اردو شاعری میں ایہام گوئی

(Dr. Ghulam Shabbir Rana, )
فضہ پروین
شمالی ہند میں اردو شعرا نے ایہام گوئی پر توجہ دی ۔آخری عہد مغلیہ میں مرکزی حکومت عدم استحکام کا شکار ہو گئی ۔ اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ 18فروری1719سے 14اگست 1719تک تین بادشاہ تخت نشین ہوئے۔ (1)محمد شاہ رنگیلا1719سے 1747تک مغلیہ حکومت پر قابض رہا ۔اسی عہد میں ایہام گوئی کا آغاز ہوا ۔محمد شاہ اخلاقی اقدار کی دھجیاں اڑا رہا تھا ۔ اس کی شامت اعمال 13 فروری 1739کو نادر شاہ کی صورت میں عذاب بن کر نمودار ہوئی ، دہلی کی اینٹ سے اینٹ بجا دی گئی۔ دو لاکھ پچیس ہزار افراد نادر شاہ کی سفاکی اور بربریت کی بھینٹ چڑھ گئے (2)ان حالات میں اردو شعرا نے ایہام گوئی کی روش اپنالی۔

ایہام سے مراد وہم یا شک میں مبتلا کرنا ہے ۔اپنی اصل کے اعتبار سے ایہام کو رعایت لفظی کے ایک خاص انداز سے تعبیر کیا جاسکتا ہے ۔ ذومعنی الفاظ کے استعمال سے تخلیق کار دو مفاہیم کے ذریعے قاری کو وہم میں ڈال کر اپنے فنی محاسن کے لیے داد طلب ہوتا ہے ۔میرتقی میر نے ایہام کو ریختہ کی ایک قسم قرار دیا ہے۔(3) اردو شاعری میں ایہام گوئی کارجحان سے 1719دیکھنے میں آتا ہے جو دہلی کے شعرا کے ہاں پچیس سال تک برقرار رہا (4) ایہام گو شعرا کے ہاں الفاظ کو دوہری معنویت کا حامل بنادیا جاتا ہے ۔ بادی النظر میںقاری قریب ترین معانی تک جاتا ہے مگر حقیقت میں اس سے مراد دور کے معانی ہوتے ہیں۔ اس طرح قاری قدرے تامل کے بعد دور کے مفہوم تک رسائی حاصل کرپاتا ہے مثلاً
یہی مضمون ِ خط ہے احسن اللہ
کہ حسن خوبرویاں عارضی ہے

یہاں عارضی میں ایہام ہے ۔ عارضی کے قریب ترین معانی تو ناپائیدار ہیں مگر شاعر نے اس سے رخسار مراد لیے ہیں۔
نشہ ہو جس کو محبت کا سبز رنگوں کا
عجب نہیںجو وہ مشہور سب میں بھنگی ہو
یہاں لفظ بھنگی میں ایہام پایا جاتا ہے۔

علم صنائع بدائع میں ایہام کو ایک صنف قرار دیا گیا ہے۔ اردو زبان میں ایہام کے فروغ میں ہندی دوہوں کا گہرا عمل دخل ہے ۔ سنسکرت میں ایہام کو ” شلش“ کہاجاتا ہے ۔ اردو میں ہندی اور سنسکرت کے وسیلے سے ایہام کو فروغ ملا ۔ فارسی ادب میں بھی ایہام گوئی کا وجود پایا جاتا ہے مگر فارسی تخلیق کا ر اس میں کم دلچسپی لیتے تھے ۔ محمد حسن آزاد نے اردو میں ایہام گوئی کے سلسلے میں لکھا ہے کہ ہندی دوہوں کے زیر اثر اس کا آغاز ہوا (5)رام بابو سکسینہ نے ایہام گوئی کے آغاز کو ولی کے عہد سے وابستہ کیا ہے ۔ انھوںنے لکھا ہے :”ولی کے معاصرین صنعت ایہام کے بہت شائق تھے ۔ یہ صنعت بھاشا کی شاعری میں بہت مقبول ہوئی اور دوہوں کی جان ہے ۔ قدما کے کلام میں ایسے ذومعنی اشعار بکثرت ہوتے ہیں ۔“(6)
اردو شاعری میں ایہام گوئی پر خان آرزو اور ان کے شاگردوںنے تخیل کی جولانیاںدکھائیں۔ مولوی عبدالحق نے اردو شاعری میں ایہام گوئی کے محرکات کے بارے میں لکھا ہے۔ ” یہ خیال قرین ِصحت معلوم ہوتا ہے کہ اردوایہام گوئی پر زیادہ تر ہند ی شاعری کا اثر ہوا ، اور ہندی میں یہ چیز سنسکرت سے پہنچی۔“(7)

