لباس اور پوشاک کے مسائل و آداب

(Mufti Muhammad Waqas Rafi, )

لباس پانچ طرح کا ہوتا ہے : (۱) ہرمکلف کے لئے حلال (۲) بعض کے لئے حلال ، بعض کے لئے حرام (۳) مکروہ (۴) مباح (۵) مستحب الترک ( یعنی ایسا لباس کہ جس کا ترک کرنااور نہ پہننا مستحب ہو۔ اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ : (۱) چوری کا لباس ہر مکلف مرد و عورت کے لئے حرام ہے ۔(۲) ریشمی لباس عورتوں کے لئے حلال ہے اوربالغ مردوں کے لئے حرام ہے ۔ جب کہ چھوٹے بچوں کو ریشمی لباس پہنانے کے جواز اور عدم جواز کی دو روایتیں منقول ہیں۔ اسی طرح جہاد میں مجاہدین کے لئے ریشمی لباس کے جواز اور عدم جواز کی بھی دو متضاد روایات منقول ہیں، ایک کی رُو سے جائزاور دوسری کی رُو سے ناجائز ہے۔ (۳) کپڑا اتنا لمبا پہننا کہ غرور اور تکبر کی حد میں داخل ہوجائے ٗ مکروہ ہے ۔ اسی طرح وہ لباس بھی مکروہ ہے جس میں ریشم اور سوت کی مقدار معلوم نہ ہوکہ کتنی ہے ؟ نصف نصف ہے یا کم و بیش؟۔(۴) ایسا لباس پہننا کہ جس سے آدمی کا ستر مکمل طریقے سے ڈھک جائے اور اس میں کوئی خلاف شرع چیز سامنے نہ آئے ٗ مباح ہے۔ (۵) مستحب الترک وہ لباس ہے جس پر لوگوں کی اُنگلیاں اُٹھنے لگ جائیں اور پہننے والے کی اس سے خوب شہرت ہوجائے ۔ جیسے کوئی شخص شہری اور خاندانی روایت اور رواج کے خلاف لباس پہننے لگ جائے ۔ ایسا لباس ترک کردینا اور نہ پہننا مستحب ہے ۔ کیوں پس پشت لوگ ایسے شخص کو برے الفاظ سے یاد کرتے ہیں اور سوسائٹی کی مخالفت کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ لوگ غیبت جیسے کبیرہ گناہ میں مبتلا ہوتے ہیں ۔ گویا یہ شخص دوسرے لوگوں کو غیبت جیسے کبیرہ گناہ میں مبتلاء کرنے کا سبب بنتا ہے اور اس طرح یہ بھی ان کے ساتھ اس کبیرہ گناہ میں شامل ہوجاتا ہے۔

ہمارے لئے لباس کی دو ہی قسمیں ہیں : (۱) ایک واجب (۲) دوسری مستحب ۔ پھر واجب کی بھی دو قسمیں ہیں : (۱) ایک کا تعلق’’ حقوق اﷲ‘‘ سے ہے (۲) اور دوسری کا تعلق’’ حقوق العباد ‘‘سے ۔ اﷲ تعالیٰ کا حق تو ’’ستر عورت ‘‘( اپنی شرم گاہ کو چھپا کر رکھنا) ہے۔ اور بندے کا حق یہ ہے کہ وہ اپنے لئے ایسے لباس کا انتظام کرے جو اسے گرمی سردی اور دوسری تکالیف سے محفوظ رکھ سکتاہو ، ایسا لباس پہننا واجب ہے اور اس کو ترک کرنا اور چھوڑے رکھنا حرام ہے ۔

پھر مستحب لباس کی بھی دو قسمیں ہیں : (۱) ایک کا تعلق اﷲ تعالیٰ کی خوش نودی سے ہے ۔ (۲) اور دوسری کا تعلق انسانی سوسائٹی سے ہے ۔ اوّل الذکر وہ لباس ہے جو چادر کی طرح فرض نمازوں ، عیدین اور جمعہ کے اجتماع کے موقع پر لوگ پہنتے ہیں ۔ اور دوسری قسم کا لباس وہ ہے جو جائز کپڑوں کی مختلف اقسام سے تیار کرکے لوگ زیب تن کرتے ہیں ۔

آدمی کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنی ’’ شرافت نفس‘‘ میں کمی واقع نہ ہونے دے اور دوسروں کو حقیر نہ سمجھے ۔ چندیا ( کھوپڑی) کھلی چھوڑ کر عمامہ باندھنا مکروہ ہے اور چندیا ڈھانکا ہوا عمامہ باندھنا مستحب ہے ۔ جس لباس میں عربی (شرعی و اسلامی) وضع کی مخالفت اور عجمی(غیر شرعی یا غیر اسلامی) وضع کی مشابہت ہو ٗ وہ لباس پہننا مکروہ ہے ۔ تہہ بند یا شلوار کی ’’حد کراہت‘‘ تک پہنچی ہوئی’’ طوالت‘‘ بھی مکروہ ہے ۔ چنانچہ حدیث شریف میں آتا ہے ، رسولِ خدا ؐ نے ارشاد فرمایا : ’’مسلمان کی تہہ بند آدھی پنڈلی تک ہوتی ہے ، اگر ٹخنوں کے درمیان تک ہو تب بھی کوئی حرج اور گناہ نہیں ، جو (حصہ) ٹخنوں سے نیچے ہو گا وہ دوزخ کی آگ میں جلے گا ،جو اِترا تے ہوئے تہہ بند گھسیٹتا ہوا چلتا ہے اﷲ تعالیٰ اس کی طرف رحمت کی نظر سے نہیں دیکھتے ۔‘‘ (ابوداؤد)

