رواداری اوروفاداری

(Muhammad Nasir Iqbal Khan, Lahore)
پاک فوج میں کمانڈ کی تبدیلی سے اس پروفیشنل ادارے کی سمت نہیں بدلی،آج بھی اس کی توپوں کارخ دشمن کی طرف ہے کیونکہ ہماری فوج اپنے مکاراوربزدل دشمن سے غفلت کی متحمل نہیں ہوسکتی۔بھارت کی سیاسی قیادت کی طرح دفاعی قیادت کے بھی کوئی اصول نہیں ہیں،انہوں نے آج تک پاکستان پر چھپ کروار کیااور شہریوں سمیت سول آبادیوں کونشانہ بنایاجبکہ ہمارے فوجی ان کے باوردی درندوں کو جہنم واصل کرتے ہیں۔پاک فوج کے آفیسرزاورفوجی انتہائی مستعدہیں اوران کامورال کوہ ہمالیہ سے زیادہ بلند ہے۔فوجی قیادت کومختلف چیلنجز اورخطرات کاپوری طرح ادراک جبکہ وہ ان سے نبردآزماہونے کیلئے ہرطرح سے تیار ہے۔بلوچستان میں جواہم کام سیاسی قیادت کے کرنیوالے تھے یاوہ کرنے میں ناکام رہے ہیں وہ کام بھی فوجی قیادت کے ہاتھوں بخوبی انجام پارہے ہیں۔بدگمان بھائیوں کی بدگمانی دوراورانہیں راضی کرنا اہمیت کاحامل ہے ،تاہم یہ آسان نہیں لیکن پاک فوج کے نیک نیت آفیسرز اپنے صادق جذبوں سے سینکڑوں ناراض نوجوانوں کوپہاڑوں سے نیچے اتارنے میں کامیاب رہے ہیں ۔ناراض بلوچ بھائیوں کومنانے اوران کی دوبارہ قومی دھارے میں با وقار واپسی کیلئے پاک فوج کاکردارپاکستانیوں کیلئے سرمایہ افتخار ہے ۔قومی سلامتی کے مشیر جنرل (ر)ناصر خان جنجوعہ نے چندبرس قبل جس اہم قومی مشن کاآغازکیا تھا اسے یقینا پایہ تکمیل تک پہنچایاجائے گا۔پاک فوج کی خصوصی کاوش کے نتیجہ میں بلوچستان میں سرگرم بھارت کے مٹھی بھربھگت تنہا رہ گئے ہیں کیونکہ اب تک سینکڑوں ناراض بلوچ جوانوں نے سرنڈرکردہے۔سیاستدانوں کی طرح ہماری فوجی قیادت اپنے کارہائے نمایاں کی تشہیر نہیں کرتی اسلئے عام لوگ پاک فوج کی کامیابیوں سے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔ہمارے سیاستدان اپنی نااہلی اورناکامی چھپانے کیلئے پاک فوج کی کامیابیوں پربات تک نہیں کرتے۔ سیاسی قیادت کی طرف سے چارفوجی آمریتوں کاماتم توخوب کیاجاتا ہے مگریہ لوگ پاک فوج کی ہزاروں شہادتوں اوربے نظیرقربانیوں کوبھول جاتے ہیں ۔بلوچ نوجوان مقامی سیاسی قیادت سے ضرورمایوس تھے مگرآج بھی پاک فوج پران کااعتماد برقرار ہے ،اگرفوج کاکردارنہ ہوتا توشاید وہ سرنڈر نہ کرتے ۔پاک فوج کی خدمات اورقربانیاں غیوربلوج جوانوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔ وفاداری اوررواداری بلوچ قبائل کاطرہ امتیا ز ہے،وہ بھارت سے دشمن کی باتوں میں آکر مادر وطن پاکستان سے بیوفائی کاتصور بھی نہیں کرسکتے۔بلوچ جوان پاک فوج کاہراول دستہ ہیں ،اگردشمن ملک نے پاکستان کیخلاف جارحیت کاارتکاب کیا توہمارے بلوچ جوانوں سمیت چاروں صوبو ں کے جوان اپنی فوج کی پشت پرکھڑے ہوں گے ۔بھارت نے بلوچستان میں جوجال بچھایا تھا ،پاک فوج کی زیرک قیادت نے اس کی ڈوریاں کاٹ دی ہیں۔بھارت کی بدنام زمانہ خفیہ ایجنسی ''را''کے گرفتار ایجنٹ یادیو کے انکشافات پر اس کے ساتھی اورسرپرست بھی عنقریب پاکستان کے مستعددفاعی اورحساس اداروں کی گرفت میں ہوں گے۔