کے الیکٹرک نے وزیر اعظم کے احکامات کو ہوا میں اُڑا دیا

(Dr Shabbir Ahmed Khursheed, Karachi)
 وزیر اعظم اسلامی جمہوریہِ پاکستان جناب محمد نواز شریف نے7نومبر 2016بروز منگل ہدایت جاری کی کہ ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ نصف کر دیا جائے ۔جس کے تحت ملک بھر کے شہری علاقوں میں لوڈ شیڈنگ6 گھنٹے سے کم کرکے 3گھنٹے جبکہ دہی علاقوں میں8گھنٹے سے کم کر کے 4گھنٹے کرنے کا اعلان کر دیا گیا ہے۔لوڈشیڈنگ میں کمی کا ٹاسک سیکریٹر پانی و بجلی کو سونپ دیا گیا ہے۔اس طرح ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ کا دوارانیہ منگل کے دن سے ہی کم کر دیا ہے۔وزیر اعظم کے اس اعلان پر کے الیکٹرک نے نا صرف معنی خیز خاموشی اختیار کرتے ہوئے کراچی کے عوم کو دہرے عذاب میں مبتلا کرنے کی ٹھان لی ہے اور پھر کے الیکٹرک تو ہے ہی ’’ شُطر بے مہار‘‘۔اس کے لوگ اس قدر پاور فل ہیں کہ وہ وزیر اعظم کے اعلان کو تویوں ہوا میں اڑا رہے ہیں جیسے کوئی عام شہری ان کو لوڈ شیڈنگ نصف کرنے کو کہہ رہا ہو۔ گویا وزیر اعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اعلان کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔سندھ کے شہر کراچی میں کامکرنے والی کے الیکٹرک زیادہ طاقتور دکھائی دے رہی ہے۔

عجب معاملات ہیں اس ملک میں کوئی بھی ادارا ہو یا طاقتور شخص ہو۔ ان کے سامنے عدالتوں یا حکمرانوں کے احکامات کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیں ہے۔اس ملک میں صوبائی حکومتیں ہوں ،سیاست دان ہوں یا کے الیکٹرک جیسا ٹٹپونجیا ادار،ان کے سامنے اسلامی جمہوریہ پا کستان کے سربراہ اور وزیر اعظم کی کے احکامات کی کوئی قدر و قیمت ہی نہیں ہے۔کے لیکٹرک نے تو کراچی کے عوام کا سالوں سے جینا محال کیا ہوا ہے اور بڑی عجیب بات یہ ہے کہ کرپٹ لوگوں کا یہ ٹولہ جو کے الیکٹرک کے ذریعے کراچی کے عوا م کو ناصرف لوُٹ رہا ہے بلکہ اس نے تو کراچی کے لوگوں کا جینا بھی حرام کر کے رکھا ہوا ہے۔2016 کی گرمیاں کراچی کے عوام نے اس قدر تکلیف سے گذاری ہیں جو ناقابل ِبیان ہے۔چھ سے آٹھ گھنٹے لوڈ شیڈنگ کے علاوہ ،اتنی ہی دیر مزید پاوربند کر کے ،یہ میسج دیاجایا کرتا تھا کہ آپ کے علاقے میں مینٹینیس کی وجہ سے الیکٹریسٹی بند کردی گئی ہے۔یہ عمل تسلسل کے ساتھ ساری ساری رات جاری رہتا تھا اور ہفتے میں دو سے تین دن تو لازمی یہ کھیل جاری رہتا تھا۔گذشتہ رمضان کا مہینہ بھی لوگوں نے اس سے زیادہ کسم و پرسیمیں گذارا ہے۔اورجس روز کے الیکٹرک والے ایکسٹرا لوڈ شیڈنگ نہیں کرتے تھے تو پاور اس قدر ہلکا آتاتھا کہ250 کی بجائے 100 سے 120وولٹ تک ہوتا تھا۔ اس قدر میں ڈِم پاور نہ تو پنکھے ہوا دینے کو تیار ہوتے تھے اور نہ ہیکوئی اور بجلیکا آلہ استعمالکیا جاسکتا تھا۔مگر بلوں میں کبھی بھی کمی نہیں آتی تھی ۔

اس طرح کانٹوں کی سیج پر کراچی کے لوگوں نے 2016 کے رمضاناور گرمیاں گذاریں تھیں۔مگر شومیٗ قسمت وزیر اعظم کا لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے اعلان کے باوجود کے الیکٹرک کے کرتا دھرتاؤں کے کان پر جوں تک نہیں رینگی! ادھروزیر اعظم کا اعلان آیا کہ دوسرے ہی دن وزیر اعظمکے اعلان کو ہوا میں اڑاتے ہوئے انہوں نے اپنی نئی کاروائیوں کا آغاز کر دیا ہے۔بجائے لوگوں کی مشکلات کا حل نکالنے اور لوڈ شیڈنگ کم کرنے کے، کے الیکٹرک والوں نے ایک نیا ڈرامہ شروع کر دیا ہے۔اب لوڈشیڈنگ کے اوقات ایک جانب تبدیل کر دیئے گئے ہیں۔تو دوسری جانب رات کے دوران دو مرتبہ لوڈ شیدنگ کی جانے لگی ہے۔شام چھ تا آٹھ بجے اور اس کے بعد میں لوڈ شیڈنگ کا آخری دورانیہ11 بجے سے ایک بجے تک کا کر کے عوام کو ناصرف ذہنی اذیت دی جا رہی ہے بلکہ رات کا سکون بھی بر باد کیا جا رہا ہے۔اس دورانئے میں یہ رات10.30 بجے س لائٹ بند کر کے ایکبجے کے بعد جب ان کا دل چاہتا ہے لائٹ بحالکرتے ہیں یعنی رات میں دو دو مرتبہ الیکٹرک بند کی جا رہی ہے۔اس طرح ہر دفعہ کا دورانیہ دو گھنٹوں کے بجائے سوا دو سے ڈھائی گھنٹے کر دیا گیاہے۔گویا دن بھر الیکٹریسٹی کے عذاب سے گذر کر رات کی نیندیں بھی کراچی کے بے سکون عوم کی حرام کر دی گیئں ہیں۔ وزیر اعظم کے حکم کے باوجود کراچی کے عوام کو جان بوجھ کر اذیتوں میں مبتلا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

محترم وزیر اعظم پاکستان! کے الیکٹر ک کی ان زیادتیوں سے کراچی کے لوگوں کو کب نجات ملے گی؟ اور غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ سے ان دُکھ درد کے مارے لوگوں کو کیونکر نجات ملے گی ؟وزیر اعظم پاکستان اور پاکستان کے اداروں سے کراچی کے لوگ دست بستہ درخواست کرتے ہیں ایسے لوگوں کا جس قدر جلد ہو محاسبہ کریں ۔اور کراچی کی مشکلات پر توجہ دیں ۔کیونکہ کے الیکٹرک کے کرتا دھرتا نہ جان کس زعوم میں ہیں ان کا یہ زعوم ادارے ہی نکال سکتے ہیں
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr Shabbir Ahmed Khursheed

Read More Articles by Dr Shabbir Ahmed Khursheed: 285 Articles with 116625 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Nov, 2016 Views: 312

Comments

آپ کی رائے