امام حنبل ؒنے چور سے کیا سیکھا؟

(Sami Ullah Malik, )
داستانِ عزیمت

عباسی خلفاء کے دورمیں جب بدعات و مظالم کی سیاہ وحشت ناک راتوں نے دین اسلام کے اُجالے میں عظیم فتنہ’’خلق قرآن ‘‘کے نام سے شب خون مارنے کی نامراد کوشش کی تواس زمانے کی ظالم حکومت نے اپنے پورے قہروجبرکے ساتھ کلمتہ الحق کہنے والوں کی زبانیں کاٹ کران کے منہ زروجواہرسے بھرنا شروع کردیئے۔اپنے اقتدارکی طوالت کی خاطر دار ورسن اورفولادی زنجیروں کی بھرمارکرڈالی اورخوف و دہشت کی بناء پرخوفِ خداکی شاہراہ کوسنسان کرنے کاہمہ وقتی عمل شروع کردیا۔جہادوغیرہ کادرس دینے والے سہمی ہوئی بھیڑوں کی طرح ایک کونے میں سرچھپائے ہوئے روپوش تھے۔اس زمانے میں عام مسلمان’’علماء و مشائخ ‘‘کوگوشۂ سکوت میں سرچھپائے ہوئے دیکھ کر بڑی دلسوزی کے ساتھ اس بات کی گڑگڑاکر دعا مانگ رہے تھے کہ کوئی توخدا کابندہ ایسا ہوجواس ظلم وباطل کاحق وراستی کے ساتھ مقابلہ کر سکے اوراس امتِ وسط کوآخرت میں محمدؐ عربیﷺ کے سامنے شرمندہ ہونے سے بچالے۔

تاریخ گواہ ہے کہ دعا کے عظیم الشان محاذپر اللہ نے اپنے بندو ں کی مناجات ‘ التجائیںبہت قریب سے سنیں اوراس اجاڑ بستی میں سے ایک مرد مجاہدنے اس جہادمیں کودکر خون تشنہ جابراورایمان کش اقتدارپرکلمتہ الحق کی ایسی بجلیاں گرائیں کہ کفرکاساراسیاہ دامن اوربدعت وظلمت کا پوراوجودلرزنے لگا۔جب اس بندہ ٔخدانے ظلم وجبرکی آندھیوں میں حق پرستی اورحق گوئی کے بجھے بجھے چراغ اپنے لہواوراشکوں کیروانی سے جلانے شروع کئے تو دنیادار، آخرت فراموش اورظلمتوں کے علمبرداروں نے اپنی پوری کوشش کرڈالی کہ اس روشنی کوزروجواہر‘اقتداراورمنصب کی لالچ کی پھونکوں سے ڈھانپ کربجھا دیاجائے لیکن’’وہ‘‘جان چکاتھاکہ اس دل میں اگرصرف ایک خوفِ خدا جگہ بنا لے تودنیاکے تمام مصائب سے نجات پاناآسان ہے۔اس لئے اس نے’’خوفِ خدا‘‘ سے اپنے دل کومزین کرلیا۔اُسے یہ بھی معلوم تھاکہ جب کوئی اورخوف یا لالچ اس دل میں جگہ بناناشروع کردے توخوفِ خدا دبے پاؤں چپکے سے نکل جاتا ہے۔اسی لئے اس مردِ مومن نے خوفِ خداکی ضربِ کلیمی سے خوفِ دنیاکے پرخچے اڑادئے۔اس مردِ مومن کویہ علم اور ادراک تھا کہ اس عمل کے بعد اس کے وجودکے پرزے اڑادئے جائیں گے لیکن ایمانی جوش ‘دنیاوی ہوش پرہمیشہ سبقت لے جاتاہے اوراس کے دل پریہ پیغام پہنچ چکاتھا ؎
یہ قدم قدم بلائیں یہ قدم کوئے جاناں
وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہوپیاری

جاہ واقتدارکی مکروہ پیشانی جس کی نگاہوں نے ہمیشہ اپنے سامنے سرجھکتے ہوئے دیکھے تھے‘ایک مردِ حق کاباطل کے سامنے اٹھاہواسردیکھاتوتوبے شماربل پڑگئے‘ نخوت وتکبرنے اس تنہاگردن وجبین کوجھکانے کیلئے اپنی پوری طاقت کااظہاراس طرح کیاکہ منوں وزنی لوہے کی زنجیروں میں پابجولاں کرکے شہرکی گلیوں میں گھمایا۔موت کی ہلاکت آفرینیاںہروقت اس مردِ حق کے سرپرمنڈلارہی تھیں‘اس وقت بھی اس عظیم الشان مردِ مجاہد کے چہرے پرایسی دلنوازمسکراہٹ چھائی تھی جس نے اس کے چہرے کے بے حجاب حسن وجمال میں اس قدراضافہ کردیا کہ باطل کے پروردہ منافقین اپنے چہروں کی سیاہی کو چھپانے کیلئے گھروں کے تاریک کونوں کھدروںمیں چھپ گئے لیکن اس مردحق کی عاجزی اورانکساری کاجلال پکارپکارکرکہہ رہاتھاکہ حق کومٹانے والے خود مٹ جاتے ہیں اورحق کی خاطرموت اور تکالیف کوگلے لگانے والے ابدی زندگی سے ہمکنارہوتے ہیں اوررہتی دنیاتک امرہوجاتے ہیں۔

عقوبت گاہ میں جب اس مردِ حق پرزندگی ہرطرح سے تنگ کردی گئی،رمضان المبارک کے صبرآزمامہینے میں اس فولادی عزیمت کے پیکرپرکوڑوں کی بارش نے خون کے چھینٹے اڑانے شروع کئے اورپھر کوڑے بھی ایسے کہ ہاتھی کی پشت پراگربرسیں تووہ بھی بلبلااٹھے لیکن اس عظیم شخص کے منہ سے کوئی کراہ‘کوئی آہ اورنہ ہی کوئی بددعاکے الفاظ جاری ہوئے بلکہ وہ توان تمام چیزوں کواپنے دردکی توہین اوراس خدائی راستے پرچلنے کاانعام سمجھ رہاتھا۔اگراس کے منہ سے کوئی آوازنکلی تویہی کہ:’’کتاب وسنت سے کوئی دلیل لاؤ‘‘حالانکہ اس بھاری ابتلاء کے موقع پرجب کہ خون آشام جبڑے اس کی ہڈیوں کوچبانے کیلئے اپنی پوری قوت صرف کرچکے تھے،حاکم ِوقت نے خودان کی عظمت کوسلام کرکے اپنی ہارماننے کیلئے یہ تجویزرکھی کہ اس معاملے پر خاموش ہوجاؤ،اس کی اگرتائیدنہیں کرسکتے توتردیدبھی نہ کرولیکن عزیمت کے اس پیکر نے آسمان کی طرف منہ کر کے اپنی اشک آلودنگاہیں اٹھاکراپنے رب سے فضل ورضاکی درخواست کی اور پھرزمین پرجھک کرقبروبرزخ کی دنیا میں جھانک کراپنی مظلومیت کے حسین ترین انجام کودیکھ کرجب حاکم ِوقت پر نگاہ ڈالی تواس کاساراشاہی رعب ودبدبہ ‘اس کاتخت وتاج اوراس کااپناوجودان نظروں کی تاب نہ لاسکااوراس مغروربادشاہ کاساراوقاراس درویش کے قدموں میں ڈھیرہوگیا۔وہی ظلم وقہرکا پہاڑجس نے تمام علمائے سو کواپنے گردجمع کررکھاتھااورشرعی حیلے آڑکی خود ساختہ رخصت میں تمام علمائے سوکو زرو جواہر کے بدلے اپناہم نوابنارکھاتھا‘منت سماجت پراترآیا لیکن اس مردِ مومن کی ایک ہی پکارتھی:
اگرکوئی دلیل کتاب اللہ اورسنت رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم سے لے آؤتویہ سرنہ صرف اطاعت کیلئے جھک جائے گابلکہ قربان بھی ہوجائے گاوگرنہ ہم دونوں کے راستے بالکل الگ الگ ہیں‘‘۔

