اقتصادی راہداری، گوادربندرگاہ کاافتتاح اوربھارتی جارحیت

(Muhammad Siddique Prihar, Layyah)
وزیراعظم نوازشریف نے کسی موقع پرکہاتھا کہ پہلے ایٹمی دھماکہ کیاتھا اب معاشی دھماکہ کریں گے۔گوادربندرگاہ میں تجارتی سرگرمیوں کاباقاعدہ افتتاح کر کے ہم سمجھتے ہیں کہ انہوں نے معاشی دھماکہ بھی کردیا ہے۔ جبکہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے پہلے تجارتی جہازکوگوادربندرگاہ سے روانہ کیا۔ گوادر بندرگاہ کافعال ہوناپاکستان کی معاشی ترقی کی طرف تیزترین سفرہے۔پاک چین اقتصادی راہداری کے منصوبے کے تحت چین کاپہلاتجاری جہازگوادربندرگاہ سے روانہ ہوگیا۔گوادربندرگاہ سے برآمدات کاسلسلہ اتوارسے شروع ہوگیا۔سی پیک منصوبے کے تحت تین سوکنٹینرزپرمشتمل پہلامیگاپائلٹ ٹریڈ کارگوگوادربندرگاہ سے روانہ ہوا۔گوادربندرگاہ سے پہلے ٹریڈ کارگوکوروانہ کرنے سے قبل منعقدہ افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نوازشریف نے کہا کہ سی پیک منصوبہ حقیقت کاروپ دھاررہا ہے جس سے پاکستان تجارتی سرگرمیوں کامرکزبن جائے گا۔یہ چینی صدرشی چن پنگ کے ایک خطہ ایک سڑک وژن کاعکاس ہے۔ پاکستان جنوبی ایشیاء ،وسطی ایشیاء اورچین کے درمیان اہم تجارتی مرکزبنے گا۔انہوں نے پاک بحریہ کی کوششوں کوسراہتے ہوئے پروجیکٹ کے دوران جانوں کا نذرانہ دینے والے ایف ڈبلیواوشہیدوں کوخراج تحسین بھی پیش کیا۔ان کاکہناتھا کہ آج ایک نئے دورکاآغازہوچکا ہے۔اس سے پاکستان اورعوام کوترقی ملے گی۔منصوبوں کی تکمیل میں ذاتی دلچسپی لینے پرآرمی چیف جنرل راحیل شریف کاشکریہ اداکرتے ہوئے نوازشریف نے کہا کہ گوادرمیں آزادتجارتی زون کیلئے زمین مختص کردی گئی ہے۔آئندہ مالی سال میں خضدار، کوئٹہ، ژوب،ڈی آئی خان کودورویہ کرنے کیلئے دوسوارب روپے جاری کرنے کااعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ گوادرمیں ساڑھے گیارہ ارب روپے کی لاگت سے پانچ ملین گیلن یومیہ پانی کی فراہمی یقینی بنائیں گے۔پچاس بستروں پرمشتمل گوادرہسپتال کو تین سوبستروں تک اپ گریڈ کررہے ہیں۔یہاں وکیشنل ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ اوریونیورسٹی بھی قائم کی جائیگی۔تین سومیگاواٹ بجلی پیداکرنے کامنصوبہ بھی لگایا جا رہا ہے۔دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے عزم کااظہارکرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ سی پیک قومی پروگرام ہے ،منصوبے کے مخالف ترقی کے مخالف ہیں۔ درگاہ شاہ نورانی پرحملے کی شدیدمذمت کرتے ہوئے ان کاکہناتھا کہ غربت کاخاتمہ اورملک کی ترقی ہماری حکومت کاوژن ہے۔منصوبہ تین ارب افرادکی خوشحالی کاضامن ہے۔جنرل راحیل شریف نے نوازشریف کواورآرمی چیف، وزیراعظم نے چینی کمپنی سائنوٹرانس کے عہدیدارکوسونیئرپیش کیا۔جوآرمی چیف کوبھی پیش کیاگیا۔فرنٹیئرورکس آرگنائزیشن کے مطابق دوبحری جہازالحسین زنزیباراورکوسکوویلنلٹن بنگلہ دیش، سری لنکا،متحدہ ارب امارات کاسفرکرکے یورپی یونین کی جاب جائیں گے۔گوادرپورٹ کے ذریعے پہلی بارچینی مصنوعات مشرق وسطیٰ اورافریقی ممالک کوبرآمدکی جائینگی۔کنٹینرزپرچاول سے لے کرکپاس تک مختلف اشیاء موجودہیں۔جبکہ بعض مشینری بھی ہے جوگوادرمیں جاری ترقیاتی کاموں کیلئے وہاں پہنچائی گئی۔