ٰٓریشمی رومال سازش۔۔۔۔روزنامہ ڈان کے مضمون کا تجزیہ و تبصرہ

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)
8 دسمبر1916کے ڈان اخبار میں ایک مضمون شائع ہوا جس کا عنوان تھا’’Conspiracy in silk‘‘ یہ مضمون ایک مغربی صحافیOwen Bennett-Jones نے تحریر کیا۔ یہ مضمون دراصل تحریک ریشمی رومال کے تناظر میں تحریر کیا گیا،یہ تحریک ہندوستان میں انگریزی سامراجی تسلط کے خلاف چلنے والی آزادی کی تحریک تھی جس کی قیادت مسلمان علماء کے ہاتھ میں تھی۔
اس مضمون پہ تبصرہ سے پہلے ذیل میں اس مضمون کا اردو ترجمہ ملاحظہ فرمائیں:
((((ایک صدی قبل ملتان میں انگریزی راج قائم تھا، پنجاب حکومتی حکام نے ایک پیغام رساں کو حراست میں لیا جس کا نام عبد الحق تھا۔ وہ زرد رنگ کے تین خطوط کے ہمرا ہ کابل سے سفر کرتے ہوئے آیا تھا۔ان خطوط کو اس نے اپنے کوٹ کی اندرونی تہوں میں سلوا کر چھپایا ہوا تھا۔
آغاز میں انگریز حکام نہیں جانتے تھے کہ ان خطوط کا کیا کرنا ہے،یہ خطوط صاف اور تقریباً خامیوں سے پاک اردو میں تحریر کئے گئے تھے جن میں انگریز حکومت کے خاتمے کا منصوبہ بیان کیا گیا تھا۔ملتان کے کمشنر نے انہیں ایک ’’بچگانہ حرکت‘‘ قرار دے کر رد کر دیا۔لیکن اس کے کچھ ساتھیوں کا نقطہ نظر ان خطوط کے بارے میں یکسر مختلف تھا۔ آنے والے ماہ وسال میں ان خطوط کے بارے میں انگریز نو آبادیاتی( سامراجی) حکام کی طرف سے ہزار ہا صفحات پہ مشتمل تجزئیے منظر عام پہ لائے گئے۔انہوں نے کوشش کی کہ ان خطوط کو برصغیر میں انگریز سامراج کی حکمرانی کے مستقبل کے طور پہ سمجھا جائے۔
ان خطوط میں سے دو خطوط سکھ سے مسلمان ہونے والے اور دیوبند سے فارغ التحصیل عبید اللہ سندھی نے تحریر کئے تھے۔وہ کابل اس امید پہ گیا تھا کہ وہ عالمی سطح پہ مدد اکٹھی کرے، اس کا یہ خیال تھا کہ عالمی سطح پہ مسلمانوں کی اجتماعی کوشش سے انگریز کا تختہ الٹا جا سکتا ہے۔
لیکن افغانوں کی طرف سے مایوس کن جواب کے بعد اس نے قلم اور ریشم سنبھالا او ر بہتری کی امیدکے ساتھ، مدرسہ دیوبند کے مہتمم محمود حسن کی حوصلہ افزائی سے ترکی ،استنبول کا سفر کیا۔
دونوں افراد(سندھی اور محمود حسن) کا آپس میں خاص تعلق ابھی تک واضح نہیں ہے،بعض کے مطابق اس پورے منصوبے کا لیڈر محمود حسن تھا اور سندھی کو اپنی مرضی پہ چلنے پہ آمادہ کیا۔دوسری طرف سندھی بہت زیادہ ارادے کاپختہ آدمی تھا اس نے تذبذب کا شکار حسن کے ساتھ اس کی اسکیموں کے مطابق چلنا شروع کیا۔اس معاملے کی اصل سچائی جو بھی ہو؟ہر ایک اس امر پہ متفق ہو سکتا ہے کہ دونوں کے منصوبے شاندار تھے۔
ریشمی خطوط کی صدا تھی کہ’’ایک اتحاد مسلمان باشاہوں کے درمیان۔۔۔۔۔۔۔یہی ایک مؤثر طریقہ تھا ہندوستان کے کا فروں(انگریز سامراج) کو سزا دینے کا۔یہ تصور نہ صرف بڑی مسلمان طاقتوں کے نمائندوں تک پہنچایا گیا بلکہ برطانیہ کی پہلی جنگ عظیم کے دشمنوں تک بھی پہنچایا گیا جیسا کہ جرمنی۔
ہتھیاروں کی محفوظ نقل وحمل سے انڈیا میں بغاوت شروع کی جا سکتی تھی۔محمود حسن کی عمومی قیادت کے تحت اورقیادت بھی تھی جس کا تعلق قسطنطنیہ، تہران، کابل اور خود ہندوستان سے تھا۔گیارہ فیلڈ مارشل اور کئی کرنل اس جدو جہد کی قیادت کرتے اور انگریز کو ہندوستان سے نکال باہر کرتے۔