جب کوڑوں کی بارش نے جسم کی کھال ادھیڑدی ‘فولادی زنجیروں نے جسم پرخونچکاں بسیراکرلیا‘بھوک وپیاس کی اذیت نے قیامت کاساماں پیداکردیاتوجسم پرغشی کی حالت طاری ہوگئی۔آنکھ کھلنے پرکچھ علمائے سوکے ہاتھوں میں ٹھنڈاپانی دیکھاجوشریعت میں اس موقع پرپانی پینے کی گنجائش بتارہے تھے تاکہ زندگی بچ جائے لیکن عزیمت کے اس امام نے تاریخ سازجواب دے کر’’میں روزے سے ہوں اوراسی حالت میں اپنے ر ب سے ملنے کی خواہش وتڑپ رکھتا ہوں‘‘ پانی کے اس پیالے کونظروں سے دورکردینے کوکہا۔انہی زخموں سے چوراپنے خالق ِحقیقی کے سامنے سجدہ ریزہوگئے اور دل سے جوہوک اٹھی کہ’’شریعت میں صرف رخصت ہی نہیں عزیمت بھی ہے‘‘۔اگرمیں رخصت کی راہ پکڑلوں توآخراس حدیث نبویؐ پرکون عمل کرے گاکہ جس میں وضاحت کے ساتھ ختم الرسل صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ اکرامؓ کے مصائب کی فریادپرفرمایا :’’تم سے پہلے ایسے لوگ گزرچکے ہیں جن کے سروں پرآرے چلادیئے گئے اورجسم لکڑی کی طرح چیردیاگیا‘لوہے کے کنگھوں سے ان کے جسم کے گوشت کو نوچ ڈالاگیاپھربھی یہ تکالیف ان کوحق کے راستے سے نہ ہٹا سکیں‘‘۔

وہ علماء جوشرعی رخصتوں کی آڑلے کراس فانی دنیامیں چندروزخیریت سے زندگی گزارناچاہتے تھے وہ بھی اس مردِ مجاہدکواپناہم نوانہ بناسکے کیونکہ ان کوعلم ہوگیاتھا کہ یہ اللہ کاسچارفیق طے کرچکاہے کہ محض چندروزہ فانی زندگی کے مقابلے میں اخروی زندگی بدرجہابہترہے ۔موت سے توکسی کومفر نہیں ‘کسی نہ کسی آرزوکا رنگ توکفن کورنگین کرے گا‘پھرکیوں نہ راہِ حق میں استقلال کارنگ اپنے کفن کیلئے منتخب کرلیاجائے تاکہ جب اس حالت میں فرشتے خداکے پاس لے کرحاضرہوں تودورسے ہی اس کفن کے رنگ میں اللہ کی خوشنودی کاپیام موصول ہواورخداکی رحمت دنیامیں دئے گئے زخموں پر والہانہ پیارکرنے کیلئے لپک کربوسے دے ؎
توحید تو یہ ہے کہ خداحشرمیں کہہ دے
یہ بندۂ دوعالم سے خفامیرے لئے ہے

پھروقت نے دیکھاکہ دنیاوی لحاظ سے کمزوروناتواں‘بے سروسامان مردِ مجاہد نے اس بادشاہِ وقت کوجوکہ اپنے ہرظلم کاہروارآزماچکاتھا‘خداکی نصرت کے بل بوتے پراس کوشکست فاش دی،وہ جواپنی طاقت پربہت گھمنڈ کرتاتھا‘جس کواپنے ہتھیاروں اوراپنے عقوبت گاہوں پربڑانازتھا‘جواپنی دولت سے ہرکسی کو خریدنے کادعویٰ کرتا تھا‘اپنی فوجوں کی بہادری اورآہنی محل کے پہریداروں پر بڑافخر کرتاتھا‘موت کے فرشتے نے اس کے جسم سے اس طرح جان نکالی کہ آ ہنی پہرے دار اور فولادی حلقے اورمضبوط درودیواردیکھتے رہ گئے اوروہ بے بسی کے ساتھ بڑی حسرت ناک اورعبرتناک موت کے سامنے چوں چراِں نہ کر سکا۔اس مردِحق کی زنجیریں نئی قیادت نے انتہائی عقیدت واحترام کے ساتھ نہ صرف کاٹ ڈالیں بلکہ تعظیم وتکریم کے تمام جھونکے نچھاور کرڈالے۔قدم قدم پر عقیدت کیشوں نے آنکھیں بچھائیںمگرعظمت کے اس پہاڑ نے فاتحانہ نہیں مگر عاجزانہ چال کے ساتھ سب سے پہلے صبر کے ابلتے ہوئے آنسوؤں اور خوشیوں کی چیخوں میں شکرانے کے جہاں نوافل اداکئے،وہاں ظالموں کے لئے راہِ ہدائت کی دعائیں کیں۔ نئی قیادت نے پرانے مظالم کاحساب دنیامیں چکانے کی کوشش کی تواس مردِ درویش کی آنکھیں غصے سے ابل پڑیں کہ:یہ شاہی اشرفیوں کے توڑے شاہی عتاب کے کوڑوں سے بھی زیادہ تکلیف دہ ہیں۔یہ دنیاجسے ستم سے نہ دباسکی اب اس کوکرم سے خریدنے کی کوشش کررہی ہے‘‘۔

