پاکستان میں غربت……حکومت کہاں ہے؟

(عابد محمود عزام, Karachi)
ملک میں آئے روز پیش آنے والے نت نئے مسائل کی وجہ سے عوام کی مشکلات اور پریشانیوں میں ہوشربا اضافہ ہوتا ہے۔ بدامنی و دہشتگردی، بے روزگاری، ناانصافی، کرپشن اور دیگر بہت سے مسائل کے ساتھ ساتھ غربت کے اضافے نے اس ملک کے باسیوں کی نیندیں حرام کر رکھی ہیں۔ پاکستان کو درپیش مسائل میں سے غربت ایک بڑا مسئلہ ہے، جو اپنے ساتھ اور کئی مسائل پیدا کرتی ہے۔ ملک میں ساڑھے 29 فیصد آبادی خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، حکومت نے بھی اعتراف کرلیا ہے۔ بدھ کوقومی اسمبلی میں ملک میں غربت کے حوالے سے پیش کیے گئے اعداد وشمار کے مطابق ملک میں پانچ کروڑ 30 لاکھ سے زاید افراد خط غربت سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق تین ہزار 30 روپے ماہانہ سے کم آمدن کمانے والے فرد کو خط غربت سے نیچے تصور کیا گیا ہے۔ موجودہ دور میں پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ غربت ہے، جس کی وجہ مہنگائی میں روز بروز اضافہ، دولت کی غیر مساویانہ تقسیم، وسائل میں کمی، بیروزگاری اور بڑھتی ہوئی آبادی ہے۔ دوسری جانب ان اعداد وشمار کے بر خلاف اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ پاکستان کی آبادی کا 39 فیصد حصہ غربت کا شکار ہے۔ یو این ڈی پی کے مطابق فاٹا اور بلو چستان میں 70 فیصد سے زاید آبادی غربت کا شکار ہے۔ سندھ میں 43، پنجاب میں 31، جبکہ کے پی کے میں 49 فیصد یعنی لگ بھگ آدھی آبادی غریب ہے۔ یاد رہے رواں سال جون میں حکومت نے غربت سے متعلق تازہ ترین رپورٹ جاری کی تھی، جس کے مطابق پاکستان کی 38 اعشاریہ 8 فیصد آبادی غربت کا شکار ہے۔ صوبائی لحاظ سے غربت کی یہ شرح صوبہ بلوچستان میں سب سے زیادہ 55 اعشاریہ 3 فیصد، صوبہ سندھ میں 53 اعشاریہ پانچ فیصد، صوبہ خیبرپختونخوا میں 50 فیصد اور پنجاب میں سب سے کم صرف 48 اعشاریہ چار فیصد ہے۔ وزارت منصوبہ بندی کے مطابق اس شخص کو غریب شمار کیا گیا ہے، جو ماہانہ تین ہزار 30 روپے سے کم کماتا ہو، جو اس سے اوپر کماتا ہو، وہ غریب شمار نہیں ہوگا، حالانکہ غربت کے اس پیمانے کو کسی طور بھی ٹھیک نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ اس دور میں تین ہزار روپے سے تو کسی طرح بھی ضروریات زندگی پوری نہیں ہوسکتیں۔ ماہانہ تین ہزار روپے سے ایک شخص بھی روز کھانے کا بندوبست نہیں کرسکتا،حکومت کو چاہیے تھا کہ اس شخص کو غریب شمار کیا جاتا جو کم از کم پندرہ، بیس ہزار روپے سے کم کماتا ہو، اس صورت میں پاکستان میں خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کی تعداد شاید دس کروڑ سے بھی بڑھ جاتی۔

