پانامہ لیکس ۔بے لاگ احتساب کی ضرورت کیوں ؟

(Roshan Khattak, Peshawar)
 الیکشن کے موسم میں سیاستدانوں کے بیانات سنیں، ان کے عوام سے کئے گئے وعدے سنیں تو یوں لگتا ہے ، کہ جب یہ سیاستدان بر سرِ اقتدار آئیں گے تو ملک میں ہر طرف ترقی وخوشحالی کا دور دورہ ہوگا اور غریب عوام سکھ کی نیند سویا کریں گے مگر الیکشن گزرنے اور بر سرِاقتدار آنے کے بعد کسی بھی سیاسی پارٹی کو اپنا منشور یا عوام سے کئے گئے وعدے یاد نہیں رہتے۔اکثر اوقات وہ ان وعدوں کو بھی پورا نہیں کرتے جو آسانی سے پورے کئے جا سکتے ہیں۔ اس مسلمہ حقیقت کے بہت سارے وجوہات ہیں مگر ان میں قابلِ ذکر وجوہات یہ ہیں کہ اول تو کہ ہماری سیاسی قائدین میں اہلیت ہی نہیں ہو تی کہ وہ حکومت کو چلا سکیں، دوم اقتدار کے بعد ان کی ترجیحات بدل جاتی ہیں، سوم کرپشن، ذاتی مفادات کا حصول،چہارم منتخب اراکین کی خواہشات و سفارشات کا کردار ایسی باتیں ہیں جن کی وجہ سے ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ان وجوہات کی بناء پر ہمارے معاشرے میں سیاست کا مفہوم بدل چکا ہے،عام طور پر لوگ سیاست کو فریب اور جھوٹ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔

قائد اعظم کو زندگی نے مہلت نہ دی ورنہ انہوں نے بے شمار تقاریر میں اپنے تصورِ پاکستان کو واضح کیا تھا اور کہا تھا کہ پاکستان ایک اسلامی،فلاحی،جمہوری اور روشن خیال ملک ہو گا ۔ان کی ۱۱ ،اگست کی کی تقریر کرپشن،سفارش،فرقہ واریت اور منافع خوری وغیرہ کے خلاف جہاد اور اقلیتوں کو برابر حقوق دینے کا ایک قسم کا منشور تھا ۔جس کو بعض لوگ سیکو لر زم کا رنگ چڑھاتے ہیں ،حالانکہ ان کی یہ ساری باتیں اسلامی نظام کے نمایاں خطوط ہیں ،جس کی بے شمار مثالیں خلافتِ راشدہ کے دور میں ملتی ہیں۔قائد اعظم نے بحیثیت گورنر جنرلٖٔ پاکستان،ایک سال کے دوران جس طرح قومی خزانے کے تقدس، پائی پائی کا حساب،سادگی،قانون کی حکمرانی،اقرباء پروری کی نفی،کرپشن کے خاتمے، اقلیتوں کے حقوق اور ملکی وقار کی مثالیں قائم کیں ان کی مثال ہماری 70سالہ تاریخ میں نہیں ملتی۔ قائد اعظم کی رحلت کے بعد لیاقت علی خان آئے مگر انہیں بھی زیادہ عرصہ تک حکومت کرنے کی مہلت نہ ملی ۔وہ شہید ہو گئے تو ملکی اقتدار پر بیورو کریسی، جاگیردار،اور خود غرض سیاستدان حاوی ہو گئے اور قائد اعظم کے منشور کو پس پشت ڈال دیا گیا ۔اس کے باوجود جنرل ضیائالحق کے دور حکومت تک ایسی لوٹ مار نہیں تھی جو آج ہے، حکمرانوں کا دامن مالی کرپشن،کمیشن خوری،اقربا پروری،غیر ممالک میں اثاثہ جات اور قومی خزانے کے بے دریغ ضیاع جیسے الزامات سے تقریبا صاف رہا ۔مگرگزشتہ تقریبا تین دہائیوں کے دوران اقتدار میں آنے والی سیاسی و منتخب حکومتوں نے کبھی بھی اپنے انتخابی منشور اور عوام سے کئے گئے وعدے پورے نہیں کئے،معاشی خوشحالی، لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ اور کرپشن کا انسداد ہمیشہ ان کے منشور کا نمایاں حصہ رہا مگر ان کا جو حشر ہوا ہے وہ آج ہم سب کے سامنے ہے البتہ ہم نے دیکھا کہ کرپشن نے دن دوگنی رات چوگنی ترقی کر لی اور کر رہی ہے ۔ہمارے حکمرانوں کے بیرونِ ملک اثاثے تیزی سے بڑھ رہے ہیں حکمران طبقہ آمیر سے آمیر تر اور غریب طبقہ غریب سے غریب تر ہو رہا ہے ۔ یہ سلسلہ جاری و ساری ہے ،پتہ نہیں ،یہ کب تک جاری و ساری رہے گا،نہ جانے کون اس سلسلے کو روکے گا اور بے رحم احتساب کر کے لو ٹ مار، قومی وسائل کے ضیاع اور حمرانوں کے عیا شیوں کو کٹہرے میں کھڑا کرے گا ۔اس طوفانِ بد تمیزی کو روکنے کے لئے آخر کسی کو تو آگے آنا چا ہیئے ورنہ ملک ایسے تو نہیں چلتے جیسے ہمارے حکمران چلا رہے ہیں ۔اﷲ تعالیٰ کے ودیعت کردہ تمام نعمتوں سے مالا مال ملک ، مگر غربت کا یہ بسیرا ، آخر کچھ تو ہونا چاہئے۔اس لوٹ مار کے آگے کسی کو تو بند باندھنا چا ہئے۔عمران خان کم از کم اس کریڈیٹ کا حقدار ضرور ہے کہ اس نے پانامہ لیکس کے ایشو کو زندہ رکھا ہوا ہے اور اس حوالے سے ایک حد تک عوام میں شعور کی لہر پیدا کی ہے اور اس مسئلہ کو اب ملک کی سب سے اعلیٰ عدالت سپریم کورٹ تک پہنچا دیا ہے ۔ ورنہ اب تک پانامہ لیکس یقینا قصہ پارینہ بن چکا ہو تا ۔ملکی وسائل کی چوری اور منی لانڈرنگ کے ذریعے قومی دولت کی بیرونِ ملک منتقلی پاکستانی عوام کی استحصال کی ایک المناک داستان ہے ،اس طرح کے وارداتوں نے نے پاکستان کو غربت اور کرپشن کے چنگل سے نکلنے نہیں دیا ۔بناء بر ایں ہم سمجھتے ہیں کہ اس کے خلاف جو بھی مہم جو ئی کرے گا ،وہ ایک عظیم قومی خد مت ہے ۔ہماری یہ بھی تمنا اور دعا ہے کہ اﷲ تعالیٰ ہماری سپریم کورٹ کو یہ ہمت اور جرات عطا کر دے کہ وہ بے لاگ احتساب کرے اور کیونکہ۔۔۔بے لاگ۔۔ احتساب پاکستان کی مستقبل کی ضمانت ہے ․․․․
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 266 Articles with 154599 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More
21 Nov, 2016 Views: 351

Comments

آپ کی رائے