برمی مسلمانوں پرجاری دہشت گردانہ حملے اور تماشائی عالم اسلام

(Altaf Nadvi, India)
 ساری دنیا کے مسلمان مظلومیت کی اپنی مثال آپ ہیں مگر برما کے مسلمانوں کے حالات ایسے کربناک ہیں کہ شاید ہی کسی اور جگہ ایسی وحشت و بربریت کی مثال موجود ہو ۔ایک طرف ملک کی اکثریت انتہائی مفلوک الحال اور غریب مسلمانوں کو نیست و نابود کرنے پر مجتمع ہے تو دوسری جانب برما کی بودھ حکومت ایک دہشت گرد تنظیم کی طرح اس میں برابرکی شریک ہے ۔ایسے میں مسلمانوں کی فریاد سننے والا ایک اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں ہے ۔رہی اُمت مسلمہ ؟وہ بلاشبہ کبھی تھی !مگر آج کی تاریخ میں اس کا کوئی وجود نہیں ہے ۔برمی مسلمانوں کی نگاہیں یقیناََ عالم اسلام کی طرف اُٹھ رہی ہوں گی مگروہ 52ممالک پر مشتمل وجود میں آیا ایک ’’لاشہ‘‘موجود تو ہے مگر یہ بے حمیت ہے اور انتہائی بے غیرت ہے ۔اس کو بڑی سے بڑی تباہی اور بڑی سے بڑی بے رحمی بھی بیدار کرنے میں ناکام رہتی ہے اور یہ سوالیہ خود اس کے وجود پر کئی سو سال سے چمٹا ہوا ہے اس لئے کہ اس کے پاس اس عملی سوال کا کوئی جواب نہیں ہے ۔

برما کے مسلمانوں پر گذشتہ کئی برسوں سے مظالم ڈھانے میں بودھوں نے ظلم و تشدد کاکوئی طریقہ باقی نہیں چھوڑا اور یہ داستان بہت ہی طویل ہے اور قارئین کے معلومات کے لئے ہم یہاں پہلے ان کی تھوڑی سی تفصیل بیان کریں گے تاکہ مظالم کی طویل شبِ تاریک اور اس کے گہرے ناقابل مندمل زخموں کی وہ تصویر بھی ہماری نظروں میں آجائے جس سے عمومی ناواقفیت پائی جاتی ہے ۔بنگلہ دیش سے شائع ہونے والے ’’دعوت‘‘کی سالانہ رپورٹ میں ان مظالم کی تفصیل کچھ اس طرح ہے، 1948ء سے لے کر اب تک برما میں مسلمانوں کے خلاف ملک کے اندر 12 سے زیادہ بڑے فوجی آپریشن ہوچکے ہیں۔مسلمانوں کے خلاف 1948 ء میں ہونے والے سب سے پہلے آپریشن B.T.F میں30ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو بودھسٹوں نے قتل کردیا۔ 2001ء میں ہونے والے آپریشن میں 700مسلمان شہید اور 800 سے زیادہ گرفتار کرکے اغواء کرلیے گئے۔ جن کا آج تک کچھ پتہ نہ چل سکا۔ 1991ء سے 2000ء تک مختلف فوجی آپریشنز میں 18سو سے زیادہ گاؤں جلادیے گئے،دوسو سے زیادہ مساجد گھوڑوں کے اصطبل اور فوجی مراکز میں تبدیل کر دی گئیں۔ صرف 2002ء میں 40 مساجد کو شہید کیا گیا۔1984ء میں دوسو ایسے خاندان جو ہجرت کے لیے سمندری سفر کررہے تھے فوج نے ان کی کشتیاں الٹ دیں جس سے یہ 200خاندان سب کے سب پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو گئے اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔1978 ء میں تین ہزار سے زیادہ مسلمانوں کو بوریوں میں بند کرکے سمندر میں پھینک دیا گیا۔ مسلمانوں کے 20سربراہوں کو زندہ دفن کردیا گیا۔ اسی سال ایک مسجد میں 120 خواتین کی نعشیں ملیں۔اپریل 1948ء میں مسلمانوں کے خلاف بودھ عوام نے مظالم کا جو سلسلہ شروع کیا تھا صرف’’ ضلع اکیاب ‘‘میں بودھوں کے ہاتھوں 8ہزار مسلمان شہید کردیے گئے۔اپریل 1992ء میں بودھوں نے مسلمانوں کی مسجد پر حملہ کردیا اور 2سو سے زیادہ مسلمانوں کو شہید کردیا۔1950ء کے فوجی آپریشن میں 30ہزار ، 1956ء کے آپریشن میں 13ہزار، 1996ء کے آپریشن میں 25ہزار، 1978ء کے آپریشن میں 3لاکھ ، 1991ء کے آپریشن میں 2لاکھ 25ہزار اور 1996ء اور 1997ء کے آپریشنز میں 60ہزار مسلمان بنگلہ دیشن ہجرت کرنے پر مجبور کر دئے گئے۔۔1948ء سے 1962ء تک مسلمانوں پر اگرچہ مظالم ہوتے رہے مگر کاروبار سمیت کئی امور میں انہیں آزادی حاصل رہی۔ 1962ء میں وہاں عوامی حکومت گراکر فوجی حکومت قائم کی گئی۔ فوج کو اقتدار ملتے ہی مسلمانوں کے خلاف مظالم اور وحشتوں کا وہ سلسلہ شروع ہوگیا کہ انسانی تاریخ میں اس کی نظیر نہیں ملتی۔

اراکان کی تجارت میں مسلمانوں کا بڑا حصہ تھا مگر فوج نے مسلمانوں پر تجارت کے سارے راستے بند کردیے۔ 1964 ء میں مسلمانوں کے تمام رفاہی ، ثقافتی اور سماجی ادارے بند کردیے گئے۔ حکومتی کابینہ اور پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے جتنے نمائندے تھے سب کی رکنیت ختم کردی گئی۔ 1982ء میں نسلی تعصب اور دشمنی کی بنیاد پر شہریت کا ایسا قانون پاس ہوا جس کی رو سے گنتی کے چند مسلمانوں کے علاوہ روہنگیا سمیت تمام مسلمانوں کی شہریت ختم کردی گئی حالانکہ برما سے مسلمانوں کا تعلق نیا نہیں بلکہ دس صدیوں پرانا ہے۔ ہزار سال قبل بھی مسلمانوں کے آباو اجداد یہاں مقیم تھے۔ بودھسٹ خود مسلمانوں کے بہت بعد یہاں آئے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد مسلمانوں کو ایسے خانہ بدوشوں کی نظر سے دیکھا جاتا ہے جو ہر طرح کے شہری حقوق سے محروم اور کسی بھی ظالمانہ اقدام کے مقابلے میں انہیں آواز اٹھانے کی اجازت نہ ہو۔ اس لیے تقریبا تمام مسلمانوں کو شہروں سے نکال دیاگیا۔ ان کے املاک غصب کردیے گئے۔ وہ جنگلوں اور بنجر زمینوں میں رہنے پر مجبور ہوگئے۔ صحراوں اورجنگلوں میں بھی بہت سے مسلمانوں کو رہنے کا حق حاصل نہیں ہے تاکہ ایک دوسرے سے دور رہ کر اپنا دفاع کرنے کے قابل نہ رہیں۔صحراوں اور جنگلوں میں بھی جن خیموں میں مسلمان رہتے ہیں ہر خیمے پر انہیں ٹیکس اداکرنا پڑتا ہے۔ اس کے علاوہ جب بھی فوجی افسر چاہیں ان کے خیمے اورجھگیاں گرا سکتے ہیں اور جب چاہیں انہیں بھگاسکتے ہیں۔ اور کوئی متبادل جگہ بھی فراہم نہیں کی جاتی۔ جس بنجر زمین کو مسلمان آباد کرکے کاشت کے قابل بنادے اور وہ فصل دینے لگے تو یہی ظالم فوجی افسران نہ صرف یہ کہ ان سے وہ زمین واپس لے لیتے ہیں بلکہ زمین پر ہونے والے اخراجات بھی انہی مسلمانوں کے ذمے ہوتے ہیں۔ مسلمانوں کو ایک گاؤں سے دوسرے گاؤں اپنا سرمایہ منتقل کرنے کی اجازت نہیں ہوتی اور جب اجازت ملتی ہے تو پھر منتقل کرنے کا ٹیکس لیا جاتاہے۔ایک مسلمان جتنا بھی ایمرجنسی مریض ہو مسلمانوں کو اپنا مریض فوج کی اجازت کے بغیر ہسپتال لے جانے کی اجازت نہیں ہوتی۔ کوئی مسلمان فوج کی اجازت کے بغیر کسی کو اپنا مہمان نہیں بناسکتا۔ شہرسے باہر بننے والے سارے فوجی مراکزکا سارا کام اور ان کے اخراجات انہیں مسلمانوں کے ذمے ہوتے ہیں۔ بودھسٹوں کے لیے شہروں سے باہر بننے والے عبادت خانوں کے اخراجات اٹھانا بھی مسلمانوں کے ذمے ہوتا ہے۔

گھر کا ایک فرد ضرور فوجی افسروں کے لیے جنگلوں سے بانس کی لکڑیاں کاٹ کر لانے اور بازار تک پہنچانے کے لیے موجود رہتا ہے۔ دن رات کا فرق کیے بغیر ہر وقت فوج کو لوگوں کی تلاشی لینے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ تلاشی کے وقت فوجی افسروں کو جو پسند آجائے اسے لے کر چلے جاتے ہیں کسی کو انہیں روکنے کا حق نہیں۔ تلاشی کے بعد مسلمانوں کے گھروں سے فوجی مراکز کی خدمت کے بہانے جتنی چاہیں خواتین کواپنے ساتھ لے جانے کا حق حاصل ہوتا ہے۔ خواتین کو خدمت کے بہانے لے جایا جاتا ہے اصل مقصد ان پر جنسی تشدد کرنا ہوتا ہے۔ جنسی تشدد کے لیے بعض اوقات 11 اور 12سال کی چھوٹی بچیوں کو بھی اٹھاکر لے جایا جاتا ہے۔حکومت نے ایسے قوانین بنارکھے ہیں جس سے بچوں کے لیے تعلیم اور بڑوں کے لیے حکومتی اداروں میں کام کرنا ناممکن ہوجاتا ہے۔مسلمان مردکی عمر 30 سال اور خاتون کی عمر 25سال کی ہوجائے تو انہیں شادی کی اجازت نہیں ہوتی۔ کوئی مسلمان مرد اور عورت اگر آپس میں شادی کرنا چاہیں تو انہیں ’’چار جاسوسی اداروں‘‘ سے اجازت لینی پڑتی ہے۔ سخت کوششوں کی بعد جب انہیں اجازت ملتی ہے تو ان سے قسم لی جاتی ہے کہ تین سے زیادہ بچے پیدا نہیں کریں گے۔ 28مئی 2013ء کو برما حکومت نے اعلان کیا کہ مسلمانوں کو دو سے زائدبچے پیداکرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ دوسری طرف چار انٹیلی جنس ادارے ہیں جن سے اجازت لینے میں سالہا سال لگ جاتے ہیں۔ اسی لیے ہر گاؤں میں غیر شادی شدہ لوگوں کی تعداد شادی شدہ لوگوں سے زیادہ ہوتی ہے۔برما میں مسلمانوں کے ایسے گاؤں بھی ہیں جہاں دو تین سال گزرنے کے بعد بھی شادی نہیں ہوتی ہے۔ بہت زیادہ کوششوں کے بعد جب مسلمانوں کو شادی کی اجازت مل جاتی ہے تو بھی اجازت کے بعد اور شادی سے پہلے خاتون اور شوہر کو اس بات کا مکلف کیا جاتاہے کہ وہ دونوں’’ فیملی پلاننگ اینڈ کونسل سینٹر‘‘ نامی اداروں میں کچھ راتیں گذاریں گے۔مسلمانوں سے ان چند راتوں کے بہت زیادہ پیسے لیے جاتے ہیں اور یہاں بھی اکثر دلہنوں کی عزتیں لوٹ لی جاتی ہے’’ لیناآبزرویشن ‘‘نامی ایک فرانسیسی ہفت روزہ نے اپنی اشاعت میں شامل ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایسی معلومات ملی ہیں کہ برما کی فوج نے بے شمار مسلمان خواتین کے سینے کاٹ دیے ہیں۔ اسی طرح bichitra نامی بنگلہ دیشی ہفت روزہ میگزین کی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اقتدار پر فوج کے قبضے کے بعد 1978ء تک جتنے واقعات کی رپورٹ ملی ہے ان میں 2600 مسلمان خواتین پر فوج کے ہاتھوں جنسی تشدد ہواہے۔انہیں مظالم سے تنگ آنے والے تقریبا آدھے مسلمان برما سے بنگلہ دیش ، پاکستان ، سعودی عرب ، ملائیشیا ، تھائی لینڈ اور کئی دیگر ممالک کی جانب ہجرت کرنے پر مجبور ہوگئے ہیں۔ برما میں باقی بچ جانے والے مسلمانوں میں سے کوئی بھی یہ نہیں چاہتا کہ وہیں رہیں مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں۔

2012ء سے ہو رہے حملوں میں کبھی کمی آتی ہے اور کبھی ان میں شدت آجاتی ہے ۔مگر ہر بار برمی مسلمانوں کی ایک بڑی تعداد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھتی ہے اور دنیا کے کسی بھی ملک کی طرف سے کوئی مؤثر آواز ان کے حق میں سنائی نہیں دیتی ہے ۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برما میں مسلمانوں کو اذیت ناک تشدد، ظلم، قتل عام اور جبری ہجرت جیسے ظالمانہ ہتھکنڈوں کا سامنا ہے۔ مسلمانوں کے گھر بار محفوظ ہیں اور نہ ہی مساجد اور ان کی عزت وآبرو ۔ بوذی قبائل کے دہشت گرد سر عام مسلمانوں کو قتل کرتے اور ان کی خواتین سے اجتماعی زیادتیوں کے مرتکب ہوتے ہیں خیال رہے کہ برما اور بنگلہ دیش کے سرحد کے قریب واقع شہر اراکان میں برما کے بوذی قبائل کی جانب سے وہاں کی مسلمان آبادی کو گذشتہ کئی برسوں سے سنگین نوعیت کی دہشت گردی کا سامنا ہے۔ بوذی قبائل کے دہشت گرد مسلمانوں کی نسل کشی کر رہے ہیں جبکہ وہاں کی حکومت بھی مظلوم مسلمانوں کاساتھ دینے کے بجائے انہیں اپنا شہری تک تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہے۔پھر المیہ یہ کہ برما کے سابق صدر"تھین سین" نے کئی سال پہلے کہاتھاکہ مسلمان ہمارے ملک کے شہری نہیں ہیں۔ اس لیے ان کے بچاؤ کا ایک ہی راستہ ہے کہ وہ عام شہروں سے نکل کر مہاجر بستیوں میں چلے جائیں یا ملک چھوڑ دیں۔