بھارت کوچمک کے باوجود بلوچستان سے کوئی میرجعفر اورمیرصادق نہیں ملے گا، بھارت کے وظیفہ خور چندگمراہ نوجوان ایٹمی ریاست کاکچھ نہیں بگاڑسکتے لیکن جلدانہیں بھی اپنی غلطی کااحساس ہوجائے گااوروہ بھی سرنڈرکردیں گے ۔ بھارت کے حکمران یادرکھیں آج 1971ء نہیں اورنہ انہیں کوئی دوسراشیخ مجیب ملے گا۔ بھارت کی مدد سے پاکستان کابٹوارہ کرنے کی مذموم سازش کے مرکزی کردار شیخ مجیب کی بیٹی شیخ حسینہ بھی جماعت اسلامی کے متعدداکابرین کوتختہ دارپرلٹکانے کے باوجود بنگال عوام کی پاکستان کے ساتھ عقیدت ختم نہیں کرسکتی۔بنگلہ دیش کی حکومت بھارت نواز ہے مگربنگالی عوام کے دل آج بھی پاکستان کے ساتھ دھڑکتے ہیں ۔ میں وثوق سے کہتا ہوں پاکستان توڑتے توڑتے بھارت کااپنا شیرازہ بکھر جائے گاکیونکہ وہاں خالصتان سمیت آزادی کی متعدد تحاریک جاری ہیں۔بہترہوگابھارت اپنے وسائل پاکستان کوالجھانے کی بجائے اپنے اندرونی مسائل سلجھانے پرصرف کرے اورکروڑوں بھارتیوں کوان کاجائز حق دے جوعہدحاضر میں بھی زندگی کی بنیادی ضروریات اورسہولیات سے محروم ہیں۔بھارت آبی جارحیت کاخیال دل سے نکال دے کیونکہ ایٹمی پاکستان کسی قیمت پر اپنے بنیادی حق سے دستبردار نہیں ہوگااورپانی کی بنیادپرایٹمی پاکستان کے ساتھ جنگ بھارت کے مفاد میں نہیں۔بھارت اپنے بڑے حجم کے زعم میں قدرت کے کام میں مداخلت نہ کرے کیونکہ قدرتی طورپر دریاؤں کابہاؤ پاکستان کی طرف ہے ،بھارت اِس قدرتی بہاؤ کارخ موڑسکتا ہے نہ کوئی بندباندھ سکتا ہے ۔

ایل اوسی پردشمن کی چھیڑچھاڑ میں کافی حدتک کمی آئی ہے مگر بھارتی حکمرانوں اورسیاستدانوں نے پاکستان کیخلاف زہراگلنابند نہیں کیا۔درحقیقت بھارت میں پاکستان دشمنی کی بنیادپرووٹ ملتے ہیں اسلئے وہاں پاکستان کیخلاف نفرت کی آگ بجھنے نہیں دی جاتی بلکہ نریندرمودی سے لوگ اس آگ کومزید بھڑکاتے ہیں جبکہ گندی ''راج نیتی''کیلئے اِس آگ میں ہندوستانی عوام کوجھونک دیاجاتاہے۔بھارت کے اندرمسلمانوں اورہندوؤں کے درمیان ہونیوالے مختلف فسادات بھی اس گندی راج نیتی کاشاخسانہ ہیں۔خودنریندرمودی بھی براہ راست مسلم کش فسادات میں ملوث رہا مگر بھارت کی یرغمال عدلیہ نے اسے کوئی سزانہیں دی ۔ وزیراعظم میاں نوازشریف کے برتھ ڈے پرا ن کے بھارتی ہم منصب نریندرمودی نے ان کیلئے نیک خواہشات کااظہارکیا جس پرانہیں بھارت کے انتہاپسند سیاستدانوں کی طرف سے شدیدتنقید کاسامنا کرنا پڑرہا ہے ،تعجب ہے 25دسمبر بابائے قوم محمدعلی جناح ؒ کایوم ولادت بھی ہے اورپاکستان میں یہ دن قومی جوش وجذبہ کے ساتھ منایا جاتا ہے مگر نریندرمودی سمیت آج تک کسی بھارتی حکمران نے قائداعظم ؒ کے جنم دن پرپاکستانیوں کومبارکباد نہیں دی لیکن میاں نوازشریف کے برتھ ڈے پر نریندرمودی کے دل میں ان کیلئے محبت امڈآئی ۔وزیراعظم میاں نوازشریف نے اپنے خاندان کے ساتھ اپناجنم دن تومنایا مگر خودکوقائداعظم ثانی کہلوانے والے میاں نوازشریف کی طرف سے بابائے قوم ؒ کے یوم ولادت پرکوئی تقریب منعقد نہیں کی گئی ۔وہ نریندرمودی جودن رات پاکستا ن سے نفرت کاپرچارکرتااورہماری ریاست کوتوڑنے کیلئے جال بنتارہتا ہے اس کے شدت پسندانہ جذبات میاں نوازشریف کی ذات کیلئے کیوں نرم پڑجاتے ہیں۔