محمد حسین آزاد نے آب حیات میں لکھا ہے کہ ایہام گوئی کا تعلق آخری عہدمغلیہ سے ہے ۔ انھوں نے ولی کے عہد میں اس کے پروان چڑھنے کی بات کی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں :”ولی نے اپنے کلام میں ایہام اور الفاظ ذومعنین سے اتنا کام نہیں لیا ۔ خداجانے ان کے قریب العہد بزرگوں کو پھر اس قدر شوق اس کا کیوں کر ہوگیا ؟ شاید دوہوں کا انداز جو ہندوستان کی زبان کا سبزہ خود رو تھا ، اس نے اپنا رنگ جمایا۔“(8)

یہ بات قرین قیاس ہے کہ دوہوں نے ایہام گوئی کی راہ ہموار کی مثلاً یہ دوہا ملاحظہ کریں
رنگی کو نارنگی کہیں بنے دودھ کو کھویا
چلتی کو گاڑی کہیں دیکھ کبیرا رویا

تخلیقی اظہار کے متعد امکانات ہوتے ہیں۔ان میں سے کسی ایک کو منتخب کرنا تخلیق کار کا صوابدیدی اختیار ہوتا ہے ۔ان حالا ت میں اگر کوئی تخلیق کار یہ طے کر لے کہ وہ قاری کو سرابوں کی بھینت چڑھا کر اپنی فنی مہارت کی داد لے گا تو یہ ایک خیال خام ہے ۔ایسے ادیب ذو معنی الفاظ اور زبان و بیان کی بازی گری سے اپنا مافی الضمیرکیسے پیش کر سکتے ہیں ؟ایہام کے متعلق یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیئے کہ ا یہام گو شعرا اپنے کلام میںایسے الفاظ کو استعمال کرتے ہیںجو بہ ظاہر گنجینہءمعانی کے طلسم کی صورت پیدا کر دیتے ہیں اور شاعر کو یہ گمان گزرتا ہے کہ قطرے میں دجلہ اور جزو میں کل کا منظر دکھانے پر دسترس رکھتا ہے ۔تخلیق کار کی شخصیت میں داخلی پہلو عام طور پر غالب رہتا ہے ۔اس کی شدت سے مغلوب ہو کر وہ قاری کو حیرت زدہ کرنے کے لیے نت نئے طریقے دریافت کرنے کی ترکیبیں تلاش کرتا ہے ۔ایہام اسی سوچ کو تخلیقی اظہار کی مثال بناتا ہے ۔ایہام گو شاعر تخلیق فن کے لمحوں میں ایسا پیرایہ ءاظہار اپناتا ہے کہ پورے شعر یا اس کے کسی ایک جزو سے دو ایسے مفاہیم پیدا ہوں جو ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہوں ۔اس مقصد کے لیے ذو معنی الفاظ کے استعمال میں شعرا نے گہری دلچسپی لی ہے ۔جہاں تک معانی کا تعلق ہے ان میں سے ایک معنی تو قریب کا ہوتا ہے جب کہ دوسرا معنی بعید ہے ۔در اصل شاعر کا مدعا یہ ہوتا ہے کہ بعید کے معنی پر توجہ مرکوز کی جائے اور قاری وہم کی صورت میں قریب کے معنی میں الجھ کر رہ جائے ۔شاعر ذو معنی الفاظ کو اپنے تخلیقی اظہار کی اساس بنا کر صنائع بدائع کی اس صنف کو اپنی شاعری میں استعمال کر کے اپنی جدت پر داد طلب دکھائی دیتا ہے ۔