ذیابیطس (شوگر)کا عالمی دن’14نومبر‘

(Dr Rais Ahmed Samdani, Karachi)
14نومبر کو دنیا میں ذیابیطس(شوگر) کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔یہ دن پہلی مرتبہ 1991میں منا یا گیا۔ذیابیطس سے متعلق آگاہی اس دنیا کو منانے کا بنیادی مقصد ہے۔ 14نومبر کے انتخاب کی وجہ تسمیہ یہ بیان کی گئی ہے کہ انسولین جو ذیابیطس کے مریضوں کی اہم دوا ہے کے موجد بین ٹین تھے۔ بین ٹین کا یوم پیدائش 14نومبر ہے اس مناسبت سے اس تاریخ کو ذیابیطس کا عالمی دن منایا جانے لگا۔دنیا بھر میں اس مرض کے بارے میں آگاہی کے حوالے سے اس دن آگاہی کے پروگرام، سیمینار، کانفرنسیز منعقد کی جاتی ہے جن میں ماہرین اس مرض میں مبتلا افراد کو مرض سے بچاؤ ، احتیاطی تدابیر ، دوا، علاج، پرہیز کے بارے میں آگاہی فراہم کی جاتی ہے۔ دنیا پھر میں ایسے بے شمار تنظیمیں ذیابطیس سے آگاہی پر کام  کررہی ہیں۔ پاکستان میں بھی کئی ادارے اور تنظیمیں ہر سال 14نومبر کو ذیابطیس سے آگاہی کے پروگرام ترتیب دیتی ہیں۔اس موضوع پر میں نے جون 2015میں ایک مضمون ’’روزہ اور ذیابیطس (شوگر)کے مریض‘‘کے عنوان سے تحریر کیا تھا جو سوشل میڈیا کی ایک ویب سائٹ ’ہماری ویب ‘ پر آن لائن ہے۔اس وقت رمضان المبارک تھے چنانچہ اسی مناسبت سے یہ مضمون تحریر کیا گیا تھا۔ یہ تحریر میرے اُسی مضمون کی بنیاد ہے۔

ذیابیطس(شوگر)کا مرض اب عام ہوچکا ہے۔ دنیا میں اس مرض میں مبتلا لوگوں کی تعداد تقریباً 415ملین سے زائد ہے۔ گویا کل آبادی کا 10.7 فیصد ذیابیطس کا شکار ہیں۔ پاکستان میں اس مرض میں مبتلا افراد کی تعداد 80لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔ پاکستان دنیا میں 7 ویں نمبر پر ہے جہاں ذیابیطسکا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ آیندہ 15سالوں تک ہمارا ملک اس مرض کے حوالے سے پانچویں نمبر پر آسکتا ہے۔ اسی طرح دنیا میں 2040 تک 642 ملین ہو جائے گی ۔مرض خواہ کوئی بھی ہو مریض کے لیے ضروری ہے کہ وہ اس مرض کے بارے میں جس میں وہ مبتلا ہوچکا ہے آگاہی حاصل کرے۔ سارے ہی مرض تکلیف دہ ہیں لیکن ذیابیطس یا شوگرکا مرض مریض کو دیمک کی طرح خاموشی سے، آہستگی سے اس طرح متاثر کرتا ہے کہ مریض صرف ذیابطیس(شوگر) کا مریض ہی نہیں رہتا بلکہ وہ اس کے ساتھ ساتھ کئی دیگر امراض میں بھی مبتلا ہوجاتا ہے جس میں آنکھوں کا متاثر ہونا، دل کی تکلیف ہوجانا، ٹانگوں میں مسلسل درد رہنا، پیر یا انگلیوں میں ہوجانے والے زخموں کے باعث انگلی حتیٰ کہ پیر اور ٹانگ کا کاٹ دیا جانا ، گردوں کا متاثر ہونا وغیرہ شامل ہیں۔ان تمام خطرناک باتوں کے باوجود ذیابیطس (شوگر) کے مریض اگر اپنے مرض کے بارے میں مکمل آگاہی حاصل کرلیں تو ان تمام خطرناک قسم کی پیچیدگیوں سے محفوظ رہا جاسکتا ہے۔ مختلف اداروں کے زیر اہتمام ذیابیطس(شوگر) کے مریضون کو آگاہی کے مختلف پروگرام ترتیب دیے جاتے ہیں، مختلف تنظیمیں اس حوالے سے کتابیں اور کتابچے بھی شائع کرتے ہیں ۔پروگراموں میں شرکت کر کے اور کتابچے حاصل کرکے ہم اس مرض کی پیچیدگیوں کے بارے میں معلومات حاصل کرسکتے ہیں۔اس حوالے سے ڈاؤیونیورسٹی کے تحت ایک ادارہ NIDEقائم ہے، نیشنل ایسو سی ایشن آف ذیابیطس اینڈ ایجوکیٹر آف پاکستان (NEDP)بھی کام کررہا ہے، اس ادارے نے ’برائٹ ‘کے نام سے ایک رہنما کتابچہ بھی تیار کیا ہے، اس کے علاوہ میر خلیل الرحمٰن سوسائٹی ، پاکستان اینڈو کرائن سوسائیٹی، لیاقت نیشنل ہسپتال بھی سرگرم عمل ہے۔اکثر مارین ڈاکٹرز نے ذیابیطس (شوگر) کی رہنمائی کے لیے کتابچے بھی تحریر کیے ہیں جیسے پروفیسر ڈاکٹر عیص محمد نے حِفظانِ صحت اور مُہلک امراض سے بچنے کے ابدی اصول‘ کے عنوان سے کتابچہ تحریر کیا جو ایک اچھی کوشش ہے۔

