سانحہ کوئٹہ پولیس کالج پردہشت گردوں کاحملہ اور زمینی حقائق

(Muhammad Azam Azim Azam, Karachi)
، سانحہ کوئٹہ پاک بھارت اور افغان تعلقات پاکستان کی امن کی پیشکش اور بھارت و افغانستان کا مکروہ چہرہ...بھارت پاکستان کو دولخت کرکے بھی چین سے نہ بیٹھا ،
آج اِس میں شک نہیں کہ سانحہ کوئٹہ پولیس ٹریننگ سینٹر پر دہشت گردوں کا حملہ اور اِس کے نتیجے میں 65پولیس اہلکاروں کی شہادت اورکئی نوجوانوں کازخمی ہونا ایک قومی المیہ ہے،آج جس پر ساری پاکستانی قوم آبدیدہ ہے اور دُکھ اور غم سے نڈھال ہے۔

جبکہ ابتدائی تحقیقات اور اطلاعات کے مطابق سانحہ کوئٹہ پولیس کالج پر حملے کے ڈانڈے بھی ہمیشہ کی طرح بھارت اور افغانستان سے ہی جا ملتے ہیں،اَب اِس پر دیکھنا یہ ہے کہ تمام شواہدکے باوجود بھی ہمارے موجودہ حکمران اور سیاستدان اور بعض وہ ادارے جو ہمیشہ بھارت اور افغانستان سے اچھے تعلقات استوار کرنے کے خواہاں رہے ہیں یہ اِس سانحہ کوئٹہ کے بعدبھی بھارت اور افغانستان سے متعلق کیا سوچتے ہیں ؟؟ اور کیسی رائے قائم کرتے ہیں؟ ؟ کیا اِن سب کی رائے ابھی پہلے جیسی ہی ہوگی ؟؟ یا اِس میں کچھ منفی تبدیلی بھی آئے گی؟؟ کیااِسی کے ساتھ وہ یہ کہہ پکڑیں گے کہ بس اَب بہت ہوگئی بھارت اور افغانستان سے دوستی کا بڑھاہاتھ کھینچ لیا جائے؟ اور اِن کے علاوہ کیا اَب ہمارے وزیراعظم نوازشریف جنہوں نے عالمی فورم پر کبھی بھی بھارتی را کے ایجنڈ(جاسوس) کل بھوشن یادیوکا نام اپنی زبان سے ادا نہیں کیاہے اَب کیا وہ بھی آئندہ بلا خوف وخطر بھارتی ایجنٹ کا نام لے کر بھارت کو تنبیہ کریں گے ؟؟ خبردار اَب بھارت اکیلے یا افغانستان کے ساتھ مل کر ہمارے علاقوں میں دہشت گردی سے باز رہے ورنہ اِس کا حشر اتنا بُرا کردیاجا ئے گا کہ دنیا اِس سے عبرت پکڑے گی؟؟ یا بھارت سے اپنے دوستانہ تعلقات بحال رکھنے کی خواہش میں یہ خاموشی اختیار کئے رکھیں گے؟؟ اور ایسا تاثر دیں گے کہ کچھ نہیں ہوایا کچھ بُرانہیں ہواہے۔

آج یقینا سانحہ کوئٹہ پولیس کالج پر بھارت اور افغانستان سے آئے ہوئے دہشت گردوں کا حملہ اپنے پیچھے بہت سارے ایسے سوالات چھوڑگیاہے کہ آج پاکستانی قوم اپنے حکمرانوں ، سیاستدانوں اور مُلک میں قانون نا فذ کرنے والے اداروں اور آپریشن ضرب عضب میں فرنٹ لائن کا کردار اداکرنے والی اپنی پاک فوج سے فوری طور پر مثبت اور تسلی بخش جوابات ضروری چاہتی ہے۔

اَب کیا ہمارے حکمران ، سیاستدان اور وہ قومی ادارے جن پر قوم فخر کرتی ہے وہ عوام کو مطمئن کر پا ئیں گے ؟؟ یا ہمیشہ کی طرح ایک مرتبہ پھر تمام تحقیقات اور شواہد کے باوجود سانحہ کوئٹہ کے شہیدوں اور زخمی افراد کے خون سے رنگی فیصلوں اور اقدامات کی فائلیں بند کرکے لوہے کی بڑی بڑی سرکاری الماریوں میں بڑے بڑے اور موٹے موٹے تالے لگا کر بند کردی جا ئیں گی؟

مگراِس مرتبہ بلکتی سسکتی اور پریشان حال پاکستانی قوم بھارت اور افغانستان کے پِٹھوبنے اپنے حکمرانوں کو ایسا ہزگز نہیں کرنے دے گی،اِس باربڑی شدت سے قوم کی اُمیداور خواہش بس یہ ہے کہ اِس مرتبہ اگر کچھ کرسکتے ہیں تو وہ صرف اور صرف جنرل راحیل شریف ہیں جو پاک فوج کے قوم کے بہادربیٹوں کو ساتھ لے کر بھارت اور افغانستان کے دہشت گردوں کو ایساسبق سِکھا دیں گے کہ اُن کی سات نسلیں بھی پاکستان میں گھس کر دہشت گردی کرنا تو دور کی بات ہے وہ پاکستان کا نام سُنتے ہی تَھرتَھرکانپ اُٹھیں گیں۔

