قائد اعظم محمد علی جناح ؒاور سیکولر ازم

(Ghulam Abbas Siddiqui, Lahore)
مسلمانوں پر اﷲ تعالیٰ کا ایک خاص کرم رہا کہ ہر دور میں انھیں مخلص رہنماء میسر آئے جنھوں نے اپنی قائدانہ صلا حیتوں سے حالات کا رخ موڑ کر رکھ دیا دشمن کو شکست فاش سے دوچار ہونا پڑا،یہ رہنماء اسلام اور مسلمانوں سے شدید محبت رکھتے تھے ،یہ عظیم لوگ جب دنیا سے گئے تو یہ رہنماء مسلمانوں کی نظر میں اور زیادہ عظیم ہو گئے ان کی اہمیت ،عزت ووقار میں آئے دن اضافہ ہی ہوا ان میں بانی ٔ پاکستان محمد علی جناح ؒ ہیں جنھوں نے برصغیر کی مسلم عوام سے قائداعظم کا خطاب حاصل کیا ۔تاریخ پاکستان کے آپ ؒ ایک روشن ،تابندہ ستارے ہیں جنھیں اہلیان پاکستان کبھی بھی بھلا نہ پائیں گے ،لیکن آپ ؒ کی شخصیت کو مسخ کرنے کیلئے چند شر پسند عناصر اسلام کے نام پر معرض وجود میں آنے والی ریاست پاکستان کے بانی محمد علی جناح ؒ کو سیکولر کہتے آج بھی دکھائی دیتے ہیں جو کہ بانی ٔ پاکستان کی توہین کے مترادف ہے کیونکہ مدینہ منورہ کے بعد اسلام کے نام پر وجود میں آنے والی ریاست پاکستان کا بانی سیکولر(لادین،یا دین سے بیزار) نہیں ہو سکتا۔ اس لئے بعض نام نہاد مفکرین کا خیال ہے کہ محمد علی جناح ؒ ایک سیکولر آدمی تھے اور وہ پاکستان کو سیکولر (بے دین )ریاست بنانا چاہتے تھے ۔یہ بات کہاں تک درست ہے ؟اس کا علم حاصل کرنے کیلئے اگر تاریخ پر طائرانہ نگاہ دوڑائی جائے تو ہر صاحب نظر ،دیانتدار انسان اس نتیجے پر پہنچے گا کہ بانی ٔ پاکستان محمد علی جناحؒ نہ تو سیکولر تھے اور نہ ہی سیکولر ازم کو پسند کرتے تھے بلکہ ایک راسخ العقیدہ ،باعمل سچے مسلمان تھے یہی وجہ تھی کہ انہوں نے ہندومسلم اتحاد کی جدوجہد چھوڑ کر مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور برصغیر مسلمانوں کی آزادی کیلئے کوششیں کیں تحریک پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الا اﷲ کا نعرہ بلند ہونا،جید علمائے کرام کی سرپرستی میں تحریک پاکستان چلانا اس حقیقت کا روز روشن کی طرح عیاں کرتی ہے کہ پاکستان ایک سیکولر ریاست کے طور پر وجود میں نہیں آیا بلکہ اسلامی نظریہ ٔ حیات (خلافت) کی بنیاد پر دنیا کے افق پر ابھرا ۔

مختلف مقامات اور مواقعہ جات پر قائداعظم ؒ کے تاریخٰ خطبات بھی اس امر کی غمازی کرتے ہیں کہ قائداعظم ؒ کے دل سے جو الفاظ قدرت الٰہی نکلواتی تھی وہ آپ ؒ کے باطن کی نمائندگی کر رہے ہوتے تھے جیسا کہ آپ ؒ نے فرما یا تھا کہ قومیت کی جو بھی تعریف کی جائے مسلمان اس تعریف کی رو سے الگ قوم ہیں اور اس بات کا حق رکھتے ہیں کہ اپنی الگ مملکت قائم کر لیں مسلمانوں کی تمنا ہے کہ وہ اپنی روحانی ،اخلاقی،تمدنی،اقتصادی،معاشرتی اور سیاسی زندگی کو کامل ترین نشوونما بخشیں او ر اس مقصد کیلئے جو طریقہ ٔ کار اپنانا چائیں اپنائیں۔

ایک اور موقعہ پر آپ ؒ نے فرمایا کہ وہ کون سا رشتہ ہے جس سے مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں وہ کون سی چٹان ہے جس سے امت کی عمارت استوار ہے اور وہ کون سا لنگر ہے جس سے امت کی کشتی محفوظ کردی گئی ہے؟ وہ رشتہ،وہ چٹان اور وہ لنگر اﷲ کی کتاب قرآن مجید ہے ۔

فروری ۱۹۴۸ ء کو آپ ؒ نے فرمایا تھا کہ میرا ایمان ہے کہ ہماری نجات کا واحد ذریعہ اس سنہری اصولوں والے ضابطہ ٔ حیات پر ہے جو ہمارے عظیم واضح قانون پیغمبر اسلام ﷺ نے ہمارے لئے قائم کر رکھا ہے۔
۱۹۳۸ ء میں بانی ٔ پاکستان نے فرمایا کہ ہندو ذہنیت کے باعث میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اتحاد کی کوئی امید باقی نہیں رہی ،مسلمان ایسی سرزمین کے باشندے ہیں جس کا کوئی والی نہ ہو ،مجھے افسوس ہے کہ میں اپنی تمام تر کوششں کے باوجود ہندو کے کام نہ آ سکا ہندو ذہنیت کو تبدیل نہ کر سکا ۔