ایک طرف دین کافتنہ تھا‘دوسری طرف دنیاکافتنہ!!شاید ان کووہ واقعہ یادآگیاکہ جب دنیابن سنورکرمحمدؐ عربی کادل لبھانے کے لئے آگے بڑھی توآنحضرت صلعم نے دونوں ہاتھوں سے اس کودھکے دے کر نکال دیاتھا‘دنیانے اس وقت کہاتھا’’آپؐ تومجھ سے بچ گئے لیکن آپؐ کے بعدلوگ شایدہی مجھ سے بچ سکیں ‘‘۔یہی وجہ تھی کہ وقت کے اس عظیم امام نے شاہی نوازشات کوبھی بڑی حقارت کے ساتھ ٹھکرادیا۔وہ حاکم ِوقت کے نہیں بلکہ حاکموں کے حاکم کے شکر گزارتھے کہ جس نے ان کی ہرمشکل میں نصرت فرمائی اوران کے دل کویہ توانائی بخشی کہ جسم میں سب سے چھوٹے لوتھڑے نے پہاڑوں کو ریزریزہ کر دیا۔اکثرتنہائی میں اپنی اورمسلمانوں کی بخشش کی دعائیں کرتے تووہاں ایک گمنام شخص ’’ابوالہیثم‘‘کی بخشش کی دعائیں بڑی رقت آمیز انداز میں کرتے۔جب عقدہ کھلاکہ ابوالہیثم ایک چورتھا،جب اس مردمجاہدکوپابہ جولاں کرکے بازاروں اورگلیوں میں رسواکیاجارہاتھاتواس وقت اس چورنے بڑی دلسوزی کے ساتھ کہا: ’’میں ایک چورہوں اورچوری کیلئے کم وبیش اٹھارہ سے بیس ہزارضربیں اپنی کمرپربرداشت کرچکاہوں‘اس کے باوجودمیرے ارادے ٹس سے مس نہیں ہوئے اورمیری یہ ثابت قدمی دنیاجیسی ناپاک چیز کیلئے تھی۔ہزارافسوس ہوگاتم پراگرتم راہِ حق میں اتنی بھی ہمت نہ دکھاسکو‘‘۔

چورکایہ پیغام ان کے دل میں پیغامِ حق بن کراترگیااوراس پیغام نے اس مردِ حق کواپنے وقت کاعظیم امام احمدبن حنبل ؒبناڈالا۔یہ اس عہدکی کہانی ہے کہ جب ایمان کی آگ سینوں میں اتنی تھی کہ چورکے چندسوزبھرے کلمات نے تاریخ کو ایک عظیم الشان مجاہد سے متعارف کروادیالیکن آج سینکڑوں نہیں لاکھوں زبانیں جمع ہوکرجبہ ودستارکی آڑ لے کر فلک شگاف نعرے بھی لگارہی ہیں‘اسی قرآن و سنت سے بے شمارواقعات سناکرجذبات بھی اُبھارے جارہے ہیں‘ یقینا یہ ایک نیک و صالح عمل ہے لیکن اس کے باوجودجب کبھی ایسا مشکل وقت آن پڑتاہے توواعظ اپنی جان بچانے کوعین فرض سمجھ کرراہِ فراراختیار کرلیتاہے۔اگر کہیں خودنمائی کے مواقع موجودہیں تواس میں شرکت عین ثواب‘اگرکشمیر‘فلسطین اورافغانستان کی عملی کد وکاوش کاذکر کیاتوپھرعین جواب!تقریرکیلئے بہترین سٹیج مہیاکیاجائے توعین عبادت لیکن یہی جبہ ودستارکے پرستاردوستوں سے عمل کی اپیل محض اس لئے کی جائے کہ مسلمان اپنے سچے قول وفعل سے بھی دنیاتسخیرکرسکتاہے توپھر ساری کاوشیں بے کار۔

