ایسا کیوں ہےآخر؟

(Dr. Muhammad Javed, Karachi)
زندگی بھی عجیب طلسم ہے غموں اور خوشیوں کے بھنور میں نمو پاتی ہے۔سماج پنپتے ہیں انسان زندگی کی تگ ودو میں جت جاتے ہیں بود باش آسائشیں ،بھوک ان کو اس دوڑ میں نہ جانے کتنے مراحل طے کرنے پڑتے ہیں۔بھوک تو سب کی ایک ہی ہوتی ہے، بچے بھی سب کے ایک جیسے ہوتے ہیں،زندہ رہنے کا حق بھی سب کا ایک جیسا ہے،اس دھرتی کوقدرت نے سب کے لئے یکساں بنایا ہے،تمام نعمتیں بھی کل انسانوں کے لئے ہیں،یہ فقط سوسائٹیوں،اور محلوں کے لئے ہی نہیں ہیں،احساسات،انا بھی تو سب کی ایک جیسی ہوتی ہے۔لیکن یہ تو سب شاید ہمارے ہاں کتابی باتیں ہیں، لیکن حقیقت کی دنیا جس میں ہم جی رہے ہیں کی تصویر اس کتابی دنیا سے قطعی مختلف ہے،انسانوں کی اس بستی میں طاقت کا راج ہوتا ہے۔زندگی کے مالک وہ بن جاتے ہیں جن کے پاس اختیار ہوتا ہے۔احساسات ان کے قیمتی ہوتے ہیں جو مال وزر پہ قابض ہوتے ہیں۔بس انسانوں کا ایک جم غفیر اپنی حسرتوں اپنے ارمانوں کا گلہ دبائے زندگی کے تلخ گھونٹ سے زندگی کی گاڑی کو کھینچتا نظر آتا ہے۔خوف،نا امیدی،مایوسی اور محرومی جیسے لوازم اس کی زندگی کو گھیرے رہتے ہیں ۔فٹ پاتھوں سے لیکر جھونپڑوں تک اور ملوں ،فیکٹریوں اور کھلیانوں تک۔ بس زندگی کی یہ تلخیاں حقوق ،آزادی،عزت نفس،انصاف اور مساوات اور خوشحالی جیسی آرزؤں اور خوشفہمیوں اور دعوؤوں کو جھیلتی نظر آتی ہیں۔جانے کیوں فٹ پاتھوں پہ پڑے سسکتے انسان،ہاتھ پھیلائے ہوئے زرد رو بچے،ہسپتالوں کے باہر خون تھوکتے انسان،اور بغیر دوا کے دم توڑتے انسان،نظر انداز ہو جاتے ہیں۔جانے کیوں فیکٹریوں ،ملوں کو اپنے خون پسینے سے ترقی دینے والے محنت کش،شہروں کو نئی نئی پر شکوہ عمارتیں عطا کرنے والے،خوبصورت اور وسیع شاہراؤں اور پلوں کی تعمیر کرنے والے وہ بوسیدہ کپڑوں والے مزدور،ورکشاپوں،دوکانوں،شاہراؤوں پر کام کرنے والے وہ کم سن مزدور بچے اور عورتیں جانے کیوں نظر نہیں آتیں۔سوچنے کی بات ہے۔آخر انسانوں کی ان بستیوں میں انسان انتی اذیت ناک زندگی میں کیوں ہے۔ہاں اسی معاشرے میں ایک دنیا اور بھی ہے جہاں نہ خوف ہے نہ مایوسی نہ مہنگائی کا غم اور نہ دوائی کا فکر اور نہ بھوک کی پریشانی اور نہ ہی تعلیم کا فقدان،خوشحالی تو گھر کی لونڈی ہے۔زندگی ہر طرف مسکراتی ہے کھلے کھلے گھر اور بڑے بڑے ہسپتال بہترین سکول اور سرخ سرخ چہروں والے بچے اور ہنستے مسکراتے چہرے۔زندگی کے ولولے اور سارے رنگ اس دنیا کی زینت ہیں ۔لیکن یہ دنیا اول الزکر دنیا سے نہایت چھوٹی ہے۔