کانگریس سراسر ہندو جماعت ہے مسلمانوں نے ایک سے زیادہ مرتبہ کانگریس کو جتوادیا کہ ان کی آئندہ تقدیر کا دارومدار حکومت اور ملک کے انتظام ،ان کے سیاسی حقوق کے حصول اور زندگی میں واجب حصہ ملنے پر ہے جب تک مسلمان کے قلب وروح ہے وہ ہندو کانگریس کا غلام بنا پسند نہیں کرے گا۔

ایک موقعہ پر فرمایا کہ مسلمانوں کیلئے جدامملکت کے قیام مطالبہ اور تقسیم ہندکی خواہش ہندوؤں کی تنگ نظری یا انگریزوں کی چالاکی کی وجہ سے نہیں بلکہ صرف اور صرف اسلام کی خاطر کی گئی ۔

ایک اور موقعہ پر فرمایا کہ ہندوؤ!تمہاری تعداد زیادہ ہواکرے اور تمہاری معیشت مستحکم سہی اور تم سمجھتے ہو کہ سروں کی گنتی سے آخری فیصلے ہوتے ہیں یہ سب غلط ہے میں تمہیں بتا دوں کہ تم ہماری روح کو تباہ نہیں کر سکتے تم اس تہذیب کو نہیں مٹا سکتے اس تہذیب کو جو ہمیں ورثے میں ملی ہے ہمارا ایمان زندہ ہے اور ہمیشہ زندہ رہے گا بے شک تم ہمیں مغلوب کرو ہم پر ستم ڈھاؤ اور ہمارے سا تھ بدترین سلوک روا رکھو لیکن یاد رکھو! ہم نتیجے پر پہنچ چکے ہیں اور ہم نے سنگین فیصلہ کرلیا ہے اگر مرنا ہی ہے تو لڑتے لڑتے مرجائیں گے ۔

قائد ؒنے فرمایا کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے قومی تصور اور ہندو دھرم کے معاشرتی طور طریقوں کے باہمی اختلاف کو محض وہم وگمان کہنا ہندوستان کی تاریخ کو جھٹلانے کے مترادف ہے ایک ہزار سال تک دونوں قوموں میں میل جول رہا لیکن ان کے اختلافات کی شدت ہمیشہ موجود رہی اگر کوئی یہ خیال کرتا ہے کہ کوئی انقلاب مسلمان اور ہندو کو ایک قوم بنادے گا تو وہ سراسر غلط ہے اسلام اور ہندو دھرم محض مذاہب نہیں بلکہ درحقیقت دو مختلف معاشرتی نظام ہیں اسے خواب وخیال ہی سمجھنا چاہیے کہ کبھی ہندو اور مسلمان ایک مشترکہ قومیت میں جائیں گے۔

بانی ٔ پاکستان ؒ نے فرمایا کہ اسلام محض رسوم وروایات اور روحانی نظریات کا نام نہیں ہے اسلام ایک مکمل ضابطہ ٔ حیات ہے جو ہر مسلمان کیلئے ہے جس کے مطابق وہ اپنی روزمرہ زندگی اپنے افعال واعمال اور سیاست ومعاشیات میں بھی عمل پیرا ہو سکتا ہے اسلام میں انسان اور انسان میں کوئی فرق نہیں ہے صرف ایک خدا کا تصور اسلام کے بنیادی اصولوں میں ہے مساوات ،آزادی اور اخوت اسلام کی اساس ہیں ۔
قائد اعظم ؒ نے کہا کہ اسلام میں بنیادی طور پر نہ کسی بادشاہ کی ا طاعت ہے اور نہ پارلیمنٹ کی ،نہ کسی فرد یا ادارے کی،قرآن حکیم کے حکامات ہی سیاست ہیں ۔معاشرے میں آزادی اور پابندی کی حدیں متعین کر سکتے ہیں ۔

قائد اعظم ؒ کا فرمان ہے کہ دس سال سے ہم جس ملک کیلئے کوشاں تھے خدائے بزرگ وبرتر کی مہربانی سے اب ایک حقیقت بن چکا ہے اب پاکستان کا مقصد ہمارے لئے اس کے علاوہ اور کچھ نہیں کہ ہم ایک ایسی ریاست قائم کرلیں جس میں ہم آزاد انسانوں کی طرح رہ سکیں اپنی تہذیب وثقافت کو ترقی دے پائیں اور اسلام کے اجتماعی نظام عدل (نظام خلافت قائم کرکے اس ) کے اصول پر عمل پیرا ہو سکیں ۔

مندرجہ بالا بانی ٔ پاکستانؒ کے خطابات سے نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ قائداعظم کو سیکولر کہنے والے پاکستان ،قائداعظمؒ اور نظریہ ٔ پاکستان کی توہین کر رہے ہیں ایسے عناصر کے قلم،زبان اور تنظیم سازی پر پابندی لگانا حکومت وقت کاا ولین فرض ہے کیونکہ قیام پاکستان ،سالمیت وطن کیلئے یہ اقدام انتہائی ضروری ہے ْقیام پاکستان کے بعد سرکاری سطح پر پرچم کشائی کی تقاریب لاہور،کراچی،ڈھاکہ میں ہوئیں قائداعظم ؒ کی موجودگی میں مولانا احمد علی لاہوریؒ ،مولانا شبیر احمد عثمانیؒاور مولانا ظفر احمد عثمانی ؒ جیسے بلند پائیہ علمائے کرام ،تحریک پاکستان کے قائدین سے لہروایا تاکہ ناقدین کو پیغام ملے کہ قائداعظم ؒ مذہبی ،راسخ العقیدہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان میں اسلامی نظام چاہتے تھے اور علمائے کرام کی تہہ دل سے قدر کرتے تھے۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Ghulam Abbas Siddiqui

Read More Articles by Ghulam Abbas Siddiqui: 264 Articles with 162345 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
24 Dec, 2016 Views: 433

Comments

آپ کی رائے