اس سے یہ انداز لگایا جا سکتا ہے کہ رعایت لفظی کی ایسی صورتیں پیدا کر کے شعرا نے کس طرح مفاہیم کو بدلنے میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کیا ۔اردو شاعری کے کلاسیکی عہد میں یہ رسم چل نکلی تھی کہ حقیقت کو خرافات میں نہاں کر نا ہی فنی مہارت کی دلیل ہے ۔داخلی حقائق کو خارجی فرغلوں میں لپیٹ کر پیش کرنا قادر الکلام ہونے کا ثبوت ہے ۔ایہام بعض اوقت الفاظ کی املا سے بھی پیدا کیا جا تا ہے ۔
وہ تخلیق کار جنھوں نے ایہام گوئی پر بھرپور توجہ دی ان کے نام حسب ذیل ہیں :خان آرزو ،شاہ مبارک آبرو ، ٹیک چند بہار ، حسن علی شوق، شہاب الدین ثاقب ، رائے آنند رام مخلص، میرزین العابدین آشنا، شرف الدین مضمون، شاہ حاتم ، محمد شاکر ناجی ، غلام مصطفٰے یک رنگ ،محمد احسن احسن، میر مکھن پاک باز ، محمد اشرف اشرف، ولی اللہ اشتیاق ، دلاورخان بیرنگ ، شرف الدین علی خان پیام ، سید حاتم علی خان حاتم ، شاہ فتح محمد دل ، میاں فضل علی دانا ، میر سعادت علی خاں دسعادت ، میر سجاد اکبر آبادی ، محمدعارف عارف ، عبد الغنی قبول ، شاہ کاکل ، شاہ مزمل ، عبدالواوہاب یک رو اور حیدر شاہ ۔

کلام میں ذومعنی الفاط کا استعمال کرنا اس عہد کے شعرا نے بظاہر ایک جدت کا پہلو تلاش کیا۔ ان کا خیال تھا کہ اس طرح کلام کے حسن میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ دور از کار مفہوم اور باتوں کی بے لطفی ضلع جگت کی بے لطفی سے کسی طور بھی کم نہیں (9) ولی کے سفر دہلی کے بارے میں بھی درست معلومات پر توجہ نہیں دی جاتی ۔ ولی کے بارے میں یہ تاثر ملتا ہے کہ انھوںنے کہا تھا
دل ولی کا لے لیا دلی نے چھین
جا کہو کوئی محمد شاہ سوں

یہ شعر ولی دکنی کا نہیں بلکہ شرف الدین مضمون کا ہے۔صحیح شعر اس طرح سے ہے :
اس گد ا کا دل لیا دلی نے چھین
جا کہو کوئی محمد شاہ سوں ( 10)

ولی کے اشعار میں ایہام کا انداز سادگی ، سلاست اور اثر آفرینی کا حامل ہے
خودی سے اولاً خالی ہوا اے دل
اگر شمع روشن کی لگن ہے

موسیٰ جو آکے دیکھے تجھ نور کا تماشا
اس کو پہاڑ ہو وے پھر طو ر کا تماشا

شیخ شرف الدین مضمون (م 1735) نے ایہام گوئی کے سلسلے میں اپنے اہم کردار کا ذکر کیا ہے ۔
ہوا ہے جگ میں مضمون شہرہ اپنا
طرح ایہا م کی جب سیں نکالی

