نوٹ کے بدل کر ووٹ نہ مانگو ، ووٹ کے بدلے چوٹ ملے گی

(Dr Saleem Khan, India)
منموہن سنگھ نےگزشتہ ۱۵ سالوں میں کالے دھن کو بغیر کسی شور شرابے کے ملک کی جملہ معیشت کے ۴۰ فیصد سے گھٹا کر ۲۰ فیصد تک پہنچا دیا لیکن مودی جی کے نئے تماشے سےنہ ان سرمایہ داروں کا کوئی نقصان ہوگاجنہوں نےبیرون ملک کالے دھن کو چھپا رکھا ہے اور ان لوگوں کے مفادات پر کوئی آنچ آئے گی جو سرکاری بنکوں کے ۶ لاکھ کروڈ روپیہ قرض دبائے بیٹھے ہیں۔ ان غاصبوں سے دھن واپسی کی خاطر عدالت عالیہ نے مداخلت کی پھربھی جب سنیاّ (یعنی سرکار) بھئے کوتوال تو ڈر کاہے کا کی مصداق وہ محفوظ و مامون ہیں۔ سرکار کے اس احمقانہ اقدام سے تو ان ۸۷ فیصد لوگوں کی دقتوں میں اضافہ ہوا ہے جو مہنگائی کے اس دور میں ۵۰۰ اور ۱۰۰۰کے نوٹ کو لے کر بازار جاتے ہیں اور خالی ہاتھ لوٹ آتے ہیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ جن کے دلوں میں کالا ہو وہ کالےدھن کا مسئلہ حل نہیں کرسکتےہیں۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ ملک کا ۹۰ فیصد کالا دھن غیر ملکی بنکوں میں ۵۰۰ اور ۱۰۰۰کے نوٹوں کی شکل میں نہیں بلکہ ڈالر کی کرنسی میں جمع ہےجو دس فیصد ہندوستان کے اندر ہے اس کے صرف ۳ فیصد کی لاگت کے ۵۰۰ اور ۱۰۰۰ کے نوٹ ہیں ۔ یعنی اگر سارے نوٹ بلیک مان لئے جائیں تب بھی یہ ۳ فیصد ہی ہوتے ہیں حالانکہ یہ ناممکن ہے اس لئے اس مشقت کے نتیجے میں جملہ کالے دھن کا صرف ایک فیصد باہر آئے گا باقی سب یونہی چھپا کا چھپا رہ جائیگا۔ حکومت کے اس قدم سے چونکہ روپئے کے مقابلے ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا ہےاس لئے اس کالے دھن کی قدروقیمتبھی اپنے آپ بڑھ گئی ۔ حوالہ والوں کے بھی وارے نیارے ہوگئے۔انتخاب سے قبل سوئزرلینڈ سےکالے دھن کی واپسی کے خواب دکھلائے گئے تھے لیکن اب وہ انتخابی جملہ بازی میں تبدیل ہوگئے ہیں۔ جرمن حکومت نے توپیشکش کی تھی کہ اگر حکومت ہند گزارش کرے تو وہ ان سرمایہ داروں معلومات فراہم کرسکتی ہےجن کی دولتباہرجمع ہے لیکن حکومت اپنے بہی خواہوں کو ناراض کرنے کی غلطی کیسے کرسکتی تھی اس لئے ایک معمولی خط تک نہیں لکھا گیا۔کالا دھن تو درکنار اس فیصلے کے صادر ہوتے ہیں شئیر بازار ۱۵۰۰ پوائنٹ گرا اور یہ گرواوٹ جمعہ تک جاری رہی جس سے ہزاروں کروڈ کا سفیددھن ہوا ہوگیا۔