دوبدترین دشمن ملکوں کے وزرائے اعظم کاتحائف کاتبادلہ ۔پاکستا ن کے ساتھ بھارت کی دیرینہ دشمنی چھپائے نہیں چھپتی مگران دونوں ملکوں کے وزرائے اعظم میں دوستی ایک بڑاسوالیہ نشان ہے ۔ یہ حقیقت ہے وزیراعظم میاں نوازشریف نے پاکستان اورمختلف ملکوں کے درمیان دوستانہ مراسم کی بجائے ان کے حکمرانوں سے نجی دوستی کوزیادہ فروغ دیا ،شایدوہ مختلف سیاسی پارٹیوں کی طرف سے مسلسل تنقید کے باوجود اپنے اس نجی ایجنڈے کی تکمیل کیلئے حکمران جماعت کے کسی قابل اورزیرک پارلیمنٹرین کووزیرخارجہ بنانے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔ وزرات خارجہ کسی بھی ریاست کیلئے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے مگرپاکستان پچھلے تین برسوں سے وزیرخارجہ سے محروم ہے۔
 
پاک فوج کی طرف سے مادروطن کے اندرونی وبیرونی دشمنوں کاتعاقب جاری ہے اوریقینا دشمنوں کی سرکوبی تک تعاقب جاری رہے گا۔پاک فوج کے کہنہ مشق سپہ سالاراورجانباز اپنے دشمن کی طرف سے پوری طرح چوکنا ہیں ۔جنرل (ر)راحیل شریف کی'' چھڑی'' جوانہیں اپنے پیشرو سے ملی تھی اب وہ آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کے طاقتور ہاتھوں میں ہے ۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کے آنے سے پاک فوج میں ہونیوالی انتظامی تبدیلیاں نئی صف بندی کی غماز ہیں۔جنرل (ر)راحیل شریف کی ریٹائرمنٹ پربھارت کے ایوانوں میں جشن منایاگیا لیکن چندروزبعددوبارہ صف ماتم بچھ گئی ،آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے دشمن ملک کی انتہاپسنداورمتعصب منتخب قیادت پرواضح کردیا کہ وہ کسی بھول اورخوش فہمی میں نہ رہے۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ کا ملک دشمن قوتوں کے نام حالیہ دوٹوک اور سخت جواب اثرسے خالی نہیں۔پاکستا ن کی پرعزم اورپرجوش قیادت کابیان دشمن قوتوں پربجلی بن کرگرتا ہے ۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے انتہائی پراعتماداندازمیں کہا ''ہماری دشمنی صرف پاکستان کے دشمنوں سے ہے '' ان کایہ کہنابہت بامعنی ہے ۔یعنی پاکستان کے دشمن پاک فوج کے دشمن ہیں خواہ وہ اندرونی دشمن ہوں یابیرونی دشمن ہوں،پاک فوج انتہائی منظم اورموثرآپریشن سے ان دشمنوں کونابودکردے گی۔پاک فوج کے آپریشن ضرب عضب کے ثمرات اوردوررس اثرات سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ہمارے ہزاروں آفیسرزاورجوانوں نے جام شہادت نوش کیا مگر ملک دشمن عناصر کاصفایاکردیا،ان میں سے کچھ دم دباکرفرار ہونے میں ضرورکامیاب ہوئے مگران کاانجام بداٹل ہے ۔پاکستان کے دشمنوں کو پاک فوج کی کاری ضرب سے دنیا کی کوئی طاقت نہیں بچاسکتی ۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے ریاست سے ناراض ہونیوالے بھائیوں کومخاطب کرتے ہوئے کہا کہ یقینا انہیں ملک دشمن عناصر نے ان کی ریاست یعنی ماں کیخلاف بہکایااورورغلایا ہے لیکن ان کی واپسی کیلئے ہردروازہ کھلا ہے ا ن کی محرومیوں کامداواکیاجائے گا۔یقینا غیوربلوچ نوجوان مادر وطن کے دفاع کے سلسلہ میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں ۔