بھارت سی پیک کا حصہ؟

(Riaz Aajiz, Karachi)
پاکستان میں چین کے تعاون سے شروع ہونے والا اقتصادی راہداری کا منصوبہ سی پیک تعمیراتی منصوبوں کا ایک مجموعہ ہے، اس منصوبے کے لیے پاکستان اور چین کے درمیان 46 ارب ڈالرز کے 51 معاہدوں کی یادشتوں پر دستخط کیے گئے، جس کی مالیت اب بڑھ کر 51 ارب 50 کروڑ ڈالر ہوچکی ہے۔ اس منصوبے کو پاکستان کی قسمت بدلنے کے حوالے سے ایک 'گیم چینجر' کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔سی پیک کے تحت گوادر میں ایکسپریس وے کی تعمیر سمیت بلوچستان میں توانائی کا بھی ایک بڑا منصوبہ شامل ہے، جبکہ کئی منصوبوں پر ملک کے دیگر صوبوں میں کام کیا جائے گا۔ایف ڈبلیو او کے مطابق 2014 سے اب تک صرف بلوچستان میں سی پیک پروجیکٹس کے لیے سڑکوں کی تعمیر پر 35 ارب روپے خرچ کیے جاچکے ہیں۔ 20دسمبر کو سدرن کمان کے کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا ایک بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا کہ بھارت دشمنی چھوڑ دے تو سی پیک سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ جنرل عامر ریاض کا کہنا تھا کہ سی پیک منصوبے سے بھارت سمیت ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا کے ممالک کو بھی فائدہ اٹھانا چاہیے۔ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا یہ بیان بہت حلقوں کے لئے حیران کن تھا تاہم اب تک یہ واضح نہیں کہ یہ پاکستان کی حکومت کا پالیسی بیان ہے یاپھر جنرل صاحب نے رواروی میں یہ بیان دیا۔ اب تک نہ تو وزارت خارجہ اور نہ ہی حکومتی سطح پر کسی اہم عہدیدار نے اس بیان پر کسی ردعمل کا اظہار کیا ہے تاہم یہ طے ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کی ملکی اور بین الاقوامی سطح پر بہت زیادہ اہمیت ہے۔ دوسری طرف اب تک بھارت کی طرف سے بھی سرکاری سطح پر کوئی رد عمل سامنے نہیں آیاہے تاہم اس حوالے سے چین کی وزارت خارجہ کی طرف سے اہم بات کی گئی ہے۔ چین کا کہنا ہے کہ پاک چین اقتصادی راہداری(سی پیک) ایک خطہ ایک سڑک کے وژن کے تحت 'کھلا منصوبہ' ہے مگر اس منصوبے میں پاکستان کی رضامندی اور اتفاق رائے سے دوسرے ممالک کو شامل کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔ چین نے یہ بیان کمانڈر سدرن کمانڈ لیفٹننٹ جنرل عامر ریاض کے اس بیان کے تناظر میں دیا جس میں انہوں نے بھارت کو سی پیک کا حصہ بننے کی پیشکش کی تھی۔چین کے محکمہ خارجہ کی طرف سے آنے والے اس بیان کو تمام حلقوں میں اہم قرار دیا جارہا ہے تاہم اس بیان میں چین نے کسی دوسرے ملک کو شراکت دار بنانے کے حوالے سے حتمی فیصلے کا کلی اختیار پاکستان کو دے دیا ہے۔چینی وزارت خارجہ کی افسر ہوا چن نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ سی پیک نہ صرف پاکستان اور چین کے معاشی حالات بہتر کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا بلکہ اس منصوبے سے خطے میں امن و استحکام سمیت علاقائی تعاون کو بھی فروغ حاصل ہوگا۔چین کی وزارت خارجہ کی ترجمان نے کہا کہ راہداری منصوبے میں تیسرے فریق کو متعارف کرانے کے لیے پاکستان سے اتفاق رائے پید اہونے کے بعد ہی پیش رفت ہوسکتی ہے۔چینی وزارت خارجہ کی ترجمان کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب ایک چینی میگزین گلوبل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں بھارت پر زور دیا کہ وہ پاکستانی جنرل کی جانب سے دی جانے والی پیشکش کے بعد سی پیک منصوبے میں شامل ہونے پر غور کرے۔میگزین نے اپنے مضمون میں مزید لکھا ہے کہ سی پیک منصوبے میں بھارت کے شامل ہونے کو چین کی جانب سے کھلے دل سے قبول کیے جانے کا امکان ہے ، کیوں کہ اس سے جنوبی ایشیا کے دو ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات میں بہتری ہوگی، سی پیک کو خطے میں چین کے جھنڈے تلے ایک تعمیراتی منصوبے کے طور پر دیکھا جاتا ہے، اس میں بھارت کی شمولیت سازگار ہوگی۔یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ اور اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ چین نے اپنی آزادی سے اب تک ہر شعبے میں جو بھی ترقی کی ہے اس میں اس کی ایک اہم ترین پالیسی کا عمل دخل رہا ہے ۔ یہ پالیسی محاز آرائی سے بچتے ہوئے تمام ممالک سے دوستانہ تعلقات رکھنے کی پالیسی ہے تاکہ اسے تجارتی میدان میں دنیابھر میں زیادہ سے زیادہ رسائی مل سکے۔ چین ، بھارت اور امریکہ سمیت کسی بھی ملک سے محاذ آرائی اور تصادم نہیں چاہتا۔ بھارت سے جنگ کے باوجود اس نے بھارت سے اپنے تجارتی تعلقات برقرار رکھے ۔ یہی وجہ ہے کہ چین اور بھارت کے درمیان سالانہ تجارت کا حجم 100بلین ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ پاکستان اور چین کے درمیان تجارت اس کی آدھی سے بھی کم ہے۔ چین بھارت کو سی پیک کا حصہ بنانا چاہتا ہے لیکن پاکستان کی وجہ سے وہ اس کا کھل کا اظہار نہیں کر سکتا۔ اس پس منظر میں دیکھا جائے تو عین ممکن ہے کہ لیفٹیننٹ جنرل عامر ریاض کا مذکورہ بیان چین ہی کا محرک ہو یا کسی انڈر اسٹینڈنگ کا نتیجہ ہو تاہم حتمی طور پر اس حوالے سے کوئی رائے قائم نہیں کی جاسکتی۔ چین نہ صرف بھارت بلکہ خطے کے دوسرے ممالک کو بھی سی پیک کا حصہ بنانا چاہتا ہے۔ اس میں افغانستان اور ایران اہم ملک ہیں جبکہ روس بھی سی پیک کا حصہ بننے کے لئے اپنی رضامندی ظاہر کر چکا ہے۔ چین چاہتا ہے کہ سی پیک میں کسی بھی ملک کی شمولیت کے لئے پاکستان کی طرف سے پہل کی جائے تاکہ پھر پاکستان کے پاس کسی بھی اعتراض کی گنجائش نہ رہے-
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Riaz Aajiz

Read More Articles by Riaz Aajiz: 95 Articles with 40363 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
26 Dec, 2016 Views: 436

Comments

آپ کی رائے