سیاسی کارکنان ، تربیت کی ضرورت و اہمیت

(Syed Muhammad Ishtiaq, Karachi)

موجودہ ملکی سیاسی صورتحال ا نتشار کا شکا ر ہے۔ہرسیاسی جماعت میں وفاقی اور صوبائی سطح پرا نتشار اورہم آہنگی کا فقدان واضح طور پر محسوس کیا جا سکتا ہے۔ تقریبا ہر جماعت کاقائد اور درجہ بدرجہ ہر رہنما ،ایک ہی مسئلے کے حل کے لیے، متضاد رائے،تجاویز یا حکمت عملی بیان کررہا ہوتا ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان میں جمہوری دور ہمیشہ تعطل کا شکار رہا ہے اسی وجہ سے جمہوری اور سیاسی بلوغت کی کمی محسوس ہورہی ہے ۔گزشتہ 8 سال سے ملک میں جمہوری حکومتیں کام کررہی ہیں لیکن دوبارہ آمریت مسلط ہونے کے خوف میں مبتلا ،ان حکومتوں نے بہتر طرز حکمرانی پر توجہ دینے سے پھر بھی گریز کیاہے۔حکمراں ،وزراء اور سیاسی جماعت کے قائدین کی ایوان میں حاضری بھی حوصلہ افزا نہیں ہے ۔اہم قومی معاملات پر بحث کے لیے پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس منعقد کیا جاتا ہے لیکن بعض جماعتیں اور رہنما اس سیشن کا بھی بائیکاٹ کرتے ہیں۔ایوان میں اراکین کی عدم دلچسپی اس بات کا مظہر ہے کہ عوامی نمایندوں کو ،عوام کے مسائل کے حل سے دلچسپی نہ ہونے کے ساتھ ،اہم قومی معاملات سے بھی دلچسپی نہیں ہے ۔ملک جب بحران میں مبتلا ہوتاہے تو حکومت کے ساتھ ،سیاسی جماعتیں بھی کل جماعتی کانفرنس کا انعقاد کرتی ہیں لیکن ان کانفرنسز میں بھی بعض سیاستدان ملکی و قومی معاملات کو نظر انداز کرتے ہوئے محض ذاتی رنجشوں کے باعث شرکت سے گریز کرتے ہیں ،جو لمحہ فکریہ ہے ۔ہر سیاسی جماعت کے قائد اور سرکردہ رہنماؤں کے بیانات کا نوٹس،کارکنان اور ووٹرزنہایت سنجیدگی سے لیتے ہیں اور ان بیانات کو لے کر بحث و مباحثہ بھی کرتے ہیں جس کے اثرات معاشرے میں سرایت کرتے ہیں لیکن افسوس کہ عمومااس بحث و مباحثہ کا نتیجہ خوشگوار نہیں ہوتابلکہ آپس میں مزید رنجشیں،بغض و عناد اور سیاسی انتشار پیدا ہو تاہے، کسی منطق یا دلائل سے مخالف کو قائل کرنے کی بجائے بس اپنے قائد کی تعریفوں کے پُل باندھے جاتے ہیں او ر حریف و مخالف سیاسی جماعت کے قائد پر پھبتیاں کسنے کے ساتھ،اس کی ذاتی زندگی پر روشنی ڈالی جاتی ہے، ایسا لگتا ہے کہ وہ کارکن کم پارٹی کے تنخواہ دار ملازم کا حق زیادہ ادا کررہے ہیں۔ سیاسی کارکنان کے اس طرز عمل کے ذمے دار ،سیاسی جماعتوں کے قائد اور سرکردہ رہنما ہیں کیونکہ عوامی جلسے اورجلوسوں میں ، اپنے سیاسی حریفوں ا ور مخالفین کے لیے جو زبان وہ ا ستعمال کرتے ہیں وہ زبان ان کے کارکن اورووٹر گلی ،محلوں،دفاتراور بازاروں میں،دوران بحث و مباحثہ استعمال کرتے ہیں جس سے ناخوشگوارماحول جنم لیتا ہے ۔سیاسی جماعتوں کی طلباء تنظیمیں تعلیمی اداروں میں بھی قائم ہیں لیکن یہاں بھی طلباء تنظیمیں علم کے فروغ ،طلباء میں نظم و ضبط پیدا کرنے اور تعلیم میں معاون ہونے کی بجائے طلباء کی تعلیمی سرگرمیوں کو متاثر کرنے کے ساتھ ،طلباء کے آپس میں لڑائی اور جھگڑے کا باعث ہیں۔