ذیابیطس(شوگر) کی تین اقسام بیان کی گئی ہیں۔ ان تین اقسام سے پہلے ایک مرحلہ یا اسٹیج ذیابیطس (شوگر) سے پہلے Pre-Diabetiesہوتا ہے۔ اس اسٹیج کو Impairedglucose toleranceکے نام سے جانا جاتا ہے۔اس مرحلہ میں شوگرلیول نارمل سے زیادہ ظاہر ہوتا ہے لیکن ایسے لوگ ابھی ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کی صف میں داخل نہیں ہوتے بلکہ یہ ان کے لیے خطرے کا نشان ہوتا ہے کہ وہ کسی بھی وقت ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کی فہرست میں شامل ہوجائیں گے۔ اس اسٹیج میں مریض کو پریشان ہونے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں اسے چاہیے کہ وہ کسی تجربہ کار ڈاکٹر سے مشورہ کرے اور اپنے شوگر لیول کو دوا کے بجائے خوراک یعنی پرہیز اور ورزش کے ذریعہ کنٹرول کر لے۔ ذیا بیطس (شوگر) کی پہلی قسم کو ٹائپ 1ذیابیطس (شوگر)کہتے ہیں۔جس میں انسان کا لبلبہ بہت کم انسولین پیدا کرتا ہے یا بالکل ہی نہیں کرتا۔عام طور پر ٹائپ1کے مریضوں کی عمر 20سال کے اندر اندر بتائی گئیں ہیں۔بچے یا جوان، ماہرین نے اس قسم کے مریضوں میں ذیابیطس (شوگر) کو موروثی geneticقرار دیا ہے۔ جن لوگوں کو ٹائپ 1 ذیابیطس (شوگر) ہو تی ہے یہ ان کی زندگی کی ساتھی کے طور پر ساتھ ہی رہتی ہے۔ اس قسم کی ذیابیطس (شوگر) کے مریض دوا میں انسولین کا استعمال کرتے ہیں ، غذا ، پرھیز وار ورزش پر خاص توجہ دیتے ہیں۔اس قسم کے مریض Insulin - dependent diabetes (IDDM)ہوتے ہیں۔ذیابیطس (شوگر)کی ٹائپ 2عام طور پر ان لوگوں کی ہوتی ہے جن کا وزن زیادہ ہوتا ہے، خوش خوراک ہوتے ہیں، ان کا کام دن دن بھر بیٹھے رہنا ہوتا ہے، ورزش بالکل نہیں کرتے،عموماً بڑی عمر کے لوگ اس کا شکار ہوتے ہیں لیکن اب یہ موروثی geneticبھی ہوتی ہے، بچوں میں بھی اس قسم کودیکھاگیا ہے۔ تقریباً 90فیصد ذیابیطس (شوگر) کے مریض ٹائپ2ہی کے ہوتے ہیں۔یہ Non-Insulin dependent diabeties (NIDDM)مریض کہلاتے ہیں۔ٹائپ 3وقتی طور پر حاملہ خواتین کی ہوتی ہے۔ اس کی وجہ ان کے جسم میں ہونے والی غیر معمولی محرکات ہوتے ہیں۔ یہ عارضی طور پر ہوتی ہے جوں ہی خواتین اس عمل سے فارغ ہوتی ہیں ان کا شوگر لیول خود بخود اصل حالت پر آجاتا ہے۔

