دجال اور شیطانی ہتھکنڈے اور تیسری جنگ عظیم...... باب نمبر 2

(محمد فاروق حسن, ڈسکہ)
ان اسیروں کے نام جنھوں نے دجالی قوّتوں کے سامنے سر جھکانے سے انکار کردیا اور مشرق سے مغرب تک اور شمال سے جنوب تک تمام زندانوں کو آباد کیا اور آنکھوں دیکھی آگ کا انتخاب کرکے اللہ کی جنّتوں کے حقدار بن گئے اور ہم سب کی دھڑکنوں کے ساتھ دھڑکتے ہیں ان ماوں کے نام جنھوں نے محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کا دین بچانے کے لیے اپنے جگرکے ٹکڑوں کو اللہ کے راستے میں پیش کردیا ان بہنوں کے نام جن کے سہاگوں سے زندانوں میں تکبیر کی صدائیں گونجیں شہدا کے ان بچوں کے نام جنھوں نے امت کے بچوں کی خاطر ابو کی جدائی برداشت کرکے خود یتیمی کو گلے لگا لیا
دجال کے بارے ميں یہودیوں کا نظریہ...
1 دجال کے متعلق احادیث بیان کرنے سے پہلے مناسب معلوم ہوتا ہے کہ دجال کے بارے میں یہودیوں نظریات اور انکی (موجودہ تحریف شدہ)کتابوں میں بیان شدہ پیش گوئیاں بیان کی جائیں تاکہ اس وقت جو کچھ امریکہ اور دیگر کفار.. یہودیوں کے اشاروں پر کر رہے ہیں اس کا پس منظر اور اصل مقصد سمجھ میں آسکے دجال کے بارے میں یہودیوں کا یہ نظریہ ہے کہ وہ یہودیوں کا بادشاہ ہوگا وہ تمام یہودیوں کو بیت المقدس میں آباد کرے گا ساری دنیا پر یہودیوں کی حکومت قائم کرے گا دنیا میں پھر کوئی خطرہ یہودیوں کے لیئے باقی نہیں رہے گا تمام دہشت گردوں (تمام یہودی مخالف قوتوں) کا خاتمہ کر دیا جائے گا اور ہر طرف امن امان کا دور دورہ ہوگا

2 ان کی کتاب ایزاخیل میں لکھا ہے
اےصیہون کی بیٹی خوشی سے چلاؤ اے یروشلم کی بیٹی مسرت سے چیخو دیکھو تمہارا بادشاہ آرہا ہے وہ عادل ہے اور گدھے پر سوار ہے خچر یا گدھا کے بچے پر میں یو فریم سے گاڑی کو اور یروشلم سے گھوڑے کو علحدہ کرونگا جنگ کے پر توڑ دئیجائینگے اس کی حکمرانی سمندر اور دریا سے زمین تک ہوگی

3 اس طرح اسرائیل کی ساری قوموں کو ساری دنیا سے جمع کرونگا چاہے وہ جہاں کہیں بھی جابسے ہوں اور انہیں انکی اپنی سرزمین میں جمع کرونگا انہیں سرزمین میں ایک ہی قوم کی شکل دیدونگا اسرائیل کی پہاڑی پر جہاں ایک ہی بادشاہ ان پر حکومت کریگا ......

4 : سابق امریکی صدر ریگن نے 1983 میں امریکن اسرائیل پبلک افیرز کمیٹی (AIPAC) ٹام ڈائن سے بات کرتے ہوئے کہا آپ کو علم ہے کہ میں آپ کے قدیم پیغمبروں سے رجوع کرتا ہوں جن کا حوالہ قدیم صحیفے میں موجود ہے اور آرمیگڈن کے سلسلے میں پیش گوئیاں اور علامتیں بھی موجود ہیں اور میں یہ سوچ کر حیران ہوتا ہوں کہ کیا ہم ہی وہ نسل ہیں جو آیندہ حالات کو دیکھنے کے لیئے زندہ ہیں، یقین کیجئے (یہ پیش گوئیاں) یقینی طور پر اس زمانے کو بیان کر رہی ہیں جس سے ہم گزر رہیں ہیں

