پاکستان میں پولیو وائرس کا مکمل خاتمہ ممکن ہے؟

(Akhtar Sardar, Kasowal)
پولیوکے عالمی دن24 اکتوبر 2016 کے موقع پر ایک خاص تحریر
پولیو ( Poliomyelitis) ایک بیماری کا نام ہے جو ایک شخص سے دوسرے میں منتقل ہو سکتا ہے۔ یہ عصاب کو کمزور کرنے والی ایک لاعلاج بیماری ہے۔ یہ بیماری بچوں میں عام ہے لیکن دیگر افراد بھی اس کا شکار ہوسکتے ہیں۔ پولیو ایک سنگین اور ممکنہ طور پر مہلک متعدی بیماری ہے۔پولیو وائرس ایک شخص سے دوسرے شخص میں پھیلتا ہے اور دوسرے شخص کو متاثر کرتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ شخص کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے فالج ہو سکتا ہے۔یہ منہ کے ذریعے جسم میں داخل ہوتا ہے اور ایک چھینک یا کھانسی کے ذریعے بھی پھیل سکتا ہے۔ پولیو وائرس متاثرہ مریض کے گلے اور آنتوں میں ہوتا ہے، عام طور پر یہ وائرس ایک متاثرہ مریض کے پاخانہ (poop) کے ساتھ رابطے کے ذریعے(پیٹ سے خارج ہونے والی گیس) پھیلتا ہے اگر ہاتھوں پر پاخانہ لگ جائے تو بھی آپ کو پولیو وائرس متاثر کرسکتا ہے۔ یہ وائرس آپ کے اپنے منہ کو چھونے سے بھی آپ کی جلد پر آجاتا ہے۔ جو آپ کے ساتھ ساتھ ہر چیز کو آلودہ کر دیتا ہے آپ اگر بیت الخلاء سے ہاتھ دھوئے بغیر کسی کھلونے یا کسی اشیاء کو چھولیں اور وہ کھلونا یا اشیاء کسی طرح کوئی بچہ اپنے منہ میں ڈال لے تو اس سے بھی اسے پولیو ہو سکتا ہے۔ متاثرہ شخص سے فوری طور پر دوسرے شخص میں وائرس پھیل سکتا ہے اور اس کی باقاعدہ علامات ایک سے دو ہفتوں کے اندرظاہر ہوجاتی ہے۔ وائرس کئی ہفتوں تک ایک متاثرہ شخص کے چہرے پر رہ سکتے ہیں چاہے آپ کتنی ہی بار منہ دھولیں․ یہ خوراک اور پانی کے اندر مل کر ان کو بھی آلودہ کر سکتا ہے۔ پولیو سے متاثرہ شخص خود ایک بیماری ہوتے ہیں جو دوسروں کو وائرس منتقل کرنے اور انہیں بیمار کرسکتے ہیں۔