برمی صدر نے اقوام متحدہ کے مندوب برائے پناہ گزین"انٹونیو گیٹریز" سے ملاقات کے دوران کہا کہ روہینگیا شہر میں موجود مسلمان ہمارے شہری نہیں ہیں اور نہ ہی ہم ان کے تحفظ کے ذمہ دار ہیں۔ اگر انہیں حملوں کا سامنا ہے تو وہ ملک چھوڑ دیں۔ ہم انہیں اپنا شہری نہیں مانتے ہیں۔برمی صدر کا کہنا تھا کہ بوزی قبائل کے حملوں کا شکار مسلمانوں کے مسئلے کا واحد حل یہ ہے کہ وہ اقوام متحدہ کے قائم کردہ مہاجر کیمپوں میں رہیں۔ اگر وہ مہاجر بستیوں میں بھی نہیں رہ سکتے تو ہم انہیں شہروں میں نہیں رہنے دیں گے اور انہیں ملک سے نکال دیا جائے گا۔خیال رہے کہ برما کے شہر روہینگیا میں مسلمان پہلی بڑی اقلیت ہیں جن کی تعداد آٹھ لاکھ سے زیادہ ہے۔ اقوام متحدہ کے تمام اداروں نے یہ تسلیم کیا ہے کہ برما کے مسلمانوں کو وہاں کے مقامی دہشت گردوں کی جانب سے سنگین مظالم کا سامنا ہے۔

بودھ دہشت گردوں نے 3جون 2012ء کو صوبہ اراکان کے’’ تنگوگ ‘‘نامی مشہور شہر کی ایک جامع مسجد میں تبلیغی اجتماع جاری تھا ،جس کے لیے آنے والے لوگوں کی ایک بس کو بودھسٹوں کی دہشت گرد تنظیم ’’ماگ ‘‘کے جوانوں نے روک دیا بس میں 37افراد سوار تھے بودھسٹوں نے ان میں سے دس علماء کو نیچے اتارا اور اتارتے ہی ان پر لاٹھیاں برسانی شروع کردیں۔ اور سب کو انتہائی بے دردی سے شہید کردیا۔ مارنے کے بعد ان کے سرکے بال اور داڑھیاں کاٹ کر انہیں سرخ چوغے پہنائے اورپورے ملک میں ان کی لاشوں کو گھماکر یہ مشہور کرنا شروع کردیا کہ قتل ہونے والے افراد بودھ مذہبی پیشوا اور ان کے شاگر د ہیں جنہیں مسلمانوں نے شہید کردیا ہے۔ بس اس بات کے مشہور ہونے کی دیر تھی کہ اراکان کے پورے صوبے اور آس پاس کی دیگر پڑوسی صوبوں میں فوج اور پولیس کے ساتھ مل کر سارے بودھسٹ مسلمانوں کے قتل عام کے لیے میدان میں کود پڑے۔ سب سے پہلے اراکان میں مسلمانوں کے سب سے بڑے مدرسے "حمایت الاسلام" کو آگ لگادی گئی۔جس میں مدرسے کے مہتمم مفتی واجد مدرسے کے چار بڑے اساتذہ اور 28طلبہ شہید ہو گئے اور پھر مسلمان مرد ، عورت ، نوجوان ، بوڑھے، بچے جو بھی انہیں ملاکو مارتے اورشہید کرتے چلے گئے۔ مسلمانوں کی ہر جھونپڑی جلادی گئی۔ اس قتل عام میں ذرائع ابلاغ پر شائع ہونے والے محتاط اعداد وشمار کے مطابق 28ہزار ادرحقیقت میں45ہزار سے بھی زائد مسلمان شہید کئے گئے۔ جن میں سے 4ہزارکو زندہ جلادیا گیا۔ 5ہزار خواتین جنسی زیادتی کا شکار ہوگئیں۔ 10ہزار سے زائد مسلمان زندہ غائب کردیے گئے۔ 25ہزار سے زائد مسلمانوں کے گھر جلادیے گئے۔ اور 2لاکھ کے لگ بھگ مسلمان بے گھر ہوگئے۔ مارے جانے والے ، غائب ، بے گھر اور جنسی زیادتی کا شکارہونے والے سارے اعداد وشمار دیکھے جائیں تو یہ اس دور کا سب سے بڑا انسانی المیہ نظر آتا ہے۔ (ماہنامہ شریعت۔5جولائی 2013ء)