کالے دھن کے نام پر کھڑا کئے گئے بونڈر کے پیچھے بھوپال کے جعلی انکاونٹر کی بدنامی ، جے این یو کے نجیب نامی طالب علم کا اغواء اوراین ڈی ٹی وی پر ایک دن کی پابندی کے نافذالعمل ہونے سے قبل اٹھانے کی خفت پوشیدہ ہے ۔اس چینل پرپابندی کا مقصد اپنے دشمن نقصان پہنچانا تھا مگر رویش کمار کے باغوں میں بہار کی بے پناہ مقبولیت اور اس کے دوسرے ہی دن پرائم ٹائم پر جے این یوکے اغواء طالب علم مجیب پر خصوصی پرائم ٹائم نے مودی سرکار کے ہوش اڑا دئیے ۔ مجیب کو نظر انداز کرنے والی مفلر والی دہلی سرکار ہوش میں آگئی ۔ کمبھ کرن کی نیند سونے والے دہلی کے گورنر جنرل نے نجیب کے اہل خانہ سے ملاقات کی اور تعاون کا یقین دلایا ۔احتجاج کرنے والے طلباء کی حوصلہ شکن پولس کو بھی خوف لاحق ہوگیا ۔ این ڈی ٹی وی کی پابندی اٹھا کرسرکار نے کہہ دیا کہ اس کی گذارش پر ایسا کیا گیا جبکہ چینل کی جانب سے اس کی تردید کی گئی۔ سوال یہ نہیں ہے کہ گزارش کی گئی یا نہیں بلکہ پابندی لگائی کیوں گئی اور لگا ہی دی تھی تو اٹھائی کیوں گئی ؟ اس سوال کا سیدھاجواب یہ ہے کہ سرکار ڈر گئی ۔

مودی سرکار کے بزدل اور دغاباز حامی چینل زی ٹی وی کے سربراہنے بھی اس معاملے میں نہایت شرمناک بیان دیا۔ ایسے میں جبکہ میڈیا کے سارے لوگ اپنی مسابقت اور اختلافات کو بھلا کر اس جبر کی مخالفت کررہے تھے زی ٹی وی کے کم ظرف مالک سبھاش چندرا نے کہا یہ پابندی عارضی نہیں بلکہدائمی ہونی چاہئے۔ جن کے اندر لڑ کر جیتنے کا حوصلہ نہیں ہوتا وہ چاہتے ہیں مخالف کے ہاتھ پیر باندھ کر کامیابی کا پرچم لہرا ئیں ۔ اس طرح گویا ظاہر ہوگیا کہ جس بیساکھی کے سہارےیہ حکومت چل رہی ہے وہ کس قدر کمزور ہے ۔ دونوں کے اندر ہمت اورجرأت نہیں ہے کہ اپنے مدمقابل کو برابر کا موقع دےکر اس کو شکست دے سکیں اسی لئے بزدلانہ حربے استعمال کئے جاتے ہیں جو بالآخر ناکامی و رسوائی پر منتج ہوتے ہیں ۔

مودی جی میڈیا کی اہمیت خوب جانتے ہیں گجرات فساد کے متعلق جب ان سے پوچھا گیا تھاکہ کیا انہیں اس پر افسوس ہے ؟ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ مجھے اس بات کا افسوس ہے کہ میں میڈیا کو مینیج نہیں کرسکا اس کے معنیٰ یہ ہیں کہانہیں اپنے جرائم پر عار نہیں بلکہ پردہ پوشی میں ناکامی کا قلق ہے ۔ مودی جی کی نقاب کشائی میں این ڈی ٹی وی نے اہم کردار ادا کیا تھا جس کابغض اب بھی ان کے دل میں ہے ۔ وزیراعلیٰ بننے کے بعداکشر دھام ، جعلی دھماکوں اور انکاونٹرس کا انہوں نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کی خاطر بھرپور استعمال کیا۔گجرات کے اندر وہ جو کچھ۱۲ سالوں تک کرتے رہے وہی سب انہوں نے قومی انتخاب میں بھی کیا اور اب بھی کررہے ہیں لیکن بین الاقوامی سطح پر سرجیکل اسٹرائیک کی کہانی بیچنے میں وہ کامیاب نہیں ہوسکے۔