لیکن یہ منصوبہ جسے انگریز حکام نے’’شروع ہونے سے قبل ہی ختم‘‘قرار دیا۔خطوط کی بر آمدگی کے بعد انگریز نے انتہائی عجلت میں کئی اہم منصوبہ سازوں کو گرفتار کر لیا۔یہ نائن الیون کے بعد ہتھیار ڈالنے کے پروگراموں سے دلچسپ مماثلت رکھتا ہے،محمود حسن کو مکہ سے قاہرہ لایا گیا اور تفتیش کے بعد مالٹا جزیرے پہ بھیج دیا گیا یہاں تک کہ جنگ عظیم ختم ہو گئی۔انگریز حکام نہیں چاہتے تھے کہ ان کو ہندوستان ہی میں قید رکھا جائے کیونکہ اس سے مسلمانوں کے اندر انگریز( سامراج) کے خلاف مزید نفرت پھیلنے کا اندیشہ تھا۔
سو سال گذرنے کو ہیں،اس معاملے کو دیکھتے ہوئے بہت ہی مختلف تشریحات سامنے آتی ہیں کہ اصل میں کیا ہوا تھا۔
انگریزی مواد آج تک اسے’’ریشمی رومال سازش‘‘قرار دیتا ہے جو انگریز حکومت کے مخالف ہیں وہ ’’تحریک رشمی رومال‘‘کہتے ہیں۔بہت سارے جو مغرب میں اسلامی بنیاد پرستی سے فکر مند ہیں وہ اس کو1916کے دیوبندی جنہوں نے متشدد جہاد کی وکالت کی اور جو آج کر رہے ہیں ایک ہی دھاگے میں بندھا ہوا دیکھتے ہیں( یکساں تناظر میں دیکھتے ہیں)۔
تاہم ہندوستان کی موجودہ حکومت اس کو مختلف انداز سے لیتی ہے اس معاملے کو مسلمانوں کی ہندوستان کی آزادی کے لئے متحدہ جدو جہد قرار دیتی ہے۔2013میں بھارتی حکومت نے تحریک ریشمی رومال کو ہندوستان کی قومی آزادی کی تحریک کے طور پہ اپنا حصہ ڈالنے کی یاد میں ایک ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔اس تعریف و توصیف سے ہندوستان میں موجود دیوبندیوں نے مسرت کا اظہار کیا، ان کے تاریخ دان اس پہلو کو زیادہ اہمیت سے بیان کرتے ہیں کہ ان کے آباو اجداد نے انگریز سامراج کا تختہ الٹنے کے لئے طاقت کا استعمال کیا۔
لیکن ان کی کتا بوں میں اس معاملے میں عصری صداؤں کے لئے ایک دوسرا سبق بھی ہے:کہ اسلامی تحریکیں یکجہتی نہ ہونے کی وجہ سے کمزور ہو رہی ہیں۔لیکن شاید انتہائی اہم پہلو یہ ہے کہ ریشمی رومال خطوط کس نظر سے دیکھے گئے، اور اب تقابل کریں تو جو زبان انگریز سامراجی حکام نے ایک صدی پہلے استعمال کی تھی اور آج پاکستانی کرتے ہیں۔
دستاویزات ظاہر کرتے ہیں انگریز سامراجی حکام نے ان خطوط پہ صفحہ در صفحہ سرکاری تبصرہ میں ان مذہبی علماء کے بارے میں اپنے خوف کا اظہار کیا جو لوگوں کے جذبات ابھارتے ہیں۔
جیسا کہ ایک سرکاری عہدیدار نے لکھا: یہ ممکن ہے، شاید ایسا نہ ہو، وہ وقت آ سکتا ہے جب مسلسل جہاد کا پرچار کرنے والے ہندوستان میں اور سرحد پاربڑی تعداد کومتاثر کریں جیسے یہ انفرادی سطح پہ کر چکے ہیں۔
British criminal Investigation Department برٹش کرمنل انوسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ نے یہ نتیجہ نکالا کہ اس منصوبے نے افغانستان کے سرحدی قبائل میں’ مذہبی جنونیت‘‘ کو بڑھا کر، بہکانے والی تعلیمات اور دوسرے لفظوں میں انگریز کے خلاف نفرت بڑھا کر انگریزوں کی حکمرانی کو ختم کیا۔
ان الفاظ کو بدل دو:’’ جنونیت‘‘ کو’’انتہا پسندی‘‘ کے ساتھ اور ’’انگریز حکومت‘‘ کو ’’پاکستانی‘‘ کے ساتھ اور تم مغربی سیاستدان کو آج غور سے سن سکتے ہو ی�آئی ایس پی آر( پاک فوج شعبہ تعلقات عامہ) کا بیان نیشنل ایکشن پلان کے بارے میں سن سکتے ہو۔ ))))(اگر ترجمہ میں کوئی علمی کوتاہی ہوئی ہو تو معذرت خواہ ہوں اصلاح کی در خواست ہے)))))

یہ مضمون اس لئے مجھے اہم لگا کیونکہ مغربی مستشرقین کی عام روش کے مطابق اس میں بھی ایک سعی ناکام کی گئی کہ اس تحریک کو جو کہ ہندوستان میں ایک غیر ملکی سامراجی تسلط کے خلاف قومی آزادی کی نقیب تھی کوایک مذہبی’’انتہا پسندی‘‘یا مذہبی جنونیوں کی تحریک کے طور پہ پیش کر کے اسے عصر حاضر میں اسلام کے نام پہ قتل و غارت گری کرنے والے گروپوں سے نظریاتی طور پہ جوڑ دیا جائے۔
