ڈونلڈ ٹرمپ ،جنوبی ایشیا کے امور اور پاکستان

(Athar Massood Wani, Rawalpindi)
امریکہ کے نومنتخب نائب صدر مائیک پنس نے ایک امریکی ٹی وی چینلز سے انٹرویو میں کہا ہے کہ نئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ دنیا کے مختلف حصوں میں کشیدگی کم کرنے اور دنیا کے مختلف تنازعات کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کرسکتے ہیں۔مائک پنس نے کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ جنوبی ایشیا کے معاملات پر پوری توجہ دے گی امن وسلامتی کے فروغ کے لئے بھارت اور پاکستان کے ساتھ کشمیر کے مسئلے پر توجہ دی جائے گی۔مائیک پنس نے کہا کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان حالیہ کشیدگی اور کشمیر میں تشدد تشویشناک ہے ۔دونوں ملک یہ جانتے ہیں کہ نئی انتظامیہ آفس سنبھالنے کے بعد جنوبی ایشیا کے امور پر پوری توجہ دے گی ۔امریکہ کے نومنتخب نائب صد ر کی یہ بات نہایت اہم ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ نہ صرف امریکا کے داخلی امور پر توجہ دیں گے بلکہ دیرینہ عالمی مسائل کے حل کے لیے اپنی غیر معمولی صلاحیتیں بھی بروئے کار لائیں گے۔

امریکہ کے نو منتخب صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی وزیر اعظم نواز شریف کے ساتھ ٹیلی فون پر ہونے والی گفتگو کو پاکستان کے لئے خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ الیکشن مہم کے حوالے سے ڈونلڈ ٹرمپ کی کامیابی کو پاکستان کے خلاف قرار دیا جا رہا تھا ،تاہم اب ان کی وزیر اعظم پاکستان سے ٹیلی فون پر ہونے والی خوشگوار بات چیت سے اس بات کا امکان پیدا ہوا ہے کہ امریکہ جنوبی ایشیا کے دیرنیہ تنازعات کے حل کے لیئے ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت میں اپنا مثبت کردار ادا کرے گا۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے وزیر اعظم نواز شریف سے گفتگو میں مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان اور بھارت کے درمیان اپنا کردار ادا کرنے کی جو بات کہی،وہ نہایت اہم ہے۔مختلف حلقے اس بات پر حیران و پریشان ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ اپنے عمومی تاثر سے ہٹ کر پاکستان کے ساتھ اچھے تعلقات پر مبنی روئیے کا اظہار کر رہے ہیں۔یہ درست ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ صدر بننے کے بعد امریکہ کے اہم شعبوں سے متعلق امریکی حکام کی بریفنگ حاصل کریں گے جس میں انہیں امریکی پالیسیوں سے بھی آگاہ کیا جائے گا۔تاہم ڈونلڈ ٹرمپ کی بلند عزم شخصیت سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ کلی طور پر امریکی اداروں کی پالیسی کے تابع رہنے کے بجائے اپنے منصوبوں اور خواہشات کو امریکہ کی نئی پالیسی بنائیں گے۔ اسی صورتحال کے تناظر میںوزیر اعظم کے معاون خصوصی طارق فاطمی نومنتخب امریکی صدر کی ٹیم کے ساتھ اہم ملاقاتوں کے لئے امریکہ کا دورہ کر رہے ہیں۔

امرتسر میں افغانستان سے متعلق چالیس ملکوں کی '' ہارٹ آف ایشیا'' کانفرنس میں بھارت سے شدید کشیدگی کے باوجود پاکستان نے شرکت کا ایک مثبت فیصلہ کیا لیکن بھارت حکومت نے مشیر خارجہ سرتاج عزیز اور پاکستانی سفیر کے ساتھ غیر مناسب روئیہ اپنایا۔افغانستان نے اس موقع پر پاکستان کی طرف سے اعلان کردہ امدادی رقم لینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کیا کہ پاکستان یہ رقم دہشت گردی کے خلاف کاروائیوں کے لئے استعمال کرے۔اطلاعات کے مطابق افغانستان کے پاکستان مخالف روئیے کے پیش نظر پاکستان کے ایک سیاسی وفد کوافغانستان بھیجا جا رہا ہے اور اس وفد میں رہنما شامل ہیں جن کے افغان حکام کے ساتھ اچھے تعلقات ہیں۔