غربت کو کئی مسائل کو جنم دینے والی ماں بھی کہا جاتا ہے۔ غربت کے بطن سے جرائم بھی بہت پیدا ہوتے ہیں اور جہالت میں بھی اضافے کا سبب بنتی ہے۔ ملک کی مجموعی پیداوار اور اقتصادی سرگرمیوں میں بھی رکاوٹیں پیدا کرنے کی وجہ بنتی ہے۔ پاکستان کے حالات کے تناظر میں یہ صیح اندازہ لگانا بھی مشکل ہے کہ کل کتنے لوگ غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں، لیکن جگہ جگہ مانگنے والوں کی تعداد اور مزدوروں کی مزدوری کے معاوضوں سے بھی کافی حد تک غربت کی نشاندہی ہوتی ہے۔ پاکستان کی مجموعی آبادی میں غریب شہریوں کے تناسب میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ چند ماہ قبل میڈیا پر یہ خبر آئی تھی کہ حکمرانوں کی نااہلیوں کے باعث پاکستان معاشی ترقی میں بنگلا دیش سے بھی پیچھے رہ گیا ہے۔ پاکستان میں کمزور مالیاتی اداروں، بے جا حکومتی اخراجات، حکمرانوں کی قومی خزانوں سے لوٹ مار، ٹیکس چوری اور کرپشن کی وجہ سے ملک کی معیشت کمزور اور غربت اور مہنگائی کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے۔ پاکستان میں غربت بڑھنے کی وجہ حکومت کی غریب دشمن ناکام اقتصادی پالیساں ہیں، کیونکہ اقتصادی پالیسوں میں ہمیشہ ملک کے طاقتور طبقے کو فائدہ پہنچایا جا تا ہے، جس کے اثرات براہ راست غریب عوام پر پڑتے ہیں۔ گزشتہ روز بھی طاقتور طبقے کو فائدہ پہنچانے کے لیے قومی اسمبلی سے پراپرٹی کے کالے دھن کو سفید کرنے کا بل منظور کیا گیا ہے، جس کے مطابق صرف تین فیصد دے کر پراپرٹی کے کالے دھن کو سفید کیا جاسکے گا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ مخالفت کے باوجود یہ بل اس لیے پاس ہو گیا کیونکہ اسمبلی میں شامل ممبران کے اپنے ذاتی کاروباری مفاد کا معاملہ تھا۔ قومی اسمبلی میں ممبران کے اپنے سی این جی پمپس ہیں اور جائیداد کے کاروبار میں تو بہت پیسہ ہے، جس کو بچانے کے لیے وہ اپنی کوششیں کرتے ہیں۔ ملک کی دولت اور ملک پر قابض لوگ غریب عوام کو دبانے اور اپنے بینک بھرنے کے نت نئے طریقے سوچتے رہتے ہیں اور اس کے لیے قوانین بناتے رہتے ہیں۔ اقتصادی پالیسیوں میں غریب عوام کو کوئی ریلیف نہیں دیا جاتا۔ ملک کے طاقتور طبقے اپنے مفادت کو ان پالیسوں میں ترجیح دیتے ہیں۔ یہ طبقے قومی دولت سے قرضے لیتے ہیں اور بعد میں اپنے ان قرضوں کو معاف بھی کروالیتے ہیں اور اس کا سارا بوجھ عوام پر ڈال دیا جاتا ہے۔ جبکہ صاحب اقتدار طبقہ قومی خزانے سے دولت سمیٹنے کا کوئی بھی موقع ضایع نہیں کرتا۔ غریب عوام سے جمع کیا گیا ٹیکس ان امیروں کے اللے تللوں اور پروٹوکول پر خرچ کیا جاتا ہے۔ حکمرانوں کے ناانصافی پر مبنی انہیں اقدامات کی وجہ سے پاکستان کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔

حکومت کی جانب سے آئے روز یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ ملک سے غربت کا خاتمہ ہورہا ہے اور مختلف اداروں کی جانب سے بھی اسی قسم کے اعلان کیے جاتے ہیں، لیکن غربت کا خاتمہ عوام میں نیچے تک نظر نہیں آتا۔ عوام ہمیشہ سہولیات سے محروم ہی رہتے ہیں۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ موجودہ حکومت نے ووٹ لینے کے لیے کافی زیادہ کام کیے ہیں، لیکن ایسے اقدامات صرف ووٹ پکے کرنے کے لیے کیے جاتے ہیں، ان سے غربت کا خاتمہ نہیں ہوتا اور نہ ہی غریب عوام کو سہولیات فراہم کرنا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ حکومت جب بھی کوئی قوانین بناتی ہے تو وہ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو پہنچایا جاتا ہے جن کے پاس پہلے سے ہی بڑی بڑی گاڑیاں اور بڑی بڑی جائیدادیں ہوں، لیکن غریب کی پہنچ سے توسبزیاں اور دالیں بھی دور ہیں۔ اس وقت ایک عام غریب پاکستانی کی کْل آمدنی کا 59 فیصد صرف خوراک کے حصول پر خرچ ہورہا ہے۔ اسے صحت و تعلیم کی معیاری اور سستی سہولتوں کے فقدان سے ملائیں تو صورت حال کی مزید سنگینی سامنے آتی ہے۔ ایک عام آدمی کے لیے روز مرہ کی بنیادی ضروریات کو پورا کرنے میں نہایت مشکلات کا سامنا ہے اور اس کی زندگی مسلسل مسائل کی دلدل میں دھنستی چلی جارہی ہے۔ غربت کوئی پیدائشی عیب نہیں، بلکہ یہ بالادست طبقات کی نااہلیوں، حق تلفیوں اور ناقص پالیسیوں کے نتیجے میں عفریت ہے۔ غربت کی ایک بڑی وجہ روزگار کے مواقع کی کمی بھی ہے۔ پاکستان میں غربت میں کمی نہ ہونے کی وجوہات کمزور انتظامی صلاحیت، پختہ عزم کا فقدان بھی شامل ہے۔ کسی بھی معاشرے میں عموماً غربت اشرافیہ طبقے کے جرائم کی بنا پر جنم لیتی ہے اور پروان چڑھتی ہے۔ ہمارے معاشرے میں بھی غربت کے پھلنے پھولنے کا بنیادی سبب اسی طبقے کی حق تلفی ہے۔

