ظالما !۔کبھی سچ تو بتا دے !!

(Qadir Khan, Lahore)
مائنس ون سے پلس ون کا ایک نیا فارمولا سامنے آیا ہے۔ پاکستانی سیاسی اصلاحات میں مائنس ون کا فارمولا نیا نہیں ہے ، اس لئے اس پر بات کرنے کے بجائے ، موجودہ پلس ون پر صرف اتناکہوں گا کہ جب اپوزیشن لیڈر خواجہ اظہار الحسن سے غیر رسمی بات کررہا تھا تو ، انھوں نے مجھے بتایا کہ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف سے ملاقات ہوئے کئی ہفتے ہوگئے ، وہ چاہتے تھے کہ ان سے ملاقات کی خبروں و تصاویر کو ایم کیو ایم پاکستان جاری کرے ، لیکن اس حوالے سے ایم کیو ایم پاکستان نے کوئی بیان جاری نہیں کیا تو ، پھر مشرف صاحب نے خود ہی تصاویر جاری کردیں۔فاروق ستار نے اس بات کی وضاحت تو فی الحال کی ہے کہ قیادت کے لئے کوئی اسامی خالی نہیں ہے۔لیکن کراچی میں بڑی سیاسی تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں ۔ جس میں سب سے پہلے گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العباد کی برطرفی ہے۔ نواز حکومت نے کراچی کے سیاسی معاملات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ایک صائب فیصلہ تو کیا ، لیکن 80سالہ ایک بیمار شخصیت کو اتنی بھاری ذمے داری دینا ، کسی بھی سیاسی حلقے کو ہضم نہیں ہو رہا ۔ سابق ہائی کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں ، ایک انتہائی معتبر نام رکھتے ہیں۔ لیکن کچھ حلقوں نے اس پر ذاتی رائے کا بھی اظہار کیا ہے کہ گورنر سندھ کی صحت کے حوالے سے طبیعت انتہائی ناساز ہے ، کیونکہ پاکستان کا خزانہ اشرافیہ کیلئے مخصوص ہے اس لئے اب سرکاری خزانے سے ان کے تمام اخراجات ، جن کی لاگت کروڑوں روپوں تک جائے گی ،عوام خزانے سے ادا کیں جائیں گی۔ جسٹس (ر) سعید الزماں صدیقی کوئی راستے میں پڑی ہوئی شخصیت بھی نہیں ہونگے ، لیکن میاں نواز شریف کی یہ عادت ثانیہ ہے کہ وہ خود پر کئے جانے والے احسانوں کو سرکاری طور پر اتارنا، بہتر سمجھتے ہیں۔ صدر پاکستان ممنون حسین کی ممنونیت کی داستانیں ابھی اتنی پرانی نہیں ہوئی کہ انھیں صدر کیوں بنایا گیا ۔ اب موجودہ گورنر کو نوازنے کی وجوہات بھی سامنے آچکی ہیں ، لیکن یہاں اس پر کوئی تنقید نہیں کریں گے ،کیونکہ یہ وفاق کا استحقاق ہے کہ وہ چاہے تو کسی کو بھی روڈ سے اٹھا کرگورنربنا سکتا ہے، عوامی ووٹ سے منتخب نہ ہونے والے کو وزیر بنا سکتا ہے ، لیکن بات سمجھنے کی یہ ہے کہ اگر متحرک سیاسی گورنر ، سندھ میں تعینات کیا جاتا تو یقینی طور پر انھیں کراچی کے حالات میں اپنا کردار ادا کرنے کیلئے متحرک ہونا پڑتا ۔ لیکن نواز حکومت نے ایک ایسے شخص کو گورنر بنا دیا ، جو سیڑھیاں نہیں چل سکتا ، بھلا ، وہ سندھ کو ترقی کی سیڑھیاں چڑھانے کیلئے کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔وفاق نے اپنا کمزور نمائندہ کیوں نامزد کیا ۔ اس حوالے سے کم ازکم یہ بہتر ہے کہ اگر ممتاز بھٹو ، غوث علی شاہ، معین حیدر، یا نہال ہاشمی جیسے تند و تیز مزاج گورنر سندھ میں تعینات ہوجاتے تو پھر سندھ میں پنجاب والا ماحول پیدا ہوجاتا ۔ گورنر بننے کیلئے کئی پٹے ہوئے مہرے ، لائن میں کھڑے تھے ، لیکن نواز حکومت کو ایسے شخص کی ضرورت تھی جو خود اپنے پیروں پر کھڑا نا ہوسکے ۔ اﷲ تعالی انھیں صحت دے ۔ لیکن اس عمل سے میاں نواز شریف کی آمرانہ سوچ کی عکاسی ہوتی ہے ، جیسے اپوزیشن بادشاہت قرار دیتے ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان ، لندن اور پاک سر زمین پارٹی کو گورنر کے جانے سے نقصان ہوا ۔ دوبئی ملاقاتیں ابھی ہوئیں یا پہلے ، لیکن تاثر یہی جا رہا ہے کہ ایم کیو ایم پاکستان کو ایک ایسی شخصیت کی ضرورت ہے ، جس کے تعلقات اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے ہوں ۔ سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے امریکہ ، برطانیہ ، سعودی عرب سمیت دنیا بھر اور پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں ، اب تو یہ انھوں نے کہہ دیا ہے کہ ان کے پاس جگہ خریدنے کیلئے پیسے نہیں تھے تو انکی بھرپور مالی معاونت عرب فرما رواکی جانب سے کی گئی ، اور سب جانتے ہیں کہ پاکستان عرب کو ناراض نہیں کرسکتا ، برطانیہ اورامریکہ عرب کو ناراض نہیں کرسکتا ، اور پاکستان امریکہ کو ناراض نہیں کرسکتا ، اس لئے یہ شطرنج کی آسان بازی ہے ، لیکن معاملہ شاہ پر آکر رکا ہوا ہے پاکستان میں عدلیہ آزاد اور سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف مفرور ہیں، آرٹیکل 6کا سنگین مقدمہ چل رہا ہے بلوچستان کے حالات کے تناظر میں اکبر بگٹی کیس گلے میں ہڈی بنا ہوا ہے ، سابق صدر جنرل (ر) پرویز مشرف کے لئے ان حالات میں ممکن نہیں ہے کہ وہ کھلے طور پر پاکستان میں کوئی اہم کردار ادا کرسکیں۔ لیکن جمہوریت کی بساط اگر الٹ جاتی ہے تو پھر ان کیلئے آسان ہے کہ مقدمات بھی ختم ہوجائیں اور ان کی سیاسی جماعت کنگ میکر پارٹی بن جائے۔ لیکن نواز حکومت کی قسمت اچھی ہے کہ عمران خان نے سیاسی طریقہ اپنانے کے بجائے نواز حکومت کی پوری گورنمنٹ کو گرانے کی دو مرتبہ کوشش کی ۔ لیکن انھیں دونوں مرتبہ ناکامی ہوئی ، ابھی ’ نامعلوم ‘ افراد مشرف بھائی کی ضرورت ہے ،کے بینر فاروق ستار کے ساتھ لگا رہے ہیں، تو کس کو کیا بتانا چاہتے ہیں ، اس سے بھی پاکستان کی عوام بخوبی آگاہ ہیں ۔ لیکن یہ بات طے ہے کہ جیسے جیسے پاکستانی عام انتخابات قریب آتے جائیں گے ، موسمی پرندے واپس اپنے پرانے گھونسلوں میں آتے جائیں گے ۔ مصطفی کمال ، بحریہ ٹاؤن میں ملازمت کرتے نظر آئیں گے ۔ پاکستانی انتخابات میں تخت کراچی کو تقسیم ہونے سے بچانے کیلئے پاک سر زمین پارٹی اور ایم کیو ایم پاکستان کے درمیان اتفاق ناممکن نہیں ہے ۔ ورنہ یہ میرے لکھے الفاظ ضرور یاد رکھئے کہ ایم کیو ایم کے علاقوں سے مصطفی کمال اگر خود بھی کھڑے ہوجائیں ، تو وہ بھی کامیاب نہیں ہوسکتے۔ تخت کراچی کیلئے ان کا اتحاد ناگزیر ہے ، لندن گروپ کا کراچی میں زمینی تنظیمی ڈھانچہ نہیں ہے ، لیکن جلسہ ایم کیو ایم پاکستان کا ہو اور نعرے الطاف کے لگیں ، تو سمجھ جائیں کہ فاروق ستار درست کہتے ہیں کہ ایم کیو ایم ایک ہی ہے ۔پاکستان پیپلز پارٹی نے وزیر اعلی سندھ کو تبدیل تو کردیا ، لیکن ابھی تک ان کی پالیسی تبدیل نہیں ہوئی ہے ، سندھ کا وزیر اعلی اب بھی خود مختار نہیں ہے ، احکامات لینے کیلئے انھیں بار بار دوبئی جانا پڑتا ہے۔پاکستان کی سیاسی صورتحال میں سپریم کورٹ نے بروقت کردار ادا کیا ۔ ہونا تو وہی تھا جو پاکستان میں ہوتا ہے ۔ لیکن پاکستان میں ہر جماعت میں بادشاہ ہے ، اور ہر جماعت کے جانشین ان کی اولادیں ہیں۔ پاکستان میں پارلیمانی نظام ناکام ہوچکا ہے ، دو ایوان پر مشتمل ایوان پاکستان پر بہت بھاری بوجھ ہے ، سستا اور جلد انصاف ملنا نا ممکن ہے ۔ جب تک بادشاہت رہے گی ، اس قسم کے فیصلے ہوتے رہیں گے ۔ ہمیں اس نظام کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان میں فرقہ وارنہ ہم آہنگی نہ ہونے کی وجہ سے ممکن نہیں ہے کہ اسلامی ریاست کا خواب ، شرمندہ تعبیر ہوسکے ۔ ہماری خارجہ پالیسیاں صرف مخصوص ذاتی مفادات تک محدود ہیں ، 15سال پاکستان نے امریکہ کو پورٹ سے فری ٹیکس سروس فراہم کی ۔جس سے اربوں ڈالر جو پاکستان کو مل سکتے تھے ، وہ نہیں ملے ، 8مہینے جب سلالہ چیک پوسٹ کے ردعمل میں نیٹو سروس بند کردی تھی تو امریکہ نے 1700ڈالر فی کنٹینر دوسرے ملک کو تو ادا کئے ، لیکن لاکھوں کنٹینرز کو پاکستان نے مفت سروس دی ، اور پاکستان الگ سے دہشت گردی کا شکار ہوکر اپنا نفرا اسٹرکچر تباہ کربیٹھا ۔ پاک ، چائنا اقتصادی راہدری میں بھی یہی کچھ ہو رہا ہے کہ چین نے جو رقم قرض کی صورت میں دی ہے ، اس کو سود سمیت ادا بھی کرنا ہوگا اور امریکہ کی طرح چین کیلئے تمام مراعات بالکل مفت ہیں۔پاکستان سرمایہ کاری کرتا ہے یا پھر ہمارے حکمران ، یہ بات سمجھنے کی ہے۔یہ وہ سوچ ہے کہ جو پاکستانی عوام کو اپنے لیڈروں کے حصار سے باہر نہیں نکلنے دیتی ، ان میں یہ شعور نہیں پیدا کرنے دیتی کہ اخبار میں جو لکھا جاتا ہے ،ان کے شعور کی بیداری کے لئے ہے۔ عدلیہ کے مطابق اس کو پکوڑے بیچنے کیلئے نہیں چھاپا جاتا ہے۔ سندھ میں جسٹس (ر) سعید الزمان جیسے ضعیف اور غیر متحرک گورنر تعینات کئے جاتے رہیں گے ۔ ایم کیو ایم پاکستان ، ہو یا پرویز مشرف ۔الیکڑونک میڈیا کو نئے نئے چورن دیتے جائیں گے ۔ پی ایس پی ، مجرموں کو صاف کرنے میں جتی رہے گی ، پی پی پی ، احکامات کے لئے دوبئی جاتے رہے گی ، پاکستان مسلم لیگ ن باشاہت کرتے رہے گی اور سیاسی جماعتوں کو پاک ، چائنا اقتصادی راہدری پر لڑاتے رہے گی ، عوام کو اس بات کا کون جواب دے گا کہ پاکستانی عوام کو اس سے فائدہ کیا ملے گا ۔ ظالما ! کبھی سچ تو بتا دے !!۔۔۔۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Qadir Khan

Read More Articles by Qadir Khan: 373 Articles with 145423 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
19 Nov, 2016 Views: 511

Comments

آپ کی رائے
Qadir Khan I appreciate your article بتا سچ تو ۔کبھ !الماظ of 16 November 2016. I wish such articles are written by other patriot Pakaitanis also to educate the poor masses about the benefits of CPEC going to China viz a viz Pakistan. It is an irony that many clauses of any MOU/Contract signed between Pakistan and any foreign country, are not available to Media or masses for proper analysis. The so called leaders, supposed to look into interest of the masses and Pakistan, are totally least concerned about the MOU/Contract because of two reasons: (1) It is beyond their capability to comprehend the minor details and their effects on Pakistan’s economy. (2) These politicians donot have time to waste on the study of such contracts. They have more important issues at home - leg pulling and mud splashing on rival leaders. Their aim is limited - how to impress the illiterate, poor voters to use them in their favour in general election. They lack farsight and vision. They are only the politicians and not Leaders. Alas! As a nation we are passing through an era of "Qehet - ur - Rijjal" and above all, we "Lack Realization of the same" as well.
By: sarwar, lahore on Nov, 20 2016
Reply Reply
0 Like