ایف ڈبلیواوکے چیف کاکہنا ہے کہ سال دوہزارچودہ سے اب تک صرف بلوچستان میں سی پیک پرجیکٹس کیلئے سڑکوں کی تعمیرپر۵۳ ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ ڈی جی ایف ڈبلیواومیجرجنرل محمدافضل نے بریفنگ دیتے ہوئے مزیدکہا کہ اقتصادی راہداری کے مکمل ہونے پرگوادرپورٹ سے سال دوہزارسترہ سے سالانہ دس لاکھ ٹن کارگوگزرے گی۔صرف تیل کی ترسیل سے چین کوبیس کروڑ ڈالرکی بچت ہوگی۔چھ لاکھ بیرل یومیہ تیل کی ترسیل کیلئے چین کابارہ ہزارکلومیٹرکافاصلہ سمٹ کرتین ہزارکلومیٹرہوگیا ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری کی وجہ سے پاکستان کوراہداری کی مدمیں سالانہ پانچ ارب ڈالرکی آمدن ہوگی۔سی پیک سے بیالیس ممالک کوفائدہ ہوگا۔سال دوہزارپچیس تک تجارتی حجم آٹھ سوارب ڈالرتک پہنچ جائیگا۔ اسی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چینی سفیرسن وی ڈونگ نے تجارتی جہازروانہ کرنے کے دن کواہمیت کاحامل قراردیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اورچین نے مل کرپہلی دفعہ تجارتی قافلہ گوادرپہنچایا۔پائلٹ پراجیکٹ کیلئے حکومت اورپاک فوج کے تعاون کاشکریہ اداکرتے ہوئے چینی سفیرنے کہا کہ سی پیک پاکستان اورچین سمیت پورے خطے کیلئے مفیدثابت ہوگا۔پائلٹ پراجیکٹ کی تکمیل سے سی پیک کومزیدتقویت ملی ہے۔افتتاحی تقریب میں مسلح مسلح افواج کے سربراہان سمیت اعلیٰ عسکری وسیاسی قیادت نے بھی شرکت کی۔وزیراعلیٰ پنجاب شہبازشریف کاکہناتھا کہ پاک چین اقتصادی راہداری کاخواب حقیقت بن گیا،نئی تاریخ رقم ہوئی ہے۔وزیراعلیٰ نے سی پیک کے تحت گوادربندرگاہ سے پہلے تجارتی قافلے کی روانگی کے تاریخی موقع پرپاکستانی قوم کومبارکبادبھی دی۔ان کاکہناتھا کہ چائنہ پاکستان اکنامک کوریڈورکے تحت عظیم سفرکی عظیم شروعات ہوئی ہیں۔ترقی وخوشحالی کے نئے سفرکی بنیادرکھی گئی ہے ۔ اس سے پاکستان سمیت پورے خطے کی قسمت بدل جائے گی۔منصوبہ پاکستان کومعاچی لحاظ سے مضبوط بنائیگا۔وزیراعلیٰ بلوچستان نواب ثناء اللہ زہری نے افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے بلوچستان کی عوام کی طرف سے تجارتی قافلے کوخوش آمدیدکہتے ہوئے کہا کہ حکومت اورپاک فوج کی کوششوں سے آج ہم نے اہم سنگ میل عبورکیاہے۔اورتجارتی سرمایہ کارگوادرکے آزادتجارتی زون سے استفادہ کریں گے۔تجارتی قافلہ اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کے ذریعے گوادرپہنچا۔آنیوالے وقت میں کاشغرسے گوادراورروٹ پرتجارتی سرگرمیوں میں بے پناہ اضافہ ہوگا۔ایک قومی اخبارمیں شائع شدہ رپورٹ کچھ یوں ہے کہ پاکستان کیلئے گوادرپورٹ قدرت کی طرف سے عطاکردہ ایک تحفہ ہے جس کوچین کی دوستی اوربے پناہ معاونت نے مزیدگراں قدربنادیا۔گوادرپورٹ صرف پاکستان اورچین کیلئے ہی نہیں بلکہ پوری دنیاکیلئے نئے امکانات سے مالامال ہے۔یہاں سے تجارتی سرگرمیوں کے نتیجے میں درآمدات وبرآمدات کادائرہ کاروسطی ایشیاء سے مشرق وسطیٰ تک توفوری اثرانگیزہوگا۔پہلامیگاتجارتی کارگوجوگوادرسے عالمی منڈیوں کیلئے روانہ ہوچکا ہے۔دنیابھرکیلئے پیغام ہے کہ پاکستان آج بدل چکا ہے۔کاشغرسے چلنے والایہ قافلہ گلگت بلتستان سے ہوتاہواپورے پاکستان کی شاہراؤں اورمنزلوں کاسفرطے کرکے بخیروخوبی جب گوادرپہنچاتوایک پرامن پاکستان کی تصویردنیاکے سامنے آئی۔