جبکہ اِس سے انکار نہیں کہ اس مرتبہ بھی سوائے ہمارے حقیقی دوستوں چین اور سعودی عرب کے کسی کوبھی سا نحہ کوئٹہ پرحقیقی دلی دُکھ نہیں ہواہے ہاں ویسے توسانحہ کوئٹہ پر ہمارے دوسرے ظاہر و با طن اور بناؤٹی بہت سے دوستوں جیسے امریکا ،فرانس اور جاپان نے بھی کوئٹہ واقعہ کی پُرزورمذمت کی ہے ایسا کرنااُن کا طریقہ رہا ہے جہاں اُنہوں نے اپنے مذمتی بیانا ت دیئے ہیں تووہیں رسمی مذمت کرتے ہوئے ہمیشہ پاکستان کی پیٹھ میں پیچھے سے چھرا گھونپنے والے جنوبی ایشیا کے دوممالک بھارت اور افغانستان نے بھی کوئٹہ سانحہ کو دہشت گردی تو ضرور قرار دیاہے مگر اِس موقع پر سانحہ کوئٹہ میں ہمارے نہتے نوجوانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے یہ دونوں ممالک بھارت اور افغانستان اپنی حرکتوں اور شیطانی خصلتوں سے بھی باز نہ آئے اور اِنہوں نے اپنے مذمتی بیانات میں وہی کہا جیسی اِن کی پاکستان سے متعلق منفی سوچ ہے بھارتی وزیردفاع منوہرپاریکر نے اپنا بڑاسڑاسا منہ بنا کر اور انتہائی تکبرانہ انداز سے( جیسے اپنی کامیابی پر) اپنے کندھے اُچکاتے ہوئے کہاکہ’’غیرریاستی عناصر کی حمایت نہیں کرنی چاہئے،وہ پلٹ کر آپ کو ہی نقصان پہنچا سکتے ہیں‘‘ ۔ اگرچہ یہ موقعہ ایسی باتوں کا نہیں تھا مگر کیا کیا جائے چور چوری سے جائے مگر ھیراپھیری سے نہ جائے اور اِسی طرح اُدھر افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداﷲ عبداﷲ نے بھی اپنے بھارتی دوستوں سے مانگی ہوئی اُدھار کی دوستی کی لولی پاپ چاٹتے ہوئے ایسا ہی جلا کٹابیان داغ دیاکہ جس سے افغانستان کی مفادپرستانہ خصلت اور بھارت سے افغان اٹوٹ انگ نمایا ں ہوئی ہے افغانستان کے عبداﷲ عبداﷲ نے سانحہ کوئٹہ کی مذمت کرتے ہوئے کہاکہ’’دہشت گردی کی ریاستی سرپرستی، جنگجوؤں میں فرق اور پَراکسی وار سے صرف تباہی آتی ہے‘‘ ۔

آج اگرسانحہ کوئٹہ پولیس کالج پر دہشت گردوں کے حملے پر بھارت اور افغانستان کی جانب سے آنے والے مذمتی بیانوں کا جائزہ لیں اور زمینی حقائق کو دیکھیں تو یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ بھارت اپنے منہ بولے اور لے پالک دوست افغانستان کے ساتھ مل کر، اور افغانستان بھارتی گود میں بیٹھ کر نہ صرف بلوچستان و کوئٹہ بلکہ آج تک جہاں کہیں بھی پاکستان میں جس قسم کی بھی دہشت گردی ہوئی ہے یا ہو رہی ہے اِس دہشت گردی کے مرتکب عناصر اور دہشت گردوں کی پست پناہی بھارت و افغانستان ہی کررہے ہیں اور یہی دراصل خطے میں پاکستان کی امن و ترقی اورخوشحالی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے والے دومکروہ ترین ممالک ہیں جن کی کوشش ہے کہ یہ پاکستان کو غیرمستحکم کرکے اپنے اپنے مقاصد حاصل کریں اور یقینی طور پر آج یہ دونوں ممالک خطے سے وابستہ اپنے اور امریکی مفادات کے خاطر پاکستان میں دہشت گردی پھیلارہے ہیں۔

بہرحال ، یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ سرحد کے اُس پار پاکستان کو شیش ناگ کی طرح ڈسنے کے لئے پھن پھلائے بیٹھا بھارت ہی ہے جو 1971ء میں پاکستان کو دولخت کرکے بھی ابھی تک چین سے نہیں بیٹھاہے اور خاکم بدہن آج بھی یہ اپنے تئیں پاکستان کوبدمست ہاتھی کی طرح (افغانستان کو اپنی گود میں بیٹھا کراپنے )پیروں میں روندھ ڈالنے اورنقصان پہنچانے اوراِسے توڑنے کے در پر دِکھائی دیتاہے۔