مجھے یہ تحریر اسی سامراجی سوچ کا تسلسل نظر آتی ہے جب انگریزی سامراجی غلامی کے خلاف کام کرنے والے مسلمان گروپوں کو مذہبی جنونی اور انتہا پسند قرار دیا جاتا رہا ہے،جو سامراجی مفادات کے تابع قومی آزادی کا سودا کرتے رہے انہیں اعتدال پسند قرار دیا جاتا رہا۔ انگریزی اقتدار کے زمانے میں بھی ایک سول سروس کے انگریز ملازم جس کا نام ڈبلیو ڈبلیو ہنٹر تھا’’ ہمارے ہندوستانی مسلمان‘‘ کے نام سے انگریز کے خلاف چلنے والی تحریکوں کے بارے کچھ اس طرح کے خیالات کا اظہار کیا تھا جو آج اکیسویں صدی میں ایک انگریز صحافی
Mr.Owen Bennett-Jones کر رہا ہے۔جس طرح سے اس نے سید احمد شہید کی تحریک کو ’’وہابی تحریک‘‘ کا نام دے کر بدنام کیا اور اسے مذہبی جنونی قرار دیا۔اسی طرح آج اسی سیاسی تحریک کو جس کا تسلسل ریشمی رومال تحریک تھی اس کو عصر حاضر میں قتل وغارت گری کرنے والے ’’ سامراجی آلہ کار گروہوں‘‘ سے نظریاتی طور پہ جوڑنے کی مذموم کوشش کی گئی ہے۔
اس مضمون کے لکھاری صحافی شاید تاریخ کے مطالعہ سے نابلد ہیں یا جان بوجھ کر انہوں نے روایتی تعصب کا مظاہرہ کیا۔
یہاں میں مختصراً تاریخ کے ان گوشوں پہ روشنی ڈالنا چاہوں گا، جن کو اگر ’’British Consipracy against Great India‘‘ یعنی عظیم ہندوستان کے خلاف سازش قرار دیا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا۔یہ سازش مسلمان حکمرانوں کے خلاف کی گئی کیوں کہ گذشتہ کم وبیش آٹھ سو سال سے وہ ہندوستان پہ حکمران تھے اور اسے’’ سونے کی چڑیا بنایا‘‘ انگریزوں نے ہر سطح پہ سازشیں کر کے مسلمانوں سے اقتدار چھینا، اور تقریباً ڈھائی سو سال میں معاشی و اقتصادی استحصال کے ذریعے اس’’ سونے کی چڑیا ‘‘کو کنگال بنایا ۔
ذیل میں انگریز مصنف ڈبلیو، ڈبلیو ہنٹر ہی کے الفاظ میں اس حقیقت کو پیش کرنا چاہتا ہوں جس کوMr.Owen
Bennett-Jones نے شاید مطالعہ کرنا ضروری نہیں سمجھا۔ ذیل میں ڈبلیو، ڈبلیو ہنٹر کے وہ بیانات پیش خدمت ہیں جس سے باآسانی سمجھا جا سکتا ہے کہ انگریزی سامراج کا سب سے پہلا اور اہم ترین نشانہ کون تھے:
1۔’’مسلمان شہنشاہ کی ظاہری برتری کو مٹانے سے بہت پہلے ہم نے مسلمان حاکموں کو بر طرف کرنا شروع کر دیا تھا‘‘(1) 2۔’’1864میں ہم نے دلیرانہ قدم اٹھایا میرے خیال میں یہ اقدام بڑا ہی غیر دانشمندانہ تھا یعنی مجلس قوانین ساز کے ایک ایکٹ کے ذریعہ ہم نے تمام مسلمان قاضیوں کو برطرف کر دیا اس قانون نے نئی ہندوستانی سلطنت کی اس عمارت کو مکمل طور پر دارلحرب میں بدل دیا ۔‘‘(2)
3۔’’مسلمانوں کی حیثیت یک قلم تبدیل ہو گئی اور موجودہ نسل اس تبدیلی کی مطلق ذمہ دار نہیں بجائے اس کے کہ وہ ہندوستان کے مالک ہوتے ان کے حقوق چھین لئے گئے جن کا اب ان کو دوبارہ حاصل کرنا ضروری ہو گیا۔‘‘(3)
4۔’’ہندوستانی مسلمان برطانوی حکومت کو غفلت ، بے اعتنائی کا مجرم، جذبات ، شجاعت سے معرا اور سرمایہ میں کمپنیوں کی طرح بددیانتی سے کام لینے والے اور دیگر بڑی نا انصافیوں کا جن کا سلسلہ سو سال تک پھیلا ہوا ہے مرتکب ٹھہراتے ہیں۔‘‘(4)
5۔’’یہ وہ قوم ہے(مسلمان) جسے برطانوی حکومت کے ماتحت تباہ و برباد کر دیا گیا ہے‘‘(5)
6۔’’ہم نے بنگال میں قدم رکھا تو مسلمانوں کے ملازمین کی حیثیت سے لیکن اپنی فتح و نصرت کے وقت ان کی مطلق پرواہ نہیں کی، اور نودولت طبقہ گستاخانہ ذہنیت کے ساتھ اپنے سابق آقاؤں کو پاؤں تلے روند ڈالا۔‘‘(6)
7۔’’ہم ان متواتر اور مسلسل نا انصافیوں کے احساس کو دور کریں جو انگریزی حکومت کے ماتحت مسلمانوں کے اندر پیدا ہو گیا ہے‘‘(7)
