روشن روایات ،محبت،امید اور ا من کی سفیر………… یاسمین کنول

(Razia Rehman, Khanewal)
بسم اﷲ الرحمن الرحیم
ہم محبت کریں سبھی سے کنول……لازمی ہے یہ زندگی کے لئیے

یاسمین کنول سے میری کوئی بہت پرانی شناسائی نہیں ہے لیکن میں پھر بھی آج ان کی شاعری اور شخصیت پر اظہار خیال کے لئے موجود ہوں تو اس کی کچھ وجوہات ہیں۔بعض لوگ اتنے کھرے اور سچے ہوتے ہیں کہ ہم چند لمحوں میں ان کی شخصیت کے بارے میں اتنا کچھ جا ن لیتے ہیں جتنا جاننا ضروری ہوتا ہے اور کچھ لوگ مدتیں بیت جانے پر بھی ہمارے لئے ناقابل فہم ہی رہتے ہیں۔

یاسمین کنول سے میری پہلی ملاقات اتفاقی تھی۔22مئی 2016 کو لاہور میں بچوں کے ادب کے حوالے سے ایک کانفرنس ہوئی،میں کیونکہ بچوں کے لئے دوبارہ لکھنا چاہ رہی تھی سو اس کانفرنس میں شر کت کے لئے وقت مقررہ پر پی سی ہوٹل لاہور پہنچی تو مقررہ پاکستانی وقت توہو چکا تھا مگر پاکستانیوں کا مقررہ وقت ابھی نہیں ہوا تھا۔ہال میں چند نفوسِ قدسیہ براجمان تھے،وہ بھی مرد۔میں بھی ایک نشست پر بیٹھ کر انتظار کی گھڑیاں گننے لگی۔تھوڑی دیر بعد ماشاء اﷲ ایک درازقد ،خوش لباس،خوش شکل خاتون ہال میں داخل ہوئی۔ میرے لئے تو ان کی آمد بہار کا جھونکا ثابت ہوئی۔مصافحہ ہوا۔میں نے اپنا انتہائی مختصر سا تعارف کروایا کیونکہ لمبا تعارف تھا ہی نہیں۔ جواب میں انہوں نے بتایا کہ میرا نام یاسمین کنول ہے،میں پسرور سے آئی ہوں۔میں نے پوچھا کیا کرتی ہیں؟جواب ملا سکول ٹیچرہوں۔ پھول کی مستقل قاری ہوں اور کبھی کبھار پھول کے لئے لکھتی بھی ہوں۔میں نے پوچھا کیا لکھتی ہیں؟جواب ملا شاعری کرتی ہوں۔یوں ٹیچنگ اور لکھنا ہمارے مشترکہ شوق قرار پائے ۔ میں نے اس پر خوشی کا اظہار کیا اور پوچھا کہ کوئی مجموعہ شائع نہیں ہوا آپ کا؟اگر شائع ہوا ہے تو کہاں سے دستیاب ہے؟جواب میں یاسمین نے بتایا کہ مجموعہ چھپ چکا ہے مگر چند ناگزیر وجوہات کی بناء پرابھی رونمائی کی تقریب نہیں ہو سکی، البتہ یہ پھول کا جو شمارہ آپ کے ہاتھ میں ہے بھائی بہن نمبر اس میں میری نظم شائع ہوئی ہے۔میں نے ان کا بتایا ہوا صفحہ کھولا ،نظم پڑھی اور تعریف کرنے پر مجبور ہوگئی۔

تقریب کے باقاعدہ آغاز سے پہلے ہم پتہ اور فون نمبر کا تبادلہ کر چکی تھیں۔اس کے بعد لیکچر ز سے لے کر کھانا کھانے اور ہر کام میں ہم سائے کی طرح ایک دوسرے کے ساتھ رہیں۔حتیّٰ کہ ہوٹل سے نکلتے ہوئے یاسمین نے پوچھا آپ کہاں سے کوچ پر سوار ہوں گی؟میں نے جواب دیا جناح ٹرمینل سے۔یاسمین نے کہا کہ میں نیازی اڈے سے کوچ پر سوار ہوں گی،وہاں سے بھی خانیوال کے لئے کوچ آسانی سے مل جاتی ہے۔میں سمجھ گئی کہ ابھی اڈے تک ہمارا مزید ساتھ ممکن ہے،سو ہم نے رکشہ لیا اور اڈے کی طرف روانہ ہوئیں ۔تقریب یاراستے میں روایتی تعارف بات چیت ،مختصر حالات زندگی کے علاوہ کوئی غیر معمولی گفتگو تو نہیں ہوئی مگرمیں اس نتیجے پر پہنچ چکی تھی کہ یاسمین کی ظاہری شخصیت ہی جاذب نظر نہیں ہے بلکہ وہ ایک سادہ ،حساس اور خوبصوت دل کی بھی مالک ہے جو فی زمانہ ایک نادرو نایاب دولت ہے۔رکشہ سے اترتے ہوئے مستقل رابطہ کا وعدہ لے کر ہم اپنے اپنے راستوں پر گامزن ہوگئے ۔