ریاست ماں ہوتی ہے اورکوئی بیٹا اپنی ماں پربندوق نہیں تان سکتا ۔آرمی چیف جنرل قمرجاویدباجوہ نے کوئٹہ میں بلوچستان کے ریکروٹس کی پاسنگ آؤٹ پریڈکی پروقاراورشاندارتقریب سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے اندرونی وبیرونی دشمنوں کیلئے کودوٹوک پیغام دے دیا ہے۔آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ اوران کے پیشرو جنرل (ر)راحیل شریف میں کام نہیں صرف نام کافرق ہے، جنرل (ر)راحیل شریف کی طرح آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ بھی ملک دشمن قوتوں کیلئے دودھاری تلوار کی مانند ہیں۔پاک فوج اپنے پراعتماداورباوقاراندازسے اپنے مقررہ اہداف کی تکمیل کیلئے گامزن ہے اورکامیابیاں اس کامقدر ہیں ۔پاکستان کو شروع دن سے اپنے پڑوس میں بھارت نامی ایک بزدل اورمکار دشمن کاسامنا ہے اوربدقسمتی سے پڑوسی بدلے نہیں جاسکتے جبکہ فطرت بھی تبدیل نہیں ہوتی۔بچھوکی طرح بھارت بھی اپنی فطرت نہیں چھوڑسکتا،پاکستان کوبھارت سے زہراوربارود کے سواکچھ نہیں ملے گا۔ہم نے پڑوسی کی دشمنی کواپنی طاقت بنالیا ،پاکستان کی ایٹمی طاقت کاکریڈٹ بھارت کوجاتا ہے اگروہ ہمیں مجبورنہ کرتا توآج ہم ایٹمی طاقت نہ ہوتے۔بھارت نے ایڑی چوٹی کازورلگالیا مگروہ جنوبی ایشیاء کاتھانیدار بننے میں ناکام رہا اورآئندہ بھی ناکام ونامرادرہے گا۔جہاں بیرونی دشمن سے درپیش خطرات کونظراندازنہیں کیا جاسکتا وہاں اندرونی دشمنوں کوبھی انڈراسٹیمیٹ نہ کیاجائے۔تیسری باروزیراعظم منتخب ہونے پرپابندی کے قانون ،صوبہ سرحد کے نام کی تبدیلی کے سلسلہ میں آئینی ترمیم سمیت دوسرے سیاسی مفادات کی خاطر متحدہونیوالے سیاستدان کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے متفق کیوں نہیں ہوتے ۔بیرونی زخم پرمرہم لگانا آسان ہے لیکن اندرونی زخم ناسوربن جاتے ہیں ۔کرپشن ہماری ریاست اورمعیشت کی سب سے بڑی دشمن ہے ،بدعنوان سیاستدان بڑے بڑے عہدوں پربیٹھ جاتے ہیں اوران کے ہوتے ہوئے کوئی قومی رازمحفوظ نہیں رہتا ۔جس طرح بدامنی کیخلاف آپریشن ضرب عضب جاری ہے اس طرح کرپشن کیخلاف بھی ایک بڑا منظم آپریشن ناگزیر ہے ۔بدعنوانی ،بدامنی اوربدانتظامی کاآپس میں گہراتعلق ہے ۔ان تینوں برائیوں کے ہوتے ہوئے پائیدارامن کاخواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔ہمارے جانبازفوجی جوانوں کی قربانیاں قابل قدر ہیں لیکن ان کا اپنے عزیز واقارب سے بچھڑنابرداشت نہیں کیا جاسکتا ۔ہمیں بیرونی دشمن سے زیادہ اندرونی دشمن کاناطقہ بندکرناہوگا۔بدعنوانی سے نجات اورانصاف کی فراوانی یقینی بنانے کیلئے ریاست سخت اوربے رحم احتساب کی راہ ہموار کرے ۔ہزارنیب کے ادارے بھی ان عادی چوروں کاحتساب نہیں کرسکتے ۔ان دنوں نیب کوتنقیدکانشانہ بنایا جارہا ہے مگرمیں سمجھتا ہوں وہ کچھ نہ کچھ توریکوری کرتا ہے ،باقی اداروں کی کارکردگی ایک بڑاسوالیہ نشان ہے ۔ماڈل ایان علی اورڈاکٹرعاصم کے معاملے میں لوگ انگلیاں اٹھارہے ہیں مگرکوئی ادارہ اپنی نااہلی ماننے کیلئے تیار نہیں ہے۔
 