8۔ ’’وہ قوم ہے جس کی روایات بہت شاندار ہیں مگر جس کا اس کے باوجود کوئی مستقبل نہیں اگر اس قوم کی تعداد تین کروڑ ہے تو یہ محض اس قوم کے لئے ہی نہیں بلکہ اس کے حاکموں کے لئے بھی ایک بہت ہی اہم سوال ہے‘‘(8)
اسی طرح ایک اورنگریز اکابر’’مسٹر لیکی‘‘کو یہ کہنا پڑا’’اگر دنیا میں کوئی بغاوت حق بجانب کہی جا سکتی ہے تو وہ ہندوستان کے ہندو ،مسلمانوں کی ہے۔‘‘(9)
اس حقیقت کوکو مؤرخ کبھی نہیں چھپا سکتاکہ انگریزی سامراج نے جو سازشیں اورجنگ مسلمانوں کے خلاف شروع کی، انہیں تباہ و برباد کیا،اب اس جنگ کو یقیناً آگے بڑھنا تھا،مسلمان اس وقت قائدانہ کردار ادا کر رہے تھے، کیونکہ اقتدار ان کے ہاتھ سے چھینا گیا تھا ،اور انہیں براہ راست انگریزی سامراجی مظالم کا شکار ہونا پڑا تھا۔
یہاں اس پہلو کی بھی وضاحت کر لوں کہ اورنگزیب عالمگیر کے بعد مسلمانوں کے اقتدار میں بھی بہت ساری ایسی خرابیاں پیدا ہو چکی تھیں جنہیں عصری تقاضوں کی روشنی میں درست کرنا ضروری ہو گیا تھا۔سیاسی نظام کی ان خرابیوں کی نشاندہی اس وقت مرکز شاہ ولی اللہ نے کی۔اور مختلف عنوانات سے انہوں نے ان خرابیوں کو دور کرنے کا حل بھی پیش کیا، لیکن ابھی اس حوالے سے کوئی باقاعدہ سیاسی جدو جہد کا آغاز ہوتا کہ انگریزوں کی مداخلت نے اس کا موقع نہیں دیا، لہذا شاہ ولی اللہ کے مرکز سے انگریزوں کی مداخلت اور ان کی ریاست کے خلاف سازشوں کے خلاف پورے ہندوستانی قوم کی آواز بنتے ہوئے ان کے بیٹے شاہ عبد العزیزنے انگریزوں کے خلاف دار الحرب کا فتویٰ دے دیا، اور مسلمانوں کو بالخصوص یہ پیغام دے دیا کہ وہ آزادی کی جدو جہد ایک مذہبی فریضہ کے طور پہ انجام دیں۔اس فتوے کا یہ اثر ہوا کہ مسلمانوں اور مرہٹوں میں عداوت ختم ہوئی اور انہوں نے کھل کر انگریزوں کے خلاف لڑنا شروع کیا، مسلمان مرہٹوں کی فوج میں شامل ہوئے، شاہ عبد العزیز نے اپنے معتمد سید احمد کو امیر علی خان سنبھلی کے پاس بھیجا جو اس وقت جسونت رائے ہلکر کے ساتھ ملک کر ایک عرصے سے انگریزوں کے خلاف لڑ رہے تھے۔لیکن بعد ازاں’’1818ء تک ہندوستان کی تمام چھوٹی بڑی طاقتیں انگریزوں کے سامنے ہتھیار پھینک چکی تھیں انگریز کا اقتدار درہ خیبر سے راس کماری اور بمبئی سے لے کر آسام تک اور برما کے سواحل تک پہنچ گیا‘‘اب انگریزوں سے آزادی حاصل کرنا بالخصوص مسلمانوں اور بالعموم تمام رعایا پہ ضروری ہو گیا تھا،اس صورتحال میں انگریزوں کے خلاف البتہ ایک طاقت تھی جس نے انگریز کے خلاف سر جھکانے کا نہیں سوچا یہ وہ تحریک تھی جس کا تعلق شاہ ولی اللہ کی سیاسی فکر سے تھا، سید احمد
اور ان کے رفقاء کی تحریک نے انگریزوں کے خلاف اس جدو جہد کو جاری و ساری رکھا۔ اور اسے اپنامذہبی فریضہ سمجھ کر آگے بڑھاتی رہی،ان تحاریک کی قیادت زیادہ تر مسلمان علماء کے ہاتھ رہی، لہذا اسی وجہ سے انگریزوں کو ان کے خلاف مختلف قسم کے مذہبی پرو پیگنڈے کر کے ان کے اثر کو معاشرے میں کم کرنے کی سازشیں کرنی پڑیں۔شاہ ولی اللہ کی فکر سے وابستہ آزادی کی یہ تحریکیں انگریزی اقتدار کے خلاف متحرک رہیں، لہذا بیسویں صدی عیسوی میں ان تحریکوں نے عالمی حالات کے تناظر میں اپنے آپ کونئے انداز سے ڈھالنا شروع کیا۔
1914ء میں تحریک ریشمی رومال انگریز سامراج کے خلاف ہندوستان کی آزادی کی چلنے والی ایک قومی تحریک کا حصہ اور تسلسل تھی،اس تحریک کا بنیادی منصوبہ یہ تھا کہ باہر سے انگریزی حکومت کے خلاف جنگ اسلامی ممالک کی طاقت سے اور انگریزوں کے دشمنوں کی مدد سے شروع کرائی جائے اور اندرونی طور پہ منظم طور پہ انگریزی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھائیں جائیں اور اسے ہندوستان کی سر زمین سے نکال باہر کیا جائے۔یقیناً اس وقت عبید اللہ سندھی اور ان کے رفقاء کے ذہنوں میں اسلامی دنیا سے مدد اور ان کی حمایت کی خوش فہمی تھی جو بعد ازاں ختم ہو گئی اور انہوں نے مستقبل میں ایسی کسی خوش فہمی کو پالنے کی سختی سے ممانعت کر دی۔
