نئی کرنسی کے سُلگتے ہوئے موضوع پر چند معروضات

(Ata Ur Rehman Noori, India)
اربابِ علم، اہل سیاست اور سرکردہ افراد اپنی ذمہ داریاں نبھائیں

8؍ نومبربروز منگل 2016ء رات 8؍ بجے وزیر اعظم نریندر مودی نے پانچ سو اور ہزار کی نوٹ کے حوالے سے بڑا اعلان کیا جس کے بعد سے ملک ہندوستان کا ہر خاص و عام شہری اور بیرونی ممالک سے تشریف لائے مسافر و سیاحان وقتیہ ہی صحیح مگر فی الحال کافی پریشان اور نت نئے مصائب کا شکار ہیں ۔ اس ضمن میں حکومتی کام کاج پر تبصرہ کرنے کی بجائے راقم (عطاء الرحمن نوری ) یہ کہنا چاہتا ہے کہ جب سرمایہ دار بینک میں اماؤنٹ ڈپازٹ کرنے، متوسط طبقہ اپنی جمع پونجی ایکس چینج کروانے اور غریب افراد بال بچوں کی فکر میں مَگن ہیں تو ایسے سنگین حالات میں اربابِ علم ،اہل سیاست اور معاشرے کے سرکردہ افراد کی ذمہ داریاں مزید بڑھ جاتی ہیں ۔

اہل سیاست کو چاہیے کہ وہ پانی پاؤچ اور گوپال کے پانچ والے ویفر کے بڑے پاکٹ قطار میں لگے لوگوں کو تقسیم کرنے اورسوشل میڈیاپر سستی واہ واہی بٹورنے اور فوٹو کے ساتھ مختلف اخبارات میں نیوز شائع کروانے کی بجائے زمینی سطح پر لوگوں کے مسائل سنے، ان کا حل نکالے اور انھیں راستہ بتائے کے وہ کس طرح قانونی طور پر پُرانی کرنسی جمع کرکے نئی نوٹ حاصل کر سکتے ہیں اور کس طرح اس مصیبت سے بغیر کسی پریشانی کے چھٹکارا پا سکتے ہیں ۔اس امر کے لیے شہر میں وکیلوں، چارٹنٹ اکاؤنٹنٹ ،قانونی صلاح کاروں اور مشیروں کی کمی نہیں ہے ۔روڈ ، گٹر ،بیت الخلاء،اسپیڈ بریکر اور مدمخالف پارٹیوں کی ہر چھوٹی بڑی کارگذاریوں کے نام پر شور مچا کر اپنی دکان چمکانے والے سیاست دانوں کو چاہیے کہ وہ وکیلوں کی فہرست تیار کریں اور ہفتے کے سات دن کے حساب سے روزآنہ الگ الگ وکیلوں کو باری باری معقول تنخواہ پر یا فی سبیل اﷲ اپنی آفس پر متعینہ وقت پر بٹھائے ، عوام کے مسائل سنے اور مذکورہ لوگوں کے ذریعے شہریوں کی تکلیف دور کرنے کی کوشش کریں ۔علمائے کرام کی بارگاہ میں مودبانہ عرض ہے کہ وہ مکمل صورت حال کا جائزہ لیں اور اپنے خطابات کے ذریعے عوام کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں ۔عید کے ایّام میں زکوٰۃ ، بقرعید کے ایّام میں چرم اور سال بھر عوامی فلاح و بہبود اور سماج کلیان کے نام پر صدقات جمع کرنے والوں سے التماس ہیں کہ وہ اپنے ذرائع کا استعمال کرکے پچاس، سو اور نئی نوٹوں کا اہتمام کریں اور ایسے غریب و نادار افراد جن کا بینک میں اکاؤنٹ نہیں ہے، ایسے مریض جو دن بھر لائن میں کھڑے نہیں ہو سکتے اور ایسی خواتین اسلام جن کا کوئی پرسان حال نہیں ہے انھیں نئی نوٹ فراہم کریں تاکہ ان کی زندگی کا نظام چل سکے ، بیمار لوگ دوائیاں خرید سکیں، غریب والدین اپنے بچوں کو بھوک سے بچا سکیں اور جن گے گھر شادی بیاہ کی تقریبات ہیں وہ انھیں بخوبی ادا کرسکیں۔مگر اس کا مطلب یہ بھی نہیں کہ کوئی مدد کررہاہوتو دنیاوی رسومات کی ادائیگی کی خاطر آپ اسلامی تعلیمات کی دھجیان بکھیر دو۔ ضروری معلومات رکھنے والے احباب سے گزارش ہے کہ اپنا فون بند کرنے، گھر میں روپوش ہو جانے اور چڑ چڑاپن ظاہر کرنے کی بجائے خدمت خلق کا فریضہ انجام دیں ۔شہر مالیگاؤں میں بہت سے کارخانہ مالکان نے محض اس لیے پاورلوم فیکٹریاں بند کر دی ہیں کہ مزدوروں کو تنخواہ دینے کے لیے ان کے پاس نئی کرنسی یا رننگ نوٹ نہیں ہے ایسے میں یہی صحیح وقت معلوم ہوتا ہے صلہ رحمی، بھائی چارگی، اخوت اور خدمت خلق جیسے جذبوں کے اظہار کے لیے ۔راقم کو اس بات کا بخوبی احساس ہے کہ مشورہ دینا کس قدر آسان اور عمل کرنا کتنا دشوار ہے ۔شاید ایسے ہی لمحوں کے لیے اصغر گونڈوی نے کہاتھا ؂
چلا جاتا ہوں ہنستا کھیلتا موجِ حوادث سے
اگر آسانیاں ہوں زندگی دشوار ہو جائے