پولیو کی علامات گلے کی سوزش ، بخار، تھکاوٹ ،قے یا متلی ,سردرد ، پیٹ میں درد ، یہ علامات عام طور پر دوسے پانچ دن کے بعد اپنے طور پر دور ہو جاتی ہیں۔ پولیو وائرس انفیکشن کے ساتھ لوگوں کے ایک چھوٹے تناسب کے دماغ اور ریڑھ کی ہڈی پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے دوسرے وائرس زیادہ سنگین علامات کے ساتھ نظر آتا ہے۔ Paresthesia (پاؤں میں سوئیاں چبھنے کا احساس) میننجائٹس (ریڑھ کی ہڈی یا دماغ )پولیو وائرس انفیکشن ہر 25 افراد میں سے تقریباََ ایک میں پایا جاتا ہے۔ فالج پولیو وائرس انفیکشن کے ساتھ ہر 2سوافراد میں سے ایک میں پایا جاتا ہے۔ دونوں بازو، ٹانگوں میں کمزوری، یا فالج سے مستقل معذوری اور موت بھی واقع ہوسکتی ہے، کیونکہ پولیو کے ساتھ فالج ہی زیادہ علامت ہوتی ہے․ دو دن کے اندر وائرس سے سانس لینے میں مشکل ہوجاتی ہے اور پٹھے بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔
پولیو کی پانچ اقسام ہیں۔1۔ خاموش پولیو (Silent polio): یہ بچوں میں عام ہوتا ہے اور جن خاندانوں میں یہ مرض پہلے سے موجود ہو اسے خاموش پولیو کہا جاتا ہے ،یہ بچے کی غذائی نالی میں موجود ہوتا ہے لیکن اس کے نظام ہاضمہ پر حملہ نہیں کرتا اور علامات ظاہر نہیں کرتا۔2۔ ابورٹوو پولیو (Abortive polio) اس قسم میں وائرس کا حملہ شدید ہوتا ہے لیکن نظامِ عصاب کے علاوہ دیگر جسمانی نقائص پیدا ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ قسم اکثریت میں پائی جاتی ہے اور 5 سال کی عمر کے بچوں سے لے کر 50 سال سے زائد عمر کے افراد میں بھی موجود ہوتی ہے۔ اس قسم میں خواتین زیادہ مبتلا ہوسکتی ہیں۔3۔ نون پرالیٹک پولیو(Non-Paralytic polio) اس میں عصابی کمزوری بڑھ جاتی ہے۔ لیکن اس کے باجود نظام اعصاب کو مستقل نقصان نہیں ہوتا صرف سوزش ہوتی ہے جو بعد میں ٹھیک ہوجاتی ہے۔4۔ پرالیٹک پولیو (Paralyticl polio) اس قسم میں عصابی نظام پر شدید حملہ ہوتا ہے اور نظامِ عصاب مکمل کر پر کام کرنا بند کردیتے ہیں۔5۔ بلبو اسپائنل پولیو (Bulbo spinal polio) اس قسم کے وائرس متاثرہ شخص کو مفلوج بنا سکتے ہیں۔ اس میں نظام تنفس کے ازلات مفلوج ہوجاتے ہیں۔ لہذا مریض کا سانس لینا مشکل ہوجاتا ہے اور سانس لینے کی سہولت ختم ہوجاتی ہے جس سے موت واقع ہوجاتی ہے۔

پولیو سے حفاظت کا عالمی دن 24 اکتوبر کو پاکستان سمیت دنیا بھر میں منایا جاتا ہے۔ اس موقع پر عالمی ادارہ صحت، محکمہ صحت، اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن، پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن اور صحت کے شعبہ میں خدمات سر انجام دینے والی این جی اوز کے زیر اہتمام مختلف شہروں میں کانفرنسز، ورکشاپس، مذاکروں اور دیگر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی پولیو کا عالمی دن منایا جارہا ہے تاہم حکومت کی جانب سے پولیو کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے اقدامات ناکافی ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا کا 99 فیصد علاقہ پولیو سے مکمل طور پر پاک ہو چکا ہیں لیکن پاکستان میں آئے روزپولیو وائرس سے متاثرہ کیسز سامنے آ رہے ہیں۔ سال 2014ء میں پولیو مریضوں کی تعداد 220 ہو گئی تھی۔ ملک میں موجود پولیو کے کیسز کی سب سے زیادہ تعداد کا فاٹا سے ہے جہاں متاثرہ بچوں کی تعداد 142 ہے، شمالی وزیرستان میں 70، خیبرایجنسی میں 51 ، جنوبی وزیرستان میں 17 اور ایف آر بنوں میں 4 کیسز شامل ہیں۔ خیبر پختونخوا میں پولیو سے متاثرہ 45 کیسز سامنے آئے جن میں پشاور سے 15 بنوں سے 13،مردان سے 4، لکی مروت سے 3، ٹانک سے 5، بونیرسے 3 جبکہ طور غر اور نوشہرہ سے ایک ایک مریض سامنے آیا۔صوبہ سندھ میں پولیو وائرس سے متاثرہ 30 بچوں کے بارے میں رپورٹ ہوئی جن میں سے 21 کا تعلق کراچی سے ہے، ایک مریض سانگھڑ اور ایک دادو کا رہائشی ہے۔جبکہ گزشتہ سال 2015ء میں یہ تعدادکم ہو کر 54 ہوگئی اور رواں سال 2016ء میں تاحال 15 مریضوں میں پولیووائرس کی تصدیق ہوچکی ہے۔