تازہ تشدد میں چندایک ایسی تصاویرنگاہوں سے گزری جو آج کل سوشل میڈیا پر توجہ کا مرکز بنی ہو ئی ہیں جس نے بودھ دہشت گرد وں کی حیوانیت کو مکمل طور پر چاک کردیا ہے ۔ایک فوجی دستے نے چند نوجوانوں لڑکوں اور لڑکیوں کو عریاں حالت میں گرفتار کر کے نامعلوم مقام پر پہنچانے کے بعد پہلے نوجوان لڑکیوں کو عریاں کر کے اپنی وحشیانہ جنسی تشدد کا نشانہ بنا یا ہے اور اس کے بعد ان کے پستان کاٹ ڈالے ہیں ۔اس کے بعد چند بودھ حیوان ایک نوجوان لڑکی کوعریاں حالت میں اونچے تختے کے ساتھ باندھ کر زبردستی پکڑ لیتے ہیں اور اس کی شہہ رگ میں چھرا گھونپ کر ایک برتن میں خون انڈھیل دیتے ہیں ،پھر زیر ناف جسم کو کاٹ کر اندرونی اعضا نکال کر پھینک دیے جاتے ہیں اور پھر جسم کے بیرونی اعضا کو الگ الگ کاٹ کر ایک جگہ ترتیب کے ساتھ رکھا جاتا ہے ۔۔۔ وحشی جانوروں کے غول میں پھنس کر ایک بے بس اور مظلوم انسان کیا کر سکتا ہے جبکہ بھیڑ اس کی تشدد اور چیخ و پکار سے خوشی محسوس کرتی ہو اور ان کے چہرے کھل اٹھتے ہوں ۔ایک بڑی تعداد سمارٹ فونوں کے ذریعے سے اس وحشیانہ کاروائی کو فلمانے میں مصروف ہو تو کیا آپ ایسے جنگلی جانوروں سے کسی نرمی اور مروت کی امید رکھ سکتے ہیں ۔ اس سب سے المناک یہ کہ جب دنیا تک یہ تصاویر اور وی ڈیوز پہنچ رہی ہوں تو ان کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی ہو اور عالم اسلام کی مجرمانہ شرمناک خاموشی سے صاف صاف یہ پیغام مل رہا ہو کہ یہ کوئی امت نہیں بلکہ’’منتشر راجواڑوں کے چند بے اثر راجے مہاراجے ‘‘ہیں جنہیں اپنی عیش و عشرت سے ہی فرصت نہیں مل رہی ہو ۔ہاں اقوام متحدہ اور نیٹو ممالک آپ کو اس وقت شیر نظر آئیں گے جب کسی بھی طرح کے ظلم و زیادتی کی نسبت مسلمانوں سے جڑتی ہوئی نظر آتی ہو ۔

قارئین کو یاد ہوگاپاکستان ضلع سوات میں ملالہ نامی ایک لڑکی پر حملہ ہواجس میں وہ زخمی ہوگئی اور اس سے قبل ایک جعلی ویڈیو میں سوات کی ایک خاتون کو طالبان کے ہاتھوں کوڑے مارتے دکھایا گیا۔ تو طالبان کو دنیا میں بدنام کرنے کے لیے امریکی صدر اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل سمیت تمام مغربی سربراہوں نے ان دونوں واقعات کی بار بار مذمت کی۔ اور مغربی ذرائع ابلاغ میں یہ سب خبریں تواتر اور اہتمام سے دکھائی گئیں اور اتنے زیادہ تبصرے کیے گئے جیسے کسی ملک پر ایٹم بم گرایا گیا ہو۔ یا کوئی بڑا زلزلہ یا طوفان آگیا ہو۔ جس میں لاکھوں انسان مارے گئے ہوں۔