سفر کی تھکان ،پیشہ ورانہ وگھریلو مصروفیات سے کچھ فراغت کے بعد حسب وعدہ رابطہ ہوا۔کبھی میں نے کال کرلی،کبھی یاسمین کی کال آگئی۔مگر دعائیہ اور نیک خواہشات والے پیغامات کا سلسلہ تسلسل اور تواتر سے جاری رہا۔

میں نے حسب عادت ومعمول کانفرنس کی رپورٹ لکھی اور ماہنامہ پھول کے ایڈیٹر شعیب مرزا صاحب کو بھی بھیج دی۔رپورٹ کی اشاعت پر میں نے ایک دن یاسمین کوکال کی اور بتایا کہ رپورٹ پھول میں شائع ہو گئی ہے پڑھ لیں۔۔۔اور ہاں رپورٹ کے ساتھ میری اور آپ کی تصویر بھی ہے،میں نے خوشی سے بتایا ۔پھر یاسمین کا فون آیا کہ رضیہ آپ نے کانفرنس کی جو رپورٹ لکھی تھی وہ میں نے پڑھ لی ہے،آپ نے بہت زبردست رپورٹ لکھی ہے،ایک ایک بات کی وضاحت،کوئی پہلو بھی تشنہ نہیں چھوڑ ا۔ میں نے ان کا شکریہ ادا کیا۔بظاہربات آئی گئی ہوگئی۔۔۔۔۔۔۔۔مگر بات ختم نہیں ہوئی تھی۔۔۔بات تو شروع ہوئی تھی۔

اصل میں بعض ملاقاتیں بظاہر تو وقتی اور عارضی محسوس ہوتی ہیں لیکن میرا وجدان کہتا ہے کہ ایک واقعہ ،ایک ملاقات دوسرے واقعہ اور ملاقات کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔جیسے کڑیاں آپس میں جڑ کر،مل کر ایک زنجیر کی شکل اختیار کرلیتی ہیں یا مختلف موتیوں کی شیرازہ بندی سے ایک تسبیح یا مالا بن جاتی ہے اسی طرح وہ خالق کائنات جب ہمیں مختلف حیلوں ،بہانوں سے باربار یکجا کرتا ہے تو یقینا اس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیں ایک دوسرے سے جوڑنا اور وابستہ کرنا چاہتا ہے۔سو میرا خیال ہے کہ کانفرنس والی ملاقات دراصل اس تقریب میں ملاقات کا پیش خیمہ تھی اور شاید یہ ملاقات ہماری کسی اگلی خوشگوار ملاقات کا پیش خیمہ ثابت ہو۔

میں بات کا آغاز یاسمین کنول کے نام سے کروں گی۔وہ یاسمین بھی ہیں اور کنول بھی ،یعنی دو پھولوں کا مجموعہ۔یہ تو روایتی اور عام مفہوم ہے میں نے سوچا لغت میں بھی دیکھ لینا چائیے۔فیروزاللغات کھولی تو پتہ چلا کہ یاسمین کا مطلب تو روایتی ہی ہے چنبیلی کا پھول یا درخت۔جبکہ کنول کے پھول کا روایتی مطلب تو ایک پھول اور گل نیلوفرہے ہی دو مزید مفہوم سامنے آئے۔نمبر -1سرخ کاغذ یا ابرق کا پھول جس میں موم بتی جلاتے ہیں۔نمبر-2شیشے کے ایک ظرف کانام جس میں شمع روشن کرتے ہیں۔دوسرے لفظوں میں شمع دان۔کنول کے پھول کی سب سے بڑی خاصیت یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کواردگرد کے ماحول کے اثرات سے بچاکر اپنی نفاست اور پاکیزگی کو برقرار رکھتا ہے۔ یاسمین کنول کا ظرف بھی اسے غم کی دلدل میں بھی مسکرانے پر مائل کرتا ہے۔ یاسمین خود کہتی ہیں:
؂ ظرف کیا ہے کنول کے پھولوں کا……غم کی دلدل میں مسکرائے ہیں

