متبرک مکہ مکرمہ پر مذموم حملہ کی مذمت

(Mian Ihsan Bari, )
حوثی قبائل کی طرف سے مکہ مکرمہ پر میزائل داغنے کے عمل کی پوری اسلامی دنیا انتہائی مذمت کر رہی ہے۔پاکستانیوں کے بھی دل اس پر خون کے آنسو رورہے ہیں مگر پاکستانی حکمرانوں کی طرف سے سعودی حکومت کے آنسو پونچھنے کی عملاً مؤثر کو شش نظر نہیں آتی کم ازکم مکہ مکرمہ کی حفاظت کے لیے تو بلا تفریق پاک افواج کے فضائی وزمینی حملوں کو روکنے والے ایکسپرٹ مسلم نوجوان تعینات ہونے چاہیں اور باہر سے حوثی قبائل یا دیگر صیہونی ،یہودی ،صلیبی قوتوں کی طرف سے ایسی حرکات کا بروقت مؤثر حفاظتی انتظام پاکستان کو کرنا چاہیے یہ کسی ملک کے اندرونی معاملہ میں مداخلت نہ ہے بلکہ یہ ہمارا ہی نہیں پوری ملت اسلامیہ کا فرض بنتا ہے کہ سبھی مکہ مکرمہ ہی نہیں پورے سعودی عرب کی حفاظت کو اولین ترجیح دیں حوثی ترجمانوں کی طرف سے پورے عالم اسلام کی چیخ و پکار کے بعد یہ کہنا کہ ہم نے تو جدہ ائیر پورٹ پر حملہ کیا تھا۔یہ بالکل ایک اور گھناؤنی و غلیظ چال ہے۔کیا جدہ سعودی عرب کا حصہ نہ ہے؟ وہاں پر ہر وقت پوری دنیا سے مسلمانوں کے جہاز اترتے ہیں اور احرام باندھے ہوئے ہوتے ہیں سارا سال طواف جاری رہتا ہے یمنی باغیوں کو اس حملہ پر معاف کردینا خود گناہِ عظیم ہو گاان کا مکمل سر کچل ڈالنا ہی دینی تقاضا بنتا ہے۔حوثی قبائل تو عرصہ دراز سے یہ اعلان کرتے آرہے ہیں کہ ہمارا اصل ٹارگٹ تو مکہ اور مدینہ ہے طائف وغیرہ نہیں۔یہ دونوں تو ہمارے لیے ہی نہیں پوری اسلامی دنیا کے لیے انتہائی محترم ترین علاقے ہیں۔ایٹمی پاکستان اور پورے عالم اسلام پر ان شہروں کی حفاظتی ذمہ واریاں عائد ہوتی ہیں ۔میاں نواز شریف کو تو ان کی اپنی ذات پر کیے گئے سعودی حکمرانوں کے احسانات کبھی نہیں بھولنے چاہیں وگرنہ وہ مشرف کے دور میں تختہ دار پر جھول گئے ہوتے۔شریف خاندان کے سبھی افراد کو وہ پاکستان سے نکال کر لے گئے۔وہاں انھیں فیکٹریاں لگانے کی اجازت دینا بھی کوئی کم احسان نہ ہے حالانکہ سعودیہ میں کوئی بھی باہرسے جاکر ذاتی ملکیتی کاروبار نہیں کرسکتا۔سب کچھ کفیلوں کی ملکیت ہوتا ہے۔پاسپورٹ وغیرہ بھی انھی کے پاس ہوتے ہیں بندہ وہاں جا تو سکتا ہے مگر واپسی بلا اجازت نہیں ہو سکتی۔جس کاروبار کے ضمن میں آپ وہاں جائیں گے اس سے ہٹ کر کوئی قدم گرفتاری پر منتج ہوتا ہے۔اگر کوئی طبقہ سعودی حکومت کوناپسندبھی کرتا ہے تو بھی سعودی حکمرانوں اور حرمین شریفین کو علیحدہ رکھ کر نہیں دیکھا جاسکتا۔بحر حال اس وقت وہ خادمین حرمین شریفین کے خصوصی اعلیٰ عہدوں پر فائز ہیں اور حفاظتی ذمہ داریاں انھی کی بنتی ہیں۔