5: صدر ریگن نے مبشر چرچ کے جم پیکر سے 1981 میں بات چیت کرتے ہوئے کہا ذرا سوچئے کم سے کم بیس کروڑ سپاہی بلاد مشرق سے ہونگے اور کروڑوں مغرب سے سلطنت روما سے تجدید نو کے (مغربی یورپ) پھر مسیح(دجال) ان پر حملہ کریں گے جنہوں نے ان کے شہر یروشلم کو غارت کیا ہے اس کے بعد وہ ان فوجوں پر حملہ کرینگے جو میگڈون یا آرمیگڈون کی وادی میں اکٹھی ہوں گی اس میں کوئی شک نہیں کہ یروشلم تک اتنا خون بہے گا کہ دوگھوڑوں کی باگ کے برابر ہو گا یہ ساری وادی جنگی سامان اور جانوروں اور انسانوں کے زندہ جسموں اور خون سے بھرجاۓ گی ...آرمیگڈون لفظ میگوڈو سے نکلا ہے یہ جگہ تل ادیب سے 55 میل شمال میں ہے اور بحرہ طبریہ اور بحرہ متوسط کے درمیان واقع ہے ...

6: پال فنڈلے کہتا ہے...
انسان دوسرے انسان کے ساتھ ایسے غیر انسانی عمل کا تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن اس دن خدا انسانی فطرت کو یہ اجازت دیدےگا کہ اپنے آپ کو پوری طرح ظاہر کردے .. دنیا کے سارے شہر لندن پیرس ٹوکیو نیویارک لاس اینجلس شکاگو سب صفحہ ہستی سے مٹ جائیں گے تقدیر عالم کے بارے میں مسیح دجال کا اعلان ایک عالمگیر پریس کانفرنس سے نشر ہوگا جسے سیٹلائیٹ کے ذریعے ٹی وی پر دکھایا جائے گا.....

7: مقدس سرزمین پر یہودیوں کی واپسی کو میں اس طرح دیکھتا ہوں کہ یہ مسیح(دجال) کے دور کی آمد کی نشانی ہے جس میں پوری انسانیت ایک مثالی معاشرہ سے فیض لطف اندوز ہو گی ...

8 :
FORCING GOD S HAND
کی مصنفہ گریس ہال سیل کہتی ہیں :

ہمارے گائیڈ نے قبتہ الصخراء(TOMBSTONE) اور مسجد اقصی کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم اپنا تیسرا ہیکل وہاں بنائینگے، اس کی تعمیر کا ہمارا منصوبہ تیار ہے ، تعمیراتی سامان تک آگیا ہے اسے ایک خفیہ جگہ رکھا گیا ہے بہت سی دکانیں بھی جس میں اسرائیلی کام کر رہے ہیں وہ ہیکل کے لیئے نادر اشیاء تیار کر رہے ہیں، ایک اسرائیلی خالص ریشم کا تار بن رہا ہے جس سے علماء یہود کے لباس تیار کئے جائیں گے (ممکن ہے یہ وہی تیجان یا سیجان والی چادریں ہوں جن کا ذکر حدیث میں آیا ہے) ہمارا گائیڈ کہتا ہے ہاں تو ٹھیک ہے ہم آخری وقت کے قریب آپہنچے ہیں، جیسا کہ میں نے کہا تھا کٹر یہودی مسجد کو بم سے اڑا دینگے جس سے مسلم دنیا بھڑک اٹھے گی، یہ اسرائیل کے ساتھ مقدس جنگ ہوگی یہ بات مسیح(دجال) کو مجبور کرے گی کہ وہ درمیان میں آکر مداخلت کریں ....

9:
1998ء کے اواخر میں ایک اسرائیلی خبرنامہ کی ویب سائٹ پر کہا گیا کہ اسکا مقصد نو عبادت گاہوں کو آزاد کرانا اور ان کی جگہ ہیکل کی تعمیر ہے،خبرنامہ میں لکھا ہے اس ہیکل کی تعمیر کا نہایت مناسب وقت آگیا ہے، خبرنامہ میں اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ ملحدانہ اسلامی قبضے کو مسجد کی جگہ سے ختم کرائے کیوں کہ تیسرے ہیکل سے بہت قریب ہے ....

