صوبہ بلوچستان ، حکومتی خزانے میں اضافے کا سبب

(Syed Muhammad Ishtiaq, Karachi)
کہا جاتا ہے صوبہ بلوچستان معدنی دولت سے مالا مال خطّہ ہے ۔ قدرتی گیس صوبے کا وہ خزانہ ہے جس کی دریافت سے جہاں عوام کو قدرتی گیس کی آزادانہ استعمال کی سہولت حاصل ہوئی ہے۔ وہیں وفاقی اور صوبائی حکومت کے بھی مالی وسائل میں بھی اضافے کا سبب ہے۔ اسی طرح سیپیک منصوبے پر مکمل عمل درآمد کے بعد، وفاقی اور صوبائی حکومت کو گوادر پورٹ سے بھی اپنے خزانوں کو مزید بھرنے کی قوی امید ہے۔ سیپیک منصوبے کا خاکہ سابق وزیراعظم شوکت عزیز نے پیش کیاتھا لیکن ان کی حکومت کو منصوبے کو عملی جامہ پہنانے کا وقت میّسر نہیں آیا۔ پیپلز پارٹی کے دور میں بھی منصوبے کی جانب توجہ دی گئی لیکن امن وا مان کی خراب صورتحال کے باعث منصوبے پر پیش رفت نہ ہوسکی۔ موجودہ حکومت نے نیشنل ایکشن پلان میں کسی درجے کامیابی کے بعد فوج اور حکومت چین کی مدد سے سیپیک منصوبے کو تمام تر مخالفت کے بعد اتنا مکمل کرلیا ہے کہ گوادر پورٹ سے چینی اور پاکستانی تجارتی مصنوعات سے لدا ہو ا ، دو جہازوں پر مشتمل تجارتی قافلہ مشرق وسطی، افریقی اور یورپی ممالک کو روانہ کیا جاسکے۔
 
11 نومبر 2016 کو دوجہاز گوادر پورٹ سے تجارتی مہم پر باقاعدہ طور پر روانہ بھی کردیے گئے لیکن اس سے ایک دن قبل بلوچستان میں درگاہ شاہ نورانی میں ایک دھماکا ہوا اور پچاس سے زائد زائرین کو اپنی جان سے ہاتھ دھونے پڑے اور بے شمار لوگ زخمی ہوئے ۔ حکومت نے اس دھماکے کو بھی خود کش دھماکا قرار دیا اور عوام کو بتایا دھماکے کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے۔ دھماکے کے بعد سب سے تازہ ترین دھماکا خیز خبر حکومتی ذرایع کی جانب سے یہی آئی ہے کہ درگاہ شاہ نورانی اب محکمہ اوقاف کے سپرد کردیا گیا ہے۔ اس خبر کو سننے کے بعد یہی کہا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز ہونے والا دھماکا بھی حکومت کے لیے مالی منفعت کا پیغام لایا ہے ۔ جو بلوچستان کے عوام کی طرف سے حکومت کو ایک اور مالی تحفہ ہے۔ کہنے والے تو یہ بھی کہتے ہیں کہ محکمہ انسداد دہشت گردی کی ناکامی کے بعد اس ادارے کی افادیت ختم ہونے کے باعث اس کا نام محکمہ انسداد دھرنا رکھ دیا جائے اور محکمے میں پنجاب پولیس سے دھرنا ناکام بنانے والے اہل کاروں کو بھرتی کرکے امریکا کی جانب روانہ کردیں کیونکہ وہاں بھی انتخابات کے بعد مظاہروں، دھرنوں اور انسدا د دھاندلی کی تحاریک دم پکڑ رہی ہیں۔ اس طرح حکومت کو قیمتی زرمبادلہ بھی حاصل ہو نے کی توقع ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Syed Muhammad Ishtiaq

Read More Articles by Syed Muhammad Ishtiaq: 44 Articles with 20577 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Nov, 2016 Views: 320

Comments

آپ کی رائے