ترکی میں دھماکے‘ داعش اوربین الاقوامی سازشیں

(Musab Habib, )
بسم اﷲ الرحمن الرحیم

ترکی کے دارالحکومت استنبول میں ایک سپورٹس سٹیڈیم کے باہر ہونے والے دو بم دھماکوں میں 29افراد شہید اور ڈیڑھ سو سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دہشت گردوں نے پہلا دھماکہ بیشتکاش اسٹیڈیم میں فٹبال میچ ختم ہونے کے نصف گھنٹے بعد کیا اورانسداد دہشت گردی پولیس کی ایک بس سے بارود بھری کار ٹکرا دی جس سے 27پولیس اہلکار شہید اور بڑی تعداد میں افسران، اہلکار اور عام شہری زخمی ہو گئے۔ ترک وزیر داخلہ سلیمان صویلو کا کہنا ہے کہ دوسرادھماکہ کاربم حملہ کے کچھ ہی دیر کے بعد قریبی پارک میں ہوا جہاں خودکش حملہ آور نے اپنے آپ کو دھماکے سے اڑا لیا۔ دھماکوں میں شہید ہونے والوں میں سے دو عام شہری جبکہ باقی سب پولیس اہلکار ہیں۔ ترک صدر رجب طیب اردگان نے دہشت گردی کے اس حملہ کی مذمت کرتے ہوئے اسے انتہائی بزدلانہ فعل قرار دیاہے۔