مودی سرکار اس لئے ناکام ہوئی کہ اقوام متحدہ نے سب سے پہلےتردید کردی اس کے بعد پاکستان دنیا بھر کے ذرائع ابلاغ کو سرحد کے ان علاقوں میں لے گیا جہاں حملے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔ اس کے بعد بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں ظاہر ہونے والے شکوک و شبہات قومی میڈیا کو متاثر کرنے لگے۔ آگے چل کر بی بی سی کے ایک صحافی کا دورہ کرکے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا۔ اس موقع پر مودی جی نے اعتراف کیا کہ ہمارے پاس عالمی رائے عامہ کو ہموار کرنے والامیڈیا نہیں ہے اور اسی کے ساتھ ایک عالمی سطح کا میڈیا ہاوس قائم کرنے کی کھچڑی پکنے لگی ۔مودی جی نے محسوس کرلیا ہے کہ قومی سطح پر ذرائع ابلاغ کی مدد سے عوام کواپنے سحر میں گرفتار کرنے میں انہیں جو کامیابی انہیں ملتی ہے عالمی سطح پر وہ جادو نہیں چل پاتا۔

اس کام کیلئے مودی سرکار کی نظر انتخاب اپنے سب سے وفادار مہرے ارنب گوسوامی پر پڑی اور پھر ارنب کے استعفیٰ کی خبر سامنے آگئی ۔عالمی سطح پر ایک باوقار میڈیا ہاوس قائم کرنے کی ذمہ داری سنگھ پریوار کے علاوہ کوئی اور ارنب جیسے نااہل کو نہیں سونپ سکتا۔ ٹائمز ناؤ کے شروع ہونے سے بہت پہلے ٹائمز آف انڈیا ملک کے ایک نہایت معتبر اخبار تھا ۔ ارنب نے اس کا فائدہ کر اپنی دوکان چمکائی مگر شور وپکار اور جانبداری سے ٹائمز کےبرسوں پرانی ساکھ کوخاک میں ملادیا لیکن چونکہ ٹائمز بھی ایک بنیا اخبار ہے اور اس کو اپنی عزت سے زیادہ دولت عزیز ہے اس لئے ارنب برداشت کیا گیا ۔ جس فرد نے ایک اچھے بھلے میڈیا ہاوس کی اعتباریت کو مشکوک بنادیا اس سے یہ توقع کرنا کہ وہ عالمی رائے عامہ کا اعتماد حاصل کرسکے گا خوش فہمی نہیں تو کیا ہے؟

ارنب جیسے زرخرید صحافی چاہے جو دعویٰ کریں لیکن یہ دلچسپ حقیقت ہے کہ کالے دھن کا شوروغل کرنے والی سرکار نے ہندوستان سے باہر روپیہ بھیجنے میں دوبار سہولت عطا کی جس کے نتیجے میں بھارت سے باہر بھیجی جانے والی رقوم میں تین گنا کا اضافہ ہوا اور گزشتہ ۱۱ ماہ میں ۳۰ہزار کروڈ روپئے ملک سے باہر روانہ کئے گئے ۔ یعنی غیر ملکی سرمایہ کاری بھارت کے اندر تو نہیں ہوسکی الٹا خود ہندوستانیوں نےبیرونی ممالک میں اپنا قیمتی سرمایہ لے جاکر لگایا یا چھپایا۔ اس طرح آنکھیں موند کر ۹۰۰ کالے چوہے کھانے والی ایک سفید بلی اب حج کیلئے نکل کھڑی ہوئی ہے تاکہ پارسائی کا ڈھونگ رچا سکے ۔ باہر سے بڑی مچھلیوں کا کالا دھن واپس لاکر ملک میں خوشحالی بڑھانے کے بجائے اندر ہی کے ۱۰ فیصد کالے دھن کی دھول عوام کےآنکھوں میں جھونک کر وہ اپنے سیاسی حریفوں کیلئے مشکلات کھڑی کرنے میں مصروف ہےلیکن اس طرح نوٹ بدل کر ووٹوں کی کھیتی نہیں اگائی جاتی بلکہ اس کھیل ووٹ کے بجائے چوٹ بھی لگ سکتی اس لئے کہ بعید نہیں جو گڑھا حکومت نے دوسروں کی خاطر کھودا ہے وہ خود اس کی اپنی قبر بن جائے ۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Salim

Read More Articles by Salim: 1250 Articles with 461662 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
14 Nov, 2016 Views: 343

Comments

آپ کی رائے