اسی طرح چند برس قبل پاکستان میں ہی کسی بے پردہ طالبہ پر تیزاب پھینکا گیا اور اس کا الزام طالبان پر لگایا گیا تو عالمی ذرائع ابلاغ کے سامنے خود کو خواتین کا خیرخواہ دکھانے کے لیے ہر مغربی سربراہ نے انتہائی سخت الفاظ میں ان واقعات کی مذمت کی اور ایسا کرنے والوں کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا۔ مغربی میڈیا نے بھی ہر خبر سے زیادہ ایسے واقعات پر توجہ دی۔صوبہ بغلان کی شہری’’ سہار گل‘‘ نامی خاتون پر اپنے شوہر اور اہل خانہ کی جانب سے تشدد کیا گیا۔ اس واقعے کوحیران کن حد تک شہرت ملی ؟ اورایک ماہ تک مغربی سربراہان اور ذرائع ابلاغ اس واقعے کو یادکرتے رہے ؟اس لیے کہ دنیا میں یہ سوچ پھیلا نا مقصد تھا کہ مسلمان خواتین کے ساتھ کتنا ظلم کرتے ہیں۔ ان کے حقوق پامال کرتے ہیں ہم ان کے حقوق واپس انہیں دلانا چاہتے ہیں۔

مغربی میڈیاان ممالک کے سربراہان اور عالمی اداروں نے سوات ، ہلمند ، لغمان ، قندہار ، بغلان یا تخار کے خواتین کے لیے ہمدردی تو ظاہر کی ہے لیکن بر ما کے مظلوم خواتین سے ہمدردی کیوں ظاہر نہیں کرتے؟۔ حالانکہ برما کی خواتین پر ہونے والے مظالم کی کوئی نظیر نہیں ملتی۔ مظالم کا شکار ہونے والی خواتین کی تعداد بہت زیادہ تھی۔گرچہ ایمنسٹی انٹرنیشنل نامی بین الاقوامی ادارے نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ 2012ء جون میں مسلمانوں پر جو حملے شروع ہوئے آخرتک ان حملوں میں کم از کم 5ہزار مسلمان خواتین بودھسٹوں کی جنسی زیادتی کا نشانہ بنیں۔ ایک خاتون پر تشدد کی وجہ سے دنیا کو سر پر اٹھایا جاتا ہے مگربرما میں کم از کم پانچ ہزار خواتین کو جنسی تشدد کانشانہ بنایا گیا ہزاروں کو قتل اور ہزاروں غائب کردیا گیا،مگر مغربی سربراہان اور ذرائع ابلاغ نے چپ سادلی کیوں؟برما جو فوجی اور اقتصادی لحاظ سے ایک کمزور ملک ہے ، ان میں اتنی سکت نہیں کہ اپنے بل بوتے پر اتنے بڑے پیمانے پر مظالم ڈھاسکیں ۔برمی حکومت ایسے وحشیانہ مظالم کسی کے ورغلانے پر ہی انجام دے سکتی ہے۔ لگتا ہے جو قوتیں عراق ، افغانستان ، فلسطین ، مالی ، سوڈان ، صومالیہ اور دیگر ممالک میں مسلمانوں کو اپنے یا اپنوں کے ہاتھوں قتل کرارہے ہیں وہی قوتیں برما میں مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے پس پردہ کام کررہی ہیں اور ہر طرح کی وحشت کے باوجود ان کی حمایت کرتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: altaf

Read More Articles by altaf: 116 Articles with 53847 views »
writer
journalist
political analyst
.. View More
24 Jan, 2017 Views: 368

Comments

آپ کی رائے