ٹرمپ کی تعصبانہ پالیسی سے عالمی جنگ کا خطرہ

(Roshan Khattak, Peshawar)

 بعض دفعہ اچھے خاصے تجزیہ گاروں اور سیاست کے رموز سے آشنا لوگوں کے تجزیئے اور پیش گو ئیاں غلط ثابت ہو جاتی ہیں امریکہ میں ہونے والے گزشتہ انتخابات میں ایسا ہی کچھ ہوا، کسی کو یہ خیال نہ تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ جیسا انتہا پسند اور متعصب شخص امریکہ کے صدر منتخب ہو نگے۔۔مجھ سمیت کروڑوں افراد کو بالکل یہ اندازہ نہیں تھا بلکہ بین الاقوامی میڈیا کے بڑے بڑے تیس مارخانوں کے انتخابی تجزئیے اور تبصرے بھی دیوانے کا خواب ہی ثابت ہو ئے اور ڈونلڈ ٹرمپ آخر امریکہ کے صدر منتخب ہو کر صدارت کے کرسی پر براجماں ہو گئے۔یوں تو وہ بچپن ہی سے متنازعہ شخصیت کے مالک رہے ہیں ۔اپنے والدین کو اتنا تنگ کیا کہ والدین نے انہیں ۱۳ سال کی عمر میں انسان بنانے کے لئے ملٹری اسکول میں داخل کرا دیا ، ریسلنگ کرنے لگے تو بے ایمانی کرنے میں مشہور ہو گئے اور اپنے حق میں فیصلہ لینے کے لئے پیسے کا بے دریغ استعمال کیا ۔بے ہودہ زبان اور دست درازی ڈونلڈ ٹرمپ کا شیوہ تھا اپنی عیاری کی وجہ سے پیسہ کمایا ، درجنوں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کیا ۔میکسیکو کی سرحد سیل کرنے، سیاہ فام امریکیوں ،خصوصا مسلمانوں کے خلاف بیانات کی وجہ سے انہیں صدارتی مہم کے دوران سخت تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا مگر اس کے با وجود قسمت کی دیوی اس پر مہربان تھی اور صدربن گئے مگر صدارت کی کرسی سنبھالنے کے بعد یوں محسوس ہونے لگا ہے جیسے وہ ’’ دماغی مریض ‘‘ ہیں۔ انہوں نے جو پہلا حکم نامہ جاری کیا، اس کے مطابق سات مسلم ممالک عراق،ایران،شام،صومالیہ،سوڈان اور یمن کے شہریوں کی امریکہ آمد پر 90دن کی پابندی لگا دی تھی،جو لوگ امریکہ جا رہے تھے انہیں امریکہ پہنچنے کے بعد حراست میں لے لیا گیا ، چاہے ان کے پاس جائز ویزا اور دوسری سفری دستاویزات مکمل کیوں نہ تھیں ۔ مگر بھلا ہو، نیویارک کے ایک عدالت کا، جس نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اس متعصبانہ حکم پر عمل درآمد فوری طور پر روک دینے کا حکم جاری کیا ۔ٹرمپ کی اسلام دشمنی توصاف ظاہر ہے مگر انکی جنونی دماغ سے عالمی امن کو زبردست خطرہ درپیش ہے۔ٹرمپ نے صدر بنتے ہی اپنی پالیسی کے خدو خال روئے زمین پر موجود اپنے حامیوں اور مخالفین پر واضح کر دئیے ہیں ، خاس طور پر چین اور اس کے اتحادیوں کے لئے امریکی صدر کے پیغامات بڑے واضح ہیں ۔بحیرہ جنوبی چین تنازع کسی بڑی جنگ کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔۔ٹرمپ نے جوں ہی وہائیٹ ہاوس میں قدم رکھا تو تائیوانی صدر سے ایسی بات کی جو چینی قیادت کے لئے ایک واضح پیغام کی حیثیت کا حامل تھا ،ساتھ ہی اپنے مخالفین کو بھی خبر دار کر دیا کہ میں ٹرمپ ہوں جو اپنی مرضی کرتا ہے اور کسی کی نہیں سنتا۔

وطنِ عزیز کے حکمرانوں کو بھی ٹرمپ کی نیت کو بھانپ لینا چا ہیئے۔ بھارتی قیادت کو ٹرمپ کا فون اور بھارتی نژاد اجیت پائے کو ایف سی سی کا سربراہ مقرر کرنا، بھارت کو حقیقی دوست قرار دینا، یہ سب سمجھنے کے لئے کسی افلاطونی دماغ کی چنداں ضرورت محسوس نہیں ہوتی۔ امریکی لابی سرگرم ہو چکی ہے، سی پیک پر تنقید،پاک چین تعلقات پر تنقید کا سلسلہ بڑی خوبصورتی کے ساتھ شروع ہو چکا ہے۔بحیثتِ قوم اب ہمیں دو ٹوک موقف اپنانا ہو گا کہ اب ہمیں امریکی مفادات کا تحفظ نہیں کرنا، بلکہ اپنی آنے والی نسلوں کے بارے میں سوچنا ہے۔امریکہ نے سات مسلم ممالک کے شہریوں پر امریکہ میں داخلے پر پابندیوں کے بعد پاکستان کے باسیوں کو بھی اب ایکسٹرا سکروٹنی سے گزرنے کا حکم دے دیا ہے ،پاکستانیوں کے لئے امریکی ویزے کا حصول مزید مشکل بنا دیا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ ٹرمپ کو تمام مسلمانوں پر خصوصا پاکستانیوں پر کو ئی اعتماد نہیں ، لہذا ان سے خیر کی توقع رکھنا عبث ہے۔ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ متعصبانہ رویّہ عالمی امن کے لئے زبردست خطرے کا باعث بن سکتا ہے۔ ٹرمپ جہاں روس و بھارت کے ساتھ تعلقات کو اچھی بنیادوں پر استوار کرنے کے خواہش مند ہیں وہاں چین و پاکستان کے ساتھ معاملات میں کشید گی کے خدشات موجود ہیں ایسی صورتِ حال میں پورا خطہ عدم توزن کا شکار ہو سکتا ہے جس کے اثرات پوری دنیا کو برداشت کرنا ہوں گے۔اسرائیل کو سہولیات اور ایران کو مشکلات کا سامنا بھی کسی بڑے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔لہذا موجودہ صورتِ حال اس بات کا متقاضی ہے کہ پاکستان کے حکمران نئی عالمی صورتِ حال کو مدِ نظر رکھتے ہو ئے اپنی خارجہ پالیسی وضع کرے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ ڈونلڈ ٹرمپ کا دیوانہ پن تیسری عالمی جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو جائے اور وطنِ عزیز (خدانخواستہ) اس  عالمی جنگ کا میدانِ جنگ بن جائے۔

Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: roshan khattak

Read More Articles by roshan khattak: 271 Articles with 159685 views »
I was born in distt Karak KPk village Deli Mela on 05 Apr 1949.Passed Matric from GHS Sabirabad Karak.then passed M A (Urdu) and B.Ed from University.. View More
30 Jan, 2017 Views: 385

Comments

آپ کی رائے