اور ویسے بھی ’’ہمت مرداں مدد خدا‘‘ پر یقین واعتماد کرنے والے ہی تاریخ رقم کر پاتے ہیں ورنہ سستی شہرت،جھوٹی واہ واہی، لوگوں کے نقصان سے اپنا اُلّو سیدھا کرنے والے اور ہر کام میں اپنا ذاتی فائدہ سوچنے والوں کی کمی نہیں ہے مگر تاریخ کے صفحات ان کے نام تو دور ان کے اہل خانہ بھی ان کانشان ِقبر باقی رکھنے کی کوشش نہیں کرتے۔معاشرے میں چند ایسے مفاد پرست لوگوں کے حوالے سے کچھ ایسی باتیں بھی گردش کررہی ہے کہ ہزارروپے کا نو سو اور اکاؤنٹ میں ڈپازٹ کرنے کا دس تا تیس فی صد روپیہ یعنی ایک لاکھ پر دس ہزار تا تیس روپے انھیں بطور معاوضہ چاہیے۔ روپیوں کی چمک دمک میں حلاوتِ ایمانی کا سودا کرنے والوں کوچاہیے کہ شرعی قانون اور ملک کے عدلیہ نظام کے دائرے میں رہتے ہوئے ایک دوسرے کی مدد کی ہر ممکن کوشش کریں ۔فرمایا گیا کہ بغیر کسی مفاد کے زمین والوں کی تم مدد کرو آسمانوں کا خا لق بے حساب تمھیں نوازے گا ۔اس ضمن میں مفتیان کرام کو بھی چاہیے کہ وہ بر وقت شرعی قانون سے عوام کو آگاہ کریں ۔اﷲ پاک سے دعا ہے کہ موت کی آخری ہچکی تک خلق خدا کی خدمت کی توفیق عطا فرمائے ۔آمین
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ataurrahman Noori

Read More Articles by Ataurrahman Noori: 535 Articles with 408379 views »
M.A.,B.Ed.,MH-SET,Journalist & Pharmacist .. View More
18 Nov, 2016 Views: 516

Comments

آپ کی رائے