کراچی سیاست کے نئے رنگ میں

(Sana Ghori, Karachi)
کراچی وہ شہر جو دنیا کے نقشے میں اُبھرنے والے سو ملکوں سے زیادہ رقبہ اور آبادی رکھتا ہے۔ کراچی کے روزوشب اپنے اندر لاکھوں کہانیاں پالتے ہیں۔ روزگار کی تلاش میں پاکستان کے تمام شہروں سے آنے والوں کو اپنی بانہیں کھول کر خوش آمدید کہتا یہ شہر ہمیشہ ہی سے وفاق کی طرف سے عدم توجہی کا شکار رہا۔ اس شہر کی ایک بہت انوکھی بات یہ بھی ہے کہ یہاں ملک کے ہر علاقے کی زبانیں بولی جاتی ہیں۔ اس شہر میں آنے والے اور اس شہر میں بسنے والے وہ لوگ جو شعور کی دہلیز کو چھو چکے ہیں اس شہر میں رہنے کے جرم کی سزا بھگتتے ہیں، لیکن پھر بھی یہاں کی شامیں باہر سے آئے ہوئے لوگوں کی زبانیں سن کر زندگی کے حقیقی رنگ کو اپنے اندر سمائے پُر سکون حیات کو ڈھونڈتی رہتی ہیں اور سورج ڈھلنے کے بعد ہر دن ایک مثبت امید کی ساتھ اپنی آنکھ کھولتا ہے کہ آج اس شہر کے حالات شاید بدل جائیں، آج شاید حکومتی ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو اس شہر کی حالتِ زار پر کچھ رحم آگیا ہو، لیکن ایسا 69 سالوں میں کم ہی دیکھنے کو ملا ہے ۔

ملک دشمن عناصر کراچی کی اہمیت سے اچھی طرح واقف ہیں وہ یہ جانتے ہیں کہ اگر پاکستان کی بنیادوں کو نقصان پہچانا ہے تو کراچی کو تباہی کا شکار کردیا جائے۔ اب یہ تباہی فسادات کی وجہ سے آئے یا یہاں شہرقائد کی معیشت کو تباہ کرنے کی سازش ہو، وہ ہر طریقے سے پاکستان کی اس اقتصادی شہ رگ پر وار کرنا چاہتے ہیں۔

ایک خوف ناک حقیقت یہ بھی ہے کہ دو کروڑ نفوس کے اس شہر کو لسانی فسادات کا کی آگ میں جھونکنا نہایت آسان کام رہا ہے۔ ماضی میں اس کی بدترین مثالیں ہمارے سامنے آئی ہیں، جن کا خمیازہ آج بھی اس شہرِ بے اماں کو بھگتنا پڑرہا ہے۔ ایک ایسے شہر کو جو میٹروپولیٹن بھی ہے اور کاسموپولیٹن بھی، یہاں کی وہ جماعتیں جنہیں کراچی کی اسٹیک ہولڈر پارٹیز کہا جاتا ہے، نے بھی سنجیدگی سے نہیں لیا۔ ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھتے یہاں کے عوام ہمیشہ ہی سے صحیح لوگوں کی تلاش میں رہے ہیں، لیکن ان کی یہ تلاش انھیں سراب ہی تک جا پاتی ہے۔ عوام چاہتے ہیں کہ شہر کی سیاسی جماعتیں ان کے مسائل کے لیے ہم آواز ہوں، مگر شہر میں موثر حیثیت رکھنے والی جماعتیں اب تک ایک دوسرے سے برسرپیکار ہی رہی ہیں، لیکن یہ خبر جان کر شہریوں کے دل میں امید کی کرن جاگی ہے کہ دو حریف جماعتیں ایم کیوایم اور جماعت اسلامی شہر کے مسائل کے حل کے لیے باہمی تعاون پر متفق ہوگئی ہیں۔

