عزم و ہمت کی زنجیر یومِ یکجہتی کشمیر

(Sultan Mahmood Shaheen, Islamabad)
عالم آب و گل پر موجود نگار ہستی کی خوبصورت وادی خطہء کشمیر اس وقت ظلم و نا انصافی کے شکنجے میں ہے ہندو ذہنیت نے یہاں پر اپنا غاصبانہ قبضہ قائم کرکے اپنے مکروہ اور توسیع پسندانہ عزائم کی تکمیل کے لئے آتش و آہن کا کھیل برپا کر رکھا ہے۔ مہذب دنیا کے مہذب لوگ دن رات بنیادی انسانی حقوق اور عدل و انصاف کا راگ الاپتے ہوئے نہیں تھکتے۔لیکن عملی اور حقیقی طور پر اس کے لئے اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کی بجائے انسانیت کا مذاق اڑانے ، اس کی بے حرمتی کرنے ، اسے قتل و غارت گری اور ظلم و بربریت کی بھینٹ چڑھانے میں پیش پیش ہیں۔ گزشتہ اڑسٹھ سال سے بھارت نے اپنی سات لاکھ مسلح افواج کے ساتھ جموں کشمیر پر اپنا غاصبانہ قبضہ جما کر وہاں کے شہریوں کے بنیادی حقوق معطل کر رکھے ہیں۔ اپنے اس ناجائز اور غیر منصفانہ قبضے کو برقرار رکھنے کے لئے اب تک پانچ لاکھ سے زائدکشمیری شہید اور معذور کردئے ہیں ۔ نصف صدی سے زائد عرصہ تک اپنی بربریت اور فسطائیت جاری و برقرار رکھنے کے باوجود ہندو بنیا یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ نہتے کشمیری اپنی مادر وطن اپنی جنت ارضی کے لئے مزید قربانیاں دینے کے لئے کیونکر پرعزم اور ہیں اور وہ ہندوستان کی کسی قسم کی غلامی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ کشمیر دھرتی کے وارثین کو اس حال تک پہنچانے میں جہاں انگریز اور ہندوؤں کی ملی بھگت نے کردار ادا کرتے ہوئے تقسیم برصغیر کے وقت سے ہی انہیں اپنے حق خود اختیاری سے محروم کردیا ہے اور مختلف سازشوں کے ذریعہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونے والی دیگر کئی ریاستوں کو بھی غیر منصفانہ تقسیم کے ذریعہ ہندوستان کے ساتھ جوڑ دیا گیا ۔ وہاں پر پہلے روز سے ہی ہماری سیاسی قیادت اور حکمرانوں نے بھی اپنے مفادات اور خود غرضانہ پالیسیوں کی بدولت کوئی مثبت کردارادا نہیں کیا۔ اسی وجہ سے کشمیر کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے یہاں تک کہ ہماری سیاسی قیادت اقوام متحدہ میں اور عالمی سطح پر کشمیر کے مسئلہ پر کوئی بھی اہم اور نتیجہ خیز کردار ادا کرنے سے قاصر نظر آتی ہے۔ قوم یوم یکجہتی کشمیر منانے کی اس منزل تک کیسے پہنچی اس کے لئے برصغیر کی تقسیم کا شروع سے مختصر جائزہ لیا جائے تویہ بات کھل کر سامنے آجاتی ہے کہ تقسیم کے ذمہ داران لارڈماؤنٹ بیٹن اور سیرل ریڈکلف نے نہرو کے ساتھ اپنے قریبی تعلقات نبھاتے ہوئے کشمیر، جونا گڑھ اور گورداسپورکے علاقے جن کا الحاق مسلمان اکثریت کی بنیاد پر پاکستان کے ساتھ ہونا تھا چالاکی اور مکاری کے ساتھ بھارت کے ساتھ جوڑ دیا گیا۔ اس وقت اگر ہمارے لیڈران ہندوؤں اور انگریزوں کی ریشہ دوانیوں اور منافقانہ منصوبوں اور سازشوں کو سمجھ پاتے اور ان کے دھوکے میں آکر کسی قسم کی کمزوری کا مظاہرہ نہ کرتے تو آج گورداسپور پاکستان کا حصہ ہوتا اور کشمیر کی طرف کوئی راستہ نہ ملنے کی وجہ سے بھارت کبھی اپنی افواج جموں کشمیر میں داخل نہ کرسکتا۔ اس طرح تمام کشمیر آزاد ہوکر اپنی مرضی سے پاکستان کے ساتھ اپنا الحاق کر لیتا۔ اس دوران بھارت نے ایڑی چوٹی کا زور لگا رکھا ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیر کی اپنی کٹھ پتلی حکومت اور اسمبلی کے ذریعہ یا ڈنڈے کے زور پر اس پر اپنا تسلط جمائے رکھے۔ اور اس کے لئے وہ اب تک دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے کئی ڈرامے کر چکا ہے اور مختلف حیلوں بہانوں سے پاکستان کے حکمرانوں کو بھی اپنے جال میں پھنسانے کی کوشش کی۔ لیکن اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود نہ ہی تو ان کا کشمیر ایکارڈ کچھ کر سکا اور نہ ہی اس کی سات لاکھ فوج اپنے ہر طرح کے ہتھکنڈوں کے باوجود انہیں اپنا ہم نوا بنا سکی ہے۔ جموں و کشمیر کے دونوں حصوں کے عوام نے آخر کار ۱۹۷۵ء میں یہ فیصلہ کیا کہ وہ ہر سال ۵ فروری کو آپس میں یکجہتی کا دن منائیں گے۔ اس وقت سے کشمیری ہر سال پوری دنیا میں یکجہتی کا دن منارہے ہیں ۔اور ہر جگہ پر اس کا عملی مظاہرہ کیا جاتا ہے اور دونوں حصوں کے عوام آپس میں ہاتھوں کی ایک طویل زنجیر بناتے ہیں جو دونوں حصوں کے عوام کی یکجہتی ، محبت، عزم وہمت اور بھائی چارے کی ترجمان ہے اس موقع پر اس عہد کو دہرایا جاتا ہے کہ ہم اپنے حق آزادی سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے اور اس مسئلے کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرا کر دم لیں گے ۔ اس کے لئے کشمیری عوام گروپوں کی صورت میں دنیا بھر میں موجود اقوام متحدہ کے دفاتر کو اپنی یاداشتیں پیش کرتے ہیں ۔ علاوہ ازیں دنیا بھر میں جہاں جہاں کشمیری آباد ہیں وہ بھارت کی اس غارت گری اور ناجائز قبضے کے خلاف پُرامن مظاہرے کرتے ہیں اور اب یہ مظاہرے لاکھوں کروڑوں کی تعداد میں پہنچ چکے ہیں یکجہتی کی ان کارروائیوں ، مظاہروں اور صدائے احتجاج سے متاثر ہوکر کشمیری عوام کے تمام قائدین آل پارٹیز حریت کانفرنس کے پلیٹ فارم پر متحد ہوچکے ہیں۔ ۵ فروری کی اس تاریخی ہڑتال اور مظاہروں کے شروع کرنے میں جماعت اسلامی اور اس کے امیر مرحوم قاضی حسین احمد نے تاریخی کردار ادا کیا ہے۔ ان کی اس جدوجہد میں نہ صرف پاکستان کی سیاسی، سماجی اور قومی تنظیموں نے ساتھ دیا بلکہ پاکستان کی حکومتوں اور ان کے لیڈروں نے بھی کشمیر کے مسئلے کے حل میں قاضی حسین احمد کی خدمات اور پیش رفت کا اعتراف کیا ہے اور انہیں سراہا ہے۔ قاضی صاحب ہمیشہ اس بات پر زور دیتے رہے ہیں کہ کشمیر کے مسئلہ پر پاکستان اور ہندوستان کے مابین دو طرفہ مذاکرات میں کشمیریوں کو اصل فریق کی صورت میں شامل کیا جائے۔ کشمیریوں کی انہی قربانیوں اور جدوجہد کی بدولت اب خود بھارتی ا سکالرز اور دانشوربھی یہ کہنے پر مجبور ہوچکے ہیں کہ سات لاکھ بھارتی افواج کی موجودگی میں قیام امن کاخواب کبھی حقیقت نہیں بن سکتااور نہ ہی زور و زبردستی اور ظلم و جبر سے کشمیریوں کو اپنا ہمنوا بنایا جاسکتا ہے۔ آئے روز آل پارٹیز حریت کانفرنس کے قائدین کو مختلف جھوٹے الزامات لگا کر نظر بند کردیا جاتا ہے۔ نوجوانوں کے ساتھ ٹارچر سیلوں میں اذیت ناک سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ خواتین کی عصمت دری اور قتل جیسے واقعات آئے روز کا معمول ہیں۔ مقبوضہ کشمیر ایک فوجی چھاؤنی بن چکا ہے۔ اور بھارتی سیکورٹی فورسز نے جنگی جرائم کا عالم ریکارڈ قائم کیا ہوا ہے۔ اب تو عالمی ادارے اور ایمنسٹی انٹرنیشنل بھی بھارتی فوج اور پولیس کے گھناؤنے جرائم میں ملوث ہونے کا اقرار کر رہے ہیں۔ آج یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بھائیوں سے اس بات کا عہد کر رہے ہیں کہ وہ ان کے حق آزادی کے حصول میں ہر پلیٹ فارم پر ان کے ساتھ کھڑے ہیں ۔ اسی طرح کشمیری عوام بھی پاکستان کو یہ یقین دہانی کرواتے ہیں کہ وہ ہر سیاسی اور عالمی ثالثی کے معاملے میں انہیں اپنا رہنما مانتے ہیں اور مملکت پاکستان کے تاریخی، جغرافیائی اور نظریاتی تحفظ ، امن ، سلامتی ، ترقی اور خوشحالی کے لئے سر دھڑ کی بازی لگا دیں گے۔ پاکستان کے حکمرانوں کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ پارلیمان کے ذریعہ کشمیر کے حوالے سے اپنی پالیسیوں پر نظر ثانی کرتے ہوئے کشمیر کمیٹی کے کردار کو بھی پہلے سے زیادہ فعال بااختیار اور مثبت بنائیں ۔جو لوگ کشمیرکاز کے بنیادی نکات اور جزئیات تک سے نا بلد ہیں ان کا کردار مستقل طور پر کشمیر کمیٹی سے ختم کیا جائے اور قابل، بااعتماد اور کشمیر کی تاریخی حیثیت کاعلم رکھنے والے لوگوں کو اس کا حصہ بنایا جائے۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پر جلسے جلوس، مظاہروں اور مذاکرات کی سطح سے آگے بڑھا جائے اور مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے عملی اقدامات اٹھائے جائیں۔ ساری دنیا کو اس حقیقیت سے روشناس کرایا جانا ضروری ہے کہ کشمیر کا مسئلہ حل کئے بغیر دنیا میں امن کا قیام ناممکن ہے۔ اور اگر یہ مسئلہ خطرناک صورت اختیار کرکے پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ کا باعث بن گیا تو دونوں کے ایٹمی طاقت ہونے کی وجہ سے عالمی جنگ کا خطرہ پیدا ہوجائے گا اور اس جنگ کی آگ میں ساری دنیا جل کر بھسم ہو جائے گی۔
Comments Print Article Print
 PREVIOUS
NEXT 
About the Author: Sultan Mahmood Shaheen

Read More Articles by Sultan Mahmood Shaheen: 10 Articles with 4753 views »
Currently, no details found about the author. If you are the author of this Article, Please update or create your Profile here >>
04 Feb, 2017 Views: 439

Comments

آپ کی رائے