جامعات میں تو خاص کر بعض دفعہ صورتحال بہت ہی نازک ہوجاتی ہے،دنگاو فساد اورقتل و غارت گری کے واقعات کئی دفعہ رونما ہوچکے ہیں۔سیاسی کارکنان اور طلباء میں بحث و مباحثہ کے دوران شائستگی،رواداری ا ورتحمّل کے ساتھ مخالف کی بات سننے کا حوصلہ ناپیدہے۔جب تک شرکائے بحث ان آداب سے ناواقف ہوں گے تو بحث کا اختتام ناخوشگوار ہی ہوگا۔اس صورتحال میں یہ ذمّہ داری سیاسی قائدین اور رہنماؤں کی ہے کہ 2018 کے عام انتخابات سے قبل، پارٹی اجلاسوں میں تمام رہنماؤں کو اس بات کاپابندکریں کہ پارٹی پالیسی سے ہٹ کر کوئی بھی رہنما بیان بازی سے اجتناب کرے گااور پارٹی قائدین اپنی جماعت کے سیاسی کارکنان کی تربیت کے لیے بھی کوئی لائحہ عمل بنائیں تاکہ سیاسی انتشار کی فضا کا خاتمہ ہو اور بامقصدمکالمے کی بنیاد پڑسکے۔ اکّا دُکّا جماعتیں اپنے سیاسی کارکنان اور طلباء کی سیاسی تربیت کا خاص خیال رکھتی ہیں۔ ان جماعتوں نے کارکنان اور طلباء کی تربیت کے لیے مراکز بنائے ہوئے ہیں ان مراکز میں جماعت کے قائد اور سرکردہ رہنما ،کارکنان اور طلباء میں سیاسی سمجھ بوجھ پیدا کرنے کے لیے لیکچر دینے کے علاوہ کارکنان اور طلباء کوجماعت کے نظریے ،مقاصد اور منشور سے بھی روشناس کراتے ہیں ۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ تمام بڑی پارلیمانی جماعتیں ڈنڈا بردار،جاں نثار کارکنان کی فوجیں تیار کرنے کی بجائے ،وفاقی ،صوبائی ،شہری اور ضلعی سطح پرقائم پارٹی دفاتر اور طلباء تنظیوں کے دفاترمیں لائبریریز قائم کریں اور دنیا کے تمام نامور اور کامیاب سیاست دانوں کی سوانح عمری اور جدوجہدپر مبنی کتب خصوصی طور پر ان لائبریریز میں رکھیں تاکہ کارکنان اور طلباء اس سے استفادہ حاصل کرسکیں ۔اس کے علاوہ قائدین اور پارٹی کے سرکردہ سیا سی رہنماؤں کے لیکچرز کے ذریعے، نوجوان سیاسی کارکنان کی تربیت کا خصوصی اہتمام کریں ۔طلباء اور سیاسی کارکنان میں تقریری مقابلے کو انعقاد کیاجائے ۔ فہم و فراست ،تحمّل ،برداشت کو فروغ دینے سے ہی موجودہ سیاسی انتشار کی فضا رفتہ رفتہ ختم ہوسکتی ہے اور عوام اگلے عام انتخابات میں کسی بے جا بحث و مباحثہ میں پڑنے کی بجائے، ہر سیاسی جماعت کے منشور کو مدّنظر رکھتے ہوئے آزادانہ،پرامن ماحول میں اپنے ووٹ کا استعمال کریں تاکہ ہمارے ملک میں بھی جمہوریت مستحکم بنیادوں پر قائم ہوسکے اور عوام بھی جمہوریت کے ثمرات کا بھرپور فائدہ اٹھاسکیں اور سکھ کا سانس لے سکیں۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Muhammad Ishtiaq

Read More Articles by Syed Muhammad Ishtiaq: 44 Articles with 19965 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
07 Nov, 2016 Views: 414

Comments

آپ کی رائے