اگر وہ کسی اصول و ضوابط کی پابندی اندرونی سطح پر نہ کررہے ہوں تو انھیں بھی اس پر خصوصی توجہ کرنی چاہیے کہ اپنی غلطیوں کی اصلاح کرنا بھی قابل تعریف عمل ہو تا ہے۔ ہمارے ہر دور کے حکمرانوں نے خواہ فوجی تھے یا سویلین انھیں بھائی ہی نہیں بلکہ انتہائی قابل احترام شخصیات سمجھا ہے دونوں حکومتیں مستقلاً بھائی چارے کے عظیم رشتوں میں مضبوطی سے بندھی ہوئی ہیں اور ہمارا بھی یہ مذہبی فریضہ بنتا ہے کہ مکہ مدینہ اور پوری سعودی پاک سر زمین کے چپے چپے کی حفاظت کواپنا فرض عین سمجھیں۔امریکی سامراج ہویا بھارتی ہندوبنیے صلیبی ہوں یا یہودی نصرانی سبھی چونکہ مذہب اسلام کی بیخ کنی پر تلے ہوئے ہیں اس لیے عالم اسلام کوسارے اختلافات ختم کرکے متحد و متفق ہونا پڑے گاجس کی شروعات پاکستانی حکمران عالم اسلام کے سربراہوں کی کانفرنس پاکستان میں بلو اکر کرسکتا ہے ۔پاکستان سعودی عرب اور ایران دونوں سے خصوصی گہرے تعلقات رکھنے کی بناء پران دونوں اسلامی بھائیوں کے اختلافات ختم کروانے اور انھیں یک جان دو قالب ہو جانے میں بھی مؤثر کردار ادا کرسکتا ہے۔شریف برادران اس طرف خصوصی تو جہ فرمائیں تو ان کے کردہ و نا کردہ گناہوں کا بھی کفارا ادا ہو سکتا ہے اور رہتی دنیاتک ان کا نام بھی باقی رہے گا۔مگر لگتا ہے انھیں پانامہ لیکس سے جان چھڑانے سے ہی فرصت نہیں مل رہی آخر سو دن چور کا ایک دن سعدکا ہوتاہی ہے ۔ایک سے پینتیس ملیں خوابوں میں نہیں لگ گئیں ۔بھارتی بستی"جاتی امراء"کے لوہار سیپی داروں کا پاکستان پہنچ کر یہ"انوکھا کمال " ہے۔حضرت عمر فاروق اعظم سے تو صحابہ نے دو چادروں کا حساب مانگ لیا تھا کہ دوسری چادر کہاں سے آگئی؟ مگر یہاں تواربوں کھربوں کا معاملہ ہے زرداری، شریف خاندان ،عمران اور ان کے اے ٹی ایم کارڈز، کٹھ ملائیت کے علمبرداراور الطاف و غیرہ کی جان بخشی حساب چکائے بغیر نہ ہو سکے گی وگرنہ مزید مقتدر رہنا یا دوبارہ کرسی پر براجمان ہوجانا خواب ہی رہے گا۔

مکہ مکرمہ کی حفاظت تو خود خدائے عز و جل نے کرنے کا وعدہ کیا ہے وہ ابرہہ کے ہاتھیوں کو ابابیلوں سے کچل ڈال سکتا ہے مگر بطور امت مسلمہ ہماری بھی تو کوئی ذمہ داری بنتی ہے کاش پاکستانی فضائی افواج نے اس میزائل حملہ کو فضا میں بھسم کرڈالا ہوتا تو پورا عالم اسلام آج پاکستان کے گن گا رہا ہوتا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mian Ihsan Bari

Read More Articles by Mian Ihsan Bari: 17 Articles with 6320 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
06 Nov, 2016 Views: 255

Comments

آپ کی رائے