آج بھی بھارت پاکستان میں افغانستان کے ساتھ مل کر اپنی ناپاک سازشوں اور مکاریوں سے اپنی’’ را‘‘ جیسی ایجنسیوں کے کل بھوشن یادیو جیسے جاسوسوں اور افغان دہشت گردوں اور شدت پسندوں کواستعمال کررہاہے اور فرقہ واریت اور لسانیت کو ہوادے رہاہے اور پاکستان میں بدامنی اور انارگی کو فروغ دینے کی سازشوں کے جا ل پھیلانے سے باز نہیں آرہاہے اور جب بھی اِسے کوئی موقعہ ملتاہے تو یہ وقت ضا ئع کئے بغیر تُرنت پاکستان کو دہشت گردی کا نشانہ دیتاہے اورپھربناتاہی چلاتاہے سانحہ کوئٹہ پولیس کالج کا حملہ بھی اِسی دہشت گردی کی ایک کڑی ہے پھر بھی ہمارے حکمران ، سیاستدان ، بعض میڈیاہاوسز اور کچھ بھارت نواز عوام اپنے دُشمن جیسے پڑوسی مُلک بھارت کی چا پلوسی اور تلواگیری سے باز نہیں آرہے ہیں ۔

حقیقت یہ ہے کہ آج اِدھرایک ہمارے موجودہ حکمران ہیں کہ یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی کہ بھارت اپنے جنگی جنون کے باعث ہٹ دھرمی پر اُترا ہوا ہے اور خطے میں پاکستان کودہشت گرد مُلک گردان کراِسے نا کام ریاست ثابت کرانے میں لگاپڑاہے اِس کی اِس خصلت سے واقف ہو کر بھی حیرت یہ ہے کہ پاکستان جیسے دنیا کے ایک عظیم ترین ایٹمی مُلک کے حاکم ہوکر بھی ہمارے حکمران ہیں کہ یہ اَب تک بھارت سے متعلق سب کچھ دیکھ کراور بہت کچھ جان کراورساراسب کچھ سمجھ کر بھی نا سمجھ بنے ہوئے ہیں،ہوامیں بھارتی دوستی اور امن کی آشا کے ایسے ایسے تیرچلائے چلے جارہے ہیں کہ اﷲ کی پناہ ہے ،یہ بھارتی عاشقی اور معشوقی میں اتنے دیوانے ہوگئے ہیں کہ آج بھارت سے متعلق اِن کی سوچ وفکر کی سوئی ایک ہی رٹ کے ساتھ اِس پر رک گئی ہے کہ بھارت ہماراچھاا پڑوسی ہے ، ہم اِس سے دوستانہ تعلقات استوار کرنے کے خواہشمند ہیں،خطے کی تعمیرو ترقی اور دونوں ممالک کے عوام کی خوشحالی اورحالاتِ زندگی بہتر بنا نے کے لئے بھارت کو ساتھ لے کر چلنا ہی ہمارا نصب العین ہے اور ہماری حکومت کی اولین ترجیح ہے ،پاکستان کے بھارت سے اچھے تعلقات ہی خطے کی سا لمیت اور استحکام کے لئے ضروری ہیں۔

تاہم اِس کے برعکس اُدھر دوسری جانب بھارت ہے کہ جو برسوں سے اپنی خصلت سے مجبور ہے اور پاکستان کو نقصان پہنچانے کا( اندار اور باہر سے) کوئی بھی موقعہ ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ہے آج اِس کی پاکستان نفرت کی یہ انتہاہے کہ یہ پاکستان کے وجود کو خطے ہی میں کیا ؟؟ بلکہ آج ایسا لگتا ہے کہ جیسے اِسے دنیا میں پاکستان کاوجوددیکھنا اور پاکستان کا نام سُننا بھی گوارہ نہیں ہے آج اِس کی پاکستان سے نفرت اور بغض کا یہ عالم ہے کہ اِن دِنوں جنگی جنون میں مبتلا بھارت کسی بھی حال میں پاکستان کے نام کو دیکھنااور ترقی کے میدان میں دنیا کے ساتھ آگے بڑھتے پاکستان کو برداشت کرنے کا ہی قائل دِکھائی نہیں دیتا ہے مگر ہمارے حکمران ہیں کہ جو بھارت کے بغیر سانس لینا بھی اپنے توہین سمجھتے ہیں اور اپنا سب کچھ تباہ وہ برباد کردینے والے بھارت کے ساتھ ہر حال میں اپنا دل جوڑ کررکھنا اپنے لئے فخرسمجھتے ہیں آخر اِن ایسی بھی کیا مجبوری ہے کہ یہ خطے کے انتہائی دہشت گرد مُلک بھارت کوچھوڑانہیں چاہتے ہیں کہیں ایسا تو نہیں ہے کہ ہمارے موجودہ حکمرانوں اور سیاستدانوں کا بھارت کے ساتھ کوئی ذاتی رشتہ ہو جس کی وجہ سے وہ بھارت کی ہر بُرائی دیکھ کر بھی بھارت کو اپنا دوست گرداننے کی مالاجپ رہے ہیں۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Azim Azam Azam

Read More Articles by Muhammad Azim Azam Azam: 1230 Articles with 619974 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Oct, 2016 Views: 300

Comments

آپ کی رائے