10 : میں نے لینڈا اور براؤن (یہودی) کے گھر (اسرائیل) میں قیام کیا ایک دن شام کو دوران گفتگو میں نے کہا، تعمیر کیلئے مسجد اقصی کو تباہ کر دینے سے ایک ہولناک جنگ شروع ہو سکتی ہے تو اس یہودی نے فورا کہا ٹھیک بلکل یہی بات ہے ایسی ہی جنگ ہم چاہتے ہیں، کیونکہ ہم اس میں جیتں گے پھر ہم تمام عربوں کو اسرائیل کی سرزمین سے نکال دینگے اور تب ہم اپنی عبادت گاہ کو ازسرِنو تعمیر کرینگے... (خوفناک جدید صلیبی جنگ)

دریائے فرات خوشک ہوجائے گا: (book of revelation) الہام کی کتاب سولہویں انکشاف میں ہے کہ دریائے فرات خشک ہو جائے گا اور اس طرح مشرق کے بادشاہوں کو اجازت مل جائے گی کہ اسے پار کر کے اسرائیل پہنچ جائے

11 : امریکی صدر نکسن نے اپنی کتاب وکٹری ودآؤٹ وار (victory without war) میں لکھا ہے :

1999 تک امریکی پوری دنیا کے حکمران ہوں گے اور یہ فتح انہیں بلا جنگ حاصل ہو گی اور امور مملکت مسیح (دجال) سنبھال لینگے گویا مذکورہ سال تک مسیح کے انتظامات مکمل ہو چکے ہیں اور امریکیوں کی ذمہ داری ان انتظامات کو مکمل کرنے تک تھی اسکے بعد نظام مملکت دجال چلا رہا ہے ...

12: لاکھوں بنیاد پرست (Fundamentalist) عیسائیوں کا عقیدہ یہ ہے کہ خدا اور ابلیس کے درمیان آخری معرکہ ان کی زندگی میں ہی شروع ہوگا اور اگر چہ ان میں سے بیشتر کو امید ہے کہ انہیں جنگ کے آغاز سے پہلے ہی اٹھا کر بہشت میں پہنچا دیا جائے گا پھر بھی وہ اس امکان سے خوش نہیں کہ عیسائی ہوتے ہوئے وہ ایک ایسی حکومت کے ہاتھوں غیر مسلح کر دئیے جائیں گے جو دشمنوں کے ہاتھوں میں بھی جاسکتی ہے، اس انداز فکر سے ظاہر ہے کہ بنیاد پرست فوجی تیاریوں کی اتنی پرجوش حمایت کیوں کرتے ہیں؟ وہ اپنے نقطہ نظر سے دو مقاصد پورے کرتے ہیں، ایک تو امریکیوں کو ان کی تاریخی بنیادوں کے ساتھ جوڑتے ہیں اور دوسرے ان کو اس جنگ کے لئے تیار کرتے ہیں جو آئیندہ ہوگی اور جس کی پیشن گوئی کی گئی ہے اس سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ بائبل پر یقین رکھنے والے لاکھوں کرسچن اپنے آپ کو اتنی پختگی ساتھ داؤدی (Davidians) یعنی ٹیکساس کے قدیم باشندوں کے ساتھ کیوں جوڑتے ہیں...... ؟ 13: ڈیمن تھامس کی تصنیف Feath and Fear with the and of time shadows of milenium ہچنگز لکھتا ہے......... عرب دنیا ایک عیسی دشمن دنیا ہے ... 14:کسی نجات دہندہ کے لئے عیسائی بھی منتظر ہیں اور یہودی اس معاملے میں سب سے زیادہ بے چین ہیں... قیام اسرائیل 1948 اور بیت المقدس پر قبضے 1967 سے پہلے وہ یہ دعا کرتے تھے..... اے خدا یہ سال یروشلم میں... جبکہ اب وہ دعا کرتے ہیں..... اے خدا ہمارا مسیح جلد آجائے.. غرض جو پیشن گوئیاں حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام کے حوالے سے وارد ہوئی ہیں یہودی ان کو دجال کے لئے ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ اس سلسلے میں عیسائیوں کو بھی دھوکہ دے رہے ہیں کہ ہم مسیح موعود کا انتظار کر رہے ہیں اور مسلمان Anti christ یعنی مسیح کے مخالف ہیں، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے، مسلمان اور عیسائی حضرت عیسی بن مریم علیہما السلام کے منتظر ہیں، جبکہ یہودی جس کا انتظار کر رہے ہیں وہ دجال ہے ، جس کو سیدنا عیسی علیہ السلام قتل کرینگے اس لئے عیسائی برادری کو موجودہ صورت حال میں مسلمانوں کا ساتھ دینا چاہیے نا کہ یہودیوں کا کیونکہ یہودی ان کے پرانے دشمن ہیں..
---------------------------------- جاری ہے
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: محمد فاروق حسن

Read More Articles by محمد فاروق حسن: 40 Articles with 32125 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
01 Feb, 2017 Views: 926

Comments

آپ کی رائے