حصولِ اقتدارکیلئے دن رات نفاذِ اسلام کانعرہ لیکن اقتدارحاصل کرنے کے بعد اسلامی اقدارپرپہرہ!!!ملک کی معیشت کواسلامی خدوخال پراستوارکرنے کا دعویٰ مگرورلڈبنک ‘آئی ایم ایف اورامریکہ بہادر کے احکام کاپہناوا! جہاد افغانستان اورکشمیرکی جیتی ہوئی بازی استعمارکے کہنے پرہاردی،کشمیرپچھلی کئی دہائیوں سے ظلم وستم کاشکارہے لیکن کشمیرکوفتح کرنے کے دعویداراقوام متحدہ میں ایک دھیمے اندازمیں تقریرکرنے کے بعدگویااس فرض سے ہی سبکدوش نظرآتے ہیں۔اگرکوئی جماعت یافرد مکمل دین حق کانفاذ کامطالبہ کرتا ہے تواس کوملک دشمن، انتہا پسند اوربنیادپرست کہہ کرالزامات کی بارش سے نوازدیاجاتاہے کہ وہ انہی نوازشوں تلے ہمیشہ کے لئے دب کر اپنی صفائیاں پیش کر نے میں ہی اپنا اصل مقصد فراموش کر جاتا ہے ۔ اغیارکے ساتھ ملی بھگت کرکے آج اسلام کونظامِ عبادت کے طورپر توقبول کیاجاتاہے لیکن نظامِ حکومت کے طورپراس کوناقابل عمل سمجھ کرپس پشت ڈالا جارہاہے۔ اسلام جو کہ اخو ت اورمحبت کادرس دیتا ہے، آج اس کے نام لیوااورپیشوااپنے مذموم مقاصد کیلئے تفرقہ بازی جیسی لعنت کو گلے لگاکراُمت کوپارہ پارہ کررہے ہیں۔ہمارے علماء کاآپس میں مسلک اور مشرب کے نام پر دست وگریباں ہونا‘اتحادِ امت کیلئے کی جانے والی تمام کاوشوں کواپنی ذاتی انااورذاتی مخاصمتوں کی بناء پر سبوتاژ کرنا‘کہیں ایساتونہیںیہ دنیاکی چکاچونداورخیرہ کردینے والی اندھی روشنی ان کی آنکھوں کے ساتھ ان کے دل کوبھی اپنی زدمیں لے چکی ہے اوراب کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی ا للہ علیہ وسلم کی حفاظت کاکام ان سے واپس لیاجا رہاہے۔ (خدا نہ کرے)اوریہ کام جواسلام کا اصل اور بنیادی تقاضا ہے، اب اللہ تعالیٰ اپنی سنت دائمہ کے مطابق ان غیورافغانوں اور مظلوم کشمیریوں سے لے لے جنہوں نے فی الواقع جہد مسلسل کرکے بالترتیب دنیاکی ایک سپرطاقت کو ٹکڑے کر ڈالا اوربہت جلددوسری سپرطاقت کی ریشہ دوانیوں کابھی عبرتناک انجام ہوکررہے گااور ایک علاقائی طاقت کو ناکوں چنے چبوائے ۔ افغانیوں کے بارے میں اب وقت کے گھڑیال نے بھی اس بات کی گواہی دے دی ہے ؎
فطرت کے مقاصد کی کرتاہے نگہبانی
یابندہ ٔصحرائی یامردِ کوہستانی

آیئے آج اپنے اسلاف کے کارناموں کی روح کوسامنے رکھ کراپنے مستقبل کے بارے میں سوچیں کہ ہمیں دنیاوآخرت کی فلاح کیلئے کون ساراستہ اختیار کرنا ہے ۔ کیاوہی راستہ وہی نظام حکومت ‘وہی نظامِ عدل جس میں کتاب اللہ اورسنت رسولؐ سے ہمیشہ ہرپہلوپررہنمائی حاصل کی گئی اورجس کے طفیل حامل کتاب وسنت کودنیاکوامام بنادیاگیا یاپھرکتاب اللہ اورسنت رسولؐ سے دوری جس نے واقعی ہمیں ہرچیزسے دورکردیا۔اللہ سے دعاہے کہ ہمیں حق پر چلنے اس پر عمل کرنے اوراس کی برملاحمائت کرنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sami Ullah Malik

Read More Articles by Sami Ullah Malik: 531 Articles with 230961 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
22 Jan, 2017 Views: 678

Comments

آپ کی رائے