اگرچہ کہ اس تحریک میں قائدانہ کردار ادا کرنے والے علماء کا تعلق مدرسہ دیوبند سے تھا لیکن اس میں یونیورسٹی اور کالجز کے طلباء اوردیگر دینی مراکز اور مکاتب فکر کے علماء و افراد بھی شریک جدو جہد رہے،انہوں نے وطن کی آزادی کے لئے اپنی جانوں اور مالوں کی بے شمار قربانیاں دیں، اگرچہ کہ ان کی تحریک اسلامی عقائد کی بنیاد پہ آزادی کے مقصد پہ جدو جہد کر رہی تھی، لیکن انہوں نے اپنے ہندو بھائیوں سے بھی شانہ بشانہ مل کر آزادی کی جدو جہد کے لئے کام کیا۔
Owen Bennett-Jones Mr.نے جب عبید اللہ سندھی کا کابل کے حوالے سے ذکر کیا تو ان کی کابل میں ان تحریکی سر گرمیوں کو قابل اعتنا نہیں سمجھا جس میں انہوں نے ہندو لیڈر راجہ مہندر پرتاب کی سرگرمیوں میں ان کا ساتھ دیا اور کابل میں پرو وینشل حکومت بنانے میں ان کا بھر پور ساتھ دیا۔یہ ایک پہلا موقع تھا جب کٹر ہندو اور انتہائی مذہبی مسلمان اپنے وطن کی آزادی کے مقصد کے لئے ایک پلیٹ فارم پہ یکجا ہوئے۔دونوں نے چار سال تک آزادی کے لئے مل کر کام کیا،حکومت موقتہ ہندProvisional Government کے وزیر اعظم برکت اللہ کے ہندونیشلنسٹس لیڈروں سے انتہائی گہرے تعلقات تھے،انہوں نے قومی آزادی کے مشترکہ مقصد کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔یہی وہ کاوشیں اور جدو جہد تھی کہ آج بھی ہندوستان کی حکومت اس تحریک کو قومی آزادی کی تحریک کے طور پہ مناتی ہے اور اسے اسی تناظر میں دیکھا جاتا ہے۔لیکن افسوس کہ سامراجی سوچ کا حامل متعصبانہ طرز فکر آج بھی انگریزی صحافیوں میں موجود ہے۔
شاہ ولی للہ کے مرکز دہلی سے شروع ہونے والی سیاسی تحریک کوئی مذہبی جنونینوں کی تحریک نہ تھی بلکہ اسلامی فکر کی تجدید اور ایک نئے اور عصری تقاضوں سے ہم آہنگ سیاسی اور معاشی نظاموں کی طرف رہنمائی کی علمی اور عقلی تحریک تھی۔اسی تحریک کے عسکری صلاحیت کے حامل گروپوں نے وقت کے تقاضوں کے مطابق وطن کی آزادی کی خاطر قابض سامراجی طاقت کے خلاف بے دریغ قربانیوں کی تاریخ رقم کی ہے۔لیکن دوسری طرف علمی اور فکری سطح پہ بھی کام ہوا ہے،اس تحریک نے وقت کے ساتھ ساتھ علمی و عقلی رہنمائی کا فریضہ بھی سر انجام دیا۔
اب اس پوری تحریک کو ’’مذہبی جنونیت‘‘ کی نمائندہ قرار دینا تاریخی حقیقت کو مسخ کرنے کے برابر ہو گا۔علی گڑھ کی ترقی پسند تحریک ہو یا دیو بند کی مزاحمتی تحریک دونوں کا مرکز شاہ ولی اللہ کا فکر ہی تھا۔عبید اللہ سندھی کے بقول آخری شکست سے پہلے ہی دہلی کی مفتوح ہونے پر یہ تحریک منتشر ہو کر دو حصوں میں بٹ گئی تھی۔
۱۔۔۔علی گڑھ پارٹی کو آپریٹو(co operative) سر سید اس کے لیڈر تھے۔
۲۔۔۔دیو بند نان کو آپریٹو(non co operative) مولانا قاسم اور مولانا محمود الحسن اس کے حامل تھے۔‘‘(10)
عبید اللہ سندھی گذشتہ تحریک کی جدو جہد کے نتائج پرتبصرہ کرتے ہوئے بیان کرتے ہیں کہ’’انقلاب ۱۸۵۷ء کے بعد مسلمانان ہند کی اندرونی طاقت دو حصوں میں منقسم ہو گئی ،ایک کا مرکز علی گڑھ بنا اور دوسری کا مرکز دیوبند قرار پایا علی گڑھ نے مسلم لیگ پیدا کی اور یہ اس کی سیاست کی آئینہ دار ہے ۔دیوبند نے جمعیۃ العلماء ہند پیدا کی اور اس کی سیاست اس جماعت کی شکل میں پڑھی جا سکتی ہے اب یہ دونوں تحریکیں رک گئی ہیں اور مسلمانوں کی کشتی ساحل مراد تک نہیں پہنچا سکیں۔‘‘(11)