مرض کی شدت کے اعتبار سے ذیابیطس(شوگر)کے مریضوں کو چار گروپس میں تقسیم کیا گیا۔ ان گروپس میں ’کم ترین شدت والے مریض‘، ’درمیانی شدت والے مریض‘، ’زیادہ شدت والے مریض‘ اور’ انتہایہ شدت والے مریض‘۔ ٹائپ1کے مریض کم ترین شدت کے گروپس میں آتے ہیں، ایسے مریضوں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔ ان مریضوں کی شوگر کنٹرول میں رہتی ہے، چاہے وہ خوراک و پرہیز، دوا اور ورزش سے کنٹرول کرتے ہوں، ٹائپ 3جن میں حاملہ خواتین ہوتی ہیں وہ بھی اسی گروپس میں شمار کی جاتی ہیں۔ٹائپ 2 درمیانی شدت والے مریض ہوتے ہیں جن کی شوگر فوری معلوم ہوئی ہو اور ان کی شوگر کنٹرول میں نہ ہو، اس ٹائپ اور گروپس میں وہ مریض بھی شامل ہوتے ہیں جو انسولین کا استعمال کرتے ہیں۔انسولین استعمال کرنے والے اس بات کو یقینی بنائیں کہ انہیں کتنی اور کب کب انسولین لینا ہے۔ ڈاکٹر کی ہدایت کے بغیر انسولین کے ڈوز کو خود سے کم یا زیادہ نہ کرے۔

ہمارے جسم کو تندرست و توانا رکھنے اور زندگی کی گاڑی کو رواں دواں رکھنے کے لیے جس ایندھن کی ضرورت ہوتی ہے اسے شوگر (glucose) کہا جاتا ہے۔ یہ ہمیں کھانوں میں جیسے روٹی، ڈبل روٹی، پاستا، چاول، آلو،پھلوں اور سبزیوں سے حاصل ہوتا ہے۔جو ہمارے جگر اور پٹھوں کو مضبوط اور کام کے قابل بناتا ہے۔ شوگر کے استعمال کے لیے ہمارے جسم کو انسولین کی ضرورت ہوتی ہے ۔انسولین انسانی جسم میں شوگر لیول کو کنٹرول میں رکھتی ہے۔ انسولین ایک ہارمون ہے جوایک گلینڈ ’ لبلبہ ‘سے خارج ہوتی ہے ۔ لبلبہ کے غیر فعال ہوجانے کی وجہ سے انسولین کا اخراج کم یا ختم ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے انسانی جسم میں شوگر زیادہ ہوجاتی ہے۔

