ذہنی تناﺅسے نجات حاصل کریں

(Shazia Anwar, Karachi)
فی زمانہ ہر دوسرا شخص ذہنی دباﺅ کی شکایت کرتا نظر آتا ہے۔تحقیق کہتی ہے کہ ذہنی دباﺅ انسان کو ایسے کھانوں کی جانب راغب کرتا ہے جو اس کی صحت کے لئے نقصان دہ ہیں۔ تحقیق کے مطابق ذہنی دباﺅ د ُور کرنے کے لئے ذیل میں دی گئی قدرتی اور صحت بخش غذائیںمعاون ثابت ہوسکتی ہیں۔

ہرے پتوں والی سبزیاں
دوپہر کے کھانے کے لئے ہرے پتوں سے بنے ہوئے کھانوں کا انتخاب کیجئے۔اس سلسلے میں پالک کا استعمال کیا جاسکتا ہے جس میں فولیٹ موجود ہوتا ہے جو ڈوپامین نامی کیمیکل بناتا ہے جس سے دماغ کو راحت ‘خوشی اور سکون ملتا ہے ۔2013ءمیں یونیورسٹی آف اوٹاگو کے ایک مطالعے کے مطابق جن دنوں میں کالج کے طالب علموں نے پھل یا سبزیاں کھائیں وہ ان دنوں کے مقابلے میں زیادہ خوش اور پر ُجوش تھے جن دنوں میں انہوں نے ایسا نہیں کیا۔

دلیہ
اگر آپ نشاستے سے بھرپو ُر کھانوں کے شوقین ہیں تو امکانات ہیں کہ تناو کی صورت میں آپ کا ہاتھ ڈونٹس کی جانب بڑھے گا۔ اس خواہش کو مکمل طور پر ختم نہ کریں بلکہ دلئے سے بنی ہوئی اشیاءکھائیں۔ اس کی وجہ سے تناﺅ کی صورت میں خون میں شکر کی مقدار بڑھنے کا مسئلہ بھی پیدا نہیں ہوگا۔

دہی
ایک تحقیق میں 36 خواتین کے دماغ کی سرگرمیوں کی نگرانی کی گئی جس کے مطابق
جن خواتین نے دہی کھایا ‘اُن کے دماغ کے تناﺅ پیدا کرنے والے حصے ّکم سرگرم رہے ۔دہی کیلشیم اور لحمیات سے مالامال ہوتا ہے ‘اس لئے اسے اپنی غذا کا مستقل حصہ ّ بنانا گھاٹے کا سودا نہیں۔

ڈارک چاکلیٹ
تحقیق کہہ رہی ہے کہ ڈارک چاکلیٹ کھانے سے ذہنی تناو میں نمایاں کمی ہوجاتی ہے۔ چاکلیٹ میں ایسے اجزا ءشامل ہیں جو خون کی شریانوں کو آرام دینے میں مدد کرتے ہیں‘ فشار خون کم ہوتا ہے اور خون کی روانی بہتر ہوتی ہے۔ تناو کم کرنے کے لئے 70فیصد سے زائد کوکو والی چاکلیٹ کا استعمال کریں ۔

دودھ
دودھ حیاتین ڈی کا بہترین ذخیرہ ہے ‘جس میں خوشی کو بڑھانے والے اجزاءموجود ہوتے ہیں۔ ایک تحقیق کہتی ہے کہ حیاتین ڈی کی کمی گھبراہٹ اور ذہنی تناﺅ کا باعث ہوتی ہے‘ اس لئے روزمرہ خوراک میں دودھ شامل رکھنا ضروری ہے۔

 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shazia Anwar

Read More Articles by Shazia Anwar: 166 Articles with 173087 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jan, 2017 Views: 729

Comments

آپ کی رائے