مزید لکھتے ہیں کہ’’اب یہ سکیم فیل ہو گئی تو مولانا محمود الحسن نے مسقبل کے بارے میں چند اشارات دئیے ،لہذا میں اب پنی ذمہ داری پر تحریک کا تیسرا دور چلانا چاہتا ہوں‘‘(12)
عبید اللہ سندھی کے شاگردپروفیسر سرور تحریر کرتے ہیں کہ
’’شاہ ولی اللہ ہندوستان کے اسلامی علم وفکر کے جس دور کے فاتح تھے شیخ الہند مولانا محمود حسن اس کے خاتم ہیں اور اب اس نئے دور کے فاتح مولانا عبیداللہ سندھی ہیں مولانا نئے فلسفہ وحکمت کو پڑھتے اور اسے آزمانے کی دعوت دیتے ہیں‘‘(13)
اب شاہ ولی اللہ کی سیاسی تحریک کے نئے دور کے سرخیل عبید اللہ سندھی ہیں،وہ اس نئے دور کی حکمت عملی کے بارے میں کیا کہتے ہیں ملاحظہ فرمائیں’’میں برطانیہ سے لڑنے والی طاقتوں کے ساتھ شریک رہ چکا ہوں،اس وقت مذہبی نقطہ نظر سے میں اسے اپنا فرض سمجھتا تھا،ہم اس جنگ میں شکست کھا گئے مگر اپنے مذہبی فیصلہ کی صحت کا اب بھی یقین رکھتے ہیں۔(14)
’’لیکن آج حالات مختلف ہیں، برطانیہ کی مسلمانوں کے ساتھ کوئی مذہبی جنگ نہیں۔ہم اپنے سیاسی مطالعہ کے موافق اپنے ملک کے لئے برطانیہ سے اس وقت پر خاش غلط سمجھتے ہیں،اس ایجی ٹیشن کا مطلب دوسری قومیں صحیح نہیں سمجھ سکتیں،ہمیں عدم تشدد کی پابندی سے ترقی کا موقع برٹش کام ویلتھ میں رہ کر مل سکتا ہے۔دوسری صورت میں نظر نہیں آتا۔‘‘(15)
اس نئے دور میں عبید اللہ سندھی نے عدم تشدد کو اپنی تحریک کی بنیاد بنا دیا۔وہ بیان کرتے ہیں:
’’جس زمانے میں ہم ہر طرف سے مایوس ہو گئے اور ہم نے عدم تشدد کو ایک سیاسی پرو گرام کی شکل میں منظم ہوتے مشاہدہ کر لیا تو ہماری حکمت کی ذہنیت بیدار ہوئی یعنی جب حالات ایسے پیدا ہو جائیں جیسے ایک منسوخ شریعت کے وقت ظاہر ہونے تھے تو حکیمانہ عقل مندی کا تقاضہ یہ ہے کہ اپنا قیاس اپنی ذمہ داری سے اسی منسوخ شریعت کے موافق پیدا کر کے اس پر عمل کر لینا چاہئے اس طرح ہم نے عدم تشدد اہنساNon-Voilanceکو اپنے پروگرام میں اہم موقع پہ رکھا۔(16)
مزید ضاحت کرتے ہیں
’’(۱)ہم نے اپنے اندر لڑائی لڑ کر آزادی حاصل کرنے کی طاقت نہ دیکھ کر عدم تشدد کو قبول کیا۔
(۲)ہم کسی بیرونی طاقت کے اشتراک سے آزادی حاصل کرنے کے روادار نہیں ہیں۔
ہمارے خیال میں عدم تشدد کی پابندی سے وہی آزادی حاصل ہو سکتی ہے جو بالتدریج ہو اس سے پہلے’’ڈومینین اسٹیٹس‘‘ کے درجے کا ہوم رول ہو گا اور کافی زمانے تک ہند ’’برٹش کامن ویلتھ‘‘کے اندر رہے گا اس کے بعد سمجھوتے سے خارجی اور حربی اختیارات منتقل ہوں گے ان اختیارات پر پورا قبضہ حاصل ہونے کے بعد ’’کامل آزادی‘‘کا لفظ اصلی معنی میں صادق آتا ہے، عدم تشدد کی پابندی سے یہ درجہ حاصل کر لینا اہل ہند کی عقل مندی اور برطانیہ کی مصلحت شناسی سے دور نہیں،اس امکان کو ملحوظ رکھتے ہوئے ہم نے عدم تشدد کو اپنے پروگرام میں قبول کر لیا۔’’ہمارا خیال ہے کہ کامل آزادی حاصل ہونے کے بعد بھی کافی عرصے تک ہندوستان برطانیہ کا حلیف بن کر رہے گا اور حکمراں قوت کے ساتھ سمجھوتے سے مدارج طے کئے جائیں گے۔’’ہم نے عدم تشدد کو اس کے لوازم کا پورا مطالعہ کرنے کے بعد قبول کیا ہے ہمیں اپنی اس کمزوری کے اظہار میں مسرت محسوس ہوتی ہے، کیونکہ ہم سیاسی جہل و غرور میں مبتلا رہنا جرم عظیم سمجھتے ہیں۔‘‘(17)
