سندھ طاس

(Raja Tahir Mehmood, Rawat)
سندھ طاس پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کی تقسیم کا وہ عظیم معاہدہ ہے جس کی وجہ سے دونوں ملک پانی کی لڑائی سے محفوظ ہو گئے تھے قیام پاکستان کے بعد جب پاکستان میں بہنے والی نہروں کے ہیڈورکس برطانوی سازش کا شکار ہوتے ہوئے بھارت میں چھوڑ دیے گئے تو اس وقت یہ مسئلہ اٹھا کہ جب بھی بھارت کا دل چاہتا وہ پانی بند کر دیتا اور جب جی چاہتا پانی چھوڑکر آبی جارحیت کر لیتاجس سے پاکستان میں سیلاب کی کیفیت پیدا ہو جاتی اور فصلوں کو نقصان ہوتا بھارت کی اس چال سے پاکستان کو سخت تشویش تھی جس بنا پر پاکستان اس معاملے کو عالمی فورم پر لے گیا اور یوں بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کا وہ عظیم معاہدہ وجود میں آیا جسے لوگ سندھ طاس کے نام سے جانتے ہیں اس کی رو سے تین دریاؤں بیاس ستلج اور راوی کا پانی بھارت کو جبکہ تین دریاؤں جہلم ،سند ھ اور چناب کا پانی پاکستان کو دیا گیا اس وقت اس معاہدے کو امن کی ضمانت سمجھا جانے لگا اور ایک بڑے معاملے کو جس طرح مذاکرات کی میز پر حل کیا گیا اس سے یہ امید پیدا ہوئی کہ اگر ایسا ہی چلتا رہا تو پاکستان اور بھارت بہت جلد اپنے دیگر تنازعات بھی حل کر لیں گے لیکن بعد ازاں ہندو دشمنی نے اپنا کام دکھانا شروع کیا اور اپنے ہی حکمرانوں کے کیے گئے وعدوں کے خلاف بولنا شروع کر دیا اور اسوقت جو انڈیا کی لیڈر شپ تھی وہ آج کل کی لیڈر شپ سے کہیں درجے بہتر تھی جنھیں ناصرف بھارت بلکہ خطے کی دیگر ممالک کی عوام کا احساس تھا مگر آج کی لیڈر شپ تو پڑوسی کو پڑوسی سمجھنے سے ہی قاصر ہے شاید یہی وجہ ہے کہ بھارت اور پاکستان میں جو بھی تنازعات ہے وہ تقریبا اسی جگہ پر رکے ہوئے ہیں جہاں وہ برسوں پہلے تھے حال ہی میں بھارت کی طرف سے سندھ طاس معاہدے کو ختم کرنے یا اس میں کسی بڑی تبدیلی کی طرف اشارہ دیا جا رہا ہے اور جو صرف پاکستان کوگیدڑ بھبکی لگانے سے زیادہ کچھ نہیں ۔پانی چونکہ کسی بھی ملکی کی زراعت کے لئے ضروری ہے اور بھارت اور پاکستان دونوں زرعی ملک ہیں جن کی معیشت کا سارا دارو مدار زراعت پر ہے اور دونوں ملکوں کی ایک بڑی آبادی زراعت سے بلواسطہ یا بلا واسطہ منسلک ہے اور پنا روز گار اس زراعت سے کماتی ہے اس لئے دونوں ملکوں کی عوام پانی کی اہمیت کو خوب جانتی ہیں اب جبکہ دنیا آگے جا رہی بھارت اپنی عوام کی ترقی کو روک کر پاکستان دشمنی میں کہیں آگے جا نا چاہتا ہے اس کے لئے اس کی پہلی ترجیح اپنی بھوکی مرتی عوام نہیں بلکہ پاکستان دشمنی ہے اور وہ اس معاہدے کو ختم کر نے کے اعلانات کر کے پاکستان پر دباؤ ڈالنا چاہتا ہے اس ساری صورت حال میں عالمی برادری خاموش ہے اور عالمی بینک جو اس وقت ثالث تھا اس نے بھی اس میں پڑنے سے فلوقت پس و پیش سے کام لیا ہواہے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی بینک کے صدر کی طرف سے جس قسم کا تاثر دیا گیا ہے وہ نہ صرف پاکستان بلکہ سندھ طاس معاہدے کے مستقبل کے حوالے سے بے حد تشویش کا باعث ہے بینک نے پاکستان اوربھارت کے آبی تنازعہ میں ثالث کی حیثیت سے اپنا کردار روکتے ہوئے دونوں ملکوں کو پانی کا تنازعہ ازخود حل کرنے کے لئے کہا ہے بھارت دریائے نیلم کے پانی پر 330میگاواٹ کا کشن گنگا اور دریائے چناب