پولیو ایک خطرناک بیماری ہے جو پانچ سال کے کم عمر بچوں پر حملہ آور ہوتی ہے اس کامرض کا وائرس ا عصابی(نروس) سسٹم کو برباد کرتے ہوئے چند گھنٹوں کے اندر ا نہیں ٹانگوں سے معذورکرکے زندگی بھر کیلئے اپاہج بنا ڈالتا ہے ا س کا وائرس منہ کے راستے انسان کے جسم میں داخل ہو کر انتڑیوں میں پرورش پاتا ہے۔90فیصد مریضوں میں اس مرض کے شروع ہونے کا پتہ ہی نہیں چلتاباقی10فیصدمیں ابتدائی طور پر اس سے بخار، سر درد،الٹیاں،گردن کا اکڑنا اور ٹانگوں میں درد ہوتا ہے۔اس بیماری کا کوئی علاج نہیں․اس مرض کا شکار زندگی بھر کیلئے اپنے خاندان اور معاشرے پر بوجھ بن کے رہ جاتا ہے اور اگر یہ بچہ ہو تو ماں باپ سارے عمر رونے کے سوا اور کچھ نہیں کر سکتے مگر اس مہلک مرض سے بچاؤ کا واحد حل پولیو ویکسین کے دو قطرے ہیں جوپانچ سال سے کم عمرکے بچوں کو باقاعدگی کیساتھ پلانے سے اس مرض کا وائرس مر جاتا اوربچے اس مرض سے محفوظ رہتے ہیں۔صاف ستھرے ماحول اور ٹائیلٹ باتھ کا بہتر انتظام ہونے اور بچوں کے ٹائیلٹ ٹرینڈہونے کے باعث اس کا وائرس مرجاتاہے۔

پہلی دفعہ17جون94 18ء کو امریکہ کی روٹ لینڈ کاوئنٹی کے ڈاکٹر چارلس کیورلی نے چھ بچوں کی موت اور 132بچوں کو پولیو کا شکار ہونے کی تصدیق کی۔25اپریل1954ء کو پہلی دفعہ پولیو دیکسین کاوسیع پیمانے پر تجربہ کیا گیااور 12 اپریل1955ء کومشی گن یونیورسٹی میں ڈاکٹر تھامس فرانسسزجونیئر نے اپنے رفقاء کی موجودگی میں اس کی کامیابی کا اعلان کیا اور بتایا کہ یہ ویکسین 80سے90تک کامیاب رہی ہے۔اسی دن امریکی حکومت نے اس کی عام استعمال کی اجازت دیدی تھی۔

یونیسیف، ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن، سی ڈی سی اور روٹری انٹرنیشنل دنیا کے چار سب سے بڑے ڈونرزہیں انہوں نے 1988ء میں طے کیا کہ دنیا بھر سے پولیو کا خاتمہ کیا جائیگا۔1988ء میں125ملکوں میں 000،350سے زائد بچے پولیو سے معذور ہوئے جبکہ ان اداروں کی کاوشوں کی بناء پر 2013ء میں صرف تین ملک (پاکستان، افغانستان اورنائجیریا) میں یہ مرض باقی رہ گیا اور اس سال میں ان تین ملکوں میں کل160مریض کنفرم ہوئے جبکہ پوری دنیا میں اس سال406مریض سامنے آئے۔ اسی پولیو ویکسین کی بدولت 1988ء سے اب تک دنیا سے پولیو کا99 فیصدتک خاتمہ ہوچکا ہے اور ایک کروڑ بچوں کو معذور ہونے سے بچالیا گیاہے۔ امریکہ 1991ء جبکہ انڈیا 2011سے پولیو فری ملک قرار پا چکا ہے۔اور 2018ء تک دنیا کو ہر قسم کے پولیو کو ختم کرنے کا ہدف ہے جس کیلئے مزید 5․5ارب امریکی ڈالروں کی ضرورت ہوگی۔یونیسف،ورلڈ ہیلتھ آرگینائزیشن، سی ڈی سی کی امدادکے علاوہ ر وٹری انٹرنیشنل بھی دنیا سے پولیو کے خاتمہ کیلئے اب تک1․2ارب ڈالر(تقریبا ایک کھرب اور بیس کروڑ روپے) خرچ کر چکاہے۔

