سوویت یونین بھی ایسے ہی ٹوٹا

(Ghulam Ullah Kiyani, )
1991میں میخائل گورباچوف نے روس میں کرپشن اور کالے دھن کو ختم کرنے کے لئے 50اور100روبل کے کرنسی نوٹ اچانکمنسوخ کر دیئے ۔مگر ملک میں کرپشن ختم نہ ہوئی اور نہ ہی معیشت میں بہتری آئی۔ سوویت یونین ٹوٹ کر بکھر گیا۔ ہو سکتا ہے کہ کرنسی نوٹ زوال کی وجہ نہ بنے ہوں مگر اس اقدام سے زوال کی ابتدا ء ضرور ہوئی۔ دنیا کی ایک ایٹمی سپر پاور ٹوٹ گئی۔ زوال کے چند برس بعد ہی روس نے روبل کے یہ نوٹ بحال کر دیئے۔ بھارت میں وزیراعظم نریندر مودی اچانک فیصلے کرنے اور سرپرائز دینے میں زیادہ سرگرم ہیں۔ وہ مواقع کی تلاش میں رہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کچھ ایسا کریں کہ لوگ دھنگ رہ جائیں۔ اس میں جھوٹ اور فریب کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے۔ بھارتی سیاست اور طرز حکمرانی سے واقف لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ 1000اور 500روپے کے کرنسی نوٹوں کو ختم کرنے کا فیصلہ سیاسی مفادات کے لئے تھا۔ اس میں بھارت سے کرپشن یا کالے دھن کے خاتمے کا کوئی کردار نہیں۔

سب سے بڑے صوبے اتر پردیش یا یوپی اور پنجاب میں انتخابات ہونے والے ہیں۔ مودی اور ان اکے ہمنوا کہتے ہیں کہ بڑے کرنسی نوٹوں کو واپس لینا ایک سرجیکل سٹرائیک ہے۔ وہ اوڑی حملے کے بعد بھارتی فوج کے کسی سرجیکل سٹرائیک کا حوالے دیتے ہیں۔ جب کہ اس سٹرائک سے متعلق سوالات اٹھائے گئے جن کا ابھی تک بی جے پی حکومت یا ان کے وزیر دفاع منوہر پاریکر یا کسی جرنیل نے کوئی جواب نہیں دیا ہے۔ بھارتی پارلیمنٹ میں بھی آزاد کشمیر پر کسی سرجیکل سٹرائیک کا کوئی ثبوت پیش نہیں کیا جا سکا۔ پاکستان نے بھی اس کی تردید کی ہے۔ اگر آزاد کشمیر کے کسی علاقے میں کوئی کمانڈوز حملہ ہوا ہوتا تو اس سے جنگ بندی لائن پر بسنے والے لوگ ضرور باخبر ہوتے۔ لیکن بھارت نے خفت مٹانے کے لئیاب شہری آبادی پر گولہ باری شروع کر دی ہے۔ آزاد کشمیر کے دیگر سیکٹرز میں 2003کے جنگ بندی معاہدے کے بعد بھی بھارت شیلنگ کرتا رہا۔ مگر وادی نیلم بھارتی جارحیت سے بچی رہی۔ اب یہاں بھی گولہ باری ہو رہی ہے۔ جب کہ یہ سمجھا جاتا تھا کہ شاید اقتصادی راہداری یا کسی اور وجہ سے بھارت کا چین کے ساتھ کوئی معاہدہ ہے کہ اس علاقے کو نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔ ایسا کچھ بھی نہیں تھا۔ بھارتی جارحیت سب پر عیاں ہے۔ وہ سرجیکل سٹرائیک کا جھوٹ بول کر اپنے عوام کو گمراہ اور فوج کے گرتے ہوئے مورال کے لئے سہارے تلاش کر رہا ہے۔ اسی لئے سرجیکل سٹرائیک ایک مضحکہ خیز ضرب المثل بن رہی ہے۔ مودی کے ہر ایک فیصلے کو سرجیکل سٹرائیک کا نام دیا جاتا ہے۔