ذیابیطس (شوگر) کے مریض کو صرف شوگر لیول کا ہی خیال رکھنا ضروری نہیں ہوتا بلکہ ذیابیطس(شوگر) کے مریض کو ایک خاص مقدار میں پانی کی ضرورت بھی ہوتی ہے۔اگر مریض پانی کی مطلوبہ مقدار نہیں پیئے گا تو اس کے گردے متاثر ہوں گے ۔ اسی طرح اگر ذیابیطس (شوگر) کا مریض دل کا بھی مریض ہے تو اسے بھی خاص طور پر گرمی کے موسم میں اپنے خون کو ایک خاص حد تک پتلا رکھنے کی ضرورت ہوگی ۔ جو دوائیں وہ اس مقصد کے لیے استعمال کرتا ہو انہیں جاری رکھے۔ ایسی خوراک کا استعمال نہ کرے جو خون کو گاڑھا کرتی ہیں۔زیادہ گھی یا تیل اور تلی ہوئی اشیا ء سے پرہیز کرے۔ ذیابطیس کے مرٰض پراٹھے کھانیب سے گریز کریں ، ممکن ہو تو اولو آئل(olive oil)کا استعمال کیا جائے۔ سادہ روٹی پر اولو آئل لگا لیا جاے، بعض لوگ ناشتہ میں ڈبل روٹی کا استعمال کرتے ہیں، ذیابطیس(شوگر) کے مریض سادہ غذا کا استعمال کریں نیز کم نہ کھائیں، پیٹ بھر کر کھائیں تاکہ پورا دن آرام سے گزر جائے۔ پانی جتنا پی سکتے ہوں پی لیں۔ فجر میں بیدار ہوں،نماز و تلاوت کے بعد ناشتہ کر کے فوری سونے سے گریز کریں ، کیوں کہ آپ نے پیٹ بھر کر کھا لیا ہے اگر آپ فوری سوگئے تو طبیعت خراب ہونے کا ڈر ہے۔تھوڑسی چہل قدمی کے بعد سو جائیں۔

پروفیسر ڈاکٹر عِیص محمد نے اپہنے کتابچے ’حِفظانِ صِحت اور مُہلک امراض سے بچنے کے ابدی اصول‘ میں ذیابیطس (شوگر) کے مریضوں کے لیے خوراک کے متعلق جو ہدایات درج کی ہیں حسب ذیل ہیں :
ذیابطیس کے مریضوں کو کیا کھانا ہے اور کیا نہیں کھانا پھل جو نہ لیں :
٭ آم، انگور، کیلا، گرما، شکر قندی، جاپانی پھل، انجیراور کھجور میں کافی شوگر ہوتی ہے ۔ گنا، گنے کارس، گنڈیریاں بھی نہ لیں۔

کھانے کی اشیاء جو نہ لیں :سری پائے، کلیجی، مغز، گردے، گوشت (گائیں،بھینس،اونٹ) مٹھائیاں، سوڈے کی بوتلیں، اگر بلڈ پریشر نہ ہوتو سوڈے کی ڈائیٹDietبوتل لی جاسکتی ہے۔ چینی چائے کے چھوٹے چمچے کے برابر) لے سکتے ہیں، اب تو کینڈریل اور دیگر شوگر کے مریضوں کے لیے دستیاب ہیں ان کا استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اسکوش یا شربت (اب شوگر فری شربت دستیاب ہیں ) نہ لیں، شہد کا ایک چھوٹا چمچہ لے سکتے ہیں، جام، ماملیڈ، پراٹھے، حلوہ پوری، مربہ نہ لیں، سن فلاور ، اولو آئل یا مکئی کا تیل استعمال کریں، وہ بھی زیادہ نہ ہو، چپاتی ہلکی ہو، جام ماملیڈ یا مٹھائی اور بسکٹ اگر ڈائٹ بغیر چینی کے ہوں تو معتدل مقدار میں لے سکتے ہیں۔

پھل جو لے سکتے ہیں :سیب ، آڑو، جامن، کنو، مالٹا، موسمی، فالسہ، بیر سبزیاں جو لے سکتے ہیں :بھنڈی، ٹینڈ، کریلا، بند گوبی، گیا کدو، گھیا توری، پیاز، لہسن، ادرک، ترئی، کھیرا، سلاد، مٹر، گاجر، مولی، شلجم، گوبھی، ساگ، پالک، بھی لے سکتے ہیں۔ٹماٹر ، شملہ مرچ بھی لے سکتے ہیں۔ تاہم اگر خون میں Uric Acidزیادہ ہے تو پھر ٹماٹر ، ساگ، پالک ، کافی، چائے، سوڈے کی بوتلین اور کلیجی نہ لیں۔