شاہ مبارک آبر نے ایہام گوئی پر توجہ دی اور اسے اپنے اسلوب کی اساس بنایا۔آبر و کے اسلوب میں محض ایہام ہی نہیں بلکہ بسا اوقات وہ سادگی ،سلاست ،بے ساختگی اور دردمندی کو بھی اپنے تخیل کی اساس بنانے کی کوشش کرتے ہیں ۔اگر وہ ایہام پر انحصار نہ کرتے تو ان کا شاعرانہ مقام اس سے کہیں بلند ہوتا۔ایہام میں ان کی متبذل شاعری نے ان کے اسلوب کو شدید ضعف پہنچایا۔ شیخ شرف الدین مضمون نے ایہام گوئی کو بہ طور اسلوب اپنایا۔ان کا شمار ایہام گوئی کے بانیوں میں ہوتا ہے ۔ان کی شاعری میں ایہام کی فراوانی ہے ۔اس کے باوجود اس صنعت کے استعمال کی کسی شعوری کو شش یا کھینچ تان کا گمان نہیں گزرتا ۔ایہام گوئی ان کا اسلوب شعر و سخن رہا لیکن اس میں وہ اس سادگی ،سلاست ،بے ساختگی اور بے تکلفی کا مظاہرہ کرتے ہیں کہ ان کے کمال فن کو تسلیم کرنا پڑتا ہے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ یہ تمام کیفیت نوائے سروش کی ایک صورت بن کر شاعر کے دل میں سما گئی ۔

مضمون شکر کر کہ تر ا نام سن رقیب
غصے سے بھوت ہو گیا لیکن جلا تو ہے
کر ے ہے دار بھی کام کو سر تاج
ہوا منصو ر سے یہ نکتہ حل آج
کرنا تھا نقش روئے زمیں پر ہمیں مراد
قالی اگر نہیں تو نہیں بوریا تو ہے
نظر آتا نہیں وہ ماہ روکیوں
گزرتا ہے مجھے یہ چاند خالی
اگر پاﺅں تو مضمون کو رکھوں باندھ
کروں کیا جو نہیں لگتا مرے ہاتھ

شیخ ظہور الدین حاتم (م 1791)کا پیشہ سپہ گری تھا ۔ان کی ایہام گوئی ابتذال کی حدوں کو چھو لیتی ہے او رذوق سلیم پر گراں گزرتی ہے ۔اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس عہد کے متعدد شعرا نے شیخ ظہور الدین سے اکتساب فیض کیا جن میں مرزا محمد رفیع سودا بھی شامل ہیں۔حاتم کے اسلوب میں ایک اہم بات یہ ہے کہ وہ تنقیدی بصیرت سے متمتع تھے۔وہ حالات کے نباض اور قاری کے ذوق سے آشنا تھے اس لیے جب انھوں نے یہ محسوس کیا کہ ایہام سے قاری کا ذوق سلیم غارت ہو جاتا ہے تو انھوں نے نہ صرف اسے ترک کر دیا بلکہ ایسے اشعار بھی اپنے کلام سے حذف کر دیئے۔نمونہ ءکلام
مثال بحر موجیں مارتا ہے
لیا ہے جس نے اس جگ کا کنارہ
ہے وہ چرخ مثال سر گرداں
جس کو حاتم تلاش مال ہوا