پاکستان اور بھارت کے درمیان ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشن کی سطح کے ٹیلی فونک رابطے کے بعد سے کشمیر کو غیر فطری طور پر تقسیم کرنے والی سیز فائر لائین(لائین آف کنٹرول)پہ صورتحال ذرا بہتر ہے لیکن مقبوضہ کشمیر میں کشمیری عوام کے خلاف بھارتی مظالم کی صورتحال بدستور جاری ہے۔مقبوضہ کشمیر میں اگزشتہ 150دنوں سے بھارت مخالف عوامی مظاہرے جاری ہیں جس میں بھارتی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنتے ہوئے ڈیڑھ سو سے زائد کشمیری ہلاک،ہزاروں زخمی،سینکڑوں بینائی سے محروم ہو چکے ہیں۔ہزاروں شہریوں کو بھارت مخالف مظاہرے کرنے کی پاداش میں گرفتار کر کے ان کے خلاف سفاکانہ کالے قانون پبلک سیفٹی ایکٹ عائید کر کے جیلوں میں قید کیا گیا ہے۔آبادیوں میں فورسز کے کریک ڈائون،رات کے وقت گھروں پر چھاپے،گھروں میںتوڑ پھوڑ اور بدترین تشدد کے واقعات تسلسل سے جاری ہیں۔کشمیر بار ایسوسی ایشن نے انہی دنوں بتایا ہے کہ مقبوضہ کشمیر سے اتنی بڑی تعداد میں کشمیری شہریوں کو گرفتار کیا گیا ہے کہ صرف جموں جیل میں گنجائش سے کئی گنا زیادہ قیدی موجود ہیں۔لاکھوں کی تعداد میں تعیناتی سے مقبوضہ کشمیر بھارتی جیل کا منظر پیش کر رہی ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس کے اتحاد نے بھارت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا نیا شیڈول جاری کیا ہے ۔تا ہم حریت رہنمائوں کے اتحاد کی طرف سے ابھی تک کشمیری عوام کی بے مثال جدوجہد اور قربانیوں کے تناظر میں مسئلہ کشمیر کے حل کی طرف پیش رفت کے اقدامات سے محرومی نظر آ رہی ہے۔

ایک طرف امریکہ کے نئے سخت گیر اور کچھ کر دکھانے کا عزم رکھنے والے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے جنوبی ایشیا پر خاص توجہ دینے کا عندیہ دیا جا رہا ہے اور دوسری طرف خطے کی صورتحال یہ ہے کہ امریکی،عالمی دلچسپی کا حامل ملک افغانستان پاکستان کے خلاف بھارت کا ایک مضبوط ہتھیار بنتا جا رہا ہے۔امریکہ اور بھارت کے درمیان ہر اہم اور حساس شعبوں میں مستقل نوعیت کے گہرے تعلقات استوار ہو چکے ہیں۔ان دنوں امریکہ کی طرف سے بھارت کے جنگی ہتھیاروں کو بہتر سے بہتر بنانے کے مشوروں کے ساتھ مختلف نوعیت کے اہم جنگی ہتھیار بھارت کو فروخت کئے جا رہے ہیں۔یوں بھارت امریکی اسلحہ ساز کمپنیوں کے لئے ایک اہم گاہک بھی بن رہا ہے۔چین کے خلاف بھارت کو تیار کرنا امریکہ کے ایک واضح ہدف کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اگلے ماہ اپنے عہدے کا انتظام سنبھالیں گے۔امریکی انتظامیہ عرصہ دراز سے اپنے احکامات منوانے کے لئے سختی او ر جنگی اقدامات کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔امریکہ کی کئی صدور اسی پالیسی کو چلاتے ہوئے اپنی اپنی معیاد پوری کر چکے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی شخصیت سے اس بات کا امکان پیدا ہوتا ہے کہ نئے امریکی صدر امریکی مفادات کا درست طور پر تعین کرتے ہوئے دنیا کے اہم تنازعات کے خاتمے کے لئے پرامن کاروائیوں کا انتخاب کریں گے ۔جنگ و جدل کو فروغ دینے سے تباہی اور انسانی بربادی ،غربت،افلاس اور غیر یقینی کے سوا کچھ حاصل نہیں ہو سکتا۔

بھارت کی طرف سے جارحانہ انداز اپنانے سے پاکستان نے مجبوری کے عالم میں بھارت کے خلاف جوابی طور پر اقدامات اٹھائے ہیں۔پاکستان میںاہم ترین قومی امور منتخب حکومت کے بجائے'' اسٹیبلشمنٹ'' کی پالیسیوں کے مطابق چلائے جا رہے ہیں۔کشمیر کاز کے سیاسی امور سے متعلق بھی ملک کی سیاسی حکومت بے اختیارنظر آتی ہے۔کہنے کو تو افغانستان اور بھارت کے حوالے سے ملک کی سول حکومت اور فوج ایک پیج پر ہے لیکن اس متعلق معاملات کے نشیب و فراز یہ ظاہر کر ہی دیتے ہیں کہ اصلاح کی گنجائش بہت وسیع ہے۔ متوقع نئی صورتحال میں پاکستان کے لئے ضروری ہے کہ اپنا ہوم ورک مکمل کرتے ہوئے ملک میں ہم آہنگی اور یکجہتی کو فروغ دینے کے اقدامات کئے جائیں اور ملک کو ماضی کے ثابت شدہ ناکام تجربات سے آزاد کرتے ہوئے قومی اہداف کے حوالے سے واضح پالیسی اپنائی جائے۔یہ سمجھنا چاہئے کہ دہشت گردی کے ذریعے پاکستان کومسئلہ کشمیر اور ملکی استحکام کے حوالے سے کمزور کرنے کی کوشش کی جار ہی ہے، بے شک دہشت گردی پاکستان کا اولین مسئلہ ہو لیکن پاکستان کے لئے مسئلہ کشمیر کا حل اہم قومی مقصد کے طور پر درپیش ہے۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Athar Massood Wani

Read More Articles by Athar Massood Wani: 621 Articles with 319465 views »
ATHAR MASSOOD WANI ,S/o KH. ABDUL SAMAD WANI
• 2006 to 2009
Press & Publication Officer
Prime minister Secretariat, Govt. of Azad Jammu & Kashm
.. View More
07 Dec, 2016 Views: 409

Comments

آپ کی رائے