میں نے یاسمین کنول کے شعری مجموعہ"آنکھ میں سمندر"کا مطالعہ کیا تو وہ مجھے اسم با مسمیٰ دکھائی دیں۔مجھے امید پسندی اور رجائیت ان کی شاعری کاسب سے خوشگوار،سب سے بہترین اور قابل تعریف پہلو محسوس ہوا۔وہ اندھیروں سے مایوس ہونے کی بجائے امید کے دیئے جلاتی اور جگنو تلاش کرتی ہیں۔وہ نہ صرف یہ کہ خود اندھیروں سے نہیں گھبراتیں بلکہ دوسروں کو بھی آگے بڑھنے اور ستارے تلاش کرنے کا حوصلہ دیتے ہوئے کہتی ہیں:
؂ بڑھتے جاؤ،بڑھتے جاؤ اندھیاروں میں……کوئی جگنو،کوئی ستارہ مل جائے گا
مایوسی کے طوفانوں سے گزروگے تو……امیدوں کا خواب کنارا مل جائے گا
یہ اشعار دیکھئے:
؂ اگرچہ آج اندھیرا ہے میرے چاروں طرف……اندھیری رات میں تاروں کی سوچ رکھتی ہوں
تلاش کرتی ہوں بیٹھی امید کے جگنو…… کوئی بھی رُت ہو بہاروں کی سوچ رکھتی ہوں
ایک اور جگہ کہتی ہیں:
؂ اُس دیئے کو سلام کرتے ہیں……آندھیوں میں جو ڈگمگایا نہیں
ایک اور شعر میں کس قدر خوبصورتی سے ظلمت کاخاتمہ کرنے والے چاندکا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں:
؂ مجھے وہ چاند زمانے میں سب سے پیارا ہے……کہ جس کا کام ہے ظلمت میں چاندنی کرنا
وہ رات کی تاریکیوں سے با لکل نہیں ڈرتیں کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ شب کی انتہا روشنی ہے:
؂ رات کی تاریکیوں کا ڈر نہیں ہے اب مجھے……جانتی ہوں میں کہ شب کی انتہا ہے روشنی
میری نظروں سے جو دیکھو زندگی کو غور سے……ابتدا ہے روشنی اور انتہا ہے روشنی
ان کی اس حوصلہ مندی ،بے خوفی اور امید پسندی کی وجہ ان کا اﷲ رب العزت کی ذات پر کامل بھروسہ اور یقین ہے۔یہ یقین انہیں سخت سے سخت حالات میں بھی ٹوٹنے نہیں دیتا۔
؂ سارے جہاں میں تیرے سوا اور کون ہے……جومجھ کو مشکلات سے میری نکال دے
وہ جنگ ،دہشت گردی اور خوف کا خاتمہ چاہتی ہیں ۔وہ نفرت کے خاتمے اور محبت کو پھیلانے کی خواہش مند ہیں،وہ امن کی سفیر فاختہ بن کر جنگ کے ذکر سے گریز کرنے کی خواہش مند ہیں۔
؂ فاختہ وقت کی یہ کہتی ہے……باتیں جنگ کی کنول کیا نہ کرو
وہ مزید کہتی ہیں:
؂ نفرتوں کا خاتمہ ہوگا فضا سے جب کنول……پھر فضا میں پیار کی سب نکہتیں رہ جائیں گی
حساس ہونا ان کا ایک امتیازی وصف ہے ۔وہ اس قدر حساس ہیں کہ اخبار میں لوگوں کی بے حسی کے قصے انہیں رلادیتے ہیں:
؂ میں رو دیتی ہوں اکثر بے حسی پر……کبھی بھولے سے جب اخبار دیکھوں
آدمی کی آدمی سے بے خبری بھی ان کے لئے دکھ کا سبب ہے۔
؂ اعتماد باہمی دشمنی کی زد میں ہے……آدمی ہے بے خبر آدمی کے بارے میں
وہ روشن روایات واقدارکے ناپید ہونے اور مٹنے پر ملول ہوتے ہوئے کہتی ہیں:
؂ رواداری،مروت،بھائی چارہ……یہ قدریں ساری ہم کھونے لگے ہیں
اور یہ کہ دل میں احساس تھا کسی کے لئے ……بات یہ کل کی ہے جو آج کہاں
اے کنول آج اپنے وعدوں کو……پورا کرنے کا ہے رواج کہاں

