات اور تاج دارِ دوعالم سرورِ کونین ا کے روضۂ اقدس کی مشک بار فضاؤں کے قیمتی ثمرات و برکات لے کر آتا ہے ان کی اس سے حفاظت رہے گی اور اس طرح اس کا حج ضائع ہونے سے محفوظ رہے گا۔

بہر حال یہ انسان کی فطرت ہے کہ وہ اپنے ارد گرد کے ماحول اور معاشرے سے ضرور متاثر ہوتا ہے ۔ صحابہ کرام ثپربھی ماحول کی کیفیت اسی طرح ہوتی تھی ۔ چنانچہ ایک صحابی نے عرض کیا : یا رہول اﷲا! جب ہم آپ کی خدمت ہوتے ہیں تو ہمیں یوں محسوس ہونے لگتا ہے گویا ہم جنت اور جہنم کو اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں ، لیکن جب ہم گھر واپس چلے جاتے ہیں اور اپنے بیوی بچوں کے ساتھ ہنسی کھیل میں مشغول ہوجاتے ہیں تو پھر ہماری یہ کیفیت نہیں رہتی۔رسول اﷲ نے انہیں اطمینان دلایا اور تسلی دی۔

الغرض حج کا اصل مقصد یہ ہے کہ آدمی کے دل کے اندر اﷲ تعالیٰ کاتقرب اور اس کا خوف پیدا ہو ۔ لیکن جب آدمی حج کے بعد دوبارہ اپنے معاشرے میں قدم رکھتا ہے تو اس کے لئے گناہوں سے بچنا اتنا آسان نہیں ہوتا ، لہٰذا ہر ایک شخص کو چاہیے کہ وہ قدم قدم پر اپنے اعمال کا محاسبہ کرتا رہے اور اپنے آپ کو اس گندے معاشرے کی نحوست سے اپنے آپ کو حتی الامکان بچانے کی کوشش اور فکر میں لگا رہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Muhammad Waqas Rafi

Read More Articles by Mufti Muhammad Waqas Rafi: 186 Articles with 136165 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Oct, 2016 Views: 516

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