کے پانی پر 850میگاواٹ پن بجلی منصوبہ بنا رہا ہے اس تنازعہ کے حل کے لئے بھارت نے ورلڈ بینک سے غیر جانبدار ماہر کا تقرر کرنے کی درخواست کی تھی جبکہ پاکستان نے بھی چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کے تقرر کی درخواست کی تھی عالمی بینک کی طرف سے کہا گیا ہے کہ بھارت کی جانب سے دوہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹس کی تعمیر پر بھارت کی جانب سے غیر جانبدار ماہر اور پاکستان کی جانب سے چیئرمین عالمی ثالثی عدالت کی تقرری کو عارضی طور پر روکا جاتا ہے دونوں ملکوں کی جانب سے دی گئی دونوں درخواستیں ایک ساتھ چل رہی تھیں اور خدشہ تھا کہ ان دونوں درخواستوں کے مختلف نتائج آئیں گے جس سے سندھ طاس معاہدہ خطرے میں پڑ سکتا ہے بیان کے مطابق اس عمل کو عارضی طور پر روکنے کا مقصد سندھ طاس معاہدے کو بچانا ہے تاکہ بھارت اور پاکستان کی مدد کی جائے کہ سندھ طاس معاہدے میں رہتے ہوئے متبادل طریقہ کار سے اس آبی تنازعہ کو حل کیا جائے اگرچہ پاکستان اور بھارت کے درمیان پانی کے مسئلہ پر کشیدگی موجود ہے اس کے باوجود کسی بھی ملک نے اس معاہدے کو منسوخ نہیں کیا تاہم بھارت کے عزائم واضح طور پر اور آن دی ریکارڈ موجود ہیں بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ ہم اپنے دریاؤں کا پانی پاکستان کو نہیں دیں گے ہم پاکستان کو صحرا بنا دیں گے ان بیانات کا عالمی برادری کو نوٹس لینا چاہیے تھا اور پاکستان کو یہ بیان اقوام متحدہ میں اٹھانا چاہے تھا تاکہ عالمی دنیا کو معلوم ہو سکے کہ بھارت پاکستان کے بارے میں کیسے عزائم رکھتا ہے اگر دونوں ملک اس پوزیشن میں ہوتے کہ وہ مذاکرات کے ذریعے اپنے آبی تنازعے حل کرتے تو عالمی بینک سے رجوع کرنے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا عالمی بینک سے انہوں نے اسی لئے رجوع کیا کہ دونوں باہمی بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے میں ناکام ہوئے بینک چونکہ معاہدہ پر عملدرآمد کے سلسلے میں ضامن کی حیثیت رکھتا ہے اس لئے معاہدے کی روشنی میں دونوں فریق اسی سے رجوع کرتے ہیں عالمی بینک کے اعلامیہ میں دونوں ملکوں کو جنوری کے آخر تک تنازعہ حل کرنے کی ڈیڈ لائن معنی خیز ہے اس سے یہ امید کی جاسکتی ہے کہ اس کے بعد شاید بینک اپنا کردار ادا کرنے کے بارے میں کوئی فیصلہ کرے گا پاکستان کو اس ضمن میں فوری طور پر ماہرین کا اجلاس طلب کرکے عالمی بینک کے موقف کی روشنی میں معاہدے پر غور و خوض کرنا چاہیے اور دیگر آپشن پر بھی غور کرنا چاہیے ساتھ ساتھ عالمی برادری میں اپنے موقف کو واضح طور پر پیش کرنے کے لئے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ بھارت کی آبی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا جا سکے اور دوست ممالک کو اس سلسلے میں اعتماد میں لینا چاہے تاکہ کسی بھی صورت حال میں پاکستان کا موقف پہلے سے ہی عالمی سطح پر نوٹس میں ہو
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: rajatahir mahmood

Read More Articles by rajatahir mahmood : 304 Articles with 129960 views »
raja tahir mahmood news reporter and artila writer in urdu news papers in pakistan .. View More
09 Jan, 2017 Views: 257

Comments

آپ کی رائے