پاکستان میں ہیلتھ ایمرجنسی نافذ ہے اور یہاں سے بیرون ملک سفر کرنے والوں کیلئے سفر سے پہلے پولیو ویکسین پینا لازمی ہے جبکہ شمالی وزیرستان سے پولیو کے قطرے پیئے بغیر لوگوں کی ملک کے دوسرے علاقوں میں ہجرت سے پولیو کا خطرہ مزید بڑھ گیاہے۔پاکستان، افغانستان اور نائجیریا دنیا میں پولیو کے حوالہ سے خطرناک اور) PAN)کے نام سے جانیوالے ملک ہیں۔پاکستان اگر پولیو وائرس کو کنٹرول اور ختم نہ کر سکا تو اس پر مزید سخت شرائط اورعالمی پابندیاں،جن میں پاکستان میں غیر ملکی امداد، قرض اور سرمایہ کاری میں رکاوٹ کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کے بیرون ملک سفر پر مکمل پابندی لگنے کا بھی خطرہ موجود ہے۔

والدین، سیاسی،مذہبی، سماجی رہنماؤں،میڈیااور منتخب عوامی نمائندوں کے علاوہ سکولوں کی انتظامیہ کو چاہئے کہ پاکستان سے پولیو ختم کرنے کیلئے اپنا بھر پور کردار ادا کرتے ہوئے اپنے اور ارد گرد کے پانچ سال سے کم عمر کے تمام بچوں کو انسداد پولیو کی ہر مہم میں پولیو ویکسین کے دو،دو قطرے ضرور پلوائیں،ہیلتھ ایجوکیشن اور آگاہی کے سلسلہ میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں۔مذہبی طبقہ بھی آگے بڑھے اور پولیو دیکسین اور پولیو ورکرز کے بارے میں پھیلے منفی تاثر کو زائل کرنے میں اپنا کردار ادا کریں بصورت دیگر چند سال بعدجنوبی وزیرستان سے پولیو سے متاثرہ اپاہج و معذور افرادکا جم غفیر برآمد ہو جائے گا۔

اور جب تک دنیا کے کسی بھی ملک میں پولیو کا ایک بھی نیا مریض سامنے آتاگیااس کا وائرس پوری دنیا میں دوبارہ پھیل سکتا ہے۔واضح رہے کہ اس وقت پاکستان کی کل آبادی انیس کروڑ ساٹھ لاکھ اور پانچ سال کے کم عمر بچوں کی تعدادتین کروڑ چالیس لاکھ ہے جنہیں ہر مہم میں پولیو ویکسین پلانا ضروری ہے۔
گزشتہ سا ل پاکستان میں پولیو کے دو سو سے اوپر کیس سامنے آئے تھے، اس سال اس میں کمی دیکھنے میں آئی ہے ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ وزیر اعظم نے اس بات کا نوٹس لے کر انسداد پولیو فوکس گروپ قائم کر دیا تھا ،جو ہر پندرہ دن بعد وزیر اعظم کو رپورٹ دیتا رہا ۔ لیکن پاکستان میں اس مرض پر ابھی تک قابو کیوں نہ پایا جا سکا اس کی کئی ایک وجوہات ہیں ،مثلاََ پولیو کی روک تھام کے جو قطرے پلائے جاتے ہیں، ان کا خالص نہ ہونا یعنی ادویات میں ملاوٹ ،اب تک جتنی بیرونی امداد اس مرض کی روک تھام کے لیے لی گئی، اس کا اسی مد میں استعمال نہ ہونا یعنی کرپشن ،پولیو کے بارے میں عوام کو آگاہی کا نہ ہونا الٹا پولیو قطروں کو صحت دشمن خیال کیا جانا ،بعض ایسے علاقے ہیں، جہاں تک پولیو قطروں کی ٹیم رسائی ممکن نہیں ہے وہاں بچوں کو قطرے پلائے نہیں جا سکے ہیں ،پولیو ورکرز کے خلاف بعض مقامات پر تشدد کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں، اس کی وجہ وہاں پولیو کے قطروں کے بارے میں غلط فہمی کا پایا جانا ہے ۔اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے حکومت کیا کوشش کر رہی ہے، اس بارے میں مجھے کوئی خاص کام نظر نہیں آیا اگر کہیں کام ہو بھی رہا ہو گا تو اشتہارات یا کوئی کمیٹی بنانے کے سوا کیا ہو رہا ہو گا ۔