گویا عصر حاضر میں اگر کوئی گروہ شا ولی اللہ کی اس تحریک کے تسلسل کو آگے بڑھانا چاہتا ہے ، یا اس سے تعلق استوار رکھنا چاہتا ہے تو اسے عبید اللہ سندھی کو اس دور کی حکمت عملی کا امام ماننا پڑے گا۔ایسی کوئی بھی تحریک جو اس دور میں کسی بھی سطح کی مسلح جدو جہد میں شامل ہے یا ایسے نظریات کا پرچار کرتی ہے’’وہ سیاسی جہل وغرور‘‘میں مبتلا ہے اس کا کسی بھی سطح پہ کوئی بھی تعلق تحریک ریشمی رومال کے اکابر کے نظریات سے نہیں ہے۔
اب اگراس دور کی جہادی تحریکات کا تجزیہ کیا جائے تو ان تمام تحریکوں کے تانے بانے مغربی ممالک کی ایجنسیوں اور ان کے سیاسی مراکز سے جڑے ہوئے ہیں۔نائن الیون کے واقعات ہوں یادنیا بھر میں اسلام کے نام پہ بننے والے مختلف مسلح گروپس، یا مشرق وسطیٰ میں انسانوں کے قاتل گروپس جو اسلام کا نام استعمال کر رہے ہوں ان سب کا تاریخی تسلسل یہ بتاتا ہے کہ انہیں نظریاتی اور مالی سپورٹ بہم پہنچانے والے Mr. Owen Bennett-Jonesہی کے ہم وطن سیاسی بازی گر اور خفیہ ادارے ہیں۔ذرا سا سوویت یونین کے خلاف جنگ کے زمانے کا تجزیہ کیا جائے تو اس حقیقت کو سمجھا جا سکتا ہے، سوشلزم کے خلاف ایک بہترین ہتھیار کے طور پہ اسلام کو بھر پور طریقے سے استعمال میں کون لایا؟سوویت جنگ میں کروڑوں ڈالر خرچ کرنے والی خفیہ ایجنسی نے کس کس مد میں یہ رقم خرچ کی، کس طرح سے پاکستان میں اور مشرق وسطیٰ میں جہادیوں کی فصلیں بوئی گئیں، اور انہیں اپنے اپنے وقت پہ کاشت کیا گیا، کتب خانے بنائے گئے، مصنفین تیار کئے گئے، ’’خدا بچاؤ‘‘ کے نام سے مسلح تحریکوں کے لئے تربیتی مراکز بنائے گئے، تاریخ نے یہ منظر بھی دیکھا کہ وہی’’مغربی سیاست دان‘‘جو آج اسلامی جنونیت سے خوف کھاتے ہیں وہی ’’ افغانستان میں مشرق وسطٰی اور پورے ہندوستان سے تیار کئے گئے کرائے کے جہادیوں کے ساتھ مل کر اللہ اکبر کے نعرے بلند کر رہے تھے۔
Mr. Owen Bennett-Jones یہ سمجھنا بھول گئے کہ وہی تبلیغ جو ایک وقت میں انگریز سامراج کے خلاف سر حدی علاقوں میں ہو رہی تھی، اور ان کے اقتدار کے لئے خطرہ بن گئی تھی، اب اسے امریکی خفیہ ایجنسیوں اور مالی امداد نے پھر سے اپنے جنگی ہتھیار کے طور پہ پاکستان اور افغانستان کے قبائلی علاقوں میں اس طرح رواج دیا کہ ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ جاری ہو گیا۔
اسی طرح اکیسویں صدی کی سامراجی قوتوں نے پہلے خود ’’ مروجہ جہادی کلچر‘‘ کو تخلیق کیا، اس مقصد کے لئے مولویوں کی فیکٹریاں اور لٹریچر کے کارخانے لگائے گئے، جہادی کلچر کونئے نئے عنوانات سے متعارف کروایا گیا،اس کے لئے خاص طور پہ اپنی آلہ کار حکومتوں اور ایجنسیوں کو استعمال کیا گیا، ،میڈیا کی طاقت سے مقدس بنایا اپنے مقاصد کے لئے استعمال کیا’’مجاہد قرار دیا‘‘ اور پھر جب سوویت یونین بکھر گیا تو پھر عالمی سامراجی سیاسی اور خفیہ مراکز نے اپنا ایجنڈا بدل دیا، راتوں رات وہی’’ مجاہدین‘‘’’دہشت گرد‘‘’’ بنیاد پرست‘‘’’ مذہبی جنونی‘‘ بن گئے۔اب ساری دنیا کو ان ہی گروپوں کے خلاف جنگ کے نام پہ مشرق وسطیٰ کے ممالک اور افغانستان پہ فوجی مداخلت شروع کی اور ان ممالک کو سیاسی،معاشی طور پہ تباہ وبرباد کر کے رکھ دیا۔اور ان کے معدنی وسائل پہ کنٹرول حاصل کر لیا۔
Mr. Owen Bennett-Jones کوتو مروجہ جہادی کلچر ریشمی رومال تحریک کے درمیان تو تعلق نظر آ گیا، لیکن اسے اتنی زحمت نہیں ہوئی کہ وہ کم ازم مروجہ’’ جہادیوں‘‘ کے کارسازوں کے بارے میں بھی کچھ معلومات حاصل کر سکتے۔