دال ، مونگ، مسور، (چنے کی دال درمیانی مقدار میں) لے سکتے ہیں۔اگر بلڈ پریشر نہ ہو تو کبھی کبھی سموسہ، پکوڑے، نمکین بسکٹ بھی لے سکتے ہیں۔ذائقہ میٹھا کرنے کے لیے SweetexیاSweetoگولیا یا Candrelگولیاں استعمال کریں۔ Sucralپاؤڈر یا گولیا بھی استعمال کرسکتے ہیں۔ ذائقہ نمکین کرنے کے لیے سالن میں تھوڑا لیمو یا سرکہ ڈال لیا کریں ، تاہم اگر بلڈ پریشر نارمل ہے تو پھر نمک کے پرہیز کی ضرورت نہیں۔ خشک میوہ جات میں چار یا پانچ دانے بادام، دو یا تین اخروٹ ہفتے میں دو یا تین بار لے سکتے ہیں، تاہم یہ لینے ضروری نہیں، اگر عادت ہے تو لے سکتے ہیں۔ذیابیطس کے مریض کو میٹھے بسکٹ یا چینی جیب میں رکھنی چاہیے تاکہ اگر کسی وقت شوگر کم ہو جائے تو یہ فوری لے لیں۔

ذیابطیس کے لیے کچھ ہدایات
۱۔ مریض اپنے گھر میں خون میں شوگر کا چیک اپ کریں ۔ اس مقصد کے لیے میڈیکل اسٹورز پر گلوکومیٹرز دستیاب ہیں ، جن کا استعمال بہت ہی آسان ہے ۔ مریض گلاکو میٹر میں لگی سوئی کیس دوسرے کے لیے استعمال نہ کریں۔
۲۔ورزش کا ہتمام کریں، ضرورت سے زیادہ نہیں۔ بعض مریض لمبی لمبی واک کرتے کبھی اپنے لیے کبھی اپنے ساتھ رہنے والے ساتھی کی خاطر کئی کئی میل پیدل چلتے ہیں۔ مریض کو اپنا خیال کرتے ہوئے ورزش کرنی چاہیے۔
۳۔ تمباکونوشی سے پرہیز کریں
۴۔ دانت، مسوڑوں ، آنکھوں ، پیر ، انگلیوں، دل اور گردوں پر خاص نظر رکھیں اورجس چیز کا ٹیسٹ ہوتا ہوں اسے کبھی کبھار کراتے رہیں۔اپنے پیر اور انگلیوں کو روز ہی دیکھیں، اچھی طرح دھوئیں، انہیں کسی سخت چیز سے دھونے یا مانجھنے کی ضرورت نہیں ، ہلکے ہاتھ سے ، کسی اچھے صابن سے دھویں اور مناسب لوشن کا استعمال کریں۔
۵۔ اپنے ناخن احتیاط سے کاٹیں، اس طرح کے آپ کی کھال نہ کٹ جائے۔
۶۔ ننگے پاؤں چلنے سے گریز کریں، جرابیں پہنیں، کاٹن کے موزے استعمال کریں۔
۷۔ جوتے نرم ، ملائم اور آرام دہ استعمال کریں۔ممکن ہو تو ایسے جوتے نہ پہنے جن میں کیل کا استعمال کیا گیا ہو۔
۸۔ ذیابیطس کے مریض کو اپنی جیب میں ایک کارڈ یا کاغذ رکھنا چاہیے جس پر لکھا ہو کہ ’’مَیں ذیابیطس کا مریض ہوں، اگرمَیں بے ہوش ہوجاؤں تو مجھے نزدیکی اسپتال میں لے جائیں ‘‘۔ ذیابیطس کے مریضوں کو تنگ جوتے اور تنگ جرابیں نہیں پہننی چاہئیں۔ لیکن آرام دہ بند جوتا کا استعمال مناسب ہے۔