آصف علی زرداری کی وطن واپسی جس سیاسی دھماکے کی امید تھی وہ نہیں ہوا ۔بلاول بھٹو زرداری کومتنازعہ اورناکام بنانے والے کوئی اورنہیں ان کے اپنے ہیں۔ذوالفقارعلی بھٹوجس کانانا اوربینظیر بھٹو جس کی ماماہووہ بلاول بھٹوزرداری ایسانہیں ہوسکتامگراس کے اپنے اسے اپنے سیاسی مستقبل کیلئے خطرہ سمجھ بیٹھے ہیں۔بلاول بھٹوزرداری نے جس دن کسی جیالے کی صحبت میں بیٹھنا شروع کردیااس روزانہیں سیاست کی سمجھ آجائے گی ۔بلاول بھٹوزرداری نوجوان ہیں انہیں اپنے آپ کوسیاسی تنازعات سے دوررکھناہوگا۔ بلاول بھٹو زرداری کوتربیت کی آڑ میں مس گائیڈ کیا جارہا ہے،انہیں جو''پٹی ''پڑھائی بلکہ رٹائی جاتی ہے وہ جلسہ میں پڑھ دیتے ہیں ،بلاول بھٹوزرداری اپنے نانا اوراپنی ماما کاورثہ ہیں ،ان کاضیاع پیپلزپارٹی کوبہت مہنگاپڑے گا۔پیپلزپارٹی فرینڈلی اپوزیشن کی حیثیت سے سابقہ تنخواہ پرکام کرے گی ۔آصف علی زرداری حکومت گرانے نہیں بچانے آئے ہیں۔افسوس ہماری سیاسی قیادت نے عوام کوبیوقوف سمجھ لیا حالانکہ یہ لوگ اپنے ہاتھوں سے اپنے چہروں کے نقاب اتاربیٹھے ہیں۔آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ میں آنے کامژداسنایاتومجھے سابق صدرسردارفاروق خان لغاری یادآگئے ،وہ صدرمملکت کامنصب انجوائے کرنے کے باوجود ممبر قومی اسمبلی کی حیثیت سے پارلیمنٹ میں آگئے اوراس پرانہیں پیپلزپارٹی سمیت مختلف سیاسی پارٹیوں کی طرف سے تنقید کانشانہ بنایا گیا اوراب آصف علی زرداری بھی اپنے سیاسی حریف اورپیشروسردارفاروق خان لغاری کے نقش قدم پرچل پڑے ہیں ۔کیاآئینی طورپر صدرمملکت سے بڑابھی کوئی منصب ہے ،آصف علی زرداری کاممنون حسین کے ساتھ موازنہ نہیں کیا جاسکتاکیونکہ وہ انتہائی بااثر، بااختیاراورطاقتور صدر مملکت تھے ۔نہ جانے ہمارے سیاستدانوں میں اقتدار کی ہوس کس طرح ختم ہوگی ۔آصف علی زرداری اُس پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین ہیں جوتین بار وفاق میں برسراقتدارآئی اورسندھ میں آج بھی اقتدارمیں ہے ، اگرسمجھاجائے توپارٹی منصب معمولی نہیں ہوتا۔ اگر2018ء کے عام انتخابات میں بھی مسلم لیگ (ن) برسراقتدارآئی توپیپلزپارٹی خودکومعاف نہیں کرسکے گی کیونکہ پیپلزپارٹی فرینڈلی اپوزیشن کاکرداراداکرتے ہوئے حکمران جماعت کواس مقام پرلے آئی ۔پیپلزپارٹی کی سیاست کاجنازہ اٹھانے والے کوئی اورنہیں آصف علی زرداری خود ہیں۔آصف علی زرداری ڈیل ڈیل کھیلتے رہے جبکہ حکمران جماعت نے اگلی باری یقینی بنالی ۔عمران خان واقعی سیاستدان نہیں اوریہ بات ان کے حق میں جاتی ہے کیونکہ جو سیاستدان ہیں وہ ریاست کے ساتھ سیاست کررہے ہیں ۔پاکستان کو تبدیلی اورترقی کیلئے سیاستدان نہیں جنون کی ضرورت ہے اوروہ جنون جس میں ہے اسے تلاش کرنا کوئی دشوار کام نہیں ۔پاکستان میں سیاستدان بڑے ہیں نجات دہندہ کوئی بھی نہیں ۔اگرعوام نے سیاستدانوں کے ہجوم میں اپناحقیقی نجات دہندہ شناخت کرلیا توان کی کایا پلٹ جائے گی ۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Muhammad Nasir Iqbal Khan

Read More Articles by Muhammad Nasir Iqbal Khan: 173 Articles with 82195 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
02 Jan, 2017 Views: 408

Comments

آپ کی رائے