منڈے ہو یا سنڈے روز کھائیں انڈے مسلسل انڈے

(Shazia Anwar, Karachi)
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے انڈہ ایک نعمت ہے جسے اسکے بے شمار فوائد کی وجہ سے سپر فوڈ کہا جاتا ہے۔انڈے میں انتہائی معیاری لیوٹین (lutien)پائے جاتے ہیںجس کی وجہ سے باقاعدگی سے انڈے کھانے والوں میں آنکھوں کی بیماری کیٹریکٹ کا خدشہ بہت کم رہ جاتا ہے۔ اس کا استعمال نہ صرف آنکھوں کو تقویت بھی دیتا ہے بلکہ 50 برس کے بعد پیدا ہونے والے اندھے پن کے خطرات بھی کم ہوجاتے ہیں۔
ایک انڈے میں تقریباً 212ملی گرام ایچ ڈی ایل یعنی مفید کولیسٹرول پایا جاتا ہے اسکے کھانے سے خون میں مضر کولیسٹرول کا اضافہ نہیں ہوتااسی وجہ سے اس کے استعمال سے دل اور دیگر کئی بیماریاں ہونے کا خدشہ کم ہوجاتا ہے۔ایک انڈے میں 6 گرام پروٹین اور انسانی جسم کیلئے ضروری تمام امینوایسیڈ پائے جاتے ہیں۔ پروٹین انسانی جسم کی نشوونما کےلئے بنیادی عنصر اور خصوصاً بڑھتے ہوئے بچوں کےلئے نہایت اہمیت کا حامل ہے۔

انڈوں کا استعمال دماغ کو مضبوط کرتا ہے ‘ بیماری کے بعد ہونے والی نقاہت کود ُور کرتا ہے اور اس کے پروٹین گوشت اور پٹھوں کی ساخت کی تعمیر کرتے ہیں۔ انڈے کھانے سے جسم میں طاقت اور حرارت پیدا ہوتی ہے۔انڈے میں فاسفورس‘کیلشیم ‘حرارے‘ سوڈیم‘ پروٹین‘حیاتین اے ‘چکنائی ‘ نشاستہ ‘کیلشیم‘ معدنی نمک ‘حیاتین سی ‘فاسفورس اور فولاد جیسے اہم غذائی اجزاءپائے جاتے ہیں۔انڈوں کا کیلشیم پھیپھڑوں کی ساخت دُرست رکھنے کےساتھ جسم کی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کا فولاد خون میں سرخ ذرات پیدا کرتا ہے جبکہ فاسفورس اعصاب کو طاقت دیتا ہے۔انڈے میں موجود سلفر اور دیگر معدنی اجزاءبالوں اور جلد کےلئے بہترین ہیں۔ انڈے میں شامل معدنی نمک دل کی مضبوطی کےلئے مفید ہے۔

انڈے کھانے سے جسم کے داغ دھبے دُور ہوجاتے ہیں۔انڈہ وہ و احد غذا ہے جس میں قدرتی طور پر وٹامن ڈی پایا جاتا ہے۔انڈے کا استعمال سینے کے سرطان کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ہارورڈ اسکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک تحقیق کے مطابق انڈوں کا باقاعدہ استعمال خون کو پتلا رکھ کر دل کے د ُورے کے خطرے کو کم کرتا ہے۔ عام خیال یہ ہے کہ دیسی انڈے میں زیادہ غذائیت ہوتی ہے ‘ تاہم تحقیق اسے مفروضہ قرار دیتے ہوئے بتاتی ہے کہ غذائیت کے اعتبار سے دونوں قسم کے انڈے مساوی ہیں۔

انڈے کو اُبال کر سفیدی اور زردی سمیت کھایا جاتا ہے‘ بعض لوگ کچا انڈہ پی لیتے ہیں جبکہ مناسب طریقہ یہ ہے کہ انڈے کو پانی میں سفیدی پک جانے اور زردی پکنے کے قریب ہونے تک پکائیں ‘ یعنی پورا نہ پکے‘ پھراسے نمک اور مرچ چھڑک کر کھایا جائے۔ انڈوںکو نہ ہی تیز آنچ پر پکائیں اور نہ ہی سخت کریں بصورت دیگر انڈے اپنی افادیت کھوبیٹھیں گے ۔ خاص طور پر تیز آنچ پر پکانے سے انڈوں کے پروٹین ضائع ہونے کا خدشہ ہوتا ہے ‘یہی وجہ ہے کہ لوگ عام طور پر آدھا پکا ہواانڈہ استعمال کرتے ہیں۔ سفیدی کی نسبت انڈے کی زردی میں تین گنا زائد حرارے ہوتے ہیں ‘اس لئے عام طور پر لوگ انڈے کی زردی سے اجتناب کرتے نظر آتے ہیں۔ایک دن میں کتنے انڈے کھانے چاہئے اس حوالے سے کوئی حتمی رائے نہیں ہے۔ ایک خیال یہ ہے کہ جتنے انڈے کھائیں اچھا ہے جبکہ دوسری رائے کہتی ہے کہ انڈوں کے زیادہ استعمال سے کولیسٹرول کی زیادتی ہوسکتی ہے ‘اسلئے اسے اعتدال میں کھانا چاہئے تاہم سرد موسم میں ایک انڈہ ضرور کھائیں اور صحت پائیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Shazia Anwar

Read More Articles by Shazia Anwar: 168 Articles with 173535 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
13 Jan, 2017 Views: 591

Comments

آپ کی رائے