ماہرین کے مطابق ناشتہ سے پہلے (فاسٹنگ) 80 سے 110، دوگھنٹے بعد (رینڈم) 100سے 140تک، 12بجے کے قریب 120سے180 تک شوگر لیول مناسب قرار دیا گیا ہے۔مریضوں کے لیے ضروری ہے کہ اس مرض سے خوف زدہ نہ ہوں، اس کے لیے لوگوں کے بتائے ہوئے ٹوٹکوں، نسخوں کو استعمال بھی کریں تو دوا کا استعمال ہر گز ترک نہ کریں۔ خاص طور پر ایسے ٹوٹکے جن میں کہا گہا ہو کہ آپن یہ نسخہ استعمال کریں اسے آپ 15دن یا ایک ماہ استعمال کریں اس دوران دوا نہ کھائیں اور شوگر بھی چیک نہ کریں ۔ ایک ماہ بعد شوگر چیک کریں آپ کی شوگر ختم ہوچکی ہوگی۔ ایسا ہر گز نہ کریں، ایسے لوگوں کی باتوں میں ہرگز نہ آئیں، مشورہ دینے میں کچھ نہیں جاتا، اپنی زندگی کو اہمیت دیں لوگوں کی باتوں کو نہیں۔ اگر آپ نے ایسا کیا تو ایک ماہ بعد شوگر ختم ہو یا نہ ہو آپ کا کام تمام ہوچکا ہوگا۔ یہ مرض اپنے مریض کی مکمل توجہ اپنے اوپر چاہتا ہے جس طرح ایک محبوب اپنے عاشق کی مکمل توجہ اپنے سوا کسی اور پر نہیں چاہتا۔ اس لیے اس مرض کو اپنا محبوب بنا لیں ، صرف اس کے ہوکر رہ جائیں، اس کاخیال کریں، اس کی آبیاری دوا، پرہیز سے کریں، یہ آپ کو کچھ نہیں کہے گا اور طویل عمر آپ کے ساتھ اچھے طریقے سے گزاردے گا۔ اگر آپ نے اس سے دوستی نہیں کی، ا س کا خیال نہیں رکھا ،اس سے محبت اور دوستی کے جو طریقے ماہرین نے تجویز کیے ان پر عمل نہیں کیا تو پھر یہ آپ کا دشمن نمبر ایک ہوگا۔ آپ کو خاموشی کے ساتھ ، دیمک کی مانند اندر ہی اندر چاٹ جائے گا اورآپ مشکل اور پریشانی میں مبتلہ ہوجائیں گے۔ یہ باتیں میں نے سنی سنائی، دیکھی ہوئی، نہیں بلکہ میں گزشتہ کئی سال سے دل کے مرض کے ساتھ ساتھ اس مرض میں بھی مبتلہ ہوں، شکر ہے میں نے اسے اپنا محبوب تصور کر لیا ہے، اس کا خیال رکھتا ہے، جو چیز اسے پسند نہیں وہ مجھے بھی پسند نہیں، جو اسے اچھا لگتا ہے وہ میرا بھی پسندیدہ ہے۔ جس طرح جیون ساتھی کے ساتھ زندگی گزرتی ہے ، وہ ہماری زندگی کے ہر چیز میں ظاہر ہو یاباطن وہ اس کا ساتھی ہوتا ہے اسی طرح یہ مرض بھی میری زندگی کا ایسا ہی ساتھی ہے ۔ اب جس قدر بھی زندگی ہے اس کے ساتھ ہی بسر ہوگی اور اچھی ، ہنستی، بستی خوشگوار ہی بسر ہوگی، انشاء اﷲ۔(14نومبر2016)
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Prof. Dr Rais Ahmed Samdani

Read More Articles by Prof. Dr Rais Ahmed Samdani: 767 Articles with 657307 views »
Ph D from Hamdard University on Hakim Muhammad Said . First PhD on Hakim Muhammad Said. topic of thesis was “Role of Hakim Mohammad Said Shaheed in t.. View More
14 Nov, 2016 Views: 942

Comments

آپ کی رائے