پولیو کا پاکستان سے خاتمہ کیوں نہ ہو سکا اس کی ایک وجہ پولیو قطروں کے حوالے سے مختلف افواہیں بھی ہیں ،بھکاریوں کے بچوں کو بھی پولیو کے قطروں کا مکمل کورس نہیں کروایا جاتا ،بعض مقامات ایسے ہیں، جہاں پولیو ٹیموں کا جانا مشکل تر ہے ، اس وقت دنیا میں صرف تین ممالک ہیں، جن میں پولیو کے مریض پائے جاتے ہیں پاکستان ،افغانستان اور نائیجیریا اس کے علاوہ شام میں ایک مریض ملا جب اس کی جنیاتی تحقیق کی گئی تو وہ پاکستانی وائرس سے پھیلنے والا ثابت ہوا جس کے بعد پاکستان پر عالمی ادارہ صحت نے دباؤ بڑھا دیا کہ اس مرض کا مکمل خاتمہ کیا جائے ۔

پولیو ایک قدیم مرض ہے اس کا اب تک علاج دریافت نہ کیا جا سکا جب یہ مرض لا حق ہو جاتا ہے تو علاج ممکن نہیں ہے، ہاں اس کا علاج حفاظتی اور احتیاطی تدابیر ہی ہیں۔ پولیو ویکسین قطروں کی صورت میں پہلی دفعہ 1966 ء دی جانے لگی جس سے بہت جلد دنیا سے اس مرض کا خاتمہ ہو گیا ۔لیکن پاکستان میں اس وقت یہ مسئلہ ایک سنگین صورت اختیار کر گیا ہے، اگر اس مرض پر قابو نہ پایا گیا تو ہمارے بچوں کا مستقبل تو خطرے میں ہے ہی ہم دنیا سے بھی بہت پیچھے رہ جائیں گے ۔اس کا حل یہ ہے کہ ہمارے علماء کرائم ،اساتذہ ،منتخب نمائندے اور سب سے بڑھ کر حکومت اس پر اپنی ذمہ داری محسوس کرے ۔اور اس بات کو اچھی طرح سمجھ لے کہ جو پولیو قطروں کے خلاف ہیں، وہ ملک کی ترقی اور صحت کے دشمن ہیں، ان کے ساتھ سختی سے پیش آیا جائے۔ ہو سکے تو قانون سازی کی جائے۔اور قطرے نہ پلانا ،اس میں رکاوٹ ڈالنا،قابل سزا جرم قرار دیا جائے وغیرہ ،پاکستان سے پولیو کے مکمل خاتمہ کے لیے مردم شماری کا ہونا بھی ضروری ہے۔عوام کو بھی اس بارے میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنا چاہیے اور ملک کی نیک نامی کے لیے دن رات کام کرنا چاہیے ۔

میڈیا اس بارے بہت اہم خدمات سر انجام دے سکتا ہے ،اسی طرح ہمارے کالم نویس، پیر ،مرید ،ڈاکٹر ،استاد،مولوی ، لیڈر ،وغیرہ اپنا اپنا کردار ادا کریں تو کوئی مشکل نہیں ہے کہ ہم اس مرض سے نجات حاصل کر لیں اور دنیا میں سر اٹھا کر چل سکیں اورہم سب کو مل کر اس عزم کا اعادہ کرنا ہو گا کہ پاکستان کوپولیو فری بنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں۔2016 ء تک پاکستان سے پولیو وائرس کامکمل خاتمہ ممکن ہو سکے گا۔اخبارات اور ٹی وی پر حفاظتی اور احتیاطی تدابیر کے اشتہار چلائے جا ئیں ،تاکہ عوام الناس میں یہ شعورِ آگہی پیدا ہو جائے کہ وہ اپنے بچوں کو اس موذی مرض سے محفوظ رکھنے کے لئے احتیا طی اور حفاظتی تدابیر اختیار کر لیں ۔

پولیوکے حوالے سے معلومات کے لئے پاکستان میں پولیو کا خاتمہ کے نام سے ایک ویب سائیٹ بھی موجود ہے جس میں پاکستان سمیت دنیا بھر سے خبریں،خصوصی فیچر،تصاویراور بہت ساری نئی معلومات دی گئی ہیں۔آپ بھی درج ذ یل ویب سائیٹ پر وزٹ کر سکتے ہیں۔www.endpolio.com.pk


 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal

Read More Articles by Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal: 496 Articles with 336095 views »
Akhtar Sardar Chaudhry Columnist Kassowal
Press Reporter at Columnist at Kassowal
Attended Government High School Kassowal
Lives in Kassowal, Punja
.. View More
23 Oct, 2016 Views: 431

Comments

آپ کی رائے