کسی بھی مزاحمتی تحریک میں مذہب کا نام آتے ہی خصوصاً مغربی اہل سیاست کو یہ موقع مل جاتا ہے کہ وہ اسے مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی سے تعبیر کریں۔ہر سیاسی جدو جہد کے پیچھے کوئی نظریہ ضرور کارفرما ہوتا ہے جیسے سوشلزم کے علمبرداروں نے نہ صرف عظیم قربانیاں دیں بلکہ لاکھوں مخالفین کو موت کے گھاٹ اتارا، اسی طرح سے سرمایہ داریت کے پیرو کاروں نے اپنی معاشی و اقتصادی استحصالی نظرئیے کی بدولت دنیا کے حصے بخرے کئے، قوموں کو تباہ و برباد کیا، کروڑوں انسانوں کو ذلت، غربت و افلاس کی زندگی میں دھکیلا اور دھکیل رہے ہیں۔اب ان سب کا طریقہ واردات مختلف ہو سکتا ہے لیکن سب اپنے اپنے سیاسی و اقتصادی مقاصد کے لئے سرگرم رہتے ہیں، لیکن جب اسلام کا نام آتا ہے سب کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں، دہشت گردی، انتہا پسندی ، جنونیت نہ جانے کن کن القابات سے نوازا جاتا ہے۔یہ سمجھنا چاہئے کہ جو سیاسی تحریک یا پبلک کو متحرک کرنے کا نظریاتی آلہ سوشلسٹ استعمال کرتے ہیں یا سرمایہ دار کرتے ہیں اسی طرح کا اسلامی عقائد و نظریات کا آلہ اس کی سیاسی تحریک کے علمبردار استعمال کرتے ہیں۔اس میں اتنی پریشانی یا خوف کیوں ہے؟ہر قوم کا یہ بنیادی انسانی حق ہے کہ وہ اپنے خاص نظریات و عقائد کی روشنی میں سیاسی حکمرانی کے لئے جدو جہد کرے۔
جہاں تک آئی ایس پی آر کے نیشنل ایکشن پلان کے حوالے سے بیان پہ غور کرنے والی بات ہے تو اس کا پس منظر بھی موجود ہے،یقیناً جو فصل کئی سالوں میں بوئی گئی اس کی آبیاری کی گئی اسے کاٹنے میں تو قت لگے گا۔اس دہشت گردی کے سہولت کاروں(تخلیق کاروں) کو ختم کرنے، ان کے نظریاتی ایجنٹوں کے نیٹ ورک کو توڑنے کے لئے اتنا ہی اخلاص اور قوت چاہئے جتنا ان کو بنانے کے زمانے میں صرف کیا گیا۔
آج شاہ ولی اللہ کی تحریک عبید اللہ سندھی کے فکر عدم تشددNon Voilnace پہ سختی سے پابند ہے، بلکہ وہ کامل جمہوریت، انسان دوستی، لبرل ازم پہ یقین رکھتی ہے اور پین اسلامک ازم کی بجائے استحصالی نظاموں سے قومی آزادی اور پھر اینٹی سامراجی علاقائی اتحاد کی فکر کا پرچار کرتی ہے۔اور اسی میں انسانیت اور مسلمانوں کی بھلائی کو مضمر سمجھتی ہے۔اس کے نزدیک اسلام کے عادلانہ اصول بلا تفریق مذہب وملت انسانیت کے لئے یکساں حقوق اور انسانی فطرت کے ارتقاء کے ضامن ہیں۔ایسی کوئی بھی جدو جہد جو انسانی فطری ارتقاء میں رکاوٹ بنے وہ اسے ناجائز قرار دیتے ہیں اور ہر وہ عمل جس سے انسانیت کو فائدہ پہنچے وہ اسے جائز قرار دیتے ہیں۔ ان کے نزدیک کل انسانیت کی بھلائی کے لئے کام کرنا اور انسانیت کو امن و آشتی کا گہوارہ بنانا ہی بلند ترین نصب العین ہے۔

(حوالہ جات)
1۔ڈبلیو، ڈبلیو ہنٹر،ہمارے ہندوستانی مسلمان،اقبال اکیڈمی، موچی گیٹ لاہور،1940ء،ص205
2۔ایضاً،ص206سے205
3۔ایضاً،ص206
4۔ایضاً،ص220
5۔ایضاً،ص226
6۔ایضاً،ص220
7۔ایضاً،ص219
8۔ایضاً،ص226
9۔محمد میاں،مولانا،علماء ہند کا شاندار ماضی ، مطبوعہ یو پی انڈیا،58ھ،ص50
10۔محمدسرور،پروفیسر،خطبات ومقالات مولانا عبید اللہ سندھی(ترتیب وتقدیم مفتی عبد الخالق آزاد)لاہور،دار التحقیق والاشاعت،لاہور2002ء،ص162سے163
11۔ایضاً،ص182
12۔عبیداللہ سندھی،مولانا،افادات وملفوظات(مرتبہ پروفیسر سرور)لاہور،سندھ ساگر اکیڈمی،1996ء،ص332
13۔ایضاً
14۔محمدسرور،پروفیسر،خطبات ومقالات مولانا عبید اللہ سندھی(ترتیب وتقدیم مفتی عبد الخالق آزاد)لاہور،دار التحقیق والاشاعت،لاہو2002ء ص324سے325
15۔ایضاً، ص325
16۔ایضاً، ص 272 سے273
17۔ایضاً، ص 272 سے273
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 68320 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
25 Dec, 2016 Views: 634

Comments

آپ کی رائے