اس چھوٹی سی دنیا کی یہ رونقیں اس بڑی بے ہنگم دنیا کی بے کلی اور پسماندگی سے وابستہ ہے۔فیکٹری کا مزدور بد حالی کے صلے میں مالک کو نئی فیکٹری عطا کرتا ہے۔پورا عوامی جم غفیر زندگی کے ہر شعبہ میں بیگار کیمپ کی طرح گذر بسر کرتا ہے اس کے بدلے میں فقط اتنے کا حقدار قرار دیا جاتا ہے کہ روح اور جسم کا رشتہ بمشکل برقرار رہ سکے۔مہنگائی کے بوجھ تلے اس طرح دبا دیا جاتا ہیکہ نسل در نسل زندگی ان کے لئے بوجھ بن جاتی ہے۔ہر شخص عدم تحفظ میں مبتلا ہو کر دوسرے کا گلہ کاٹنے کے لئے تیار رہتا ہے۔معاشی بدحالی اخلاقیات کو کھا جاتی ہے پورا معاشرہ انتشار اور افرا تفری میں مبتلا رہتا ہے اور ایک مختصر طبقہ ان کی اس بے بسی کو دیکھ دیکھ کر محظوظ ہوتا ہے۔انہیں اپنی عیاشیوں اور آسائشوں کے لئے فقط جینے کی آزادی دیتا ہے لیکن جینے کے لئے جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے ان کے لئے ساری زندگی ان کو ترساتا ہے۔آخر یہ سب کیوں ہے؟کون سوچے گا ؟کون انسانوں کی ان بستیوں میں بنے اس بیگار کیمپ سے انسانوں کو آزاد کرے گا؟ایک نسل آئی وہ چلی گئی اب دوسری بھی بوڑھی ہو رہی ہے۔معاشرے کے اس عفریت کو کون سمجھے گا ؟کون اس سے چھٹکارے کے لئے اٹھے گا؟ہاں ایک بات ہے تاریخ انسانی گواہ ہے کہ نوجوان نسل ہی ہمیشہ اقوام میں انقلاب لائی ہے۔نوجوان نسل کی ہی یہ ذمہ داری ہے کہ اپنی قوم کو ایسے پیرا سائیٹس سے آزادی دلائے جو اس کی قوم کا خون چوس رہے ہیں ۔ایسے فرسودہ نظام اور اس کے نیٹ ورک جس کی بدولت آج انسانوں کی اکثریتی بستیاں غربت اور افلاس کے اندھیروں کی نذر ہیں۔ سے چھٹکارا دلائے۔ہاں یہ ضروری ہے کہ تبدیلیاں تشدد سے نہیں آیا کرتیں بلکہ شعوری اور منظم جدوجہد کے نتیجے میں آیا کرتی ہیں۔ قطرے قطرے سے دریا بنتا ہے ،ایک ایک فرد ملت کے مقدر کا ستارہ ہوتا ہے اگر اس معاشرے کا اکثریتی طبقہ اس دھرتی کے لئے اپنے نوجوانوں کی کی صلاحیتوں کو وقف کر دے تو یہ قوم اور ملک عزت ووقار اور خوشحالی کا سورج طلوع ہوتے دیکھ سکتا ہے۔ یہ شعوری جدوجہد فرشتے آسمانوں سے آ کر نہیں کرتے بلکہ اسی معاشرے کے اندر سے ایسے ذہن نمودار ہوتے ہیں جو قوموں کو نئی زندگی عطا کرتے ہیں۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Dr. Muhammad Javed

Read More Articles by Dr. Muhammad Javed: 104 Articles with 71228 views »
I Received my PhD degree in Political Science in 2010 from University of Karachi. Research studies, Research Articles, columns writing on social scien.. View More
03 Feb, 2017 Views: 332

Comments

آپ کی رائے