مصرع طرح پر غزل لکھنا اور جس شاعر کے مصرع پر غزل لکھنی ہو اس جیسامعیاربھی برقرار رکھناایک مشکل کام ہے۔لیکن "آنکھ میں سمندر" میں کئی مشہور شعراء کے مصرعوں پرطرحی غزلیں پڑھ کر اندازہ ہوا کہ یاسمین کنول اس فن میں بھی مہارت رکھتی ہیں،یہ یاسمین کنول کا وہ اعزاز ہے جو کم کم شعراء کو نصیب ہوتا ہے۔مثلاً یہ اشعار دیکھیئے:
؂ نکلے تھے اجنبی کے تعاقب میں ہم مگر……اپنے ہی دوستوں سے ملاقات ہوگئی
درد بخشا ہے آپ نے ہم کو……آخر اس درد کی دوا کیا ہے؟

وہ قلمکار کی ذمہ داریوں سے بخوبی واقف ہیں۔وہ لکھنے اور ادب تخلیق کرنے کو حرف بونا اور کاشتکاری کی ایک طرز قرار دیتی ہیں اور اس بات سے بھی بخوبی واقف ہیں کہ اچھے لکھاری کو ایک اچھا انسان بھی ہونا چاہیئے۔ان کے الفاظ میں:
؂ بونا حرفوں کی فصل ذہنوں میں……یہ بھی اک طرزِ کاشتکاری ہے
ایک ناکام سا وہ انساں ہے……کتنا اچھا مگر لکھاری ہے
وہ دوسروں کے لئے جینے کو انسانیت کی معراج سمجھتے ہوئے کہتی ہیں:
؂ کاوشیں ساری دوسروں کے لئے……زندگی ایسے بھی گزرتی ہے
ان کی نظر میں عظمت انسانی کا معیارگرتے ہوؤں کو اٹھاناہے:
؂ وہ ہی ہوگا عظیم سب سے کنول……جو گرے شخص کو اٹھا لے گا

یاسمین کنول کی بچوں کے لیئے کی گئی شاعری میری نظر سے نہیں گزری۔مگر میں ان سے درخواست کروں گی کہ وہ موجودہ حالات کے تناظر میں اس طرف خصوصی توجہ دیں اور بچوں کے لئے ایک خاص طرز کی نہ صرف شاعری کریں بلکہ اسے منظر عام پر بھی لائیں جو شاعرات میں ان کے الگ اور ممتاز مقام کا باعث ہونے کے ساتھ ساتھ ان کی شاعری کوبقائے دوام بھی بخشے گی۔ان شا ء اﷲ۔ان کے اپنے الفاظ میں: ؂ خاص رستے کا تعین کر کنول……تو نہ چل شاہراہ عام پر

وہ اپنی شاعری میں معاشرے کے دکھوں،محرومیوں،سماجی نا ہمواریوں اور کرب کے مختلف پہلوؤں کو بہت ہمواری سے بیان کرتی چلی جاتی ہیں۔وہ سادہ،عام فہم مگر با معنی اشعار کہنے والی شاعرہ ہیں۔

مجھے یقین ہے کہ اگر یاسمین کنول نے اپنے مشاہدے کی آنکھ کو اسی طرح وا رکھنے کے ساتھ ساتھ عظیم شعراء کے کلام کا مطالعہ جاری رکھا تووہ شاعری کے کنول کھلاتی اور جلاتی اوریاسمین کی سوندھی خوشبو کو ہر طرف بکھیرتی بہت جلد کامیاب شعراء کی صف میں شامل ہوجائیں گی اوران کی خلوص،سچائی اور درخشاں روایات کی پاسدار شاعری ان شاء اﷲ بہت جلد اہل ذوق اور اہل نظر کی توجہ کا مرکز بننے میں کامیاب ہوجائے گی۔میں یاسمین کنول ہی کا یہ شعر ان کی نذر کرکے اجازت چاہوں گی۔
یاسمین ذرا توجہ سے سنئے گا:

؂ آپ کتنے اچھے ہیں،آپ کتنے پیارے ہیں
آپ کو بتاؤں کیا، آپ ہی کے بارے میں
(یہ ستائشی مضمون بزم تخلیق وتحقیق بھارہ کہو ،اسلام آباد کے زیر انتظام منعقدہ تعارفی تقریب میں پڑھا گیا)۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Razia Rehman

Read More Articles by Razia Rehman: 9 Articles with 10189 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Nov, 2016 Views: 1648

Comments

آپ کی رائے