نماز میں اس طرح چادر کرنا کہ دونوں پلو ایک طرف ہوجائیں اور ہاتھوں کے باہر نکلنے کی جگہ نہ رہے ٗ مکروہ ہے ۔ ’’سدل‘‘ یعنی چادر کے درمیانی حصہ کو سر پر قائم رکھنا اور اِدھر اُدھر کے دونوں حصے پشت پر لٹکا دینا ٗ یہ مکروہ بھی ہے اور اس سے یہودیوں کے ساتھ مشابہت بھی لازم آتی ہے ۔ اگر اندر کپڑے پہنے ہوئے نہ ہوں اور صرف تہہ بند باندھے ہوئے ہو تو ’’احتباء‘‘ کرنا بھی ناجائز ہے ۔ ’’احتباء‘‘ اس کو کہتے ہیں کہ دونوں زانو ( گھٹنے) کھڑے کرکے سینہ کی جانب سمیٹ لے اور سرین کے بل بیٹھ جائے اور ایک چادر کمر کے پیچھے سے گھماکر سامنے لاکر گھٹنوں کو گھیرے میں لے کر باندھ دے تاکہ کمر کا سہارا ہوجائے ، اس سے ’’ شرم گاہ‘‘ سامنے سے کھلی رہتی ہے ۔ ہاں ! اگر کوئی کپڑا اندرونی طور پر پہنے ہوئے ہو تو ’’احتباء‘‘ کرناناجائز نہیں بلکہ جائز ہے ۔

نماز میں منہ بالکل لپیٹ لینا اور ناک ڈھانک لینا مکروہ ہے ۔ مردوں کے لئے عورتوں کی سی وضع قطع اختیار کرنا اور عورتوں کے لئے مردوں کے لباس کی مشابہت اختیار کرنا مکروہ ہے ۔ رسول اﷲ ؐ نے ایسا کرنے والے پر لعنت فرمائی ہے اور عذاب کی وعید سنائی ہے ۔

ایسا لباس پہننا کہ جس سے بدن جھلکتا ہو ٗ مکروہ ہے ۔ اگر کوئی شخص قصداً ایسا لباس پہنتا ہے کہ جس سے اس کے بدن کا ممنوع حصہ جھلکتا ہو تو ایسا شخص فاسق ہے اور یہ ایسا ہی ہوگا جیساکہ اس نے قصداً اپنے بدن کا ممنوع حصہ کھلا چھوڑ دیا ہو۔ ایسے لباس میں نماز پڑھنا ممنوع ہے کیوں کہ ایسے لباس میں نماز ہوتی ہی نہیں ہے ۔ شلوار کی رسول اﷲؐ نے تعریف فرمائی ہے اور اس کو آدھا لباس فرمایا ہے ۔ مردو کے حق میں تو اس کی مزید تاکید ہے ۔ شلوار کے پائنچے کھلے اور کشادہ رکھنا مکروہ ہے ، تنگ رکھنا زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے کہ ایک تو اس سے پے پردگی نہیں رہتی اور دوسرے اس سے ستر عورت خوب ہوتا ہے ۔ ایک روایت میں آتا ہے ، رسول اﷲ ؐ نے ارشاد فرمایا : ’’الٰہی! شلوار پہننے والیوں کو بخش دے ۔‘‘ حضورؐ نے ایک ایسی عورت کے متعلق فرمایا جو اپنے پانچے اٹھائے ہوئے تھی جس کی وجہ سے وہ گرپڑی تھی ، حضورؐ نے اس کی طرف سے اپنا چہرہ مبارک پھیر لیا ۔ بعض احادیث میں آتا ہے کہ حضورِ اقدس ؐ نے ایسی لمبی اور فراخ شلوار کو (جو پاؤں پر پڑ رہی ہو )ناپسند فرمایا ہے ۔

سب سے بہتر لباس وہ ہے جو پردہ پوش ہو ۔ کپڑوں کا سب سے اعلیٰ رنگ ’’سفید رنگ‘‘ ہے ۔ چنانچہ رسول اﷲ ؐ نے ارشاد فرمایا : ’’تمہارے سب سے اچھے کپڑے سفید(رنگ کے) کپڑے ہیں ۔‘‘ اور دوسری حدیث میں آتا ہے کہ : ’’……جن کو تم میں سے زندہ لوگ پہنتے ہیں ۔ لہٰذا (اپنے) مردوں کو کفن بھی انہی کا دیا کرو!۔‘‘ حضرت ابن عباسؓ کی روایت ہے کہ حضورِ اقدس ؐ نے ارشاد فرمایا : ’’سفید رنگ کے کپڑے پہنا کرو! کیوں کہ یہ تمہارے لئے ایک بہترین لباس ہے اور انہی کا اپنے مردوں کو کفن دیا کرو!۔‘‘

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Mufti Muhammad Waqas Rafi

Read More Articles by Mufti Muhammad Waqas Rafi: 185 Articles with 132557 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
28 Dec, 2016 Views: 1507

Comments

آپ کی رائے

مزہبی کالم نگاری میں لکھنے اور تبصرہ کرنے والے احباب سے گزارش ہے کہ دوسرے مسالک کا احترام کرتے ہوئے تنقیدی الفاظ اور تبصروں سے گریز فرمائیں - شکریہ