سی پیک ایک امن اوراقتصادی ترقی کاوہ جامع منصوبہ ہے جس سے پاکستان ہرصوبہ،ہرخطہ مستفید ہوگا۔یہی نہیں بلکہ چین اورپاکستان کے علاوہ ایران، افغانستان، وسطی ایشیاکے ممالک بھی مستفیدہوں گے۔اوراس کا کچھ سالوں میں مشرق پربھی مثبت اثر پڑے گا۔اس سے خطے میں معاشی نظام،ترسیل وتجارت،ثقافت اورمعیشت کوفروغ حاصل ہوگا۔یہ منصوبے خطے کی معیشت اورآپس میں بہترروابط استوارکرنے کاذریعہ بنیں گے۔جس سے امن ،وسائل اورہم آہنگی بڑھے گی۔حکومت نے پہلے سے ہی گوادرمیں فری ٹریڈ زون کیلئے اراضی مختص کردی ہے۔اورحکومت نے گوادربندرگاہ اوربلوچستان میں فری ٹریڈزون کیلئے سپیشل رعائت کااعلان کیاہے۔اس کے علاوہ بلوچستان میں انڈسٹریل پارک،پروسیسنگ زون کے منصوبے بھی ترجیحی بنیادوں پرشروع کیے گئے ہیں۔اقتصادی راہداری کے منصوبے کے پہلے مرحلے میں توانائی اورشاہراؤں پرتوجہ دی گئی۔گوادرکوبجلی فراہم کرنے کیلئے ترجیحی بنیادوں پرتین سومیگاواٹ پاورپلانٹ نصب کیاجارہا ہے اوراس کی ترسیل اورفراہمی قومی گریڈ سے ملائی جارہی ہے۔چینی سرمایہ کاروں کومالی اورجانی تحفظ دینے کیلئے خاص انتظام کیاگیاہے۔اس مقصدکے حصول کیلئے سی پیک سپیشل سیکیورٹی فورس کاقیام اورگوادرشہرکوسیف سٹی منصوبے کے تحت بنایاجارہا ہے۔جوکہ سرمایہ کاروں کے اعتمادمیں اضافہ کرنے میں مددگارثابت ہوگا۔ایک نیاانٹرنیشنل ایئرپورٹ بھی تعمیرکیاجارہا ہے۔جس سے سرمایہ کاروں کی آمدورفت بہترہوگی اوربزنس کوفروغ ملے گا۔وزیرمملکت برائے اطلاعات مریم اورنگ زیب کاکہنا ہے کہ گوادرسے کارگوشپ کاآغازترقی کے دورکی نویدہے۔وفاقی وزیربرائے ترقی ،منصوبہ بندی واصلاحات احسن اقبال نے کہا ہے کہ سی پیک اللہ کی طرف سے بہترین تحفہ ہے۔یہ منصوبہ ہماری معیشت کوناقابل تسخیربنائے گامل کراسے کامیاب بنائیں ۔سی پیک ہماری آپس کی سیاست سے بڑامنصوبہ ہے۔مخالفین حیلے بہانوں سے اسے ناکام بنانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔حکومت نے ترجیحی بنیادوں پرسی پیک کے مغربی روٹ کوفعال کردیا۔عابدشیرعلی کہتے ہیں کہ سی پیک منصوبہ پاکستان کیلئے گیم چینجرثابت ہوگا۔چین کے معروف اخبارگلوبل ٹائمزمیں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کچھ یوں ہے کہ اقتصادی راہداری منصوبہ حقیقت بن گیاپاکستان معاشی سرگرمیوں کامرکزبنے گا۔پاکستان اپنے محل وقوع کی وجہ سے دفاعی اورتجارتی اہمیت رکھتاہے۔وہاں سرمایہ کاری کی وجہ سے بھارت سمیت کئی ممالک بیلٹ اینڈروڈمنصوبے پرہچکچاہٹ کاشکارہیں۔بھارت چین کیساتھ اقتصادی تعلقات کوفروغ دینے سے انکارکرتا رہاتوپاکستان خطے کی معاشی ترقی میں اہم کرداراداکرسکتا ہے۔کوئی بھی اچھامنصوبہ ہواس کے حامی بھی ہوتے ہیں اورمخالفین بھی۔پاکستان چین اقتصادی راہداری منصوبے میں شامل ہونے کیلئے ایک طرف کئی ممالک دلچسپی لے رہے ہیں توکئی دشمن ممالک اس کی مخالفت بھی کررہے ہیں اوراس منصوبے کوناکام بنانے کیلئے تمام حربے بھی استعمال کررہے ہیں ۔جب سے اقتصادی راہداری کے مغربی روٹ کوفعال کرنے کوترجیحی دی گئی ہے ۔بلوچستان میں تخریب کاری کے واقعات میں بھی اضافہ ہوگیا ہے ۔ادھربھارت نے بھی سرحدپرچھیڑ خانی جاری رکھی ہوئی ہے۔وہ روزانہ بلااشتعال فائرنگ کیے جارہا ہے۔