بیسویں صدی سے اکیسویں صدی تک کا سفر ۔ باب۔ 29۔ اسلامی دہشت گردی " نامناسب اصطلاح "

(Arif Jameel, Lahore)
فلسطین میں اسرائیلی حکومت ، کشمیر میں ہند وستان اور برما میں ۔۔۔۔داعش کو سابق صدر اوباما اور سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے تشکیل دیا۔۔۔۔ "اسلامی دہشت گردی "کی اصطلاح کیوں استعمال کر رہے ہیں؟۔۔۔۔آج کی سُپرپاور کہاں کھڑی ہیںیہ جدید دُنیا کا جدید ڈیجیٹل تجزیہ ثابت کرنے کیلئے سرگرمِ ۔۔۔۔ایک مثال سے پھر بھی اپنی سوچ کے مطابق موجودہ حالات کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے جو :دُنیا کی سو کتابیں۔ مصنف ستار طاہر : سے لی گئی ہے: ۔۔۔۔

اسلامی دہشت گردی " نامناسب اصطلاح "

جنگِ عظیم دوم کے بعد جسطرح اقوامِ متحدہ کے قیام کے باوجود امریکہ دُنیا پر اپنی حکومت کیلئے جال بچھتا چلا گیا اُس میں مسلمانوں کے خلاف ہر وہ ہربا استعمال کرنے کی کوشش کی گئی جس سے اُمتِ مسلم پر کاری ضرب پڑتی رہی۔ یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے اور کہیں بھی کوئی تشدد آمیز واقعہ پیش آجائے اُس پر پہلا ردِعمل مسلمانوں کے خلاف ہی نظر آتا ہے۔ غور کیا جائے تو مرتے بھی زیادہ مسلمان ہی ہیں۔

فلسطین میں اسرائیلی حکومت ، کشمیر میں ہند وستان اور برما میں وہاں کے مقامی بھکشو مسلمانوں کے ساتھ جس ظلم سے پیش آتے ہیں اور قتل وغارت کا بازار گرم کرتے ہیں دُنیا کا سوال ہے کہ وہ کس زُمرے میں آتے ہیں؟

اسکے علاوہ ماضی میں کئی اور ممالک میں مسلمانوں کے ساتھ زیادتیاں کی جاتی رہیں اور اب تو امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انٹخابی مہم میں دعویٰ کر چکے ہیں کہ داعش کو سابق صدر اوباما اور سابق امریکی وزیرِ خارجہ ہیلری کلنٹن نے تشکیل دیا۔جب ٹرمپ داعش کے وجود کو سابق امریکی حکومت کا کارنامہ قرار دے چکے ہیں تو پھر وہ "اسلامی دہشت گردی "کی اصطلاح کیوں استعمال کر رہے ہیں؟

امریکہ کی مختلف ریاستوں میں حالیہ برس کے دوران دہشت گردی کے کئی واقعات پیش آئے جنکے ملزم غیر مسلم امریکی نوجوان تھے ۔لیکن اِن واقعات کو عیسائیت یا کسی دوسرے مذہب سے نہیں جوڑا۔ تو پھر ٹرمپ کس طرح سرِ عام مسلمانوں کے جذبات مجروح کر ر ہے ہیں؟

اصل میں عالمی سیاست میں امریکہ واضح طور پر ڈنڈی مارتے ہوئے دانستہ طور پر ظلم کرنے والے ممالک کیساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اگر امریکہ فلسطینیوں کو اِن کے جائز حقوق اور کشمیر ی عوام کو حقِ خود ارادیت دلوا دے تو پھر ان خطوں میں بھی عسکریت پسند گروپ دم توڑ جائیں گے۔ گو کہ یہ شواہد بھی مِل رہے ہیں کہ جنکو عسکریت پسند کہا جا رہا ہے اُن میں دُشمنان اسلام یعنی شر پسند شا مل ہو کر مسلمانوں کو بدنام کر رہے ہیں۔بصورتِ دیگر اگر کوئی عسکریت پسند گروپ اپنے تحفظات پر سر گرمِ عمل ہے تو ضروری نہیں کہ وہ جنگ و جدل کا حامی ہے ۔اسطرح اُنکے ساتھ" عسکریت "کا لفظ لگنا اُنکی اپنے حقوق کیلئے جدوجہد میں خلل ڈالنے کے مترادف ہے ۔افغانستان کا معاملہ بھی ایسا ہی ہے۔

آخر میں یہ سمجھ لینا چاہیئے کہ دُنیا کے ممالک پر ماضی میں بھی مختلف طاقتوں یعنی سُپر پاورز نے وقتاً فوقتاً حکومتیں کیں ۔ کسی نے وہاں کی عوام پر اپنا جاہ و جال دکھایا۔ کسی نے ایسے ظلم کیئے کہ کھوپڑیوں کے مینار تک بنا ڈالے۔ کسی نے تحفظ دینے کی ایسی مثال قائم کی کہ آج بھی مورخ اُنکی تعریف کیئے بغیر نہیں رہتے۔کسی نے رفاعہِ عامہ کے ایسے کام کر دکھائے کہ وہ تاریخی شکل اختیار کر گئے۔

لہذا آج کی سُپرپاور کہاں کھڑی ہیںیہ جدید دُنیا کا جدید ڈیجیٹل تجزیہ ثابت کرنے کیلئے سرگرمِ عمل ہے۔فی الوقت 20ویں صدی سے 21ویں صدی تک کے اس اہم سفر کو یہاں منقطع سمجھا جائے۔کیونکہ چند آخری ابواب کا تعلق حالاتِ حاضرہ کے معاملات سے ہے ۔مستقبل کی تاریخ کا اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور امریکہ کے نئے صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنے ملک کی دھاک بحیثیت " سُپر پاور" دُنیا پر کیسے قائم رکھ پاتے ہیں؟ اہم ہو گا۔

ایک مثال سے پھر بھی اپنی سوچ کے مطابق موجودہ حالات کا تجزیہ کیا جاسکتا ہے جو :دُنیا کی سو کتابیں۔ مصنف ستار طاہر : سے لی گئی ہے:
" 1719ء میں شائع ہونے والا مشہورِزمانہ ناول " ربن سن کروسو" کا مصنف " ڈینیئل ڈیفو" تھا ۔جو جوانی سے ہی مصنف بننے کا خواہاں تھا۔ وہ 20برس کا ہوا تو اس نے ایک پمفلٹ شائع کیا جو پادریوں کے خلاف تھا۔اسکے بعد اُس نے ایک اور پمفلٹ لکھا جو ترکوں کے خلاف تھا۔اس دور میں یورپ والے ترکوں سے بے حد خائف رہتے تھے۔ ترکوں نے بہادری ،شجاعت اور فتوحات کے ایسے ایسے کارنامے انجام دیئے تھے کہ یورپ کے روشن دماغ لوگ بھی مذہبی تعصب اور ترکوں کی فتوحات کی وجہ سے انکے خلاف لکھنا اپنا فرض سمجھتے تھے۔یوں کہنا چاہیئے کہ ایک لمبی مدت تک ترکوں کے خلاف لکھنا یورپ کے لکھنے والوں کیلئے ایک مجبوری یا فیشن کی حیثیت اختیار کر گیاتھا"۔
 
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Arif Jameel

Read More Articles by Arif Jameel: 160 Articles with 170084 views »
Post Graduation in Economics and Islamic St. from University of Punjab. Diploma in American History and Education Training.Job in past on good positio.. View More
02 Feb, 2017 Views: 422

Comments

آپ کی رائے