ترکی میں پچھلے کچھ عرصہ سے خودکش حملوں کے واقعات میں تیزی آئی ہے۔ پانچ ماہ قبل استنبول میں ہی اتاترک ایئرپورٹ کو نشانہ بنایا گیا جس میں تیس سے زائد افراد شہید اور ایک سو چالیس سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ ایئرپورٹ پر حملہ کرنیو الے ٹیکسی میں آئے اور خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ کرنے کے بعدایئرپورٹ میں گھسنے کی کوشش کی تاہم کامیاب نہ ہونے پر انہوں نے باہرہی ٹیکسی سٹینڈ کے پاس خود کو دھماکے سے اڑا لیا جس سے زبردست جانی و مالی نقصان ہوا۔اسی طرح ایک سال قبل بھی ترکی میں کئی بے گناہ شہریوں کواسی طرح حملہ کر کے شہید کر دیا گیا تھا۔ برادر اسلامی ملک میں ہونے والے ان حملوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی اور حال ہی میں پولیس بس کو نشانہ بنانے کاالزام بھی اسی تنظیم پر لگایا جارہا ہے۔ ترک وزیر اعظم رجب طیب اردگان نے جب سے اسلامی غیرت و حمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکہ یورپ کی بجائے مسلم ممالک سے اپنے روابط مضبوط و مستحکم کرنے اورخود اپنے ملک میں اسلامی روایات کو پروان چڑھانے کی کوشش کی ہے ترکی کو مسلسل غیر مستحکم کرنے کی سازشیں کی جارہی ہیں۔ کبھی بغاوت کروا کے ان کا تختہ الٹنے کی کوششیں کی جاتی ہیں تو کبھی فتنہ تکفیر کا شکار تنظیموں کو ڈالر دے کر وہاں خودکش حملوں کے ذریعہ خون ریزی اور فسادات کی آگ بھڑکائی جاتی ہے تاکہ یہ ملک اپنے قدموں پر کھڑا نہ رہ سکے۔ رجب اردگان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد سے ترکی کی خارجہ پالیسی میں زبردست تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے اور پاکستان ،سعودی عرب و دیگر مسلمان ملکوں سے برادر اسلامی ملک کے رشتے مضبوط ہوئے ہیں۔یہ صورتحال دنیائے کفر کو برداشت نہیں ہو رہی یہی وجہ ہے کہ بیرونی قوتوں نے جس طرح یہاں اپنے ایجنٹوں کے ذریعے افواج پاکستان، رینجرز، پولیس اور دیگر اداروں پر حملے کروائے اور سرزمین حرمین شریفین سعودی عرب میں دھماکے کروائے گئے بالکل اسی طرح ترکی میں بھی یہی ماحول پیدا کرنے کیلئے اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ یعنی اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت تینوں ملکوں کو ایک جیسے چیلنجز درپیش ہیں تو غلط نہیں ہو گا۔ مسلمان ملکوں میں موجود داعش جیسے تکفیری گروہ اور تنظیمیں غیر ملکی قوتوں کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہیں اورانہی کے مذموم ایجنڈوں کو پروان چڑھانے میں مصروف ہیں۔ مسلم خطوں و علاقوں میں دھماکے کرنے والے کشمیر، فلسطین، برما اور دیگر علاقے جہاں مسلمانوں پر ظلم و بربریت کے پہاڑ توڑے جارہے ہیں وہاں جا کر جہاد کرنا اور آزادی کی تحریکوں میں حصہ لینا درست نہیں سمجھتے لیکن اپنے ہی کلمہ گو مسلمان بھائیوں پر کفر کے فتوے لگا کر ان کا خون بہاناافضل جہاد سمجھتے ہیں۔ یہ گمراہی کی بدترین شکل ہے اور اس حوالہ سے واضح احادیث موجود ہیں جن میں فتنہ تکفیر اور خارجیت کا شکار گمراہ لوگوں کی نشانیاں بیان کی گئی ہیں۔ایسے درندوں کو اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کہ فلسطین میں یہودی کس طرح مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں؟۔ قبلہ اول مسجد اقصیٰ کی جگہ ہیکل سلیمانی تعمیر کر نے کیلئے کیا کھیل کھیلے جارہے ہیں ؟یا مقبوضہ کشمیر میں ہر روز نت نئے مظالم ڈھاتے ہوئے کس طرح ماؤں، بہنوں و بیٹیوں کی عزتیں پامال اور ان کی املاک برباد کی جارہی ہیں۔ان کی ساری توجہ مسلم ملکوں و خطوں میں مسجدوں، بازاروں اور مارکیٹوں میں بم دھماکوں اور افواج کو نشانہ بنانے کیلئے حملوں پر مرکوز ہے۔ اس کیلئے وہ دشمنان اسلام سے مدد لینے کوبھی اپنے لئے حلا ل سمجھتے ہیں یہی وجہ ہے کہ ان کے پاس وسائل کی کوئی کمی نہیں اور دشمن ملکوں کے کیمپوں میں ٹریننگ لینا بھی وہ اپنے لئے باعث عار نہیں سمجھتے۔ ہم پاکستان میں ہی دیکھ لیں توسانحہ پشاور ہو‘ جی ایچ کیواور نیول ہیڈکوارٹرہو یا فضائیہ کا ایئر بیس‘ حملہ آوروں کے پاس حساس مقامات کے نقشے، جدید اسلحہ اور مکمل معلومات موجود ہوتی ہیں اس لئے حملے کرتے وقت جہاں وہ پاک فوج، فضائیہ اور دیگر اداروں کے افسران و سپاہیوں کو شہید کرتے ہیں وہاں ان قیمتی اثاثہ جات کو بھی نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں‘یہی صورتحال سعودی عرب اور ترکی میں بھی دیکھنے میں آتی ہے۔ صاف طور پر پتہ چلتا ہے کہ جس مسلمان ملک میں بھی خودکش حملے اور دھماکے کروائے جارہے ہیں اس کی پشت پناہی بیرونی قوتوں کی طرف سے کی جارہی ہے۔مسلمانوں کے مقابلہ میں میدانوں میں شکست پر اسلام دشمن قوتوں نے ہمیشہ یہی کھیل کھیلا اور اندر سے تکفیری گروہ کھڑے کرنے کی کوششیں کی ہیں ۔ اس وقت بھی یہی کچھ کیا جارہا ہے۔ میں سمجھتاہوں کہ ہمیں پاکستان، سعودی عرب اور ترکی جیسے ملکوں کو محفوظ بنانے کیلئے اندرونی سطح پر درپیش فتنوں پر قابو پانا ہو گا۔ بیرونی دشمن وہ نقصان نہیں پہنچا سکتا جو اندر سے کی جانے والی سازشوں سے پہنچتا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب دہشت گردی کے خاتمہ کیلئے طویل عرصہ سے کوششیں کر رہے ہیں اور دونوں ممالک کی سیاسی و عسکری قیادتوں کے درمیان مسلم امہ کو درپیش اس وقت کا سب سے بڑا مسئلہ خاص طور پر زیر بحث رہا ہے۔ پاکستان کی سعودی عرب اور ترکی کی افواج کے ساتھ مشترکہ مشقیں اسی مقصد کے تحت کی جاتی رہی ہیں کہ سب مل کر مسلمہ امہ کو نقصانات سے دوچار کرنے والے دہشت گردی کے عفریت سے کس طرح نمٹ سکتے ہیں؟ اﷲ کا شکر ہے کہ افواج پاکستان نے آپریشن ضرب عضب کے ذریعہ ملک میں پھیلے ہوئے بیرونی قوتوں کی تخریب کاری و دہشت گردی کے پھیلائے گئے تمام نیٹ ورک بکھیر کر رکھ دیے اور دہشت گردوں کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج ساری دنیا پاکستان کی افواج اور اداروں کی کامیابیوں کا کھلے عام اعتراف کرتی نظر آتی ہے۔ ترک قیادت فتنہ تکفیر کا شکار گروہوں اور تنظیموں کو کچلنے کیلئے سخت پالیسیاں اپنائے ہوئے ہے تاہم دہشت گردی کے اس عفریت کو کچلنے میں یقینی طور پرکچھ وقت لگے گا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان ، سعودی عرب اور ترکی مل کر تکفیری گروہوں پر قابو پانے کیلئے اپناکردارا دا کریں۔ سعودی عرب کی زیر قیادت بننے والا مسلم ملکوں کا اتحاد بھی اس سلسلہ میں بہت فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔فتنے آتے بہت تیزی سے ہیں مگر ان کی عمر ہمیشہ تھوڑی ہوا کرتی ہے۔ مسلمان ملکوں کو درپیش تکفیر اور خارجیت کا یہ فتنہ بھی جلد دم توڑ جائے گا۔ مسلمانوں کی قربانیوں کے نتیجہ میں دنیا کے حالات بہت تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں۔ مسلمان مضبوط و مستحکم اور کفر کی قوت ٹوٹ رہی ہے۔ یہ دور ان شاء اﷲ اسلام اور مسلمانوں کا ہے۔ اﷲ تعالیٰ جلد مسلمانوں کو کامیابیوں اور کامرانیوں سے نوازے گا۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Musab Habib

Read More Articles by Musab Habib: 193 Articles with 81818 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Dec, 2016 Views: 330

Comments

آپ کی رائے