نظر آوے ہے بکری سا کیا پر ذبح شیروں کو
نہ جانا میں کہ قصاب کا رکھتا ہے دل گردہ

اس عہد کے ایک اور شاعر کا نام بھی ایہام گوئی کے بانیوں میں شامل ہے یہ سید محمد شاکر ناجی ہیں ۔سید محمدشاکرناجی زمانی اعتبار سے شاہ حاتم اور ولی دکنی کے ہم عصر ہیں ۔ناجی نے اپنی تما م تر صلاحیتیں ایہام گوئی پر صرف کر دیں ۔ان کے کلام کا بہ نظر غائر مطالعہ کرنے سے قاری اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ اس تخلیق کار نے اپنے قصر شاعری کو ایہام اور صرف ایہام کی اساس پر استوارکرنے کا عزم کر رکھا تھا۔ایہام کے علاوہ ان کے دیوان میں کچھ موجود نہیں ۔ایہام کے استعمال کی شعوری کاوشوں نے ان کے کلام کے حسن کو متاثر کیا ہے اور سادگی ،بے ساختگی اور اثر آفرینی عنقا ہو گئی ہے ۔نمونہ کلام
ریختہ ناجی کا ہے محکم اساس
بات میری بانی ءایہام ہے
قرآں کی سیر باغ پہ جھوٹی قسم نہ کھا
سیپارہ کیوں ہے غنچہ اگر تو ہنسا نہ ہو

شیخ شرف الدین مضمون(م 1734) کا شمار ایہام گوئی کی تحریک کے بنیاد گزاروں میں ہوتا ہے شیخ شرف الدین مضمون کو حاتم اور ناجی کے بعد تیسرا بڑا ایہام گو شاعر قرار دیا جاتا ہے ۔ان کی شاعری میں ایہام گوئی کے باوجود جدت اور شگفتگی کا عنصر نمایاں ہے ۔

مصطفی خان یک رنگ کی شاعری میں ایہام گوئی اس شدت کے ساتھ موجود نہیں جس قدر آبرو اور ناجی کے ہاں ہے ۔انھوں نے اپنے اسلوب پر ایہام گوئی کو مکمل طور پر حاوی نہیں ہونے دیا بلکہ ایہام گوئی کا ہلکا سا پرتو ان کی شاعری میں موجود ہے ۔
جدائی سے تری اے صندلی رنگ
مجھے یہ زندگانی دردسر ہے

ذیل میں بعض ایہام گو شعرا کا نمونہ کلام درج ہے ۔جس کے مطالعہ سے ان کے اسلوب کے بارے میں آگہی حاصل ہوسکتی ہے ۔

ٓٓاحسن اللہ احسن :
صبا کہیو اگر جاوے ہے تو اس شوخ دلبر سوں
کہ کر کے قول پرسوں کا گئے برسوں ہوئے برسوں

عبدالوہاب یکرو:
دیکھ تجھ سر میں جامئہ ململ
خوش قداں ہاتھ کو گئے ہیں مل

میر محمد سجاد :
ہم تو دیوانے ہیں جو زلف میں ہوتے ہیں
ورنہ زنجیر کا عالم میں نہیں ہے توڑا

اردو شاعری میں ایہام گوئی نے بلا شبہ اپنے عہد کے ادب پر اثرات مرتب کیے کئی تخلیق کار اس جانب مائل بہ تخلیق ہوئے ۔جب بھی کوئی تخلیق کار کسی بھی صورت میں اپنے عہد کے علم و ادب کو متاثر کرتا ہے تو بالواسطہ طور پر اس سے افکار تازہ کی سمت ایک پیش رفت کی امکانی صورت پیدا ہوتی ہے ۔جہد وعمل کے لیے ایک واضح سمت کا تعین ہو جاتا ہے ،جمود کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور خوب سے خوب تر کی جانب سفر جاری رہتا ہے لیکن ایہام گوئی کے بارے میں صورت حال انتہائی غیر امید افزا رہی ۔ایہام گو شعرا نے الفاظ کا ایک ایسا کھیل شروع کیا جس کی گرد میں معنی اوجھل ہو گئے ۔لفظوں کی بازی گری نے اسلوب پر غلبہ حاصل کر لیا ،دروں بینی کی جگہ سطحیت نے لے لی ۔ایہام کو شعرا نے افکار تازہ کی جانب کوئی پیش قدمی نہیں کی بلکہ قدامت پسند ی کی پامال راہ پر چلتے ہوئے حقائق کو خیال و خواب بنا دیا ۔الفاظ کے اس گورکھ دھندے میں مطالب و مفاہیم عنقا ہوتے چلے گئے۔قاری کا ناطقہ سر بہ گریباں تھا کہ اس کو کس چیز کا نام دے اور خامہ انگشت بہ دندان کہ ایہام گوئی کے متعلق کیا لکھا جائے ۔ایہام پر مبنی تحریرو ں کا تو مدعا ہی عنقا تھا۔بعض اوقات ایسا بھی دیکھنے میں آیا ہے کہ تلمیحات ،مرکبات اور محاورات کے معانی میں ایہام کے ذریعے حس مزاح کو تحریک ملتی ہے ۔مرزا محمد رفیع سودا کے ہاں اس کا ہلکا سا پرتو ملتا ہے ۔کہتے ہیں آخری عمر میں مرزا محمد رفیع سودا دہلی سے ترک سکونت کر کے لکھنو چلے گئے اور نواب آصف الدولہ کے دربار سے وابستہ ہو گئے ۔ایک مرتبہ نواب آصف الدولہ شکار کو گئے سودا بھی ہمراہ تھے ۔ شکار کرتے ہوئے ”بھیلوں” کے جنگل میں نواب آصف الدولہ نے ایک شیر مارا۔اس موقع کی مناسبت سے سودا نے برجستہ کہا
یارو!یہ ابن ملجم پیدا ہوا دوبارہ
شیر خدا کو جس نے ” بھیلوں“ کے بن میں مارا