خبروں کے مطابق ایم کیو ایم سے تعلق رکھنے والے میئر کراچی وسیم اختر نے جماعت اسلامی کراچی کے مرکزی دفتر ادارہ نور حق میں امیر کراچی حافظ انجینئر نعیم الرحمن ودیگر راہ نماؤں سے ملاقات کی۔ ملاقات میں مئیر کراچی نے جماعت اسلامی سے ساتھ مانگا جس پر حافظ نعیم الرحمن نے کراچی کی تعمیر و ترقی اور عوام کے مسائل کے حل کے لیے مئیر کو تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ اس موقع پر حافظ نعیم الرحمن نے وسیم اختر کو مولانا مودودیؒ کی تفسیر تفہیم القرآن کا تحفہ بھی پیش کیا۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ میئر کراچی وسیم اختر اپنی ٹیم کے ساتھ ادارہ نور حق تشریف لائے ہیں، ہم انہیں خوش آمدید کہتے ہیں، انہوں نے کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جماعت اسلامی نے تین مرتبہ دیانت داری کے ساتھ شہر کی خدمت کی ہے۔ کراچی دنیا کے 100ملکوں سے زیادہ بڑا شہر ہے۔ ہم سب ایک عمل سے گزر ر ہے ہیں۔ کراچی کی تعمیر و ترقی کے لیے ہم سب کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ جماعت اسلامی یقین دلاتی ہے کہ ہر نیک کا م میں میئر کے ساتھ مکمل تعاون کرے گی۔ میئر کراچی وسیم اختر نے کہا کہ حافظ نعیم الرحمن بھائی نے ہمیں خوش آمدید کہا۔ ہم کراچی کے مسائل پر ایک ساتھ ہیں، مسائل پر تبادلۂ خیال بھی ہوا ہے، ہم سیاست سے بالاتر ہوکر کراچی کے مسائل حل کریں گے۔ جماعت اسلامی نے بھی یقین دلایا ہے کہ وہ کراچی کے مسائل کے حل میں میرا ساتھ دیں گے۔ میں اس جذبہ کے تحت یہاں آیا ہوں کہ کراچی کی خدمت کریں، ہم متحد ہوکر شہر کی جو خدمت کرسکتے ہیں وہ کرنی چاہیے۔

ایم کیوایم اور جماعت اسلامی کا یہ رابطہ خوش آئند ہے مگر․․․․اس مگر کی تفصیل میں جانے سے پہلے ان جماعتوں کے عشروں پر پھیلی تعلقات کی تاریخ پر ایک نظرڈالتے ہیں۔ یہ تاریخ الزامات اور پُرتشدد تصادم کے واقعات سے بھری ہوئی ہے۔ دونوں جماعتوں کے ٹکراؤ کا آغاز اس وقت ہوا جب آل پاکستان مہاجر اسٹوڈینٹس آرگنائزیشن کی کوکھ سے ایم کیوایم نے جنم نہیں لیا تھا۔ اس نوزائدہ طلبہ تنظیم کا درس گاہوں میں جماعت اسلامی کی طلبہ تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ سے تصادم ہوا، اور ایم کیوایم کے بننے اور کراچی کی موثر قوت بن جانے کے بعد دونوں جماعتیں حریف کے طور پر سامنے آئیں۔ نظریاتی اختلاف دشمنی میں بدل گیا، ایک دوسرے پر الزامات کی بوچھار ہوتی رہی، تصادم ہوتا رہا، جانیں جاتی رہیں۔ ماضی قریب کے عام انتخابات سے بلدیاتی الیکشن اور پھر مختلف حلقوں میں ضمنی انتخابات تک یہی فضا تھی۔ ایسے میں میئرکراچی کا ادارہ نورحق جانا اور جماعت اسلامی کی طرف سے میئر سے تعاون کا اعلان سب کو خوش گوار حیرت سے دوچار کرگیا۔

