بدو

(imran shermila , Chiniot)

ھم جب بھی بدو لفظ سنتے ہیں ہمارےذھن میں عرب کے جاھل اور شدت پسند لوگ آتے ہیں۔ آپ ایک آن پڑھ شخص کوحقیقت اور اپنے دلانل سے کسی بات پر آمادہ کر سکتے ہو پر ایک جاھل کو حقیقت اور دلانل سے آمادہ نہیں کر سکتے جب تک کہ وہ خود نہ چاہے۔ ساتویں صدی سے چودھویں صدی تک ہمیں بہت سی مثالیں ملتیں ہیں لیکن آج بھی ہمارا معاشرہ اسے ہی بدووں سے بھرا پڑا ہے۔ جو حقیقت کو نہ صرف جھٹلاتے ہیں بلکہ براًنی اور جھوٹ کو اسطرح سے پیش کرتے ہیں کہ سچ اور جھوٹ میں فرق کرنا مشکل ہو جاتا ہے اور یہی جھوٹ لوگوں کی گمراہی اور انکے نقصان کا سبب بنتاہے۔

آج میں جب بھی اپنے سیاست دانوں کو دیکھتا ہوں تو مجھے بدو یاد آجاتے ہیں اور میں سوچنے پر مجبور ہوجاتاہوں کہ بدو صرف ّّعرب میں ہیں نہیں بلکہ دنیاں کے ہر کونے میں پانے جاتے ہیں جن سے آپکا واسطہ کہیں نہ کہیں پڑتا ہی رہتا ہے۔ اسطرح کے لوگ ہر شہر اور ہر گلی میں ہوتے ہیں۔ یہ وہ لگ ہں جو اپنی غلطیوں کی تصیح کرنے کی بجا نے جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ ثابت کرنے میں لگ جا تے ہیں اسکے باوجود بھی کہ لوگوں کو حقیقت کا علم ہے۔

کچھ تلخ حقانق جن پر کونی بھی سیاست دان کونی بات نہیں کرنا چاہتا لیکن کچھ سوال پیدا ہوتے ہیں۔

1. 2013 میں الیکشن ہوتا ہے اور چار حلقوں میں سے ایک کے ووٹوں کی تصدیق کروانی جاتی ہے صرف چالیس فیصد ووٹ تصدیق ہوتے ہیں۔ کیا بےایمانی اور جھوٹ ہی جمہوری اقدار ہیں؟
2. 2014 میں ماڈل ٹاؤن واقعہ میں 14 لوگ شھید اور قریباٰ 100 لوگ زخمی ہوجاتے ہیں۔ آگر سٹیٹ اپنے لوگوں کو خود مارنے لگ جانے تو دھشتگردوں اور سٹیٹ میں کیا فرق راہ جاتا ہے؟
3. 2013 سے 2016 تک 300 سے زاند ٹرین حادثات ہوتے ہیں جن میں 70 کے قریب اموات اور 350 سے زاند زخمی ہوتے ہیں۔ کیا 3 سال میں آپ لوگ یہ فیصلہ بھی نہیں کر پانے کے پھاٹک وفاق نے لگانے ہیں یا صوبوں نے؟
4. 2015 میں سی این این کی ایک رپورٹ نشر ھوتی ہے جس میں انکشاف ہوتا ہے کہ پاکستان میں تمام میڈیسن کیپسول سے لیکر سیرپ تک جعلی تیار ہوتا ہے۔ کیا پاکستان میں مافیا اتنا طاقتور ہے کہ حکومت کا وجود تک نظر نہیں آتا یا پھر کچھ اور ہے؟
5. 2016 پاناما پیپر میں وزیر اعظم کی فیملی کے غیر قانونی اثاثے فلیٹ اور آف شور کمپنیز کا انکشاف ہوتا ہے جو کہ شریف فیملی کی ہی ملکیت ہیں۔ یہ پیسہ کہاں سے آیا؟ آپکا بزنس ہی پرافٹ میں کیو ُپاکستان کے ادارے کیو نہیں؟
6. 2016 میں PIA کا ایک جہاز کریش ہوجاتا ہے جس میں 47 لوگوں کی اموات واقع ہو تی ہے ۔ کیا پاکستان میں انسانی جان کی کونی قیمت نہیں کہ جہازوں کو بغیر جانچ پڑتال کے اڑا دیا جاتاہے؟
7. 2013 سے 2016 تک آپکا بیرونی قرض 61 بلین سے 73 بلین تک ہو چکا ہے۔ آپ روز کا 4 ارب 50 کروڑ روپے کا قرض لے راہے ھو جو کہ ایک ماہ کا 135 ارب روپیہ بنتا ہے۔ کیا پاکستان کے اپنے کونی وسانل نہیں؟ کیا پاکستان کے پاس کونی پالیسی نہیں جس سے بیرونی قرضوں سے بچا جا سکے؟ کیا پروٹوکول، اربوں کے اشتھارات اور شاھی آخراجات بھی کم نہیں کیے جاسکتے ؟
8. 2016 PMLN کی ایک لیڈی ورکر کا قتل ہو جاتا ہے چنبہ ھاؤس میں ۔ کیا با اثر اور سیاست دان کے لیے بھی کونی قانون ہے؟
9. 2017 ایک خاتون کو قصور سے لاھور جناح ھسپتال لایا جاتا ہے جو ھسپتال میں بیڈ نہ ھونے کی وجہ سے ٹھنڈے فرش پر تڑپ تڑپ کر جان دے دیتی ہے۔ کیا عوام آپکو ٹیکس تڑپ تڑپ کر مرنے کے لیے دیتی ہے؟
10. PIA خسارہ 300 ارب تک ہو چکہ ہے جبکہ ہر ماہ 5 ارب اور 60 کروڑ کا مزید خسارہ ہورہا ہے۔ کیا ادارے کو چلانے کے لیے پاکستان کے پاس ایک بھی قابل انسان نہیں ہے؟
11. NAB کے مطابق پاکستان کی کرپشن 15 ارب روپے ہے ۔ کیا NAB، انٹی کرپشن اور عدالتیں صرف تنخواہیں لینے کے لیے بنانی گنیں ہیں یا یہ بھی کونی دربار لگا ہوا ہے؟

2013 سے 2016 تک کی اس جمہوریت میں عوام کا کہیں کونی ذکر نہیں ہے ، عوام کے حقوق کی بات تک نہیں کی گنی ، پانی تک صاف نہیں ملتا پینے کو، کچھ لوگ جہاز کی نظر ہوگنے، کچھ ٹرین کی نظر ہوگنے، کچھ دہشت گردی کی نظر ہوے، کچھ گورنمنٹ نے خور ماردیے اور باقی مہنگانی کے نظر ہو گنے۔ ٹیکس کی مد میں عوام کا خون نچوڑا جا رہا ہے، بجلی کے بلز بم بناکر گرانے جا راہے ہیں۔ عوام تڑپ تڑپ کر مر راہی ہے اور سیاست دان جمہوریت بچا راہے ہیں اپنے مفاد کے لیے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: imran shermila

Read More Articles by imran shermila : 9 Articles with 6244 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
25 Jan, 2017 Views: 584

Comments

آپ کی رائے