یہاں شیر خدا سے مراد اللہ کی مخوق شیر ہے ۔اس میں مزاح نگار نے ناہمواریوں کا ہمدردانہ شعور اجاگر کر کے فن کارانہ انداز میں ایہام کے ذریعے مزاح پیدا کیا ہے ۔

ایہام گوئی اپنی نوعیت کے لحاظ سے کلاسیکیت کے قریب تر دکھائی دیتی ہے۔اس تحریک کے علم برداروں نے الفاظ کے اس کھیل میں اس قدر گرد اڑائی کہ حسن و رومان کے تمام استعارے قصہءپارینہ بن گئے ۔اردو کو مقامی اور علاقائی آہنگ سے آشنا کرنے میں ایہام گو شعرا نے اپنی پوری توانائی صرف کر دی ۔متعدد ایسے الفاظ زبان میں شامل کیے جو مانوس نہیں تھے ۔اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ زبان میں ان الفاظ کو قبولیت نصیب نہ ہو سکی ۔تاہم کچھ الفاظ ایسے بھی تھے جن کو اپنی جگہ منانے میں کامیابی ملی ۔اس لسانی تجربے سے مستقبل میں مزید تجربات کی راہ ہموارہوئی اور علاقائی زبانوں کے الفاظ رفتہ رفتہ اردو میں جذب ہونے لگے ۔ اردو شاعری میں ایہام گوئی کی تحریک یک بگولے کی طرح اٹھی اور سارے ماحول کو مکدر کرنے بعد گرد کی طرح بیٹھ گئی جب افق ادب پر مطلع صاف ہوا تو اس کا کہیں نام و نشاں تک دکھائی نہ دیا۔

ایہام گوئی محض الفاظ کی بازی گری کا نام ہے۔ شاعری کو تاریخ کی نسبت ایک وسیع اور جامع حیثیت حاصل ہے۔ ایہام گوئی میںایسی کوئی صفت نظر نہیں آتی ۔ اس عہد میں جن شعرانے ایہام گوئی پر توجہ دی ان میں سے شاہ حاتم اور ولی کے علاوہ کوئی بھی اپنا رنگ نہ جما سکا ۔ باقی سب ابتذال کی راہ پر چل نکلے ۔ علم وادب کے فروغ کے لیے یہ امر ناگزیرہے کہ درخشاں اقدار وروایات کو پروان چڑھایا جائے ۔جب تخلیق کا ر نظام اقدار کو پس پشت ڈالنے کی مہلک غلطی کے مرتکب ہوتے ہیں تو تاریخ انھیں یکسر فراموش کردیتی ہے ۔ اخلاقیات سے قطع نظر ادبیات کے حوالے سے بہر حال ایہام گوشعرانے الفاظ کے مفاہیم اور معنوی لطافتوں اور نزاکتوں کے حوالے سے جو کام کیاوہ ناقابل فراموش ہے ۔ کثیر المعنویت کی اہمیت مسلمہ ہے ۔لفظ کی حرمت اور اسے برتنے کاقرینہ آنا چاہیے ۔ ایہام گو شعرا نے مرصع ساز کا کردار ادا کیاالفاظ کو مربوط انداز میں اشعار کے قالب میں ڈھال کر انھوں نے الفاط کو گنجینہ معانی کا طلسم بنادیا ۔تاریخ ادب میں ا س تجزیے کو ہمشہ قدر کی نگاہ سے دیکھا جائے گا۔