ملک میں غربت میں اضافے کا سبب پاکستانی نصف قومی دولت پر قابض ایک فیصد طبقہ ہے، جو قوم کی دولت سے عیش و عشرت کی زندگی بسر کررہا ہے، جبکہ 99 فیصد شہریوں کی زندگی مشکل ہوچکی ہے۔ یہ طبقہ حکمرانی تو پاکستان میں کرتا ہے، لیکن ان کے کاروبار، ان کی دولت اور اولادیں بیرون ملک ہوتی ہیں، یہاں یہ لوگ صرف پاکستان کے عوام پر حکمرانی کرنے آتے ہیں۔ ملک میں غربت کی وجہ اسی قبیل کے لوگ ہیں، جو قوم کے پیسوں پر عیاشی کرتے ہیں اور ملک کو ٹیکس تک ادا نہیں کرتے، جو پاکستان کے قومی وسائل کو بے دردی کے ساتھ لوٹ کر قومی دولت کو بیرونی ملکوں میں منتقل کردیتے ہیں۔ عوام سے ٹیکس وصول کرنے والے حکمران خود اپنی دولت کو بیرون ملک لگا کر ٹیکس ادا کرنے سے جان بچا رہے ہیں۔ پاکستان میں کئی ماہ سے چلتے ہوئے پاناما لیکس کے معاملے سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ سرمایہ دار طبقہ خود تو ٹیکس ادا نہیں کرتا، لیکن غریب عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ لاد کر ان کی آمدنی میں سے بھی ہڑپ کرنے کے لیے کوشاں ہے۔ حکومت میں اکثریت اسی قبیل کے لوگوں کی ہے، جو حکومت میں آکر مل جل کر اپنے مفادات کے لیے غریب کش اقدامات کرتے ہیں۔ ان کو صرف اور صرف اپنے خزانے بھرنے کی فکر ہوتی ہے۔ حکومت میں موجود لوگوں کو ملک میں غریب کے مسائل سے واقفیت ہی نہیں ہوتی اور نہ ہی عام آدمی کے مسائل سے کوئی دلچسپی ہوتی ہے۔ یہ لوگ عوام کے ووٹ سے حکومت میں تو آتے ہیں، لیکن عوام کے مسائل کے حل کے لیے ایوانوں میں قانون سازی نہیں کرتے، بلکہ زندگی کے ہر شعبے میں اپنے مفادات کو سامنے رکھ کر پالیسیاں بناتے ہیں۔ اپنی جیبیں بھرنے کے لیے بھاری ٹیکسوں سے کچل کر غربت زدہ عوام کو مصیبت زدہ کردیا جاتا ہے اور ان کو خوراک، رہائش، تعلیم اور صحت جیسی بنیادی سہولیات سے محروم رکھا جاتا ہے۔ اگر حکمران طبقہ عوام کی خدمت کرنے کے اپنے دعوؤں میں سچا تھا تو عوام کو کم از کم بنیادی سہولیات تو فراہم کرتا، لیکن حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے ہی ملک میں جہالت، بدامنی، بے روزگاری، غربت اور دیگر بہت سے مسائل ہیں۔ تعلیم پر بھی حکومت اس طرح توجہ نہیں دیتی جس طرح اس کا حق ہے۔ حالانکہ تعلیم نہ ہونے سے جہالت بڑھتی ہے اور جہالت غربت کا اہم سبب ہے۔ حکومت تعلیم پر بہت کم سرمایہ کاری کرتی ہے۔ کروڑوں شہری ان پڑھ ہونے کی وجہ سے کام کاج کے قابل ہی نہیں ہیں۔ اگر لوگ تعلیم یافتہ ہوجائیں اور ہنر سیکھ لیں تو وہ غربت سے باہر آسکتے ہیں۔ پاکستان میں غربت قدرتی نہیں، بلکہ ایک سیاسی معاملہ ہے۔ پاکستان بننے کے بعد سے ہمارے حکمرانوں کی غلط انتقامی اور اقتصادی پالیسیوں نے غربت کو جنم دیا ہے۔ پاکستان میں غیر منصفانہ سیاسی اور معاشی نظام بھی غربت کا سبب ہے۔ اگر قومی وسائل کی تقسیم منصفانہ ہوتی اور عوام کا استحصال نہ کیا جاتا تو پاکستان کے شہری بھوک اور افلاس کا شکار نہ ہوتے۔ غیرمنصفانہ تقسیم نے ملک کو دلدل میں دھنسا کر رکھ دیا ہے۔ کچھ لوگ بہت آرام دہ زندگی بسر کر رہے ہیں اور انہیں زندگی کی تمام آسائشیں میسر ہیں، جبکہ ملک کی اکثریت کو مناسب غذائی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ غریب انتہائی غریب ہیں اور امیر بہت امیر ہوتا جارہا ہے۔ اسی غیر منصفانہ تقسیم کی وجہ سے غریب اور بے روزگار افراد اپنا پیٹ پالنے کے لیے جرائم کا راستہ اختیار کرلیتے ہیں اور روز بروز جرائم کی شرح میں اضافہ ہورہا ہے، جس کا سبب حکومت کی ناقص پالیساں ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: عابد محمود عزام

Read More Articles by عابد محمود عزام: 869 Articles with 429983 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Dec, 2016 Views: 471

Comments

آپ کی رائے