شام کے ایلان کے بعدبرما کا شوحیات مگر؟

(Inayat Kabalgraami, )
آج سے تقربا تین سال قبل ترکی سمندر کے ساحل پر تین سالہ ایلان کردی کی بہنے والی لاش پوری دنیا کو اپنی جانب متوجہ کردیا تھا۔ اخبارات و رسائل اور سائبر اسپیس پر مضامین کی انبار لگی ہوئی تھی۔ فیس بک، ٹوئیٹر، وہاٹس اپ اور دیگر سوشل سائٹس پر اس منظرنامہ کو پوسٹ کرنے والوں کی تعداد لائک اور کمنٹ کرنے والوں سے بھی زیادہ ہوچکی تھی۔افسوس کا اظہار کرنے والوں کی ایک لمبی فہرست سامنے آرہی تھی۔ اس تصویر کے منظر عام پر آنے کے بعد ان کے ردعمل سے بہ ظاہر یوں لگتا ہے کہ انسانیت پر ظلم وستم کا پہاڑ تو ڑنے والے امریکہ اور یورپ کا ضمیر بھی بیدار ہوچکا ہے۔مگر افسوس ایسا کچھ نہیں ہواایلان کے بعد ایک اور مسلمان بچے محمد شوحیات کی لاش سمندر نے اس ہی انداز میں باہر پھنک دی جس طرح ایلان کی ایلان کی لاش ترکی کی ساحل سے برامد ہوئی تھی تو شوحیات کی بنگلہ دیش کے ساحل سے ہائے افسوس دونوں ساحلیں مسلمان ممالک کی ہے ایلان اور محمد شوحیات کی لاشیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آٖخر شام اور برما کے حالا ت اس قدر خراب کیوں ہے ؟اور کو ن اس کے لئے ذمہ دار ہے۔ سات سالوں سے جاری بحران کا خاتمہ کیوں نہیں ہورہا ہے۔ اقوام متحدہ کیا کررہی ہے۔ عرب ممالک کی کاغذی تنظیم عرب لیگ کب نششتن، گفتن، اور برخواستن سے آگے بڑھ کر عملی طور پر کوئی کاروائی کرے گی۔ عالمی امن کے ٹھیکے دار امریکہ اور یورپ روس ایران ،بھارت اور دیگر استعاری قوواتیں کب تک مشرق وسطی و جنوبی ایشیا میں خاک و خون کی ہولی کھیلتے رہیں گے؟ کب تک وہاں قتل عام اور انسانی بحران کا سلسلہ جاری رہے گا۔شام میں جاری خانہ جنگی میں اب تک آٹھ لاکھ افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔اور برما میں بھی مسلمانوں کی نسل کوشی میں ابتک لاکھوں مسلمانوں کو اس قدر بے رحمی سے شہید کیا گیا جس کی کوئی مثال تاریخ میں نہیں میلے گی، لاکھوں کی تعداد میں ہجرت کرکے دیگر ممالک میں چلے گئے جہاں ان کا پرسان حال کوئی نہیں۔؟ایلان کی تصویر کے بعد شوحیات کی تصویر صرف مذمت اور سوشل میڈیا میں شرینگ کے کام آئی گی یا کوئی عملی اقدامات بھی ہونگے ۔ان دونوں بچوں کی طرح ایسے لاکھوں بچوں کی داستان ظلم عیاں ہورہی ہے جو مغرب کی دوہری پالیسی اور سامراجی نظام کے شکار ہیں۔تین سال قبل ساحل پر پائی جانے والی شامی بچے ’ایلان کردی‘ کی لاش نے پوری دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ تو دیا تھا اور ہر طرف سے شام میں جنگ بندی اور وہاں سے مجبوراً ہجرت کرکے دوسرے ممالک جانے والے افراد کے لیے خصوصی اقدامات سے متعلق کئی بیانات سامنے لگے تھے۔ چند روز قبل میانمار سے بھی ایک ایسی ہی تصویر سامنے آئی، جس میں ایک ننھے بچے کی لاش کو ساحل پر اوندھے منہ پڑے ہوئے دکھایا گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ لاش میانمار کی مسلم اکثریتی ریاست رکھائن سے تعلق رکھنے والے 16 ماہ کے محمد شوحیات کی تھی، جس کے والدین بھی اپنے ملک کی فوج کی جانب سے ظلم و ستم اور بدسلوکی کے باعث ہجرت کرکے بنگلہ دیش جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ چونکہ میانمار کی اس شمالی ریاست میں غیر ملکی میڈیا کو جانے کی اجازت نہیں مگر تصویر کی تصدیق ۔ محمد شوحیات کے والد نے کردی ،محمد شوحیات کے والد ظفر عالم نے امریکی نشریاتی ادارے سی این این سے بات کے دوران تصویر کے حقیقی ہونے پر اصرار کرتے ہوئے کہا کہ ’میں جب بھی اس تصویر کو دیکھتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں بھی مرجاؤں گا، جبکہ اب میرے جینے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ دریائے ناف کے ذریعے ہجرت کرکے بنگہ دیش جانے والی جس کشتی میں وہ سوار تھے، اس میں گنجائش سے زیادہ افراد کے موجود ہونے کی وجہ سے کشتی ڈوب گئی، جس کے باعث ان کے بیٹے کی موت واقع ہوئی۔ دوسری جانب میانمار کے سرکاری حکام اس تصویر کو جھٹلانے کی ناکام کوشیشوں میں مصروف ہے کہ کہی ایسا نا ہو جائے کے اس بربریت پر اسلامی ممالک جاگ اُٹھے ۔ میں برما کی حکومت سے یہی کہونگا کہ وہ مسلمان منو مٹی تلے سو چکے ہیں جو اپنے مسلمان پر ہونے والے ظلم کا بدلہ لینے عرب سے لشکر سمیت سندھ ،بغداد یا فلسطین جایا کرتے تھے ۔میانمار کی نام نہاد نوبیل انعام یافتہ آنگ سان سوچی کی حکومت کی جانب سے تشکیل دیئے گئے کمیشن نے اپنے نتائج میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے روہنگیا مسلمانوں سے بدسلوکی کے تمام الزامات کو مسترد کردیئے۔ بین الاقوامی دباؤ کی وجہ سے آنگ سان سوچی نے خصوصی کمیشن کو حملوں کی تفتیش اور بدسلوکی کے الزامات کی تحقیق کا حکم دیا تھا۔ کمیشن کا یہ بھی کہنا تھا کہ انہیں اس قدر شواہد حاصل نہیں ہوسکے ہیں کہ وہ فوجیوں پر ریپ کے الزامات کے خلاف قانونی کارروائی کرسکیں۔ دوسری جانب ایک عالمی رپورٹ کے مطابق صرف گزشتہ تین سالوں میں جتنی ہجرت ہوئی تقسیم پاک و ہند کے بعد سب سے بڑی ہجرتیں ہیں ۔پناہ حاصل کرنے کے لئے یورپ ترکی پاکستان بنگلہ دیش ملیشیا اور دیگر ممالک کا رخ کررہے ہیں ۔کنیڈا کا شمار بھی ان ملکوں میں ہوتا ہے جس نے بڑی تعداد میں تارکین وطن کو اپنے یہاں پناہ دے رکھی ہے۔اپنے وطن کو الوداع کہ کر یورپ ،عرب مملک میں جائے پناہ تلاش کرنے والے یہ پریشان حال عوام ان لوگوں میں شامل نہیں ہے جو یورپین اور عرب ممالک کا سفر بہتر اور تابناک مستقبل کے لئے کرتے ہیں او بلکہ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے ملکوں سے اپنی اور اپنے بچوں کی جانیں بچانے کے لئے راہ فرار اختیار کرنے پر مجبور ہوئے ہیں۔یورپ اور امریکہ میں سول سوسائٹی کے بعض حلقے ایسے ہیں جو دنیا کی مظلوم قوموں اور گروہوں کے لئے حقیقی طور پر آواز اٹھاتے ہیں۔ اس وقت بھی یہ حلقے مغربی حکومتوں پر یہ زور دے رہے ہیں کہ دنیا کی بدامنی کے شکار ملکوں سے آنے والے تارکین وطن کو ہر ملک خوش اسلوبی سے قبول کریں،اور ان کی جان کی تحفظ کیلئے ان کو پناہ دی جائے۔ انہی حلقوں نے ایلان کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر جاری کرکے دنیا کو یہ باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ ان تارکین وطن کے مسائل کیا ہیں اور وہ کن مصائب سے دوچار ہیں۔ جب سول سوسائٹی کی طرف سے مظلوم ایلان کی تصویر پر غم و غصے کا اظہار کیا گیا تو مغرب کے حکمرانوں کو بھی اداکاری کرنی پڑی۔اور انہوں نے بھی مگر مچھ کے آنسو بہائے لیکن ان سب کے لئے ذمہ دار بھی وہی ہیں۔ ان کی پالیسی ہے۔سوال ان تارکین وطن کو پناہ دینے یا نہ دینے کا نہیں ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ مسلم ممالک کے ان خراب حالات کا ذمہ دار کون ہے۔شام میں خانہ جنگی کے اسبا ب کی تلاش اور اس کے حل کے لئے دنیا کیوں فکرمند نہیں ہے۔برما میں مسلمانو کی نسل کوشی پر مسلم ممالک خاموش کیوں موجودہ حالات اور مسلم حکمرانوں کے راویوں کو دیکھ کر برمی اور شامی مسلمانوں سے یہی کہا جا سکتا ہے کہ وہ اﷲ پر بروسا رکھیں اور اسی سے مد د کی امید رکھیں اور متحد ہو کر ان ریاستی دہشت گردوں کا مقابلہ کریں کیونکہ اس کے علاوہ کہیں سے بھی نظر نہیں آرہا کہ کوئی بھی ملک کھل کر ان برمی مسلمانوں کی مدد کیلئے آگے آئے گا۔قارئین! دنیا کے ان تمام بڑے ممالک جنہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے اور دہشت گردوں کا کو ختم کرنے کا ٹھیکا لے رکھا ہے کیا ان کو برما میں مسلمانوں پر ظلم کے پہاڑ توڑنے والے دہشت گرد نظر نہیں آتے؟ اقوم متحدہ،او آئی سی،دنیاکے تمام بڑے ٹھیکے داروں،مسلمان ملکوں کے حکمرانوں اور پاکستان کے میڈیا سمیت تمام عالمی میڈیا سے برمی مسلمانوں کا ایک ہی سوال ہے،کہ کیا برما و شام میں بسنے والے مسلماناور انسان نہیں؟
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Inayat Kabalgraami

Read More Articles by Inayat Kabalgraami: 94 Articles with 52244 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
09 Jan, 2017 Views: 399

Comments

آپ کی رائے