مآ خذ
۱۔ محمد اکرام شیخ ڈاکٹر: رودِ کوثر ، ادارہ ثقافت اسلامیہ ، لاہور ، طبع دواز دہم ۸۸۹۱ ،صفحہ ۸۹۵
۲۔حسن اختر ملک ڈاکٹر : اردو شاعری میں ایہام گوئی کی تحریک ، یونیورسل بکس ،لاہور ۶۸۹۱ ، صفحہ ۴۲
۳۔ انور سدید ڈاکٹر : اردو ادب کی تحریکیں ، انجمن ترقی اردو ، اشاعت چہارم ۹۹۹۱ ، صفحہ ۷۸۱
۴۔ وقار عظیم سید پروفیسر : تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند ، جامعہ پنجاب ، لاہور، ساتویں جلد ، ۱۷۹۱ ، صفحہ ۵۶
۵۔ وقار عظیم سید پروفیسر : تاریخ ادبیات مسلمانان پاکستان و ہند ، جامعہ پنجاب ، لاہور، ساتویں جلد ، ۱۷۹۱ ، صفحہ ۷۶
۶۔ رام بابو سکسینہ : تاریخ ادب اردو ، ترجمہ مرزا محمد عسکری ، گلوب پبلشرز ، لاہور صفحہ ۷۲۱
۷۔ عبدالحق مولوی ڈکٹر :” اردوشاعری میں ایہام گوئی“مضمون مجلہ ہم قلم ، کراچی ، اشاعت جون ۱۶۹۱ ، صفحہ ۹
۸۔محمد حسین آزاد : آب حیات ، سنگ میل پبلی کیشنز ، لاہور صفحہ ۵۷
۹۔حسرت موہانی سید فضل الحسن: نکات سخن ، حیدر آباد ، جنوری ۵۲۹۱ صفحہ ۸۱۱
۰۱۔ ۔حسن اختر ملک ڈاکٹر : اردو شاعری میں ایہام گوئی کی تحریک ، یونیورسل بکس ،لاہور ۶۸۹۱ ، صفحہ ۶۷
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Ghulam Shabbir Rana

Read More Articles by Dr. Ghulam Shabbir Rana: 80 Articles with 122532 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Apr, 2011 Views: 9273

Comments

آپ کی رائے
Good article.I think the year of publication of books mentioned in the bibliography in not correct it is due to type mistake.Kindly try to correct it.In above mentioned ten references a reader can not guess about the actual year of publication of the book.As for as the contents of the article are concerned these are very useful and thought provoking.I admire the style of the writer .It is excellent research work based on critical approaches to modern literature as well.
By: Mrs.Allah Wasaie, Silence City.Fateh Darya (Jhang City) on Apr, 09 2011
Reply Reply
0 Like
High standard reseach and criticism present in this article is very important.Writer has described the topic very effectively.This topic is very useful for the readers of Urdu literature and history of linguistics.I like and appreciate this excellent presentation.This kind of research papers are a great asset for this trend setter forum.
By: Ansa Kausar Perveen Rani, Silence City (Fateh Dary -Jhang City) on Apr, 07 2011
Reply Reply
0 Like