گزشتہ کئی دنوں سے بھارت کے بینکوں اور اے ٹی ایمز کے باہر لمبی لمبی قطاریں لگی ہیں۔ یہ نظارہ میڈیا پر بھی کیا جا رہا ہے۔ بڑے نوٹوں کی تبدیلی کے لئے لوگ پریشان ہیں۔ وہ جگہ جگہ مظاہرے کر رہے ہیں۔ فیس بک پر لوگ مودی کو پاگل قرار دیتے ہٰیں کہ اسے اچانک کیا سوجھی جو عوام کو پریشان کر دیا۔ اس سے کون سا کالا دھن ختم ہو گا یا کرپشن بند ہو گی۔ لوگ مودی کا مذاق اڑاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ مودی کے اس فیصلے کو اب دہشت گردی کے خاتمے سے بھی جوڑ دیا گیا ہے۔ بھارتی وزیر دفاع نے بیان دیاہے کہ پانچ سو اور ایک ہزار کے نوٹوں کو ختم کرنے کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں نوجوان بھارتی فورسز پر پتھراؤ نہیں کرتے۔ اس وجہ سے سنگ باری بند ہو چکی ہے۔ موصوف اور ان کے ہمنوا کہتے ہیں کہ پاکستان سے ہزاروں کشمیری نوجوانوں ، بچوں اور خواتین کے لئے پانچ سو اور ایک ہزار کے کرنسی نوٹ آتے تھا۔ جب یہ تقسیم ہوتے تو لوگ بھارتی فورسز پر پیسے لے کر پتھراؤ شروع کر دیتے۔ یہ بھارت کے وزیر دفاع کا بیان ہے۔ جس پر بھارتی عوام ماتم کریں۔ بھارت کے کابینہ وزیر کی عقل پر ماتم کیا جائے۔ جو پاکستان دشمنی میں اور بھارتی عوام کو گمراہ کرنے کے لئے خود اپنا مذاق اڑانا پسند کرتے ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے خلاف موجودہ عوامی مزاحمت کا پانچوں مہینہ ہے۔ تجارتی مراکز، دفاتر، تعلیمی ادارے، بینک ، پٹرول پمپ بند ہیں۔ اب تعلیمی سال ضائع ہونے سے بچانے کے لئے طلباء و طالبات امتحانات دے رہے ہیں۔ اگر چہ وہ اس پر ہر گز آمادہ نہ تھے مگر آزادی پسند رہنماؤں کی مداخلت اور والدین کی رضامندی سے وہ اس پر آمادہ وہ گئے۔ اس لئے ہو سکتا ہے کہ قابض فورسز پر پتھراؤ کے واقعات میں کمی آئی ہو۔ دنیا کی تاریخ میں اس کی مثال کہاں ملے گی کہ 80لاکھ کی آبادی والے کسی خطے میں پانچ ماہ تک مسلسل کرفیو لگا ہے۔ کوئی دو دن کرفیو کو برداشت نہیں کر سکتا۔ اگر کوئی ایک گھنٹہ کے لئے گھر میں یا کسی سڑک کر بند ہو جائے تو صورتحال کیسی ہوتی ہے۔ لیکن آفرین ہے کشمیریوں پر جنھوں نے پانچ ماہ سے بھارتی فورسز کا کرفیو، مار دھاڑ، قتل عام، گرفتاریاں ، پیلٹ گولیاں برداشت کیں۔ بلکہ کرفیو توڑ کر بھارت کے خلاف اور آزادی کے حق میں مظاہرے کئے۔ کشمیری بچے بھی آج بھارتی فوجی کی بندوق کے آگے سینہ تان کر کھڑے ہو جاتے ہیں۔ کشمیری بھارت کے غلام ہیں لیکن ان کے ذہن آزاد ہیں۔ بھارت دلوں پر حکومت نہیں کر سکتا۔ دل و دماغ جیتنے کے لئے عزت اور وقار سے حقوق دیے جاتے ہیں۔ بندوق کی نوک پر یا جبر اور دباؤ یا تعصب اور تذلیل سے نفرتین اور دوریاں مزید بڑھ جاتی ہیں۔ بھارت سے کشمیری بالکل کت چکے ہیں۔ بہت دور جا چکے ہیں۔ بھارتی پالیسی سازوں کو یہ حقیقت پتہ نہیں کب سمجھ آئے گی۔ شاید تب جب بھارت ٹوٹے گا۔ شاید تب جب اس کا حشر بھی سوویت یونین جیسا ہو گا۔ وزیر اعظم مودی کرتب دکھا رہے ہیں۔ ان کے وزیر مشیر دھمال ڈال رہے ہیں۔ اس سے ملک میں نہ کرپشن ختم ہوتی ہے اور نہ ہی کالا دھن بند ہو گا۔ کرنسی نوٹوں کا کشمیری تحریک آزادی سے کوئی تعلق نہیں۔ بھارت حوالہ کا ذکر بھی کرتا ہے۔ بھارت میں ہا ہا کار مچی ہوئی ہے۔احتجاج ہو رہے ہیں۔ مگر کشمیر میں بینکو ں اور اے ٹی ایمز کے سامنے قطاریں نہیں۔ بڑے نوٹ بند ہونے یا دو ہزار کا نیا نوٹ متعارف ہونے پر عوام میں کوئی بے چینی نہیں۔ بھارتی حکمران اپنے عوام کو جھوٹ سے گمراہ کرنے کا سلسلہ جاری رکھیں۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulamullah Kyani

Read More Articles by Ghulamullah Kyani: 575 Articles with 221275 views »
Simple and Clear, Friendly, Love humanity....Helpful...Trying to become a responsible citizen..... View More
18 Nov, 2016 Views: 572

Comments

آپ کی رائے