گوادربندرگاہ کاافتتاح ہونے سے ایک دن پہلے درگاہ شاہ نورانی پربم دھماکہ جس میں پچاس افرادشہیدجبکہ سو سے زائد زخمی ہوئے اوراس منصوبے کے افتتاح کے ایک دن بعدبھمبرسیکٹرمیں بھارتی فوج کی فائرنگ سے سات پاکستانی فوجیوں کی شہادت سے یہ بات اچھی طرح نوٹ کی جاسکتی ہے کہ بھارت اقتصادی راہداری کے منصوبے کوکس طرح ناکام بنانے پرتلا ہواہے۔پاک فوج نے بھی بھرپورجوابی کارروائی میں دشمن کی تین چوکیاں تباہ کردیں اوراس کے بیس فوجی جہنم واصل کیے۔آرمی چیف نے بھارتی جارحیت کامنہ توڑ جواب دینے کیلئے ہدایات کردیں ۔نوازشریف نے کہا کہ بھارت امن کی خواہش کوکمزوری نہ سمجھے ۔بھارتی ہائی کمشنرکودفترخارجہ طلب کرکے احتجاجی مراسلہ بھی تھمایاگیا۔شہبازشریف کہتے ہیں کہ قوم اپنی بہادرافواج کے ساتھ کھڑی ہے دشمن غلط فہمی میں نہ رہے۔بلاول بھٹوزرداری کاکہنا ہے کہ مودی سرکارخون کی پیاسی بن چکی ہے ۔عوام اورافواج مل کرمودی کے خواب چکناچورکردیں گے۔ پیپلزپارٹی شہیدفوجی جوانوں کوخراج تحسین پیش کرتی ہے۔اپوزیشن نے کہا ہے کہ مودی سرکارخون کی پیاسی بن چکی ۔دنیاجنگی جنون کانوٹس لے۔خورشیدشاہ کا کہنا ہے کہ دشمن کومنہ توڑ جواب دیں گے۔مشرف کہتے ہیں سی پیک کے افتتاح سے بھارت کے پیٹ میں مرو ڑا ٹھ رہے ہیں۔برطانوی وزیراعظم سے ملاقات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے فوجیوں کی شہادت کابھارت سے بدلہ لینے کاحق رکھتے ہیں ،بھارتی جارحیت خطے کے استحکام کیلئے بڑاخطرہ ہے۔پاکستان ایسے ہتھکنڈوں سے مرعوب نہیں ہوگا۔اقوام متحدہ نے کنٹرول لائن پرجاری کشیدگی پرتشویش (دراصل مایوسی )کااظہارکرتے ہوئے پاکستان اوربھارت کومذاکرات سے مسائل حل کرنے کامشورہ دیاہے۔ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل عاصم سلیم باجوہ کہتے ہیں کہ بھارت نے اکتوبرسے اب تک ۶۳۲بارجارحیت کی ۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کہا ہے کہ دوماہ کے دوران بھارتی فوج نے دوسوتیس بارسرحدی خلاف ورزی کی جوعالمی قانون کے منہ پرطمانچہ ہے۔فائرنگ سے ۹ پاکستانی فوجیوں سمیت چھبیس افرادشہید ایک سوتیس سے زائد زخمی ہوئے۔شہری آبادی کونشانہ بنایاجارہا ہے۔دفاعی تجزیہ نگارکہتے ہیں بھارتی اشتعال انگیزی کوغیراعلانیہ جنگ قراردے کرمعاملہ سلامتی کونسل میں ا ٹھایاجائے۔

اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت گوادربندرگاہ کے فعال ہونے سے پاکستان ترقی کے نئے دورمیں داخل ہوگیا ہے۔اس منصوبے کوکامیاب بنانے اور مزید ترقی دینے کیلئے ہمیں سیاسی اورذاتی اختلافات سے بالاترہوکرکام کرناہوگا۔پاکستان اورچین کی دوستی کایہ منصوبہ بہت بڑاشاہکار ہے۔کے پی کے حکومت کواس منصوبے پرتحفظات بھی ہیں وہ کہتے ہیں ہمیں کچھ نہیں دیاگیا۔ اب مغربی روٹ سے پہلاتجارتی قافلہ چین سے گوادرپہنچا ہے۔احسن اقبال نے تحفظات دور کرنے کیلئے یقین دہانی کرائی ہے۔ حکومت مزیدبھی ان کے تحفظات دورکرنے کے اقدامات کرے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Siddique Prihar

Read More Articles by Muhammad Siddique Prihar: 336 Articles with 151021 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
16 Nov, 2016 Views: 325

Comments

آپ کی رائے