دونوں جماعتوں کے مابین بلدیاتی اداروں اور انتخابات کے حوالے سے بڑا خاص تعلق رہا ہے۔

کراچی میں بلدیاتی انتخابات کی اہمیت دیگر شہروں کی نسبت کہیں زیادہ ہے کیوں کہ یہ میٹروپولیٹن شہر بھی ہے اور کاسمو پولیٹن بھی، لیکن بدقسمتی سے اسکو وہ اہمیت نہیں دی جاتی جو اس کو ملنی چاہیے۔ پنجاب اور سندھ میں بلدیاتی انتخابات کے تیسرے اور آخری مرحلے میں پانچ دسمبر 2015ء کو کراچی کے چھے اضلاع میں بلدیاتی انتخابات میں 1520نشستوں پر ہونے والے مقابلے میں اصل ٹکراؤ متحدہ قومی موومنٹ اور جماعت اسلامی اور پاکستان تحریک انصاف کے دو جماعتی اتحاد کے درمیان تھا۔ کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں ایم کیو ایم نے میدان مار لیا۔ ترازو اور بلے کا اتحاد ناکام ہوگیا۔ جیسا کہ میں نے 24 نومبر کو اپنے ایک مضمون ’’کراچی میں ایم کیو ایم کا ہلکا پھلکا مقابلہ‘‘ میں لکھا تھا کہ ’’بظاہر کراچی کے بلدیاتی انتخابات میں صرف ایک ہی مضبوط پارٹی ایم کیو ایم ہے جس کا ہلکا پھلکا مقابلہ جماعت اسلامی اور تحریک انصاف کے اتحاد سے ہوگا‘‘ تو بالکل ایسا ہی ہوا ہے۔

اب ہم آتے ہیں اپنے ’’مگر‘‘ کی تفصیل کی طرف․․․اس اچھی خبر پر خوش ہونے والے عوام کو اپنی آنکھیں کھلی رکھنی چاہییں، کیوں کہ سیاست میں خلوص اور محبت نہیں مفاد کا سکہ چلتا ہے۔

تحریک انصاف اور جماعت اسلامی کے اتحاد کی ناکامی کے بعد شاید جماعت اسلامی کو ایسے اتحادی کی ضرورت ہے جس کے ساتھ مل کر وہ انتخابی سطح پر کسی حد تک خود کو منوا سکے۔ دوسری طرف ایم کیوایم پاکستان اپنے بانی سے لاتعلقی کے اعلان کے بعد بھی الزامات کی زد میں اور مسائل کا شکار ہے۔ اسے آئندہ انتخابات میں ایم کیوایم لندن اور پاکستان سرزمین پارٹی جیسے حریفوں کا سامنا کرنا ہوگا۔ چناں چہ یہ میل ملاپ دونوں جماعتوں کے مفاد میں ہے، باہمی تعاون کا یہ اعلان آگے چل کر انتخابی اتحاد میں تبدیل ہوگا یا نہیں؟ اس کا فیصلہ وقت کرے گا۔ عام شہری تو بس ان جماعتوں سے یہ مطالبہ کرتا ہے کہ وہ ضرور اپنے مفادات کا لحاظ رکھیں، کہ سیاست مفادات ہی کا کھیل ہے، لیکن شہریوں کے حقوق اور شہر کے مسائل کے حل کے لیے یک جا ہو کر جدوجہد کریں۔ دونوں جماعتیں غریب اور متوسط طبقے کی ہیں، ان کی تنظیمی صلاحیت کا ہر ایک معترف ہے، دونوں کا کارکنان اپنے جماعتوں سے پوری طرح کمیٹڈ ہیں، چناں چہ ان کا باہمی تعاون اور اتحاد کراچی کو مسائل سے نجات دلانے میں مددگار ثابت ہوسکتا ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sana Ghori

Read More Articles by Sana Ghori: 312 Articles with 184032 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
05 Dec, 2016 Views: 369

Comments

آپ کی رائے